• جتنے مرضی ڈرامے کرلیں، احتسابی عمل نہیں رکے گا: وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جب تک چوروں کو نہیں پکڑا جائے گا، ملک آگے نہیں بڑھے گا، جتنے مرضی ڈرامے کر لیں، احتسابی عمل نہیں رکے گا۔ وزیراعظم عمران خان کا میانوالی میں ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انسانیت کی بھلائی کے کام کرکے انسان کو روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ امیر آدمی کو کبھی دنیا یاد نہیں کرتی، جو انسانوں کیلئے کچھ کرکے جائے دنیا انھیں یاد کرتی ہے۔ آج بھی صوفیا کرام کے مزاروں پر لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میانوالی میں ہسپتال کا پراجیکٹ انیل مسرت کی کاوش ہے، اس کی تعمیر میں حکومت کا نہیں بلکہ ان کا پیسہ لگے گا۔ تقریب اس وقت کشت زعفران بن گئی جب وزیراعظم نے انیل مسرت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی اردو بلاول بھٹو سے بہتر ہے، آپ نے کم از کم یہ تو جملہ ادا کیا کہ میں انیل مسرت ہوں، وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر میں اس سے زیادہ بات نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نمل یونیورسٹی ایک خواب تھی، سب کہتے تھے کہ دیہات میں یونیورسٹی نہیں بن سکتی، آج نمل میں 97 فیصد سٹودنٹس کو سکالرشپ ملی ہوئی ہے اور اس کے 22 پی ایچ ڈی ہیں۔ ملک کی حالیہ سیاسی صورتحال اور نیب کی جانب سے کرپشن الزامات میں پکڑ دھکڑ پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ان گرفتاریوں کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک نے اپنے 450 وزرا کو جیل میں ڈالا اور وہاں سب سے زیادہ ترقی ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں بھی جب تک کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہوگا، ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔ گزشتہ 10 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ہزار ارب ہو گیا ہے۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم قرضوں کا سود واپس کرنے کیلئے مزید قرضے لے رہے ہیں۔ قرضہ بھی لیا اور ملک کا نقصان بھی ہوا، کدھر گیا اتنا پیسہ؟ ان کا کہنا تھا کہ مجھے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو، میں تو 22 سال سے اس انتظار میں تھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا تھا کہ مجھے صرف ایک دفعہ موقع دیدے، میں ان کرپٹ لوگوں کا حساب کروں۔ کہتے ہیں کہ جواب نہیں دیں گے، ہم ان سے جواب لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کمزور ہمیشہ پکڑا گیا اور طاقتور نہیں پکڑا جاتا ہے، آج طاقتور کو بھی پکڑا جا رہا ہے۔ یہ احتساب کا عمل آخر تک رہے گا۔ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، ان کا احتساب نہیں ہوگا تو چوری نہیں رکے گی۔ ہم نے اداروں کو آزاد کر دیا ہے کہ جو کرپشن کرے اسے پکڑیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے روپے کی قدر گر رہی ہے۔ آج مشکل وقت ہے لیکن انشا اللہ یہی پاکستان اب تیزی سے اوپر جائے گا۔ سب سے پہلے ہم اپنے لوگوں کی زندگی بہتر بنائیں گے۔ بعد ازاں میانوالی ایکسپریس ٹرین کے افتتاح کے بعد جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد عام آدمی کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے، میں اس علاقے سے ٹرین کے آغاز پر وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم نے پورا زور لگانا ہے اور جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، ان کو پر بھرپور توجہ دینی ہے۔ ہم نے سکولوں میں اساتذہ، پینے کے پانی اور نوجوانوں کے لئے روزگار جیسے مسائل کو حل کرنا ہے۔

  • اب مقدمات زیر التوا نہیں رہیں گے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

    چیف جسٹس آف پاکستان آسف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بغیر سنے مقدمات کی سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی، ایک کیس سنا جا رہا ہے تو روزانہ کی بنیاد پر اس کی سماعت کرکے فیصلہ کیا جائے گا۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اسلامی نظام عدل میں ایک بار جھوٹ بولنے والے کی دوبارہ گواہی قبول نہیں ہوتی، اگر ہم انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں تو جھوٹی گواہی کو ختم کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوجداری نظام میں 2 بڑے نقائص ہیں۔ پہلا مسئلہ جھوٹٰی گواہی اور دوسرا تاخیری حربے ہیں۔ نزاعی بیان عموماً غلط نہیں ہوتا کیونکہ بندہ اپنے اللہ سے ملنے والا ہوتا ہے۔ تاہم اکثر جھوٹے اور چشم دید گواہ مدعی کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ بیانات پر اعتماد کیلئے اسسمنٹ کمیٹی بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پولیس کے سامنے اقرار جرم کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، تفتیشی افسر کو معلوم ہونا چاہیے کہ عدلیہ میں استغاثہ کیس کیسے ثابت کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے تفتیشی عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جھوٹی گواہی دینے والے کو مجرم کے برابر سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سمیت ہر محکمے میں اچھے افسر موجود ہیں۔ ہمیں پولیس کے نظام اور معاشرے میں اس کے امیج کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کی آزادی کی طرح پولیس کی آزادی بھی ضروری ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مقدمات کے التوا سے متعلق ہم نے 3 فیصلے کئے ہیں۔ ایک کیس سنا جا رہا ہے تو اس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے فیصلہ سنایا جائے گا، بغیر سنے مقدمات کی سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی۔

  • آئی ایم ایف پاکستان میں منافع کمانے نہیں آتا، نمائندہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ

    انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی نمائندہ ماریا ٹریسا نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے بارے میں نظریات درست نہیں، مالیاتی ادارہ پاکستان میں منافع کمانے نہیں آتا، جب رکن ممالک مشکل میں ہوں تو ہم پروگرام دیتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی نمائندہ ماریا ٹریسا کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان نے 18 پروگرام لیے۔ آئی ایم ایف ٹیکنیکل معاونت اور دیگر اقدامات کرتا ہے۔ ماریا ٹریسا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قرضوں کی ادائیگی بڑا ایشو ہے اور بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ ہے۔ پاکستان اپنی آمدن کا 25 فیصد قرضوں کی واپسی پر خرچ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے، اس کا مالی خسارہ اور گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کا دیگر ممالک کے مقابلے میں ریونیو کلیکشن بہت کم ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ آئی ایم ایف نمائندہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس کی چھوٹ اور سرکاری اداروں کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں، گزشتہ 3 سال میں گردشی قرضوں میں اضافہ ہوا، توانائی شعبے میں گردشی قرضہ 700 ارب روپے تک پہنچ گیا، یہ گردشی قرضہ بہت زیادہ ہے۔

  • دفاعی صنعت کی بہتری کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ضروری: آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دفاعی صنعت کی بہتری کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ضروری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعی پیداوار اور سیکیورٹی انحصاری کے موضوع پر سیمینار ہوا ، سیمینار میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا دفاعی پیداوار کیلئے حکومتی اداروں کیساتھ نجی شراکت داری ضروری ہے، دفاعی پیداوار کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے وسیع مواقع موجود ہیں، خود انحصاری کی پالیسی کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ضروری ہے۔ سیمینار میں وفاقی وزراء زبیدہ جلال، فواد چودھری اور عبدالرزاق داؤد نے بھی شرکت کی۔ زبیدہ جلال اور فواد چودھری نے ملکی دفاعی صنعت کو موثر بنانے پر اظہار خیال کیا۔ مشیر تجارت رزاق داؤد نے قومی سلامتی میں خود مختار دفاعی صنعت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

  • جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست مسترد

    احتساب عدالت نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت کی۔ سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے فرد جرم سے متعلق احتساب عدالت کا پرانا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور موقف اپنایا کہ عدالت کے اس حکم نامے کو مریم نواز نے کہیں چیلنج نہیں کیا، جعلی ٹرسٹ ڈیڈ سے متلعق حکم نامہ موجود ہو تو 30 دن کے اندر کاروائی لاگو نہیں ہوتی، لہٰذا اس حکم نامے کی روشنی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر کاروائی کی جائے۔ دوران سماعت مریم نواز نے بولنے کی اجازت مانگی جس پر جج احتساب عدالت نے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بولنے دیں۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے نیب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق فیصلہ سنائے جانے کے 30 دن کے اندر رجوع کرنا ہوتا ہے، جو نہیں کیا گیا، عدالت نے خود اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے جعلی دستاویز پر مریم نواز کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔ نیب اپیل کا حق فیصلے کے 30 دن بعد کھو چکا، نیب کے درخواست ناقابل سماعت ہے۔ احتساب عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ ہی دیر بعد سنا دیا گیا۔ احتساب عدالت نے قرار دیا کہ اس کیس میں سزا کے خلاف مریم نواز کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، اپیل کا فیصلہ ہونے تک ٹرسٹ ڈیڈ پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر مریم نواز نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر بے گناہ نواز شریف کو رہا کرو کے پرنٹ والی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا ان کیلئے اللہ ہی کافی ہے۔ لیگی رہنما کی پیشی کے موقع پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، مریم اورنگزیب اور پرویز رشید بھی موجود تھے۔ کارکنوں کی بھی بڑی تعداد کشمیر ہائی وے پہنچی۔ پولیس بھی پہلے ہی پوری تیاری کے ساتھ کھڑی تھی، انہوں نے 12 سے زائد کارکنوں کو پکڑ لیا جس پرمتوالوں نے دھرنا دیا، مریم نواز نے بھی قافلے کو روکنے کی تصدیق کی۔ پارٹی ورکرز کی گرفتاری پر مسلم لیگ نون کے صدر شہبازشریف نے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا خواتین سمیت پارٹی کارکنوں کی گرفتاری عمران نیازی کی آمرانہ ذہنیت کا ثبوت ہے اور ان کے خوف میں مبتلا ہونے کی علامت ہے۔ شہبازشریف نے کہا حکومت کے ہر ہتھکنڈے کا بہادری سے مقابلہ کریں گے، عوام کے حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

  • ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی کا 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایل این جی اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ جج احتساب عدالت محمد بشیر کے روبرو نیب پراسیکیورٹر نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیر 2014 میں خلاف قواعد ایل این جی ٹھیکہ 15 سال کے لیے منظور نظر کمپنی کو دیا، معاہدے سے 2030 تک ملک کو نقصان ہوتا رہے گا۔ اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے باوجود گرفتار کیا گیا، نیب کراچی نے 2015 میں تفتیش کے بعد کیس بند کر دیا تھا، آپ انہیں 90 روز کا ریمانڈ دے دیں، ملنا کچھ نہیں۔ جج احتساب عدالت نے کہا کہ قانوں کے مطابق ایک بار میں 90 روز کا ریمانڈ نہیں دے سکتے۔ میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم بزدل ہیں، بے بنیاد مقدمات سے جمہوریت کو دبایا جا رہا ہے، جو کام آمریت کرتی تھی وہ آج کی جمہوریت کر رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو گزشتہ روز نیب راولپنڈی نے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔