• افغانستان سے سرحد پار حملوں کا صرف دفاع میں جواب دیا جاتا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پاک افغان سرحد پر فائرنگ نہ کرنے کی پالیسی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاک افغان بارڈر پر فائرنگ کے بعض حالیہ واقعات کے بارے میں افغانستان حقائق مسخ کر پیش کر رہا ہے، افغانستان کی طرف سے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر افسوس ہے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کی پاک افغان بارڈر پر فائرنگ نہ کرنے کی پالیسی ہے، دہشت گردوں کی طرف سے آرمی اور ایف سی اہلکاروں پر سرحد پار حملوں کا صرف دفاع میں جواب دیا جاتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے کیمپوں کی لوکیشن (مقام) سے رسمی طور پر آگاہ کیا ہے اور بارہا درخواست کی ہے کہ ان علاقوں میں اپنی فورس تعینات کرے اور اپنے موثر کنٹرول میں لائے۔

  • فضائی حدود کی بندش سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا: شاہ محمود

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فضائی حدود کی بندش سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سوچ بچار کے بعد مشاورت سے قدم اٹھایا جائے گا، وادی کی پولیس بھی تعاون کرنے سے کترا رہی ہے۔ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بھارت یو این قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر پولیس میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے، مقبوضہ کشمیر پولیس سے اسلحہ واپس لے لیا گیا، شملہ معاہدے کے تحت پاکستان بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنا تھا، مقبوضہ کشمیر میں طرح طرح کی پابندیاں لگا دی گئیں، مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات کی قلت ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا مودی عالمی برادری کو 5 اگست کے یکطرفہ اقدام کا جواب دیں، باکسر عامرخان گزشتہ روز پورا کشمیر پھرے، لوگوں سے ملے، کیا عامر خان کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت ہوگی ؟ کیا بھارت باکسر عامر خان کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرا سکتا ہے؟ مقبوضہ کشمیر میں ہر گھر کے سامنے ایک بھارتی فوجی کھڑا ہے، خطے کی صورتحال بھارت خراب کر رہا ہے۔

  • کشمیر کی خصوصی حیثیت خاتمے کا اقدام چیلنج، مودی حکومت کو نوٹس جاری

    بھارتی سپریم کورٹ میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی، عدالت نے بھارتی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔ بھارتی سپریم کورٹ میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ بھارتی حکومت کو 7 روز میں جواب جمع کرانا ہوگا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پانچ رکنی بنچ اکتوبر میں اس کیس کی سماعت کرے گا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں جاری پابندیوں کے خلاف دس کے قریب درخواستیں عائد کی گئی تھیں۔ ادھر بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بھی مودی کی زبان بولنے لگے ہیں۔ کانگریس رہنما نے کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے پاکستان پر مداخلت کے الزامات بھی لگا دیئے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 24 واں روز، لوگ گھروں میں محصور

    جنت نظیر وادی بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی جیل بن گئی، 24 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے، کاروبار مکمل بند ہوگئے، گھروں میں محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیا کے لیے ترس گئے۔ کشمیریوں کی زندگی جہنم بنا دی گئی، کھانے پینے کی اشیاء ادویات ختم ہوگئی، چپے چپے پر تعینات بھارتی فوج ڈائلسز کے مریضوں کو ہسپتال جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ کرفیو کی وجہ سے ادویات کی بھی قلت ہوگئی۔ بھارتی فوج گھروں سے باہر نکلنے والوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنا رہی ہے، چھ سالہ بچی والد کے ساتھ بائیک پر گئی تو اسے بھی پیلٹ گن سے نشانہ بنایا گیا۔

  • مقبوضہ وادی میں صورتحال انتہائی سنگین ہے: فردوس عاشق اعوان

    فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں صورتحال انتہائی سنگین ہے، تین ہفتے سے بچے گھروں میں قید ہیں، مودی نے خطے میں نفرت کا بیج بو کر امن تباہ کر دیا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پلانٹ فار پاکستان کی تقریب سےخطاب میں کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، کشمیر سے ہمارا روح اور جسم والا رشتہ ہے، کشمیریوں کی خاطر جمعہ کے روز 12 بجے 3 منٹ کیلئے گھروں اوردفاتر سے باہرنکلیں، وزیراعظم عمران خان اپنے آفس کے عملے کو لیڈ کریں گے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا انتہا پسند مودی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کُشی کر رہا ہے، سبھی کو میدان عمل میں نکنا ہو گا۔ فردوس عاشق اعوان نے تقریب کے اختتام پر پودا لگایا اور دوسروں کو بھی شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لینے کا درس دیا۔

  • یوم ِ دفاع و شہدا شایان شان طریقے سے منایا جائیگا: میجر جنرل آصف غفور

    میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے یوم ِ دفاع و شہدا 2019 شایان شان طریقے سے منایا جائے گا، عظیم قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکھتی ہیں۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ شہیدوں کے لواحقین سے ملیں اور ان کا شکریہ ادا کریں۔ آئی ایس پی آر میں یوم ِ دفاع و شہدا 2019 کے حوالے سے کانفرنس ہوئی جس میں ملک بھر سے سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ کانفرس میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریبات سے متعلق بات چیت ہوئی اور پروگرام ترتیب دیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے شرکا کانفرس کو بتایا کہ پچھلے سال پہلی دفعہ ہر شہید کے گھر جانے کا پروگرام شروع کیا گیا جو جاری رکھا جائے گا، گزشتہ سال بہت اچھا رسپانس رہا، ہر شہید کو یاد کیا گیا، اس سال بھی ہر شہید کے گھر پہنچیں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا عوام سے درخواست ہے وہ شہیدوں کے لواحقین سے ملیں اور ان کا شکریہ ادا کریں، گلی گلی محلے محلے شہیدوں کی تصاویر آویزاں کی جائیں، عظیم قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکھتی ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ مرکزی تقریب جی ایچ کیو میں منعقد ہو گی تاہم فارمیٹ میں تبدیلی کے باعث اس سال سے یہ تقریب شام کے بجائے دن میں ہو گی، تقریب میں صرف شہدا کے لواحقین اورغازی شرکت کریں گے، آرمی چیف جی ایچ کیو میں یاد گارِ شہدا پر حاضری دیں گے اور پھول چڑھانے کے علاوہ شہدا کے لواحقین اور غازیوں سے ملاقات بھی کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ اسی طرح فارمیشن اور شہر شہر تقریبات ہونگی، یومِ دفاع کی مناسبت سے چھاؤنیوں میں ہتھیاروں کی نمائش ہوگی۔ کشمیر بنے گا پاکستان تقریبات کا حصہ ہو گا۔ وزیراعظم کے اعلان کردہ کشمیر آور کے حوالے سے حکومت کے اعلان کے مطابق 12 بجے ملک بھر میں سائرن قومی ترانہ اور کشمیر کا ترانہ بجایا جائے گا، پوری قوم اپنے اپنے علاقے اور کام کی جگہوں پر اکٹھی ہو کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے گی، ملکی ہیرو، شوبز اور میڈیا کے نمائندے اور میڈیا بھی بھرپور شرکت کرے گا۔