نیب ترامیم کیس کی سماعت مکمل, فیصلہ محفوظ

 اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب قانون میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، سماعت کے دوران نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سننے کے دائرہ اختیار پر تفصیلی قانونی بحث ہوئی۔درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہے، تاہم اگر ہائیکورٹ ضمانت کی درخواست مسترد کر دے تو اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کو کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 32 کا اطلاق ضمانت کے مقدمات پر نہیں ہوتا۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ضمانت دینے یا مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جائے تو کیا اسے اپیل تصور کیا جائے گا؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ ضمانت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتی ہے تو وہ ایک اپیلیٹ فورم بن جائے گی، جبکہ نیب قانون کے مطابق اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے مزید کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ قانونی طور پر سپریم کورٹ ضمانت کے مقدمات کس بنیاد پر سن سکتی ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قانون اپیلیٹ فورم کا تعین کر چکا ہے تو سپریم کورٹ ضمانت کے مقدمات میں اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے؟اس موقع پر وکیل عباد الرحمان لودھی نے عدالت سے کہا کہ خدا کے لیے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کے لیے اپنا اختیار سرنڈر نہ کریں، سپریم کورٹ کا کوئی اختیار تو رہنے دیں۔‘انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون نے وفاقی آئینی عدالت کو ضمانت کی درخواستیں سننے کا اختیار نہیں دیا۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔