• پی ایس ایل تھری ٹرافی کی دبئی میں رونمائی

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) تھری کی ٹرافی کی رونمائی دبئی میں کر دی گئی۔ پی ایس ایل تھری ٹرافی کی تقریب رونمائی دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوئی۔ ایونٹ میں شریک 6 ٹیموں کے مالکان، کپتانوں، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور دیگر آفیشلز نے شرکت کی۔ دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی خصوصی باکس میں بند ٹرافی کو ہیلی کاپٹر سے اٹھا کر تقریب میں لائے اور اسٹیج پر رکھا، ان کے ساتھ دیگر ٹیموں کے کپتان بھی موجود تھے۔ تقریب رونمائی سے قبل پریس کانفرنس ہوئی۔ بہترین بیٹسمین، بولر، فیلڈر اور وکٹ کیپر کو بھی ٹرافیز دی جائیں گی جنہیں پاکستان کے لیجنڈری پلیئرز کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ پاکستان سپر لیگ میں پہلی بار 6 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی، اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مصباح الحق، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد، کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم، لاہور قلندرز کے کپتان برینڈن میک کولم اور نئی ٹیم ملتان سلطانز کی قیادت شعیب ملک کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل تھری کا میلہ 22 فروری سے سجے گا۔ ابتدائی میچز دبئی اور شارجہ میں کھیلے جائیں گے۔ دو پلے آف لاہور جبکہ فیصلہ کن معرکہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی میں شیڈول کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایڈیشن کا فائنل جیتنے والی پشاور زلمی ٹیم کو اپنی مہم کا آغاز افتتاحی روز ملتان سلطانز کیخلاف میچ سے کرنا ہے۔

  • وزارت داخلہ کا نواز شریف ، بچوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سے انکار

    وزارت داخلہ نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ نیب کی جانب سے نواز خاندان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے لکھے گئے خط میں اس بات کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے کہ نام ای سی ایل میں شامل کیوں نہیں کئے گئے ، وزارت داخلہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز خاندان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالے سے ٹھوس وجوہات بتائی جائیں ۔

  • ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کا معاملہ: راجہ ظفر الحق نے رپورٹ پیش کر دی

    ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں ترمیم سے متعلق راجا ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے اور الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے معاملے کی سماعت کی۔اس موقع پر حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے راجا ظفرالحق رپورٹ پیش کرنے کے لئے ایک روز کی استدعا کی جسے عدالت میں مسترد کرتے ہوئے ایک بجے تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جس کے بعد سربمہر رپورٹ پیش کردی گئی۔فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالت کے ساتھ عجیب کھیل کھیل رہے ہیں، میں کیوں نہ وزیراعظم کو طلب کروں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ وزیراعظم کا اس رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں،کیسے اس رپورٹ سے تعلق نہیں، ختم نبوت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، آپ کو اس ایشو کی نزاکت کا احساس ہی نہیں ہے۔ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر مذہبی جماعت کی جانب سے نومبر 2017 میں 22 روز تک دھرنا دیا گیا جو بعدازاں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے اور ایک معاہدے کے بعد ختم ہوا۔دھرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیرسماعت ہے جب کہ عدالت نے آبزرویشن دی تھی کہ دھرنے کے خاتمے کے لئے کئے گئے معاہدے کی ایک شق بھی قانون کے مطابق نہیں اور جو معاہدہ ہوا اس کی قانونی حیثیت دیکھنی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے تھے کہ ‘زخمی میں ہوا ہوں ریاست کو کیا حق ہے میری جگہ راضی نامہ کرے ، جس پولیس کو مارا گیا کیا وہ ریاست کا حصہ نہیں، اسلام آباد پولیس کو 4 ماہ کی اضافی تنخواہ دینی چاہیے، پولیس کا ازالہ نہیں کیا جاتا تو مقدمہ نہیں ختم ہونے دوں گا’۔

  • سرکاری ہیلی کاپٹرکا استعمال ‘عمران خان کیخلاف نیب کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    قومی احتساب بیورو کی ہدایت پر نیب خیبر پختونخوا نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے دو سرکاری ہیلی کاپٹروں کے مبینہ غیر قانونی استعمال کی تحقیقات کے لئے ٹیم مقرر کردی۔ڈائریکٹر نیب خیبر پختونخوا کی سربراہی میں قائم ٹیم عمران خان کے سرکاری ہیلی کاپٹروں میں دوروں کی چھان بین کرے گی۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر خیبرپختونخوا کے دو ہیلی کاپٹروں پر 74 گھنٹےغیر قانونی طور پرسفر کرنے کے الزامات ہیں۔چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے 2فروری کوہیلی کاپٹر سکینڈل کا نوٹس لیا تھا۔ نیب خیبر پختونخوا نے ہیڈ کوارٹر سے موصولہ مراسلے کی بنیاد پر الزامات کی تحقیقات کے لئے مشترکہ ٹیم تشکیل دی ہے ۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر نیب خیبرپختونخوا نوید حیدر کرینگے۔ٹیم میں قانونی ماہرین اور تحقیقاتی افسران بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان پر ایم آئی 171ہیلی کاپٹر پر 22 گھنٹے جبکہ ایکیوریل ہیلی کاپٹر پر 52گھنٹے سفر کے بدلے صرف 21 لاکھ روپے ادا کرنے کا الزام ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان پر ایم آئی 171ہیلی کاپٹر پر بنی گالا سے کوہاٹ، پشاور،مردان،بٹگرام ،دیر اور کمراٹ جبکہ ایکیوریل ہیلی پر بنی گالا سے پشاور،کوہاٹ،ایبٹ آباد،ہری پور،چترال،سوات اورنوشہرہ تک کا سفر کرنے کے الزامات ہیں ۔

  • لاہور، سیشن کورٹ میں فائرنگ سے 2 وکیل جاں بحق

    لاہور: ذرائع کے مطابق لاہور کے سیشن کورٹ میں سماعت کے دوران وکلا کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور بعد میں ملزم کاشف نےایڈیشنل سیشن جج عبدالرحمان توقیر کی عدالت کے باہر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے وکیل رانا ندیم اور اویس اعوان جاں بحق ہو گئے۔ پولیس نے ملزم کاشف کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا کاشف راجپوت اور جاں بحق وکیل رانا اشتیاق آپس میں کزن ہیں اور ان کا کوئی جھگڑا چل رہا تھا جس کے بعد نوبت یہاں تک آپہنچی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل رواں برس 31 جنوری کو بھی لاہور کی سیشن عدالت میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک ملزم جاں بحق ہو گیا تھا۔

  • نواز شریف کے خلاف 2 ضمنی ریفرنسز سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب کی جانب سے دائر 2 ضمنی ریفرنسز سماعت کے لیے مقرر کردیے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے ضمنی ریفرنسز میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا تھا۔ عدالت نے ضمنی ریفرنسز پر اعتراضات مسترد کر کے اسے عبوری ریفرنس کا حصہ بنا دیا تھا جن پر سماعت 22 فروری کو ہو گی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث دلائل دیں گے اور اسی روز اعتراضات بھی سنے جائیں گے۔ یاد رہے کہ 22 فروری کو ہی ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت ہوگی جس کے لئے نیب کی پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ سردار مظفر عباسی لندن پہنچ گئے جن کی موجودگی میں 2 غیرملکی گواہوں کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔ نیب کی جانب سے دائر ضمنی ریفرنسز میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف تمام اثاثوں کے خود مالک تھے اور انہوں نے اثاثے اپنے بچوں کے نام بنا رکھے تھے اور ان کے بچے نواز شریف کے بے نامی دار تھے۔ ضمنی ریفرنسز میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف اپنے اثاثوں سے متعلق بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے جب کہ انہیں تحقیقات کے لیے بلایا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ اس سے قبل نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے 5 افراد کے خلاف 22 جنوری 2018 کو احتساب عدالت میں ایون فیلڈ پراپرٹیز کے سلسلے میں بھی ایک ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔