دھرنا۔ن لیگ کا دھڑن تختہ ثابت ہوا


ملک اس وقت سنگین صورتحال اور بحران سے گزر رہا ہے حکومت کی نا قص حکمت عملی کے با عث فیض آباد سے شروع ہونیوالا دھرنا سارے ملک میں پھیل چکا تھا۔سکول کالج ،یونیورسٹیز ،تجارتی مارکیٹیں،سڑکیں ٹرانسپورٹ بند ہو چکی ہیں۔جبکہ ریل گاڑیوں کی آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ،کئی جگہوں پر انہیں روک دیا گیا تھا۔نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا ۔ذرائع کے مطابق دھرنے والوں کو نواز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کی آشیر باد حا صل تھی وہ اسلام آباد تک کیسے پہنچے؟ اسکی فنڈنگ کس نے کی ؟یہ سب تحقیقا ت طلب ہیں ،دھرنے کو اس لئے آشیر باد حاصل تھی کہ نواز شریف اور رانا ثناء اللہ چاہتے تھے کہ عدالتی کیسز کی طرف سے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے ،کئی لوگ دھرنے کی طرف متوجہ ہو جا ئیں گے ۔یہا ں پر یہ بات قابل ذکر ہے جب دھرنہ ہوا تو حکومت یہی کہتی رہی کہ اس سے جڑواں شہروں کے رہنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھادھرنہ ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا حلانکہ پیر صاحب گولڑہ شریف کا کہنا تھا کہ دھرنے والوں اور حکومت کے ساتھ معاملا ت طے پا گئے تھے کہ زاہد حامد کو ظفر الحق کی رپورٹ آنے تک ڈی فیکٹو کر دیا جائے گااگر وہ قصور وار نہ ہوئے تو واپس وزارت پہ آجا ئینگے ۔مگر میں حیران ہوں کہ پھر حکومت نے خاموشی کیوں اختیا ر کی اس بات کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ حکومت خود نہیں چاہتی تھی کہ دھرنا ختم ہو کیونکہ نواز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کی خواہش نہیں تھی جب تک اسلام آبا د ہائی کورٹ نے نو ٹس نہیں لیا اور حکم صادر نہیں کیا دھرنے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی پھر اچانک دھرنے پر دھا وا بولا گیا تو دھرنے والے بھی بپھر گئے اور اندھا دھند آنسوگیس کی شیلنگ ،واٹر کینن اور تشدد بھی دھرنہ ختم نہ کر وا سکا بلکہ حکومت کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا نا اہل حکومت کی نا اہلی کے با عث جیسے ہی دھرنے کے خلاف کارروائی کی گئی دھرنا سارے ملک میں پھیل گیا نظام زندگی دھرم بھرم ہو گیا ،حکومتی وزرا گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے مشتعل مظاہرین نے وزراء کے گھر پر دھا وا بول دیا ،اس موقع پر وزیر داخلہ نے بیان دیا کہ میں تو اپریشن کر نا ہی نہیں چاہتا تھا مجھے علم نہیں تھا انتظامیہ نے عدلیہ کے حکم پر آپریشن کیا ۔داد دینے کو جی چاہتا ہے اتنا غیر ذمہ داراور بے خبر وزیر داخلہ کمال ہے ۔چوہدری نثار نے اسکے جواب میں کہا ہے کہ احسن اقبال اپنی نا اہلی کو چھپانے کیلئے عدلیہ پر بوجھ ڈال رہے ہیں وہ ایسے غیر ذمدارانہ بیانات نہ دیں ۔جھنگ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی پیر سید حمید الدین سیالوی مستعفی ہو گئے اور اسکے بعد تو جیسے لائنیں لگ گئیں ،جھنگ کے ایم این ایز ،ایم پی ایز کی پیر حمید الدین سیالوی کے گھر پر ایک بیٹھک ہوئی جس میں سب نے اپنے استعفٰے بھی پیش کئے اسکے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع سے بھی اراکین اسمبلی نے استعفے دینا شروع کردئیے جبکہ پیر حمید الدین سیالوی نے کہا کہ 20اراکین اسمبلی اور بھی میرے ساتھ ہیں اسکے علاوہ بہت سے دیگر اراکین بھی اس سلسلے میں رابطے کر رہے ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جو ن لیگ کی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہیں اور قیادت کا انہیں اہمیت نہ دینے کا بھی شکوہ تھا ان اراکین کے لئے بھی یہ گولڈن موقع ہے کہ وہ ناموس رسالت کے ایشو پر پارٹی سے الگ ہو جائیں ان کا کہنا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی انا ،تکبر اور ضد انہیں لے ڈوبی ہے ۔انھیں پارٹی سے علیحدگی اختیا ر کر لینی چاہئے جبکہ پیر حمید الدین سیالوی نے حکومت کو 4روز کا وقت دیا تھا کہ زاہد حا مد اور رانا ثنا ء اللہ سے استعفٰے لیا جائے بصورت دیگر وہ اپنے استعفٰے سپیکر کو پیش کر دینگے دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا پیر پگاڑہ نے بھی ختم نبوت پرساتھ چھوڑ دیا۔نواز شریف وزارت سے تو نا اہل ہوئے اب پارٹی کے اراکین نے بھی انہیں نا اہل قرار دے دیا ۔ایسے میں وزیر اعلی پنجاب خود میدان میں آگئے ہیں اور پارٹی اور حکومتی معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں،لیکن حالات بتا رہے تھے کہ سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا ۔دھرنے والے تو اب پوری کا بینہ کا ہی استعفٰی مانگ رہے تھے۔خواتین اراکین اسمبلی اور وزراء بھی پیچھے نہیں ختم نبوت پر وہ بھی مستعفی ہونے جا رہی ہیں ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دھرنے والے جو مطالبہ کر رہے تھے وہ درست ہے حرمت رسولﷺ کے لئے تو ہر مسلمان قربان ہونے کیلئے تیا ر ہے ۔آخری اطلاعات کے مطابق زاہد حامد کا استعفے قبول کرلیا گیا ہے۔حکومت نے صحافت پر بھی حملہ کر دیا تمام نجی چینلز اور سوشل میڈیا کو بھی بند کر دیا گیا تھاتاکہ عوام کو کچھ پتہ نہ چلے کہ ملک میں کیا ہورہا تھا۔وہ تو سپہ سالار کی مداخلت پر ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا سے پا بندی اٹھائی گئی اس پر صحافی سراپا احتجاج تھے اور دھرنا دئیے بیٹھے تھے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف کے حکم پر وزیر اعظم نے حکم دیا کہ نجی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کو بند کر دیا جائے ،ایسے احکامات تو مارشل دور میں بھی نہیں دئیے گئے ۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے تما م آپشن ختم ہو چکے ہیں اسے سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کیا کرے ،دھرنے کو ختم کرنے کے لئے رینجر کو ٹا سک دے دیا گیا تھا۔ہمیں امید تھی کہ رینجر بھی بہت سوچ سمجھ کر اپنے فیصلے کر ے گی اور مذاکرات کے زریعے دھرنا ختم کروانے کے لئے کام کرے گی ۔شکر ہے اب دھرنا بھی ختم ہوگیا اور جڑواں شہر کے رہنے والوں نے سکھ کا سانس لیا ۔لیکن تا حال لاہور میں دھرنا جاری ہے جو رانا ثناء اللہ کا استعفٰے مانگ رہے ہیں۔