میں اجڑ گئی بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


گزشتہ2روز سے اخبارات،ٹی وی چینلز خصوصاً سوشل میڈیا پر قصور میں بربریت کا شکار ہونیوالی7سالہ معصوم زینب کے واقعہ کے خلاف بھر پور آواز بلند کی جا رہی ہے۔انسانیت کا درد رکھنے والی ہر آنکھ اشکبار ہے۔ایک بیٹی کا باپ ہونے کے ناطے یہ واقعہ میرے لئے بھی انتہائی تکلیف کا باعث ہے۔زینب کے والدین کے درد کو سمجھ اور محسوس کر سکتا ہوں۔ایک دکھی دل کے ساتھ قلم کا سہارا لیتے ہوئے اپنے جذبات بیان کرنے کی کوشش کرنے جا رہا ہوں۔اس افسوسناک واقعہ کے بعد بار بار ندیم سرور کا ایک نوحہ سنا جو اکثر محرم الحرام کے دوران بہت سنا جاتا ہے۔

نا رو زینب نا رو ۔۔او میرے جگر کے ٹکڑے نہ رو
میں کیسے نہ روؤں بابا۔۔۔میں اجڑ گئی بابا۔۔۔

واقعہ کربلا کے حوالے سے اس نوحہ میں بی بی زینب کادرد بیان کیا گیا ہے۔کئی سو سال پہلے کربلا کے میدان میں ہونیوالے ظلم کی داستانیں جان کر ،سن کر روح تڑپ اٹھتی ہے۔لیکن آج بھی ہمارے معاشرے میں ظلم وستم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔قصور میں معصوم زینب کا بیہمانہ قتل کوئی پہلا واقعہ نہیں۔پورے ملک کی نظریں بلا شبہ اس وقت قصور پر لگی ہیں تاہم اس سے قبل بھی قصور سمیت متعدد شہروں اور علاقوں میں ایسے دل سوز واقعات ہو چکے ہیں اور ان میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی مؤثر اقدامات کا نہ کیا جانا بھی ایک المیہ ہے۔ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث بیشتر ملزمان آج تک گرفتار نہیں ہو سکے۔4برس قبل مغلپورہ لاہور میں بھی ایک معصوم کلی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا ۔تاہم تاحال اس دل دہلا دینے والے واقعہ کا ملزم تمام تر کوششوں کے باوجود آج تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔جن واقعات کے ملزمان گرفتار ہوئے وہ پولیس مقابلوں کے ذریعے اپنے انجام کو پہنچے۔
زینب ظلم کا شکار ہو کر اس دنیا سے جا چکی۔۔۔ آج پوری قوم سراپا احتجا ج ہے۔ ۔قانون حرکت میں آچکا ۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کب ہونگے۔۔۔؟ان واقعات نے عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ۔ہر کوئی اپنے معصوم بچوں کے حوالے سے پریشان دکھتاہے۔بچے خود خوف میں مبتلا ہیں۔۔کیا یہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد نہیں ہوتی۔۔۔؟
عوام کا خون نچوڑ کر ذاتی بینک بیلنس اور اثاثہ جات میں اضافے کی دوڑ نے ہمارے حکمرانوں میں انسانیت ختم کر دی ہے۔صحت ،تعلیم اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے تو غریب لوگ پہلے ہی محروم ہیں۔ اب اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے بھی انکی نیندیں غائب ہو چکی ہیں ۔والدین کے دل ودماغ اور آنکھوں میں ایک خوف سا سوار ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔بچوں کو سکول یا ٹیوشن سنٹرز میں بھیجنے کے بعد ان کے دلوں کی دھڑکنیں گبھراہٹ کا شکار رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ایسا معاشرہ کیا خاک ترقی کرے گا۔جہاں معصوم بچوں کو بھی تحفظ حاصل نہیں۔۔۔۔۔۔
۔بلا شبہ اس صورتحال میں میڈیا کے اہم کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اب وہ دور ختم ہو گیا جب انسانیت سوز واقعات کو ہمارے معاشرے کا با اثر مافیا دبا دیتا تھا۔اب حکمرانوں کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا ہو گی کہ سوشل میڈیا بھی مظلوم کی آواز اٹھانے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔
اب صرف کھوکھلے دعوؤں سے کام نہیں چلے گا۔اربوں روپے کے فنڈز امن وامان کیلئے مختص کرنے کے دورر س نتائج تب ہی حاصل ہونگے جب کرپشن ختم ہو گی۔ان بلندوبانگ دعوؤں اور اربوں روپے کے فنڈز کا کیا فا ئدہ ۔۔۔۔۔۔؟جب پولیس اصل ملزمان تک ہی نہیں پہنچ پاتی۔۔۔۔۔۔
ایسی صورتحال میں عوام کا غم وغصہ پھر اسی انداز میں نکلے گا جو گزشتہ دو روز سے قصور میں ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔
معصوم بچوں کے قاتل درندے کب تک دندناتے رہیں گے۔۔۔؟
کاش ہمارے معاشرے میں معصوم بچوں کو تحفظ حاصل ہو جائے۔والدین سکون کی نیند سو سکیں۔۔۔۔۔۔حکمرانوں کی انسانیت جاگ جائے۔۔۔ تحفظ فراہم کرنیوالے ادارے ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھیں۔ صرف پولیس افسران کی معطلی یا تبدیلی سے کام نہیں چلے گا۔کیونکہ چند روز بعد یہی پولیس افسران کسی دوسری جگہ دوبارہ تعینات ہونگے۔ضرورت مستقل اقدامات کی ہے۔کیا ہم آواز اٹھانے کیلئے ہمیشہ کسی سانحے کا انتظار کرتے رہیں گے،۔۔۔؟وقتی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں ترک کرنا ہوں گی۔ورنہ آوازیں بلند ہوتی رہیں گی اور چیخ چیخ کر ہم سب کے کانوں میں گونجیں گی۔

 

میں اجڑ گئی بابا۔۔۔۔۔۔میں اجڑ گئی بابا۔۔۔۔۔۔