Post With Image

عدالت کے حکم پر کیپٹن (ر)صفدر کا موبائل ضبط کرلیاگیا


کیپٹن(ر)صفدرکیناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پررہائی کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کے حکم پر کیپٹن (ر)صفدر کا موبائل ضبط کرلیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق کیپٹن(ر)صفدرکی ضمانت پر رہائی کیخلاف درخواست کی سماعت جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن پرمشتمل ڈویژن بینچ کررہاہے، نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل سردارمظفر رہائی کالعدم قراردینے سے متعلق دلائل دے رہے ہیں۔ کیپٹن (ر)صفدر نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے جبکہ کیپٹن (ر)صفدر کی جانب سے دائرمتفرق درخواست پربھی بحث جاری ہے۔ دوران سماعت کیپٹن (ر)صفدر کے موبائل استعمال کرنے پرعدالت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر نے کیپٹن (ر) صفدر سے استفسار کیا کہ یہ پارک ہے یاعدالت ، عدالت کے حکم پر کیپٹن (ر)صفدر کا موبائل ضبط کرلیا گیا۔ دوسری جانب کیپٹن (ر)صفدرکی گرفتاری کیلئے نیب ٹیم کی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئی ہے۔ خیال رہے کہ نیب کی جانب سے درخواست میں کہا گیا تھا کہ احتساب عدالت نےضمانتی مچلکوں پررہائی کا حکم دیا تھا، ہائیکورٹ کیپٹن(ر) صفدرکی رہائی کاحکم کالعدم قرار دے۔ یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے نوازشریف کے داماد اورمریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو وطن واپسی پر گرفتارکرلیا تھا۔ بعد ازاں کیپٹن صفدر کی عدالت میں پیشی پر عدالت نے انہیں 50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کرلی تھی اور اور کیپٹن(ر)صفدر کو بیرون ملک جانے سے پہلے آگاہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ واضح رہے کہ 19 اکتوبر کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نااہل نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا ۔ واضح رہے کہ کہ لندن فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نواز، مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کوملزم نامزد کیا گیا۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا