Post With Image

ہر میڈیکل کالج کا جائزہ خود جا کر لوں گا،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار


اسلام آباد:چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہر میڈیکل کالج کا خود جا کر جائزہ لیں گے۔سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے کیلئے مرکزی داخلہ پالیسی کالعدم کرنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے تمام فریقین اور اٹارنی جنرل سے عبوری مدت کیلیے پی ایم ڈی سی کو ریگولیٹ کرنے کے طریقہ کار پر تجاویز طلب کر لی ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے پرائیویٹ میڈیکل یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق قوانین اور اسمبلی میں بحث کا مواد ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ پی ایم ڈی سی کے امور چلانے کیلیے آرڈیننس لایا جاسکتا ہے نہ ہی پارلیمنٹ کو فوری قانون سازی کرنے کا پابندکیا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال میں درمیانی عرصہ کے دوران پی ایم ڈی سی کس طرح ریگولیٹ ہوگی؟ دو باتیں بالکل واضح ہیں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس نے کہاکہ میو اسپتال کے معائنے پر بہت بحث ہوئی لیکن بنیادی حقوق کے معاملے پر آئین ہمیں مداخلت کا اختیار دیتا ہے، میو ہسپتال کا معائنہ کرکے نہ تو ہم نے انتظامی اختیار میں مداخلت کی اور نہ ہی اختیار اپنے ہاتھ میں لیا۔ ہر اتوارکو تین تین میڈیکل کالجوں کا معائنہ کریں گے اور ایڈمشن پالیسی کو درست کریں گے۔ سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالج الرازی کے مقدمہ میں وکلاء کوانسپکشن ٹیم کیلیے 3، 3 نام دینے کی ہدایت کرتے ہوئے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو داخلہ ٹیسٹ کے نتائج جاری کرنے کی اجازت دیدی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز سے صوبوں میں قائم ٹربیونلزاور ماتحت عدالتوں میں ججزکی خالی اسامیوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جب کہ اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ آج جمعہ کو نئے پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے ملک بھرمیں غیرفعال ٹربیونلز اور انتظامی عدالتوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔یاد رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان نے نجی میڈیکل کالجز میں مہنگی فیسوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پرانی تاریخوں میں داخلوں پر پابندی عائد کردی تھی ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز کی زائد فیسوں کے خلاف چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے نجی میڈیکل کالجز اور اسپتال کی جانب سے زائد فیسیں وصول کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز کے مالکان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی جائیں، ایک چھوٹے سے کوٹھے اور گیراج میں میڈیکل کالجز چلائے جا رہے ہیں، بتایا جائے کہ میڈیکل کالج کا اسٹرکچر کیا ہے، تمام نجی کالجز کی تفصیلات فراہم کی جائیں، میو اسپتال میں دورہ کیا تو تنقید کی گئی لیکن جہاں میرے بچوں کی صحت کا مسئلہ ہوا وہاں خود جاؤں گا۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت کے صاف پانی منصوبے میں 3.50 کروڑ کی گاڑی خریدی گئی، عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ یہ کیسی مہنگی گاڑی خریدی گئی، ذاتی نمائش کے لیے نہیں بلکے جذبے کے تحت کیس کی سماعت کر رہے ہیں، اس عوامی مفاد کے کیس کی سماعت ہفتے اور اتوار کو بھی ہوگی، صاف پانی کیس بھی اسی کیس کے ساتھ سنا جائے گا، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کا حلفیہ بیان دیا جائے۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا