بھارتی دہشت گردی کو روکنے کےلئے عالمی برادری کا کر

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان ریاستی دہشت گردی سمیت تمام اقسام کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ دنیا کو بھارتی دہشت گردی کو روکنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ہمارے لئے اس وقت بڑا چیلنج دہشت گردانہ حملوں میں بھارت کی جانب سے مالی اعانت، سرپرستی اور معاونت ہے۔ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کرائے کی دہشت گرد تنظیموں کو منظم اور ان کی مالی اعانت کر رہا ہے۔ بھارت نہ صرف ہمارے خلاف بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگوں کے خلاف بھی ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی دہشت گردی کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بھارتی دہشت گردی کا چہرہ دنیا کے سامنے بے بے نقاب کر دیا ہے۔ جریدے نے عالمی دہشت گردی میں بھارت کو سرفہرست رکھتے ہوئے بھارت اور داعش کے آپس میں روابط کا پردہ چاک کر دیا ہے۔اپنی رپورٹ میں جریدے نے بھارت کی انتہا پسند پالیسی کو تباہ کن خطرہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی دہشتگردی کی داستانیں تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہیں۔لیکن اگر اب بھارت کی انتہا پسند پالیسی کا نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ مختلف ممالک اور خصوصاً پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی نئی لہر میں بھارتی سرپرستی نیا موڑ لے رہی ہے۔داعش اور بھارتی گٹھ جوڑ نے 2019 میں سری لنکا میں ایسٹر پر بم دھماکے کیے، اس گٹھ جوڑ نے 2017 میں ترکی میں کلب پر حملہ، نیویارک اور اسٹاک ہوم میں حملے کیے، ان حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی ہاتھ انتہائی پریشان کن ہے۔ پہلے بھارت صرف خطے میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا، اب یہ بڑھ رہا ہے۔ اسے روکا نہ گیا تو یہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت، پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو تربیت اور مالی اعانت فراہم کرتا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ بھارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی مخاصمت سب کے علم میں ہے جب کہ بھارتی رہنما بھی مختلف مواقعوں پر پاکستان کے خلاف سازشوں کا برملا اعتراف کرتے آئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم مودی سقوط ڈھاکا میں بھارتی سازش اور بلوچستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اعتراف کرچکے ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کی تاریخ بھی پاکستان کی عمر جتنی ہی پرانی ہے۔ بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے بے دریغ پیسہ اور اسلحہ استعمال کررہا ہے۔ بھارت نے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی آڑ میں پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے تربیتی مراکز قائم کرکے پاکستان کے خلاف نصف صدی سے جاری جنگ کو نیا رخ دیا۔ بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے نوجوانوں کو خاص طور پر ہدف بنایا ہے۔ انھیں دہشت گردی کے مراکز میں تربیت دی جارہی ہے۔ آئے روز ہونے والے بم دھماکے، راکٹ حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اعلیٰ عسکری تربیت کا ثبوت ہیں۔ اتنے منظم اور فوجی انداز میں کی گئی کارروائیاں محض مقامی سطح پر دی گئی تربیت کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے سبب امریکہ نے بھی بھارت کو پہلی مرتبہ 2004 کے بعد اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دے دیا ہے۔مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔امریکی کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر شریعت بل کے منظور ہونے پر آپے سے باہر ہونے لگے ہیں۔ ایک رہنما نے کہا جو بھی شہریت کے قانون کے خلاف بات کرے گا اسے زندہ گاڑ دیا جائے گا۔ دوسرے وزیر نے کہا مسلمانوں کا جو حال یوپی میں کیا، وہی بنگال میں بھی کریں گے۔ یوںبی جے پی رہنما نے اترپردیش میں مسلمانوں پر تشدد کا اعتراف کر لیا۔یو پی حکومت کے وزیر روگو راج سنگھ نے جلسے کے دورا ن کھلے عام کہا کہ جو بھی شہریت کے قانون کے خلاف بات کرے گا، اس کو زندہ گاڑ دیا جائے گا۔ وہ مخالفین کو پٹخ پٹخ کر ماریں گے۔ رگھو راج سنگھ نے زہر اگلتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نریندر مودی یا یوگی آدتیا ناتھ کے خلاف نعرہ لگائے گا میں اسے زندہ دفن کردوں گا۔ تم لوگ کھاتے انڈیا کا ہو اور ہمارے ہی رہنماو¿ں کو مردہ باد کہتے ہو۔ یہ نعرے ناقابل قبول ہیں۔ اس کا اشارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف تھا جنہوں نے اس قانون کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔رگھو راج سنگھ نے بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کو بھی نہیں بخشا اور ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ نہرو کس ذات کا تھا، اس کا تو کوئی خاندان تک نہ تھا۔ادھر ہندو نہرو یونیورسٹی کے طلباءکا کالے شہریت قانون کیخلاف احتجاج جاری ہے۔ ایک طالبہ نے مودی سرکار پر غصہ نکالتے کہا کہ جسے لائے وہی ہمیں کاٹ کھانے کو آرہی ہے۔ معذرت کے ساتھ کہتی ہوں کہ ایک چائے والے کے حوالے دیش کرو گے تو یہی حال ہوگا۔ مودی نے آئین کا حلف اٹھایا ہے آئین کو برباد کرنے کا نہیں۔ پاکستان، افغانستان سے لاکر لوگوں کو بساﺅ گے تو انہیں گھر، نوکریاں، کھانا کہاں سے دو گے۔ دیش میں پہلے ہی بہت غربت ہے مجھے اپنی ڈگری بے معنی لگتی ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈر اور رکن اسمبلی دلیپ گھوش نے مغربی بنگال میں ایک ریلی میں متنازعہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنیوالوں کو خطرناک سلوک کی دھمکی دی ۔ بی جے پی کی اس ریلی کو سرکاری تحفظ دیا گیا۔بھارتی حکمران جماعت بی جے پی نے مخالفین کو زندہ دفن کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔