نیا سال ،کٹھن راستے اور دھندلی منزلیں


نئے سال کا آغاز بھی ہوگیا،نئی امریکی دھمکیاں بھی آگئیں،نیا’’ سعودی معاہدہ‘‘بھی آنے والا ہے، نئے الیکشن کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں، اپوزیشن کی طرف سے8جنوری کی نئی ڈیڈ لائن بھی آگئی ہے، ہر طرف نئی منصوبہ بندیاں بھی ہورہی ہیں ،قوم کو ہر طرف سے دلاسے دینے کی حکمت عملیاں طے کی جارہی ہیں، اُن سے پھر وعدے کیے جائیں گے اور ایک بار پھر عوام اُمید لگا کر اچھے دنوں کی آس میں بیٹھ جائے گی۔سوچا تھا نئے سال کا آغاز ہے ، کچھ نیا لکھوں، ملک کے لیے دعا لکھوں کہ شاید اس ملک کے حالات عوام کے حق میں بہتر ہو جائیں۔ مگر اس نئے سال کا آغاز ہی اس انداز میں ہوا ہے کہ سوائے ٹرمپ کے’’ ٹویٹ‘‘ کے ،کچھ اور لکھنے کو جی ہی نہیں چاہ رہا......امریکی صدرنے سال کے پہلے دن اپنی پہلی ہی ’’ٹویٹ‘‘ میں پاکستانیوں کو تحفوں سے نواز دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو15سالوں میں33ارب ڈالر امداد دے کر تاریخ کی سب سے بڑی بے وقوفی کی گئی۔ یعنی پاکستان کے احسانات کو فراموش کر دیا گیا، آئندہ پاکستان کی امداد بھی بندہوگئی، قرضے مزید مہنگے اور کڑی شرائط کے ساتھ ملیں گے اور ہم ’’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘‘ کا اب شاید حصہ بھی نہیں رہے۔
حیرت مجھے مذکورہ ٹویٹ پر نہیں ہے بلکہ حیرت یہ ہو رہی ہے کہ ہماری حالت 70سالوں میں اُس فقیر جیسی ہو گئی ہے کہ جس کو ایک گھر سے کھانا نہیں ملتا تو وہ دوسرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔اور یہ جو ہمارے حکمران و سیاستدان ٹرمپ کے ٹویٹ پر ’’یک زبان‘‘ نظر آرہے ہیں، یہ سب ڈرامہ بازی ہے۔۔۔ ان ٹوپی حکمرانوں کی طرف سے نعرے لگ رہے ہیں کہ پاکستان پر جان بھی قربان، امریکا کے خلاف پوری قوم متحد ہے، امریکا پاکستان کو ہلکا نہ لے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ویسے تو یہ نعرے ایرانی قوم لگائے، شمالی کورین لگائیں تو سمجھ آتی ہے۔کیوں کہ وہ کسی امداد پر نہیں چلتے بلکہ خود انحصاری پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ہم یہ نعرے کیوں کر لگا رہے ہیں؟ جبکہ ہمارا تو بجٹ ہی بیرونی امداد کے بغیر نہیں بنتا۔۔۔ کوئی دوست ملک ہمیں ’’خفیہ‘‘ امداد نہ دے تو ہمارے اداروں کے بجٹ ہی سیٹ نہیں ہوتے۔۔۔ لہٰذاجب امداد ہی لینی ہے تو ہم اکڑ کس بات کی دکھا رہے ہیں؟
بہرکیف اگر آج امریکا نے ہمارے لیے 2018ء کا آغاز دھمکیوں کے ساتھ ہی کیا ہے تو کوئی بات نہیں ، ہمیں دلائل کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہے،آج تلوار سے نہیں بلکہ دلائل سے جوابات سنے جاتے ہیں، یہ کیا بات ہوئی کہ ادھر سے ٹرمپ نے دھمکی دی اور اُدھر سے ہم نے جماعت الدعوۃ کی فنڈریزنگ سکیموں پرپابندی لگادی ؟ میرے بھائی اگر یہ اقدام کرنا ہی تھا تو اس دھمکی کا انتظار ہی کیوں کیا گیا۔ خود ہی ’’ڈومور‘‘ کر دیتے! اور میں نے اپنے کئی کالموں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارا مقدمہ لڑنے والا کون ’’سپوت‘‘ ہے؟ وہی حکمران ہیں جن پر اپنے ملک میں کرپشن کے سینکڑوں کیسز چل رہے ہیں۔۔۔ مجھے بتایا جائے کہ ایسے میں ہماری کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ کہ جس ملک کا وزیر خارجہ 4سال تک نہیں لگایا ہی نہیں گیا، ایسا ملک دنیا کے سامنے اپنا کیا مقدمہ پیش کرے گا؟ کون بتائے گا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ میں پاکستان کا 123ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔اور یہ بھی کون بتائے گا کہ امریکا پاکستان کے اڈے استعمال کرتا رہا ، دوسروں کی جنگ ہم اپنے ملک میں لے آئے اور15سالوں میں 70ہزار پاکستانیوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ 
یہ سب کچھ بتانے والے ہمارے حکمران ہیں جن پر خود کے سینکڑوں کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں، جنہیں اُمید ہے کہ وہ ملک کو دوبارہ’’ فتح‘‘ کر لیں گے، سعودی عرب میں اس حوالے سے خوب پلاننگ جاری ہے۔افواہیں پھیل رہی ہیں کہ شریف برادران اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نیا ’’عمرانی‘‘ آنے والا ہے۔ اس کے لیے پاک فوج کے چند سابقہ ریٹائرڈ فوجیوں کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں جن میں سابقہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یعنی چند دنوں میں اگر یہ معاہدہ آگیا تو پھر کیا ہوگا ؟ سب گناہ معاف کردیے جائیں گے۔تو مجھے نہ چھیڑ میں تجھے نہیں چھیڑوں گا کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ یعنی پاکستان میں کرپشن کو پھر ایک نئے NROکے تحت قانونی قرار دے دیا جائے گا۔اور بڑے بڑے کرپٹ افراد ایک بار پھر چھوٹ جائیں گے۔ 
اس کے بعد ایک بات تو واضع ہو جائے گی کہ وطن عزیز میں خوب کرپشن کرو، پکڑے جاؤ تو عمرانی معاہدہ کر لو اور پھر سال بھر دنیا کی سیر کرو سڈنی کے بیچ انجوائے کرو، لندن، پیرس، نیویارک میں راتیں گزارو اور دبئی کے ریزورٹس بک کرواؤ تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا، جبکہ اس کے برعکس اس ملک کی حالت یہ ہے کہ معمولی معمولی کرپشن کرنے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا جاتا ہے۔۔۔ ان کے کپڑے اتروا کر عزتیں نیلام کی جاتی ہیں۔ اور ان کی تعداد پورے پاکستان میں 40ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ یہاں تو حالات یہ ہیں کہ قیدی10، 10ہزارروپے جرمانے کے عوض تین تین سال سے جیل میں قید ہیں۔ گزشتہ دنوں ایسے ہی کئی قیدیوں کی فہرست منظر عام پر آئی ہے جو معمولی رقوم کے تنازعات میں یا جرمانے کی عدام ادائیگی کی وجہ سے کئی سالوں سے جیل میں قید ہیں۔ لیکن یہ کالم لکھتے لکھتے میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر کرپشن کرنی ہے تو بڑی کرو، ورنہ چھوٹی کرپشن میں جیل بھی جانا پڑے گا، مار بھی کھانی پڑے گی اور رسواء بھی ہونا پڑے گا۔ اگر آپ بڑی کرپشن کرو گے تو اُتنا بڑا پروٹوکول ملے گا اور عزت کے ساتھ آپ کیساتھ پیش آیا جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو حکمرانی بھی ملک جائے!
خیر نئے سال کی کیا بات کروں، مایوسی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جس ملک میں نوجوان سرعام قتل ہوتا ہو، خاندانوں میں ’’صلح‘‘ ہو جاتی ہو۔کوئٹہ میں بااثر قاتل دن ہاڑے ٹریفک سارجنٹ کو بے رحمی سے کچل دیتا ہو اور اس کی ضمانت ہو جاتی ہو۔پورا کراچی چائنا کٹنگ کا شہکار نکلتاہو۔ عمارتوں پر عمارتیں بلڈوز ہورہی ہوں۔ لوگ بے گھر ہو رہے ہوں اور فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہے کہ ظالم کون، مظلوم کون؟حکومتیں محکوموں کو زہریلا پانی پلا رہی ہوں۔ اس سے بہتر تھا یہ شمر کی طرح پانی بند کردیتے۔میڈیکل کالجوں نے طلبہ اور ان کے والدین کا ’’پوسٹ مارٹم‘‘ شروع کر رکھا ہو۔ ہاؤزنگ، علاج معالجہ اور تعلیم ملک کے مقبول اور منافع ترین کاروبار ہوں اور فاحشہ جمہوریت کیٹ واک کر رہی ہو۔بددیانت ترین آدمی سرعام کہتاہے کہ’ ’اگرمیرے اثاثے میری آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں تو کسی کو کیا تکلیف؟‘‘ڈکٹیٹر کی پیداوار اور سپریم کورٹ پر یلغار کرنے والا تحریک عدل چلانے کی بات کرتا ہو۔پے در پے سازشوں کا پروردہ اپنے خلاف سازشوں کاڈرامہ رچارہاہو۔پنچائتیں اجتماعی زیادتی کے ’’فیصلے‘‘ سناتی ہوں ۔ جہاں منزلیں دھندلی ہوں اور راستوں کا تعین نہ ہوتو وہاں اس ملک میں نیا سال کیسا ہو سکتا ہے؟ 
آخر میں چڑھتے سال کی ایک اور خبربھی پڑھ لیں جس سے یقیناًلاہوریوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہوں گی۔ خبر یہ ہے کہ ایل ڈی اے نے دو روز قبل قومی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیاجس کے مطابق لاہور کے 90فیصد شادی ہالوں کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد انہیں گرانے کے لیے ایک مہینے کا نوٹس دے دیا۔ اور عوام کو پابند کیا کہ وہ ایک مہینے کے اندر اندر شادیاں ختم کرلیں اُس کے بعد ایل ڈی اے ذمہ دار نہ ہوگا ۔۔۔ اب ایل ڈی اے کے ’’فرشتوں‘‘ سے بندہ پوچھے کہ انہوں نے کونسا ایسا خواب دیکھا ہے جس میں یہ ظاہر ہوا ہو کہ یہ شادی ہال مالکان انڈیاسے تعلق رکھتے ہیں یا ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں؟ اور سب سے زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان شادی ہالوں کو بنانے کی اجازت کو ن دیتا رہا؟ اور جب یہ غیر قانونی شادی ہال بن رہے تھے تو ایل ڈی اے خواب غفلت میں کیوں سویا ہوا تھا؟ اس محکمے کے چہیتے افسران اُس وقت دیہاڑیاں سیدھی کرتے رہے اور جب یہ عمارتیں کھڑی ہوگئیں پھر انہیں یہ خیال آگیا یہ کام غیر قانونی ہو رہا تھا۔ اور اگر یہ 90فیصد ہال بند ہوگئے تو پھر ہم دیکھیں گے کہ لاہور کی تمام بڑی سڑکوں پر شامیانے لگا دیے گئے ہیں، پھر ان شامیانوں کے لیے سڑکوں کی بھی خوب کھدائی ہوگی۔۔۔ خیر جس ملک میں حکمرانی نظر نہ آئے وہاں وہاں کے افسرشاہی یوں ہی عوام کو تنگ کیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس افسر شاہی کو ہدایت نصیب فرمائے اور دعا ہے کہ بقول شاعر 

 

پھر نیا سال ، نئی صبح، نئی امیدیں 
اے خدا، خیر کی خبروں کے اجالے رکھنا