!ٹریفک حادثات: دہشت گردی سے بھی بڑا خطرہ


یہ بات تو سب جان چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے 70ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن شاید ہی کوئی یہ جانتا ہو کہ جنوری2001سے دسمبر2018ءتک 18سالوں میں 8لاکھ سے زائد افراد ٹریفک حادثات کے باعث اس دنیا میں نہیں رہے جبکہ اس سے دوگنی تعداد اُن زخمیوں کی بھی ہے جو ساری زندگی کے لیے اپاہج ہو گئے۔ یعنی جتنی ہلاکتیں ہمارے ہاں ٹریفک حادثات میں ہوتی ہیں اتنی خدانخواستہ کسی سانحے سے نہیں ہوتیں۔اور پاکستان کے پاس یہ ”اعزاز “ بھی موجود ہے کہ پاکستان ہر قسم کے ٹریفک حادثات میں ایشیاءمیں پہلے نمبر پر ہے۔صبح اٹھتے ہی ٹی وی آن کریں تو اس طرح کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں بس نہر میں گر گئی، ٹرک نے وین کو ٹکر ماردی، گاڑی نے موٹر سائکل سوار کوکچل دیا، ریلوے پھاٹک پر رکشہ ٹرین کی زد میں آگیا، ٹرالر الٹ گیا، ریس لگاتے ہوئے دو گاڑیاں سڑک کنارے کھڑے لوگوں پر چڑھ دوڑیں،گاڑی درخت سے ٹکراکر الٹ گئی ، بس کھائی میں گر گئی، وین بے قابو ہو کر نہر میں جا گری، کوئلے سے بھرا ٹرک وین پر الٹ گیا اور وین میں سوار تمام افراد جاں بحق وغیرہ وغیرہ ہمارے اخبارات بھی اسی قسم کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی افسوسناک خبریں سارا دن ملتی رہتی ہیں اور یہی روزانہ کی روٹین ہے۔ 

 اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تو صاف نظر آجاتا ہے کہ ہمارے ”قاتل “ کون دشمن ہیں؟ لیکن روڈ ایکسیڈنٹ کا قاتل کون ہوتا ہے؟ کیا اس حوالے سے کسی نے جاننے کی کوشش کی؟ بالکل نہیں ، کیا پاکستان میں کوئی ادارہ (ماسوائے ایمرجنسی سروسزکے ریکارڈز کے)ایسا ہے جس کے پاس شاہراہوں پر ہلاک ہونے والوں کا ریکارڈ ہو ؟ بالکل نہیں۔ کیا وطن عزیز میں حادثات میں ہلاک ہونے والے خاندانوں کا ریکارڈ موجود ہو کہ وہ کس حال میں ہیں؟ یقینا بالکل نہیں۔ اور کیا ایک حادثہ ہونے کے بعد اُس حادثے کے سدباب کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے؟ بالکل نہیں۔ کیا حادثات کے بعد ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یا قوانین میں بہتری لانے کی بات کی جاتی ہے؟ بالکل نہیں۔ 

بلکہ حادثے کے وقت ہمارے الفاظ کچھ یوں ہوتے ہیں: ”اس کی لکھی ہی اتنی تھی“ ، ”اوہو! جو اللہ کو منظور۔۔۔!“ یا یہ کہا جاتا ہے”اس کا اپنا قصور ہوگا!“وغیرہ وغیرہ میرے خیال میں یہ انتہائی غلط روش ہے جو ہم اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں ہمارے ملک سے زیادہ ٹریفک حادثات ہوتے تھے مگر انہوں نے 75فیصد تک قابو پالیا۔ کیوں وہ یقینا یہ نہیں کہتے ہوں گے کہ لکھی کو کون ٹال سکتا ہے! وہ یقینا یہی کہتے ہیں کہ جب اللہ نے آپ کو دماغ اور عقل عطا فرمائی ہے تو اسے استعمال کرکے انسانی جان کو بچانے کے لیے آخری حد تک اقدام کرنے چاہیئں! اُس کے بعد وہ یہ جملہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ”آگے اللہ کی مرضی!“ خیر ان مہذب ملکوں میں ٹریفک قوانین پر ہر صورت عمل کروایا جاتا ہے۔ سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں، اور پھر بھی عمل نہ کرنے والے کو تاحیات ڈرائیونگ کرنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

 متحدہ عرب امارات کی مثال لے لیں وہاںڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کیلئے کسی بھی شخص کو پہلے فیس جمع کروانی ہوتی ہے،پھر میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے، پھر ٹریننگ اٹینڈ کرنا پڑتی ہے پھر تھیوری اور پریکٹیکل کے الگ الگ ٹیسٹ دینا پڑتے ہےں اور ٹیسٹ دینے والے شخص کو چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر بھی فیل کردیا جاتا ہے اور دوبارہ اسی عمل سے گزارا جاتا ہے یعنی پھر ، ٹریننگ اور پھر ٹیسٹ بلکہ لوگوں کو لائسنس حاصل کرنے کے اس طریقہ کار سے کئی کئی مرتبہ گزرنا پڑتا ہے اور اوسطاً ایک شخص کو لائسنس حاصل کرنے کیلئے تقریباً 10 ہزار درھم فیس ادا کرنا پڑتی ہے یہ سب اس لئے ہے کہ ڈرائیور بننے والے کو لائسنس کی اہمیت کا احساس ہو اور اسکی ڈرائیونگ انتہائی Refineہو جائے اور اسے غلطی کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے ،اس کے علاوہ بغیر اندیکیٹر لین تبدیل کرنے والوں کو 4000درہم جرمانہ کیا جاتا ہے ، اوور سپیڈ پر آپ کو تین دن جیل میں رہنا پڑتا ہے، سگنل بریک کرنا تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ”گناہ کبیرہ“ سمجھا جاتا ہے جس کی سزا کا تعین موقع پر کیا جاتا ہے ۔جبکہ یہاں ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہی ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کا انتہائی آسان ہونا ہے۔ آپ 2، 3ہزار روپے دیں آپ کا لائسنس گھر میں بن کر آجاتا ہے ۔ محض لرننگ لائسنس کے لیے آپ کو مقامی دفتر جانا پڑتا ہے وہ بھی محض تصویر کی شرط ہونے کی وجہ سے ورنہ وہ بھی گھر میں ہی بن کر آ جایا کریں۔ڈرائیونگ ٹیسٹ سے تو گزارا ہی نہیں جاتا ۔ 50فیصد سے زائد تو ایسے ڈرائیور حضرات ہیں جن کے پاس لائسنس ہی نہیں ہوتا اور ماشاءاللہ یہاں بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے کی سزا ہی نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں میں ڈرائیور کے ہمراہ رنگ روڈ لاہور پر سفر کر رہا تھا، ہماری گاڑی کو اوور سپیڈ پر روک لیا گیا۔ اہلکار نے ڈرائیور سے لائسنس مانگا، ڈرائیور نے لائسنس دیا، اہلکار نے استفسار کیا کہ یہ لائسنس ’ایکسپائر‘ ہے، لہٰذاشناختی کارڈ دو، ڈرائیور نے شناختی کارڈ دے دیا، اہلکار نے 500روپے کا چالان تھما دیا۔ اب فکر کی بات یہ ہے کہ ایک ڈرائیور کا لائسنس ہی ایکپسائر ہے یا لائسنس ہے ہی نہیں تو آپ نے اُسے دوبارہ گاڑی چلانے کی اجازت کیسے دے دی؟ کیا ایسی صورت میں اُس کی گاڑی کو بند نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ کیا مذکورہ ڈرائیور کو یہ نہیں کہاجانا چاہیے تھا کہ ایسے شخص کو بلاﺅ جس کے پاس لائسنس ہو وہ خود گاڑی لے کر جائے تاکہ وہ دوبارہ بغیر لائسنس کے یا ایکسپائر لائسنس کے روڈ پر آنے کی جرا¿ت نہ کرے۔ کیوں کہ جس کے پاس لائسنس نہیں ہے اور اسے آپ 500روپے جرمانہ کرکے جانے کی اجازت دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت اُسے ”کار بم، ٹرک بم یا ویگن بم“ کے ساتھ اجازت دے رہی ہے کہ جاﺅ سڑک پر جسے مرضی ٹھوک دو!

میں گزشتہ سال امریکا گیا تو وہاں ایک دوست مجھے کسی پارٹی میں لے گیا، گاڑی ڈرائیو وہ خود کر رہا تھا، ہم رات کو جب واپس آئے تو میں نے اُس سے پوچھا کہ واہ اچھی بات ہے تم نے شراب چھوڑ دی، اُس نے مزاحاََ کہا کہ ڈھلوں صاحب چھوڑی کہاں ہے، یہاں کے سخت ٹریفک قوانین کی وجہ سے ہمت نہیں ہوتی ، پھر میں نے مزید دریافت کیا تو علم ہوا کہ آپ کو شراب پی کر گاڑی چلانے کی سزا اقدام قتل کی سزا کے برابر ہے۔ اُس نے کہا کہ امریکا میں ہر قسم کی آپ کو چھوٹ مل سکتی ہے مگر نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنا ایسا ہی ہے جیسے آپ کو عمر قید کے لیے بھیج دیا جائے ۔ اس کے علاوہ وہاں معمولی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھی سینکڑوں ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اور بغیر لائسنس کے تو آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ آپ گاڑی چلا سکیں گے! بعض اوقات غلطی پر غلطی کرنیوالے کا لا ئسنس بھی کینسل ہو جاتا ہے تین سال پرانی گاڑیوں کو ہر سال فٹنس ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے اگر گاڑی ان کے معیار پر پوری نہیں اترتی تو وہ روڈ پر نہیں آسکتی ۔ ملائشیا کی مثال لے لیں وہاں صرف وہی شخص ڈرائیونگ کر سکتا ہے جس کے نام پر گاڑی ہو، مگر ہمارے ہاں چار دن ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے والا پانچویں دن ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے اور گاڑی بھی اُس کے پاس وہ ہوتی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دور میں استعمال ہوئی تھیں ۔ باقی مہذب ممالک جیسے امریکہ، انگلینڈ، کینیڈا اور جرمنی وغیرہ میں تقریبا اسی طرح کے ٹریفک قوانین لاگو ہیں جن پر پوری طرح عملدرآمد کرایا جاتا ہے اس طرح وہ لوگ بہت حد تک ان حادثات پرقابو پا چکے ہیں ۔ 

بہرکیف ان حادثات میں بہت سے معصوم لوگ دوسروں کی غلطی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے اور بہت سے زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ہمارے ہاں 80 فیصد لوگ سیٹ بیلٹ باندھنے جیسے بنیادی ٹریفک قوانین کو فالو نہیں کرتے۔ ایسے لوگ ا پنے قاتل خود ہیں جو اپنی لاپرواہی کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔انٹر نیشنل ٹریفک قوانین کے مطابق 10 سال سے پرانی گاڑیوں کو ریٹائر کر دینا چاہیے اور ان پرانی گاڑیوں کے روڈ پر چلنے پر مکمل پابندی عائد ہوتی ہے۔ لیکن بد قسمتی سے بیرون ملک سے پرانی گاڑیاں لا کر ہمارے ملک میں استعمال کی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں رجسٹر شدہ گاڑیوں میں آدھے سے زیادہ تعداد ان گاڑیوں کی ہے جن کی عمر 30 سال سے بھی زیادہ ہے۔ ایسی پرانی گاڑیاں ایکسیڈنٹ کا موجب بنتی ہیں۔ ایسی انسانی جان کی دشمن مشینری سے جان چھڑانے کے لئے حکومت کو ایک جامع حکمت عملی بنانی چاہیے۔

 

آخر میں قارئین کی معلومات کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ دنیا بھر میں ہر سال 15لاکھ افراد ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 90فیصد حادثات پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں انہی پرانی گاڑیوں، ڈرائیونگ لائسنس کے مسائل اور روڈ سیفٹی کے نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ٹریفک قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے ، گورنمنٹ کی رٹ کو مضبوط کیا جانا چاہیے ۔ جرمانے کی سزاﺅں کو Reviseکیا جانا چاہیے، اب ایک شخص کے پاس 2کروڑ کی گاڑی ہے اُس کا پانچ ، سات سو روپے کا چالان کردیں گے تو اُسے کیا فرق پڑے گا یا جو شخص موٹروے سے سفر کرتا ہے وہ یقینا صاحب حیثیت ہوگا، اُس کا موٹروے پر اووسپیڈ پر700روپے جرمانہ ہوگا تو اُسے کیا فرق پڑے گایہی جرمانہ اگر 7000روپے تک ہوگا تو یقینا وہ نسبتاََ احتیاط سے کام لے گا۔ روڈ ایکسیڈنٹ کے حوالے سے ایک الگ ایسا ادارہ قائم کیا جانا چاہیے جو ہمہ وقت اسی پر کام کرے، اس ادارے میں کسی کا عمل دخل نہ ہو تاکہ اس اہم ترین مسئلے کو سیاست سے ہٹ کر حل کیا جائے کیوں کہ اگر سیاسی لوگوں نے کہا کہ ہیلمٹ لو، یا عدالت آرڈر کرے گی تو ہم اس معاملے میں”اُلٹے“ دماغ کے لوگ ہیں اس لیے دور کی کڑیاں تلاش کرنا شروع کر دیں گے اور کہیں گے کہ فلاں سیاستدان کے فلاں رشتے دار کے داماد کی ہیلمٹ بنانے کی فیکٹری ہے جسے فائدہ پہنچانے کے لیے ہیلمٹ کو لازمی قرار دیا جارہا ہے حالانکہ پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد موٹر سائیکلزکی ہے، اور ہلاکتیں بھی سب سے زیادہ موٹرسائیکل سواروں کی ہو رہی ہیں لہٰذاایسی سوچ سے بھی دور ہی رہنا چاہیے ورنہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے رہیں گے یا زندگی بھر معذوری برداشت کرتے رہیں گے۔