!14اگست: ہر پاکستانی کو اپنی جنگ خود لڑنا ہو گی


جب لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ اس آزادی کا ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ تو یقین مانیں ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، مر لوگ متحدہ ہندوستان میں بھی رہے تھے، مر آج پاکستان میں بھی رہے ہیں، اُس وقت بھی ہم غلام تھے، اور آج بھی ہم غلام ہیں۔ اگر یہی سب کچھ ہونا تھا تو تقسیم کا فائدہ عام آدمی کو کیوں نہیں ہوا، وہاں پر بھی غریب ہندوﺅں،شودروں، سکھوﺅں اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی اقلیتی مشکلات کا شکار ہیں۔ وہاں پر ہندو، ہندوﺅں سے کر رہے ہیں، سکھ سکھوﺅں سے کر رہے ہیں، جبکہ ادھر مسلمان مسلمانوں سے کر رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اس تقسیم سے فرق کیا پڑا ہے؟ اس سے تو یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہاں محض مفادات کی جنگ ہے۔ مذہبی جنگ ہے ہی کوئی نہیں ! آپ ہمارے دوست ممالک کی مثال لے لیجیے، ہمارے دوست اسلامی ملکوں میں اگر کہیں تھوڑا سستا انڈین ورکر ملتا ہے تو یہ دوست ممالک پاکستان کو بھول کر اور پاکستانی ورکرز کو نکال کر 20، 30انڈین ورکرز کو لے آتے ہیں ....حالانکہ یہ لوگ پاکستان کے ساتھ مخلصانہ انداز میں انہیں تربیت فراہم کر سکتے ہیں ۔ یعنی یہاں مفادات کی جنگ ہے۔کہیں کوئی مذہب کی جنگ نہیں ہے۔ 

یہاں محکمے تباہ کر دیے گئے ہیںحتیٰ کہ ہر محکمہ اپنے مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ پولیس اپنا مفاد دیکھتی ہے، بیوروکریسی اپنا مفاد دیکھتی ہے، کسی جگہ پر مفاد پرستی ہے تو کسی جگہ پر فرقہ واریت ، جبکہ کسی جگہ پر لسانی جنگ اور کسی جگہ پر چوربازاری ہے ۔ ہمیں ان سے نکلنے کے لیے اپنے آپ کو طاقت ور کرنا پڑے گا، ہر پاکستانی کو خود اُٹھنا پڑے گا، جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے خود نہیں اُٹھ کھڑے ہوں گے، خود زیادتی کرنے والے کے راستے میں نہیں رکیں گے، زیادتی کا راستہ خود نہیں روکیں گے، ظلم کے آگے خود دیوار نہیں بنیں گے تو اُس وقت ہم اور ہماری اولاد یونہی بے موت مرتے رہیں گے۔ ہمیں اپنے اداروں کو بہتر کرنا ہوگا، ہمیں اس ملک کو ٹھیک کر نا ہوگا، قائد نے کہا تھا کہ ”مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟، پاکستان کا طرز حکومت طے کرنے والا میں کون ہوتا ہوں، مسلمانوں کا طرز حکومت 1300 سال قبل قرآن کریم نے واضح کردیا تھا“۔ ہمیں انگریزوں سے آزاد ہوئے 72 سال سے زائد بیت چکے ہیں لیکن آج بھی ہماری سوچ پر انگریز کی مہر ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ قوم کا ہر نوجوان اوراُس کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

تقریباً تین چوتھائی صدی گزرنے کے بعد بھی ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو یقینی طور پر تسلیم کرسکے کہ بحثیت قوم ہم اور ہمارے ادارے آزاد ہیں، ہم اتنے آزاد ہیں کہ ہماری عدلیہ آج بھی برٹش انڈین ایکٹ 1935ءپر انحصار کر رہی ہے۔ ہماری معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی بیساکھیوں پر کھڑی ہیں جبکہ یو ایس ایڈ اور یو این چارٹر کے سہارے ہمارا تعلیمی نظام ہمیں دن بدن نظریہ پاکستان اور مقصد پاکستان سے دور کرتا چلا جارہا ہے۔

یہ بات اہم ہے اور دلچسپ ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ہم جشن آزادی کو اُمید کے سال کے طور پر منا رہے ہیں، اورچونکہ موجودہ حکومت کا یہ دوسرا سال ہے اس لیے پہلا سال تو حکومت نے محض یہ کہتے ہوئے گزارا ہے کہ ہم سابقہ حکومت کے معاملات کو درست کرنے میں گزارا ہے ۔ لہٰذااب اگلی جشن آزادی تک ایک مضبوط، محفوظ، ترقی پسند اور کرپشن سے پاک ملک کی امید دلائی ہے، جو غیر آزمودہ سیاسی شخصیت عمران خان نے قوم کے دلوں میں پیدا کی ہے اور ساتھ یہ خوف بھی ہے کہ اگر وہ ناکام ہوگیا ، تو لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں رہے گی۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے کئی دہائیاں لوٹ مار کی۔ خیر ہمارا آج کا موصوع ہے کہ یوم آزادی کا ہمارا مقصد کیا ہے؟ اس دن پورے ملک میں پاکستانی پرچموں کی بہار آئی ہوتی ہے ۔سوال مگر یہ کہ کتنے ہیں جو اِس پرچم کی قدروقیمت جانتے ہیں؟۔کتنے ہیں جو اِس پرچم کی لاج رکھتے ہوئے سَچّے اور سُچّے پاکستانی بننے کی کوشش کرتے ہیں؟ کتنے ہیں جو اِس پرچم کی حُرمت پر کَٹ مرنے کوتیار ہیں؟ ۔ کیابھتہ خور ، ٹارگٹ کلر، پرچی مافیہ اور قبضہ گروپ اِس پرچم کی تکریم کریں گے یا ٹیکس چور، کرپشن کے مگرمچھ ، قرضے معاف کروانے والے اور ملکی دولت پاکستان کے بجائے بیرونی ممالک میں محفوظ سمجھنے والے؟۔ کیا اقتدار کے بھوکے گِدھ جو آج بھی موجودہ حکومت کو ناکام کرنے کے لیے ہر حد تک جانا چاہ رہے ہیں اِس پرچم کی رفعتوں سے آشنا ہیں ۔ کڑوا سچ یہی ہے کہ ہم گزشتہ سات دہائیوں میں من حیث القوم اتنے کرپٹ ہوچکے ہیں کہ آزادی کی قدروقیمت سے آگاہ ہیں نہ آشنا۔

یہاں صنعتوں کا حال ِ زار کس سے پوشیدہ ہے؟ کون نہیں جانتا کہ جب کاروباری طبقات برسراقتدار آئے تو کس طرح ملک پستی کی جانب چلا گیا، جبکہ یہ لوگ خود پاکستان کے دوسرے اور تیسرے امیر ترین افراد میں شامل ہونے لگے۔ جب عوام کے حصے میں جو کچھ آیا وہ بے روزگاری، لوٹ مار، کرپشن اور دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی کے عفریت نے تو پوری سفاکی سے معصوم بچوں، طالب علموں، پارک میں جھولتے خاندانوں، وکلائ، ہسپتالوں تک کو نہ چھوڑا۔ خیر ہمیں آزادی کا مقصد سمجھ آنادور کی بات ہمیں دو وقت کی روٹی کا محتاج بنا دیا گیا۔ لیکن پھر جس سونامی نے ہمیں اُمید دلائی اُس سے یہی لگا کہ شاید یہ تکلیف ہمارے لیے عارضی ہے بقول شاعر 

کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے

ہے بھروسا اپنی ملت کے مقدر پر مجھے

خیر چودہ اگست ہماری اجتماعی خوشیوں کا دن ہے۔خیر یوم آزادی کے اس ہفتے کی مناسبت سے، کچھ وقت کے لیے آئیں اس لاچاری کی کیفیت کو ختم کریں اور غور کریں کہ کیونکر یہ پراُمید رہنے کا وقت ہے۔ قدرت نے پاکستان کو معدنی دولت سے مالا مال کیا ہے۔جیولوجیکل سروے کے مطابق ہمارے ملک میں 6 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے میں معدنی ذخائر موجود ہیں جن میں کوئلے، تانبے، سونے، قدرتی گیس، تیل، ماربل، قیمتی پتھر، گرنائیڈ، نمک اور چونے کے ذخائر قابل ذکر ہیں۔ بلوچستان کے علاقے ریکوڈیک میں دنیا کے پانچویں بڑے تانبے کے 22 ارب پاﺅنڈ اور سونے کے 13 ملین اونس کے ذخائر پائے جاتے ہیں جن کی مجموعی مالیت 500 ارب ڈالر ہے۔ حالانکہ رکو ڈک کیس پر عالمی عدالت نے پاکستان کو 6ارب ڈالر جرمانہ عاید کیا ہے، لیکن پاکستان ابھی بھی نہایت دانشمندانہ حکمت عملی سے اس پراجیکٹ کو پاکستان کے لیے پراُمید بنا سکتا ہے۔ اُمید ہے عمران خان انہی منصوبوں پر کام کریں گے اور کوشش کریں گے کہ انہی ذخائر پر کام کریں اور انہی ذخائر سے استفادہ اُٹھانے کی بات کریں گے۔ پھر پاکستان دنیا بھر میں کینو کی پیداوار میں پہلے، چنے کی پیداوار میں دوسرے، کپاس، چاول، کھجور اور خوبانی کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ اسی طرح پاکستان مچھلی، دودھ اور گنے کی پیداوار میں پانچویں، گندم کی پیداوار میں چھٹے، خشک میوہ جات، پیاز اور آم کی پیداوار میں ساتویں، قیمتی پتھروں اور سنگ مرمر کی پیداوار میں آٹھویں، چینی اور حلال گوشت کی پیداوار میں نویں جبکہ سیمنٹ اور چاول کی پیداوار میں بارہویں نمبر پر ہے۔اقوام متحدہ کی فوڈ اور ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ گھی پیدا کرنیوالا ملک ہے جبکہ ملک میں دنیا کے سب سے بڑے نمک کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ پاکستان دنیا میں معدنی ذخائر رکھنے والا امیر ترین لیکن اسے استعمال کرنے میں غریب ترین ملک ہے۔ ملک میں دنیا کے کوئلے کے چوتھے بڑے جبکہ سونے (100ارب ڈالر) اور تانبے (27ارب ڈالر) کے پانچویں بڑے ذخائر موجود ہیں لیکن 6دہائیاں گزرنے کے باوجود بدقسمتی سے ہم ان قدرتی نعمتوں کو زمین سے نکال کر فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ 

 

لہٰذاہمیں سوچنا ہے تو صرف یہ کہ کیا ہم خود سے اس پاکستان کے لیے کچھ کر سکتے ہیں ؟ اوراس اہم ترین موقع پر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس آزادی کا مقصد کیا تھا؟اس ملک کے بنانے کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ ہم ایک ایسی Nationکی تخلیق کریں جو اس دنیا میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہے، جس کے لوگوں کا اپنا ایک وژن ہوتا ہے۔ کم از کم ہم آزادی کے مقصد کو جان کر ملک و ملت کے لیے بنائے گئے قوانین کو فالو کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے تئیں سوچنا ہوگا کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جو علامہ اقبالؒ کاخواب اوربابائے قوم کی کوششوں اور کاوشوںکا ثمرتھا؟۔ اگرنہیں توپھر کاش کہ ہم اپنی اداو¿ں پہ اب بھی غورکرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ریاستی ادارے اس وقت کٹھ پتلی بن چکے ہیں، اس وقت بارش میں جو کراچی کا حال ہوا ہے، اُس سے کون واقف نہیں ہے، کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے، اور جب تک ہم ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے رہیں گے، ہمارے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہے گا۔ اس لیے یہ سوچیں کہ ابھی کچھ بھی نہیں بگڑا .... ابھی ہر چیز سمیٹی جا سکتی ہے.... کیوں اگر ہم پاکستانی ہیں تو سب سے پہلے ہمیں پاکستان کے بارے میں سوچنا ہوگا....ہمیں چاہیے کہ ہم اس وقت صدق دل سے اس وطن کے لیے کچھ کریں جسے ہماری محنت، لگن اور ایمانداری کی اشد ضرورت ہے....