عام سائل کے ساتھ ساتھ ججز کو بھی ”انصاف“ چاہیے!

ہماری عدلیہ کا حالیہ منظر نامہ دیکھا تو منظر بھوپالی یاد آگئے جو کہتے ہیں کہ آپ ہی کی ہے عدالت آپ ہی منصف بھی ہیں یہ تو کہیے آپ کے عیب و ہنر دیکھے گا کون پھر منظور احمد کا بھی ایک شعر یاد آگیا کہ وہی قاتل وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے یہ اشعار مجھے تب یاد آئے کہ جب گزشتہ روزاسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھے،،، یاد رہے یہ وہی چیف جسٹس ہیں جو سینئراٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ رواں سال جولائی میں 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کمیشن کی ”سلیکشن“ کے بعد منتخب ہوئے،،، اور ہم نے اپنے کالموں میں اُسی وقت خدشات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں عدلیہ کے لیے حالات گھمبیر سے گھمبیر تر ہوں گے،،، اور کورٹس میں سینئر و جونیئر ججز کا بحران پیدا ہوگا،،، آپ اس کی مثال دونوں جج صاحبان کے خطوط سے لے سکتے ہیں،،،جو ہائی کورٹ کی ”فل کورٹ میٹنگ“ سے قبل اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں،،،ویسے تو ہم نے ضیا دور بھی دیکھا مشرف دور بھی دیکھا لیکن عدلیہ میں ججز کے درمیان اختلافات اور نظریہ ضرورت کے تحت ان کا استعمال جتنا آج ہو رہا ہے،،، اتنا تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ خیرجسٹس بابر ستار لکھتے ہیں کہ ”کیا آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں ؟ کیا ججز یقین کرتے ہیں کہ شہری اپنے بنیادی حقوق کا انہیں محافظ سمجھتے ہیں ؟ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی عدلیہ کو آزاد ادارہ بنانے کی کوشش کی ؟ روسٹر کی تیاری ، کیسز فکس میں شفافیت کی کمی ہے ، ہم روزانہ اپنے فیصلوں میں افسران کو کہتے ہیں کہ آپ بادشاہ نہیں نا ہی اختیارات بغیر حدود و قیود ہیں ، کیسز فکس کرتے سینئر ججز کو نظر انداز کرکے ٹرانسفر اور ایڈیشنل ججز کو کیسز بھیجے جا رہے ہیں ، انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا ججز اور چیف جسٹس کو یاد نہیں رکھنا چاہیے وہ کنگ نہیں پبلک آفیشلز ہیں ، آپ کا آفس کچھ کیسز میں کاز لسٹ بھی جاری کرنے سے انکاری ہے جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو رہی ہے ، روسٹر جاری کرکے میرے سمیت سنگل بنچز سے محروم کرنا بھی ہم نے دیکھا ہے ، سینئر ججز کو انتظامی کمیٹی سے رولز کی خلاف ورزی میں الگ کیا گیا، ایڈیشنل اور ٹرانسفر ججز کو شامل کیا گیا ، آپ نے ججز کے بیرون ملک جانے کے لئے این او سی لینا لازمی قرار دیا گویا ججز کو ای سی ایل پر ڈالا گیا ، ادارے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں تباہ کرنے میں کچھ وقت نہیں لگتا۔“ پھر جسٹس سردار اعجاز اسحاق لکھتے ہیں،،، ” ایسا معلوم ہوتا ہے فل کورٹ میٹنگ ایک فارمیلٹی کے طور پر بلائی گئی ہے۔اس صورتحال میں پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق معنی خیز رائے نہیں دے سکوں گا، فل کورٹ کی منظوری کے بغیر کیوں پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کا گزٹ نوٹیفکیشن ہوا؟ ججز کے بیرون ملک جانے سے قبل این او سی لازمی قرار دینے کا عمل ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔ماسٹر آف روسٹر چیف جسٹس ہونے کی بنا پر کیسز دوسرے بینچز منتقل کرنے کو ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے، بغیر فل کورٹ منظوری پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کے تحت تمام اقدامات غیر قانونی ہوسکتے ہیں، چیف جسٹس کے این او سی کے بغیر بیرون ملک سفر سے ججز کو روکنے کی کوئی قانون اجازت نہیں دیتا۔اب چیف جسٹس چاہیں گے کہ جج چھٹیاں پاکستان میں گزارے یا بیرون ملک؟ ججز کے سفر سے متعلق بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے، بینچز کی تشکیل سے متعلق مختلف آرڈرز ہوئے، اس پر بھی فل کورٹ میں بحث ہونی چاہیے۔“ بہرحال یہ دونوں خطوط اور اس سے پہلے لکھے گئے 6ججز کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں خطوط ،،،اس وقت ہماری عدلیہ میں موجود دراڑوں کی نشاندہی کر رہے ہیں،،، لگ ہی نہیں رہا کہ کوئی بھی ادارہ میرٹ پر چل رہا ہے بلکہ یوں محسوس کیا جا رہا ہے کہ جیسے اسے کہیں سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔لہٰذااس وقت تو حالات یہ ہیں کہ سپریم کورٹ بھی اپنی ، ہائیکورٹس بھی اپنی ، دیگر عدالتیں تو ہیں ہی اپنی،،، ایسے میں گلیاں ہوجان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے والا حساب ہوگیا ہے۔ کیوں کہ اب عدالتوں میں سیاسی وابستگیوں والے بہت سے ججز تعینات ہوگئے ہیں،،، بلکہ سیاستدان یا دیگر ادارے اپنی اپنی فہرستیں تیار کرکے بھجوا رہے ہیں کہ کس جج کو کس کورٹ کا حصہ بنایا جائے اور اسے کونسا عہدہ دیا جائے۔ ایسا اس لیے بھی ”جرم“ سمجھا ہے کیوں کہ جس سیاستدان کی وساطت سے کوئی بھی جج تعینات کیا جائے گا تو وہ ساری زندگی اُس شخصیت، اُس سیاسی جماعت یا اُس ادارے کی مرہون منت کام کرے گا، کبھی اپنے ”احسان مندوں“ کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکے گا، جبکہ وہ کبھی عدلیہ کی بہتری کے لیے کام نہیں کرے گا، وہ کبھی عدلیہ کی آزادی کے بارے میں نہیں سوچے گا۔ جبکہ اس کے برعکس میرٹ پر تعینات ہونے والا جج یا مقابلے کا امتحان پاس کرکے آنے والے جج کے پاس ایک وژن ہوگا، ایک عزم ہوگا، جوش ہوگااور ولولہ ہوگا۔ ورنہ تو ماضی میں ایسے سفارشی ججز بھی تعینات رہے جنہیں فیصلے لکھنے بھی نہیں آتے تھے۔ آپ اس چیز کا یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ کس طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کی گئی ، اور اس کے ساتھ ساتھ پشاور ہائیکورٹ، بلوچستان ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں مستقل چیف جسٹس تعینات کیے گئے،،، جس سے تاثر یہ ملا کہ یہاں بھی عدلیہ میں”وفاق“ کی نمائندگی کی جائے گی! مطلب! سینیارٹی کی بنیاد پر چیف جسٹس بننے کے بجائے موسٹ سینئر ججز کے نام جوڈیشل کمیشن میں جائیں گے جس کے بعد وہاں فیصلہ ہوگا کہ متعلقہ کورٹ کا چیف جسٹس کون ہوگا؟ یہ یقینا ملاوٹ شدہ اصول ہے،،، جسے کسی فورم پر بھی سراہا نہیں جا سکتا۔ پھر اب ہوگا یہ کہ اسی طرح کے خطوط مستقبل میں بھی لکھے جائیں گے جس سے ہماری عدلیہ جو پہلے ہی بہترین انصاف دینے کے حوالے سے دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک میں آخری نمبرز پر موجود ہے ،،، وہ مزید رسوا ہوگی۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں موسٹ سینئر ججز کے خطوط کو بھی بالکل اسی طرح مسترد کر دیا گیا جس طرح ماضی میں جسٹس منصور علی شاہ کے بیانات و فیصلوں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ بہرحال اس سیلاب زدہ ماحول میں اگر آپ ملک کی بہتری چاہتے ہیں،،، اور فیلڈ مارشل جن کے بعض اقدامات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اُن سے دست بستہ گزارش ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ دنیا اس سسٹم کی تعریف کرے اور ملک آگے بڑھے تو بہتر یہی ہے کہ بیوروکریسی کی طرز پر عدلیہ میں بھی تعیناتیاں کی جائیں،یعنی ججز کی کوالیفیکیشن اور میرٹ بالکل سی ایس پی افسران کی طرز پر ہونا چاہیے، جیسے ہی کوئی وکیل سول جج بھرتی ہو، اُس کے بعد اُس کی 2سال کی ٹریننگ ہو، جس کے بعد وہ مقدمات سنے اور سینیارٹی کی بنیاد پر اُس کی ترقی ہوتی رہے۔ اس وقت دنیا بھر کے ٹاپ رینکنگ عدالتی نظام جن میں سویڈن، نیوزی لینڈ، ناروے، ڈنمارک، ہالینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا، امریکا اور دیگر ممالک میں ججز کی تعیناتی اسی طرز پر کی جاتی ہے، وہاں عدلیہ میں سیاسی عمل دخل تو بہت دور کی بات اس حوالے سے سوچنا بھی گناہ کبیرہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ججز ٹی وی کے پروگرام بھی نہیں دیکھتے اور نہ ہی اخبار دیکھتے ہیں کہ اُن کی رائے نہ بدل جائے، لہٰذافوری طور پر جوڈیشل کمیشن کی کاروائی کے طریقہ کار اور اس ضمن میں مرتب کیے جانے والے رولز کا ازسر نو جائزہ لے کر اسے قانون سازوں کی منشا سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ ہر ہائیکورٹ کی سطح پر معزز ججوں کی ایک کمیٹی جج کے طور پر تعیناتی کے لیے ہر قانونی شعبے سے موزوں ناموں کی فہرست ایک مسلسل اور شفاف عمل کے ذریعے مرتب کرے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ پورے عدالتی نظام کا اسر نو جائزہ لیا جائے تاکہ ملک مسائل سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ بہرکیف ان مذکورہ خطوط اور عدلیہ میں پڑنے والی دراڑوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے،،، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اعلیٰ عدلیہ پر کوئی تنقید تو نہیں کر سکتا مگر اس کی کارکردگی کے حوالے سے ”خطوط“ ضرور لکھے جاتے رہیں گے ،،، جیسا کہ اب تک ہو رہا ہے،،، اس سے دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی ہوگی۔ اور پھر مرضی کے فیصلے بھی مسلط کیے جائیں گے، جیسے 9مئی کے فیصلے اب تک مسلط کیے جا رہے ہیں،،، اور پھر جب یہ حکومت نہیں رہے گی تو پھر موجودہ سیاستدان بھی جیلوں میں جائیں گے،،، اور یہ روایت ایسے ہی جاری رہے گی۔ لہٰذااگر ہمیں عدلیہ کے وقار کو بلند کرنا ہے تو ہمیں فوری انصاف مہیا کرنا ہوگا، اگر فوری انصاف ہوگا تو عدالتوں میں موجود 50لاکھ زیر التواءمقدموں کا فیصلہ بھی ہو جائے گا، جن سے کوئی نہیں کم و بیش 50لاکھ خاندان جڑے ہیں۔ میرے خیال میں اس وقت پاکستان میں ججز سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا طبقہ ہے، جیسے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہ لیفٹیننٹ جنرل اور گریڈ 22کے بیوروکریٹ سے زیادہ ہے،اس لیے ہمیں قوم کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ اُنہیں کیسے بہترین انصاف فراہم کرنا چاہیے ، یہ تبھی ممکن ہوگا جب میرٹ پر قابل ججز کی بھرتیاں ہوں گی ورنہ ہمارا کچھ نہیں ہوسکتا! اور رہی بات عدالتوں میں من پسند فیصلوں کے حوالے سے تو یہ سراسر فیورٹزم ہے اور کچھ نہیں ،،،ایسا کرنے سے ہم وقتی فائدے تو حاصل کرسکتے ہیں مگر دیرپا نہیں،،، اور پھر اگر حکمرانوں کے مخالفین یعنی اپوزیشن کی حکومت برسراقتدار آگئی تو یہی 26ویں ترمیم ان کے گلے پڑ جائے گی،،، اور پھر یہ جیلوں میں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہم سے بہت سی غلطیاں سر زد ہوئیں!