ن لیگ اور پی پی پی سے چھٹکارے کے بغیر ترقی ناممکن!

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا چند ماہ میں امریکا کا یہ دوسرا دورہ تھا ، پہلے دورے میں اُنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں ظہرانے پر دعوت دی،،، جبکہ حالیہ دورے میں اُن کی ملاقاتیں عسکری و دیگر اہم ترین شخصیات سے ہوئیں۔ جس کے بعد امریکی دفتر خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیرملکی دہشتگرد تنظیم کے طور پر نامزد کردیا۔ جبکہ مجید بریگیڈ کو بلوچستان لبریشن آرمی کی سابقہ خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشتگردوں کی فہرست (ایس ڈی جی ٹی) میں شامل کیا گیا۔اس اقدام کے بعد یقینا بھارت کو دھچکا لگا ہوگا کہ اُن کی معاون تنظیمیں عالمی پابندی کا شکار ہوگئی ہیں،،، اور اس کا اظہار امریکی اخبارات نے بھی کیا کہ یقینا پاکستان کے امریکا کے ساتھ بڑھتے تعلقات سے بھارتی ایوانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ خیر اس کا سہرا یقینا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سر جاتا ہے،،، اور لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں،،، امریکا میں موجود بیرون ملک پاکستانیوں سے خطاب کے بعد وہاں موجود دوست احباب سے جب فون پر بات ہوئی تو اُن کے تاثرات بھی بہت فیلڈ مارشل کے لیے بہترین تھے۔ اور پھر فیلڈ مارشل کراچی میں گئے ،،،، تاجر برادری نے اپنے مسائل کھل کر سب کے سامنے رکھے،،، انہوں نے کہا آپ اصل چوری روکیں ہم آپ کو ایکسپورٹ تین گنا تک بڑھا کر دیں گے۔ اور اصل چوری کا سب کو علم ہے کہ وہ کرپشن ہے، جھوٹ ہے، منی لانڈرنگ ہے، کمیشن ہیں، ٹھیکیداری نظام ہے، ایف بی آر کا نظام ہے اور سب سے بڑھ کر ان حکمرانوں کا کاروبار میں خود ملوث ہو کر اپنے کاروبار کو دن دوگنی ترقی کروانا جبکہ ملک کئی سال پیچھے لے جانا ہے۔ آپ خود دیکھ لیں ملک اور خاص طور پر کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ لیکن میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان میں موجود ایک طبقہ یا اکثریت والی پارٹی ابھی بھی نالاں نظر آتی ہے،،، اس لیے میرے خیال میں بڑے گھر کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کی بھلائی چاہتے ہیں،،، معاشی انقلاب چاہتے ہیں،،، یا وہ عوام کی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیںتو اُنہیں یہ بات ہر گزنہیں بھولنی چاہیے کہ انقلاب کم از کم ان دو سیاسی جماعتوں کے بغیر نہیں آنے والا، نہ تو عوام ان کو قبول کریں گے، نہ انہوں نے کیا ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کچھ ہونے والا ہے۔ اس لیے آپ کوئی بھی اچھا کام کر لیں،،، عوام میں کبھی مقبول نہیں ہوگا،،، جب تک یہ دونوں جماعتیں آپ کے ساتھ ہیں۔ کیوں کہ ہر چیز میں ان کی موناپلی ہے، ہر کام میں یہ دخل اندازی کرتے ہیں، پاکستان میں شاید ہی کوئی کاروبار ہو جس میں ان کا عمل دخل نہ ہو، آپ سڑکیں بنانے والے ٹھیکیداروں سے لے کر شوگر مل، آٹا مل، لوہا، اسٹیل شیشہ، سپورٹس، ادویات، پٹرولیم ، بجلی بنانے والے پلانٹ، حتیٰ کہ صاف پانی کے فلٹر بنانے والی کمپنیوں میں بھی ان کے یا ان کے رشتے دار حصے دار ہوں گے۔ اس لیے ان کو دفن کیے بغیر ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ ان کو دوست بنا کر آپ کبھی بھی پاکستان میں ترقی نہیں کرسکتے،،، کیوں کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں،،،اور پھر آپ یہ مت سمجھیں کہ یہ لوگ معصوم کاروباری لوگ ہیں،،،بلکہ یہ حکومت کو کاروبار میں استعمال کرتے ہیں،،، اس کی ایک چھوٹی سی مثال لے لیں کہ انہوں نے خود بجلی کا بحران پیدا کرکے ”خود“ سے ہی معاہدے کر لیے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہمارے آبائی علاقے قصور میں میرا ایک کیس چل رہا ہے، جس میں بلدیہ کے ایک چیئرمین نے اپنے آپ کو ایک درخواست لکھی، جس میں تحریر تھا کہ فلاں جگہ کا این او سی جاری کیا جائے،،، اس تحریر میں وہ خود ہی اپنے آپ کو فرماتے ہیں کہ یہ این او سی فوری طور پر کیا جائے،،، پھر خود ہی این او سی بنواتے ہیں ،،، خود ہی اپنے آپ کو جاری کرتے ہیں،،، اور خود ہی وصول پاتے ہیں۔۔۔ اور کئی کیسز میں پورے پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے! بہرحال اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیاستدان وہیں ہیںجہاں دہائیوں قبل موجود تھے،یعنی ن لیگ مستقل ہے، پی پی مستقل ہے، پی ٹی آئی مستقل ہے،،، پھر ان کے لیڈران مستقل ہیں،،،لیکن دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ مستقل نہیں ہے،،، ان کے افسران بھی مستقل نہیں ہوتے اس لیے بعض اوقات وہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے غلط فیصلے بھی کر دیتے ہیں،،، اور چونکہ وہ پاکستان میں یہ لوگ طاقت میں ہیں اس لیے یہ اپنے چھوٹے چھوٹے مفاد کی خاطر ان کو استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ ان کو لانے اور رخصت کرنے میں بھی یہ پیش پیش ہوتے ہیں،،، جیسے آپ 90کی دہائی سے شروع ہو جائیں،،، کیسے کیسے ن لیگ او ر پی پی پی کو اقتدار ملا اور پھر ان کو رخصت کیا گیا ،،، آپ زیادہ دور نہ جائیں،،، بلکہ حالیہ تاریخ کو دیکھ لیں کہ کرپشن کو بنیاد بنا کر موجودہ حکمرانوں کو 2017ءمیں اقتدار سے اُتارا گیا، پھر عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا،،، پھر اُسی عمران خان کو مبینہ طور پر جنرل باجوہ نے اقتدار سے ہٹا دیا،،، اور پھر دوبارہ انہی کو اقتدار میں لے آئے،،، اور پھر دل نہیں بھرا تو آئین میں گھناﺅنی تبدیلیاں کی گئیں،،، 8فروری کا الیکشن مکمل طور پر ہائی جیک کیا گیا،،، اور رہی سہی کسر 9مئی کے من گھڑت کیسوں میں سیاسی قائدین کو سزائیں دے کر نکال دی گئی۔۔۔ ویسے مجھے ایک دوست صحافی کی 2سال قبل کہی گئی ایک بات یاد آگئی جس نے بابنگ دہل کہا تھا کہ خان کو گرفتار کرنے کی موجودہ حکمرانوں کی کیا جرا¿ت ! یہ جرا¿ت وہی دکھا سکتے ہیں! کیوں کہ وہ طاقت میں ہیں۔ ورنہ ان کی خان کو ایک دن اندر رکھنے کی بھی اوقات نہیں ہے۔ خیر اگر فیلڈ مارشل مزید اچھے کام کرنا چاہتے ہیں،،، اور ریاست کے خلیفہ بننا چاہتے ہیں تو پھر خلیفہ بننے والے کام کریں ،،، ان دو بڑی پارٹیوں سے جان چھڑوائیں،،،ان کی بیساکھیوں کے ذریعے آگے نہ بڑھیں،،، کیوں کہ انہوں نے پاکستانی معیشت کا گلا گھونٹا، انہوں نے ملک کو آگے نہ بڑھنے دیا، انہوں نے ہر دور میں کھربوں روپے ہڑپ کیے۔ انہوں نے مہنگے آئی پی پیز لگائے، انہوں نے آج تک ملکی مفاد میں ڈیم نہ بننے دیے،،، انہوں نے ہر دور میں آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکے،،، انہوںنے تاریخ کا مہنگا ترین قرضہ کمرشل بنکوں سے اُٹھایا،،، جس کا صرف سود ہی اربوں ڈالر میں ادا کر نا پڑ رہا ہے۔ یہ لوگ کرپشن کرنے کی تکنیکس جانتے ہیں،،، یہ ایک رس گلہ کھانے کے قائل نہیں بلکہ پوری مٹھائی کی دکان لوٹنے کو ثواب کا کام سمجھتے ہیں،،، آپ چاہے خان کی ہزار کرپشن کیسز میں پکڑ کر لیں،،، یہ اُن لوگوں کے عشر عشیر بھی نہیں ہے،،، آپ خان پر گھڑی ڈال دی، کبھی اُس پر القادر ٹرسٹ ڈال دیں، کبھی اُس پر نکاح کا کیس ڈال دیں،،، لیکن ابھی بھی وہ ان دونوں پارٹیوں سے بہتر ہے۔ بھلا یہ یہ بھی کوئی کرپشن ہے کہ فلاں افسر نے ٹرانسفر کی مد میں اتنے لاکھ روپے لیے،،، بلکہ کرپشن یہ ہے کہ آپ ایک شہر میں ڈی سی تعینات کریں اور اُس سے طے کریں کہ وہ مہینے کے کتنے پیسے بطور ”نذرانہ“ دے گا۔ کرپشن یہ ہے کہ فلاں ٹھیکے میں کتنے فیصد کمیشن بطور نذرانہ پارٹی فنڈ میں جمع کروایا جائے گا،،، اور کرپشن یہ ہے کہ کتنے پیسے بیرون ملک بطور منی لانڈرنگ فارن اکاﺅنٹ میں جمع کروائے جائیں گے،،، بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ پی ٹی آئی دور میں رس گلوں کی کرپشن ہوئی اور ان کے ادوار میں مٹھائی کی دوکان ہی لوٹ لی جاتی ہے،،، ہم نے عمران خان کو پسند صرف اس لیے کیا کہ وہ ان دونوں پارٹیوں سے بہتر تھا، وہ کرپشن کے خلاف کھڑا ہوا،،، اُس نے ان دونوں کو بے نقاب کیا۔ بہرکیف اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ن لیگ ، پی پی کے متبادل کون ہے،،، اور ان سے آپ لوٹی ہوئی رقوم کیسے برآمد کرسکتے ہیں،،، تو جناب! فرض کر یں کہ اگر راقم فیلڈ مارشل ہوتا تو سب سے پہلے ان کرپٹ سیاستدانوں کو گرفتار کرکے، ان سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرتا۔ بالکل اُسی طرح جس طرح محمد بن سلمان نے رقوم حاصل کی تھیں۔۔۔ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے اہم شہزادوں کو قید کرکے 107 ارب ڈالر صول کئے تھے۔ سعودی عرب کے ولی عہد نے 11 شہزادوں، 38سابق وزراءاور متعدد دیگر حکام کو ریاض کے ریٹز کالٹن ہوٹل میں قیدکیے رکھا،،،لہٰذاجن جن شہزادوں اور حکام نے پیسے دیے اُنہیں رہا کر دیا گیا۔ راقم بھی اسی طرح کرپٹ افراد سے رقوم وصول کرتا،،، خاص طور پر آئی پی پی مالکان سے،،، چلیں یہ بات بھی مان لی جائے کہ آئی پی پیز جن کے تانے بانے بھی انہی دونوں خاندانوں سے ملتے ہیں،، وہ عالمی عدالت میں چلے جاتے ہیں تو اس صورت میں کیاکرنا چاہیے،،، صاف بات ہے کہ آپ اُنہیں جانے ہی نہ دیں،،، لیکن ایسا کرنے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں سامنے آتی ہیں،،،، تو آپ اُن کا بھی حل نکالیں کہ اُن کے سامنے اپنا مقدمہ ٹھیک لڑیں،،، کہ بھئی ان حکمرانوں نے یہ یہ کرپشن کی ہیں،،، اور اس کے یہ یہ ثبوت ہیں،،،، اور آخر میں ان سے زبردستی معاہدے کروائے جاتے کہ یہ پاکستان سے آئی پی پیز کی مد میں مزید رقوم نہیں لیں گے،،، بھٹو نے بھی تو 22خاندانوں کے تمام کاروبار قومیا نے کا غیر معروف فیصلہ کیا تھا،،، جس کا فائدہ یقینا ملک کو ہوا تھا۔ قصہ مختصر کہ آپ انہیں ”سیف(Safe) ہاﺅس“ میں اُس وقت تک رکھیں جب تک یہ کرپشن کا آخری پیسہ نہیں لوٹا دیتے،،، اور یہ آخری اقدام ملک کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینے کے لیے آکسیجن!کہ بقول شاعر وطن اپنا مجھے دشمن کے ہاتھوں سے بچانا ہے یاں رکنا ہی نہیں مجھ کو قدم آگے بڑھانا ہے طوفانی حوصلے میرے انہیں باہر بھی لانا ہے ہاں ، غیرت مند ہے یہ قوم اس دنیا کو بتانا ہے