غیر سنجیدہ سیاسی لوگوں سے مشاورت : ملک کو لے ڈوبے گی!

سیاست میں کچھ لوگ اپنی حرکتوں، چرزبانیوں، بدزبانیوں، چاپلوسیوں اور خوشا مدیوں کی وجہ سے اس قدر ناپسندیدہ لوگوں میں شمار ہوتے ہیں ....کہ اگر وہ سامنے آجائیں تو راستہ بدلنے کو دل چاہتا ہے، ٹی وی پر آئیں تو چینل بدلنے کو جی چاہتا ہے اور کبھی کوئی نام لے تو اُس کا گلا دبانے کو جی چاہتا ہے،،، انہی ناموں میں سے ایک سینیٹر فیصل واﺅڈا ہیں،،، جنہیں آپ ہر دوسرے دن ہیڈلائن میں ضرور دیکھیں گے،،، وہ اپنے آپ کو اُلٹی سیدھی خبروں میں رکھنے کا فن جانتے ہیں،،، کبھی وہ فوجی بوٹ لے کر کسی ٹی وی پروگرام میں آجاتے ہیں،،، کبھی وہ بولڈ ٹاک سے اپنی توجہ حاصل کرنے کی ناکام کوششیں کرتے ہیں،،، پھر خبروں میں رہنے کے لیے چھچھوری حرکتیں کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں،،، جیسے نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ کے باہر دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا تو فیصل واوڈا بلٹ پروف جیکٹ پہنے، ہاتھ میں پستول لیے سکیورٹی فورسز کے ساتھ متاثرہ علاقے میں گھومتے ہوئے دکھائی دیے گئے تھے جس کے بعد ان پر کافی تنقید کی گئی تھی۔پھر فروری 2019 میں جب پاکستانی فضائیہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین طیارہ مار گرایا اور انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھیندن کو گرفتار کیا گیا تو وفاقی وزیر فیصل واوڈا پستول لے کر اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں پر انڈین جہاز کا ملبہ پڑا ہوا تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے ملک کا ایک خاص طبقہ اُن کی باتوں کو اکثر و بیشتر سنجیدہ بھی لے لیتا ہے،،، کیوں کہ وہ سمجھتا ہے، کہ فیصل واﺅڈا کی زبان اُن کی زبان نہیں بلکہ فیصلہ کرنے والوں کی زبان ہوتی ہے۔ جیسے حالیہ دنوں میں 27ویں ترمیم پاس ہونے سے پہلے ہی موصوف نے فرما دیا تھا کہ 27ویں ترمیم تو پاس ہی جانی ہے،،، ہم تو اٹھائیسویں کی تیاری کر رہے ہیں،،،، پھر موصوف مستعفی ہونے والے ججز بارے فرماتے ہیں،، جن جن کے استعفے آتے رہیں گے وہ فوری منظور بھی کر لئے جائیں گے، ابھی تو شروعات ہے مزید استعفے بھی آئیں گے انہیں بھی فوری منظور کیا جائیگا۔ کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا ویسے بھی سروس میں وقت کم ہی بچا تھا۔پھر موصوف فرماتے ہیں تمام منافق سیاستدان اور دیگر اپنی سمت ٹھیک کر لیں ورنہ پاکستان کی ترقی کا جو تسلسل جاری ہے اُس میں رکاوٹ پیدا کرنے والے بڑے بڑے طرم خان رگڑ دیئے جائیں گے۔ امید کرتا ہوں سب کو میری بات صحیح طرح سمجھ آ رہی ہے.... پھر عبدالقادر مندوخیل موصوف کے بارے میں بتاتے ہیں کہ فیصل واوڈا نے مجھے الیکشن سے 2 ماہ پہلے بتا دیا تھا کہ یہ نشست آپ کو نہیں مل سکتی کیونکہ یہ مصطفیٰ کمال کو دے دی گئی ہے، اس وہ مندو خیل اُنہیں ”پیر“ ماننا شروع ہوگئے ہیں ....! مطلب! کیا بڑے گھر والوں نے ان جیسے ٹاﺅٹوں کو ہر دور میں بڑکیں مارنے کے لئے رکھاجاتا ہے؟ کیا انہیں علم نہیں ہے کہ ایسے لوگ ہر آمر کے ساتھ ہی صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں،،، اور یہ قانون قدرت بھی ہے،،، کہ ظلم ایک دن مٹ جاتا ہے۔۔۔ لیکن ایک بات سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کونسی سیاست ہے، یہ کونسی زبان ہے؟ یہ تو سلطان راہی مرحوم کی زبان بول رہے ہیں،،، وہ اس جیسے ڈائیلاگ تو فلموں میں بولا کرتے تھے، کہ جس کے پاس طاقت آگئی ہے، وہ کہے کہ جاﺅ جو مرضی کر لو،،، میں کسی کو کچھ نہیں سمجھتا۔ اور پھر فیصل واﺅڈا کی باتوں سے شائبہ ہے کہ اس وقت فیصلہ کرنے والی قوتیں اپنے آپ کو اس پوزیشن میں سمجھتی ہیں کہ وہ مکمل طاقت میں آچکی ہیں،،، اس لیے اب کسی کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا،،، لیکن ایک سادہ سا سوال ہے کہ فیصل واﺅڈا کو یہ حق کس نے دیا ہے؟ کہ وہ ”اندر“ کی خبریں ہمیں دیں؟ اور پھر جب اس قسم کے لوگ ملک کی سیاست کے بارے میں پیش گوئیاں کریں گے،،، اور ملکی سیاست پر بات کریں گے، تو فیصلہ کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ خدا کا خوف کریں کہ 25کروڑ عوام میں سے یہی نمونہ ملا ہے؟ حالانکہ فوج میں بے شمار اچھے لوگ گزرے ہیں،اُن کو تلاش کریں، اُن کی مشاورت کے ساتھ فیصلے کریں،،، یا اگر کوئی بات اُڑانی بھی ہے تو کسی سنجیدہ بندے کے ذریعے پھیلائیں،،، اُن کو ساتھ رکھیں،،، بلکہ سنجیدہ اور سلجھے ہوئے ریٹائرڈ افسران پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بنا لیں،، جو آپ کو اس قسم کے چھچھورے اور ناپسندیدہ لوگوں سے بچائیں اور صائب مشورے دیں۔۔۔حالانکہ یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ ہم نے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مار دی ہے،،، فیصلہ کرنے والے اُن کے ساتھ بھی مشاورت کریں، اُن کے بندوں کو بھی بلائیں،،، اُنہیں بھی رام کریں،،، اُنہیں بھی سخت قسم کی عوام مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،،،آپ زرداری صاحب کو بھی مشاورت میں شامل کریں،،،کیوں کہ آپ اُن کے بارے میں آپ ہزار باتیں کر لیں ، مگر اُن کی سیاسی بصیرت کے حوالے سے تو کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ن لیگ میں بہت سے لوگ ہیں، جن سے آپ مشاورت کر سکتے ہیں، بات کر سکتے ہیں ، آپ مشاہد حسین سے بات کر سکتے ہیں، شاہد خاقان عباسی سے بات کر سکتے ہیں، محمد علی درانی سے بات کر سکتے ہیں،،، قمر الزمان کائرہ سے بات کر سکتے ہیں، شیری رحمن سے بات کر سکتے ہیں، یعنی آپ کے جو لائک مائنڈڈ لوگ ہیں آپ اُن سے ہی بات کر لیں،،، لیکن فیصل واﺅڈا سے تو کم از کم مشاورت نہ کریں۔ اور پھر یہ بات تو طے ہے کہ مشاورت کے بغیر اگر کوئی حکومت کر نا چاہ رہا ہے تو پھر وہ غلط سمت میں جا رہا ہے۔ دنیا میں کہیں کوئی روڈ سیدھا نہیں بنتا ، حالانکہ طاقت بھی ہوتی ہے، سیدھا روڈ بنانے کی ، مگر بہت سے مسائل میں آپ کو کہیں نہ کہیں جھکنا پڑتا ہے، کہیں نہ کہیں اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے،،، ہر کہیں طاقت کا استعمال بعض اوقات آپ کو لے ڈوبتا ہے۔ آپ نے اگر پہاڑ پر بھی چڑھنا ہے تو کبھی سیدھا نہیں چڑھ سکیں گے،،، زگ زیگ طریقے سے ہی چڑھیں گے،،، کیوں کہ یہ ایک قانون قدرت ہے،،، لہٰذادنیا میں جو بھی کامیاب حکمران گزرا ہے،، خواہ وہ جمہوری ہو یا بادشاہ،،، اُس کی باقاعدہ کابینہ ہوتی تھی، یہ تو سنت رسول بھی ہے کہ آپ بھی اچھے لوگوں سے مشاورت کیا کرتے تھے، جب آپ نے جنگ پر جانا ہوتا تھا، باقاعدہ اجلاس بلایا جاتا تھا۔ جب جنگ خندق ہونے لگی تو آپ نے حضرت سلمان فارسی ؓ سے مشورہ کیا تھا، انہوں نے تجویز دی تھی، کہ اس جگہ پر خندق بنائی جائے،،، اور وہ اس قدر کا رآمد ثابت ہوئی کہ اُس سے مدینہ بچ گیا۔ اسلام کی ابتدائی ریاست میں تقریباً ہر بڑے فیصلے میں صحابہ کی مشاورت مرکزی کردار رکھتی تھی،،، نہ صرف غزوہ خندق بلکہ تمام اہم امور میں رسول اللہ صحابہ کی رائے لیتے، ان کی آراءکو اہمیت دیتے اور بعض مواقع پر اپنی رائے چھوڑ کر صحابہ کی رائے اختیار کرتے تھے۔ غزوہ بدر میں مقام جنگ کے بارے میں مشاورت ہوئی تو حُباب بن المنذرؓ نے مشورہ دیا کہ موجودہ جگہ پر نہ ٹھہریں بلکہ قریش کے قریب ایک کنویں پر قبضہ کر کے وہاں ڈیرہ لگایا جائے۔رسول اللہ نے فرمایا:”یہ وحی کا حکم نہیں، بلکہ رائے کا معاملہ ہے۔“ پھر آپ نے اپنی منصوبہ بندی چھوڑ کر حبابؓ کی تجویز اختیار کی۔پھر غزوہ بدر ہی کے موقع پر قیدیوں کے بارے میں مشاورت ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: فدیہ لیا جائے،،، جبکہ حضرت عمرؓ نے کہا: قتل کیا جائے،،، رسول اللہ نے مشورے کے بعد حضرت ابوبکرؓ کی رائے مانی۔۔۔ الغرض دنیا میں جتنے بھی کامیاب حکمران ہیں وہ اپنے دانا ساتھیوں کی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں اور جو تباہ ہوئے ہیں، وہ بھی اپنے فیصل واﺅڈا جیسے ساتھیوں کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں۔ تو خدا کے لیے آپ اس قسم کے لوگوں سے بچیں،،، کیوں کہ آپ جنگ جیت چکے ہیں، اور جنگ جیت کر آپ سافٹ تو ہو جائیں،،، آپ مزیدانتقامی کارروائیوں سے اجتناب کریں،،، کیوں کہ جیتی ہوئی ٹیم کبھی بدتمیزی نہیں کرتی، بلکہ وہ دوسروں کے آنسو صاف کرتی ہے۔ جب قانونی طور پر ہر چیز آپ کے ہاتھ میں ہے، تو اُسے بے دریغ استعمال نہ کریں،،، ملکہ برطانیہ کے پاس قتل کرنے کا اختیار ہے، لیکن اُس نے کبھی کسی کو قتل کیا تو نہیں؟ بلکہ اُنہوں نے کئی سزائے موت کو معافی میں بدل دیا۔۔۔ بلکہ آج دنیا بھر کے 197ممالک میں ”ٹھنک ٹینک“ موجود ہیں ، جن کی کم سے کم تعداد فی ملک ایک سے لے کر زیادہ سے زیادہ 1835 ہے۔ سب سے زیادہ تھنک ٹینکس کے حوالے سے درجہ بندی میں 1835 کی تعداد کے ساتھ امریکا سب سے آگے ہے۔ 435 ایسے اداروں کے ساتھ چین دوسرے اور 288 کی تعداد کے ساتھ برطانیہ تیسرے نمبر پر ہے۔ جبکہ عالمی درجہ بندی کے پہلے دس ممالک میں دنیا کے 54 فیصد تھنک ٹینکس کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے 11 فیصد تھنک ٹینکس اسلامی تعاون کونسل ( او آئی سی) کے 57 میں سے 52 ممالک میں کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ 59 فی ملک کی تعداد میں موجود ہیں۔ اپنے 59 تھنک ٹینکس کے ساتھ ایران اسلامی دنیا کا سب سے بڑا اور عالمی سطح کا 19 واں ملک ہے۔ جبکہ نائیجیریا 48 کی تعداد کے ساتھ اسلامی ممالک میں دوسرے اور دنیا میں 27 ویںنمبر پر ہے۔ اسلامی دنیا میںتیسرے نمبر کا اعزاز بنگلہ دیش کے پاس ہے جس کے 35 تھنک ٹینکس اُسے دنیا بھر میں37 ویں پوزیشن پر برا جمان کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں موجود تھنک ٹینکس کی تعداد 20 ہے جن میں سے صرف تین یا چار کارآمد ہیں، اور یہ دنیا میں 63ویں نمبر پر ہے، جبکہ بھارت 280 کی تعداد کے ساتھ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اور دنیا کا چو تھا بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیش کا خطے میں دوسرا اور عالمی سطح پر 37 واں نمبر ہے۔آپ اس ریسرچ سے خود اندازہ لگا لیں کہ جن ملکوں میں تھنک ٹینک زیادہ ہیںوہ زیادہ ترقی یافتہ یا زیادہ طاقتور ہیں اور جن میں کم ہیں وہ کم ترقی یافتہ ہیں، یا کمزور ممالک ہیں۔ لہٰذامیری دست بستہ گزارش ہے تمام جماعتوں سے پڑھے لکھے افراد پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بنائیں ، تاکہ ملک کے لیے صحیح فیصلے ہو سکیں،،، کیوں کہ اس وقت وطن عزیز کو کئی ایک چلینجز کا سامنا ہے، بے شمار دنیا اس وقت ملک چھوڑ کر جا رہی ہے،،، دونوں اطراف ملک دشمن قوتیں موجود ہیں،،، اکیلا ایٹم بم کب تک آپ کو بچائے گا؟