ماہ رمضان میں ذخیرہ اندوزی : حکمران، عوام اور تاجر سبھی قصوروار!

سمجھ میں نہیں آرہا ،ہم کیسے لوگ ہیں.... کہ ایک طرف تو رمضان جیسا مقدس مہینہ ہے اور دوسری طرف مارکیٹ سے روز مرہ کی اشیائے ضروریہ غائب ہیں.... ذخیرہ اندوزوں نے زیادہ منافع کمانے کے چکر میں عوام کو گھما کر رکھ دیا ہے....ادارہ شماریات کے مطابق 40 سے زائد اشیاءکی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے۔آلو، پیاز، ٹماٹر، انڈوں، دال، چینی، ٹماٹر اور گوشت سمیت متعدد اشیا کی قیمتیں ڈبل ہوگئی ہیں۔ جب کہ مرغی، گندم، آٹا، جلانے کی لکڑی، سرغ مرچ، کوکنگ آئل، گھی ،دالیں،گڑ، لہسن، دال چنا، دہی، گوشت، ڈبل روٹی وغیرہ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم بے حس ہو گئے ہیں؟ کیا ہم میں حکمرانوں کی طرح کرپشن کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے؟ کیا ہم یہ سمجھنا شروع ہوگئے ہیں کہ جھوٹ، فراڈ اور ناجائز منافع خوری کے بغیر ہم کامیاب ہی نہیں ہو سکتے؟ کیا ہم میں مسلمانیت ختم ہوچکی ہے؟ ابھی یہاں کوئی مسئلہ ہو جائے تو ہم چیخ چیخ کر آسمان سر پر اُٹھالیں گے کہ” پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ “کیا کبھی ہم نے اس نعرے کو سمجھنے کی کوشش کی؟ یقینا نہیں! ورنہ ہم کبھی اس وطن کی خاطر اس کے عوام کو نقصان نہ پہنچاتے.... معذرت کے ساتھ ہم نام کے مسلمان بھی نہیں رہے.... ہم اس مقدس مہینے میں اگر اپنے آپ کو ملاوٹ کرنے ، ذخیرہ اندوزی کرنے، جعلی ادویات بنانے، انسانی صحت سے کھلواڑ کرنے، ڈاکے ڈالنے، چوریاں اور ہیرہ پھیریاں کرنے، سگنل توڑنے، وعدہ خلافی کرنے، قتل و غارت کرنے، کسی کو اذیت پہنچانے، جان بوجھ کر کسی چیز کی قلت پیدا کرنے، جھوٹ بولنے، چغلی کرنے اور پروپیگنڈہ کرنے سے نہ روک سکے تو یقینا ہم اجتماعی طور پر خرابی کا شکار ہیں۔اور ہم حقوق العباد کی خلاف ورزی کے سخت مرتکب ہو رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے بارے میں فرمایا ہے کہ بندوں کے حقوق سب سے پہلے، اور میرے حقوق ،،، وہ میرا اور بندے کا معاملہ ہے۔ لیکن معذرت کے ساتھ حقوق العباد کے حوالے سے مغربی دنیا ہم سے بہت آگے ہے، وہ خدا کو بھی مانتے ہیں اور اُس کے بندوں کو بھی پورا خیال رکھتے ہیں۔ وہاں نہ تو کہیں آپ کو جعلی دوا ملتی ہے، نہ دودھ جعلی ملتا ہے، نہ کیمیکل ملا دودھ ملتا ہے، نہ پانی ملاگوشت ملتا ہے، نہ اینٹوں کے برادے والی مرچیں ملتی ہیں۔ الغرض آپ کو کہیں بھی دونمبر اشیاءدستیاب نہیں ہوتیں، جو کوالٹی پیکنگ پر لکھی ہوتی ہے، وہی آپ کو ملتی ہے۔ وہاں جیسے ہی مذہبی تہوار آتا ہے، تمام اشیائے خورونوش اور پہناوے کی چیزوں کے ریٹ نصف ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ہم ذخیرہ اندوزی شروع کردیتے ہیں، رمضان سے پہلے مارکیٹ سے پھل، کھجوریں، بیسن ، چینی ، آٹا سب کچھ غائب کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس دوران غائب شدہ چیزوں کے حکومتی سٹال دیکھنے کو ضرور ملتے ہیں، وہاں آپ کو ایک شناختی کارڈ پر کلو دو کلو چینی ملتی ہے، پھر چند ہزار لوگوں کے لیے رمضان پیکج متعارف کروایا جاتا ہے، پھر یہی نہیں جتنے کا رمضان پیکج ہوتا ہے، اُس سے کہیں زیادہ کی تشہیر کر دی جاتی ہے، پھر یہیں بس نہیں ہوتا بلکہ اگر 20ارب روپے کا رمضان پیکج دیا جائے تو اُس میں سے آدھے سے زیادہ یعنی 70فیصد تو کرپشن کی زد میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر اگر آپ لاہور کے دو کروڑ کے شہر میں آپ چند ایک سستی دکانیں بنا بھی دیں تو یا اسٹال لگا بھی دیں تو کیا فرق پڑے گا؟ مطلب! میرے خیال میں رمضان پیکج یا اس قسم کے پیکجز محض کرپشن کا ذریعہ ہوتے ہیں، جس میں خوب لوٹ کھسوٹ ہوتی ہے، بلکہ رمضان جیسے تہوار آئیں تو ان حکمرانوں کی چاندی ہوجاتی ہے۔ اور پھر دیکھیں بے نظیر انکم پروگرام میں کیا ہوتا ہے؟ جن مستحقین تک رقوم پہنچتی ہیں، آپ اُن سے پوچھیں کہ ”کٹوتی“ کے بعد کتنے پیسے اُن کو ملتے ہیں اور جتنے لوگوں کو ملتے ہیں کیا صرف اُتنے ہی خاندان رجسٹرڈ ہیں یا اُس سے زیادہ خاندان رجسٹرڈ کر دیے گئے ہیں،،، کیوں کہ اس کا آڈٹ کرنے والے بھی یہ لوگ خود ہیں تو کیا خاک پتہ چلے گا کہ کتنا پیسہ کس کی جیب میں جا رہا ہے۔ اور پھر کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اگر ان خاندانوں کا معیار زندگی بلند ہوگیا تو ان کی دیہاڑیاں ختم ہو جائیں گی۔ اس لیے یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ عوام کا معیار زندگی ان چیزوں کا کبھی محتاج نہ ہو۔ خیر بات ہو رہی تھی مغربی ممالک کی تو وہ حقوق العباد میں واقعی ہم سے آگے ہیں، وہاں کبھی آپ یہ نہیں سنیں گے کہ فلاں تہوار آیا تو تاجر برادری نے مال سمیٹنا شروع کردیا،،، بلکہ امریکا میں ایک دفعہ میں نے ایک جیکٹ خریدنا تھی جس کی قیمت غالباََ 51ڈالر تھی، سیلز مین نے مجھے خود روک دیا کہ اس کو کل خرید لیں، کل کرسمس سیل لگے گی تو یہی جیکٹ آپ کو 29ڈالر میں مل جائے گی۔ حالانکہ وہ چاہتے تو ہمارے دوکانداروں کی طرح پہلے قیمت بڑھا کر پھر اُسے کم کر دیتے یعنی 80ڈالر لکھ کر 50ڈالر میں سیل لگا دیتے۔ آپ یقین کریں یہ بات سوچ کر بھی حیرت ہوتی ہے کہ یورپ میں تہواروں کی آمد سے پہلے ہی دکانوں میں قیمتوں میں کمی شروع ہو جاتی ہے جو کہ 25فیصد سے لے کر 75فیصد تک ہوتی ہے یعنی 100روپے کی چیز 25روپے تک آسانی سے مل جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کرسمس اور ایسٹر کے موقعوں پر صرف کرسچن ہی خریداری کے لئے نہیں نکلتے بلکہ مسلمان بھی عید کی پیشگی تیاری کر لیتے ہیں۔ عموعی طور پر بھی امیر اور غریب کے طرز زندگی میں زیادہ فرق دکھائی نہیں دیتا اور خصوصاً اسطرح کے تہواروں پر قیمتوں میں کمی معاشرے کے ہر طبقے کو ان تہواروں کو بھرپور طریقے سے منانے میں مدد دیتی ہے اور تہوار کی خوشیاں پورا معاشرہ یکساں طور پر محسوس کرتا ہے۔اور پھر آپ یہ بھی کبھی نہیں سنیں گے کہ وہاں صنفی توازن نہیں ہے، وہاں ہم سے زیادہ خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے، وہاں ہم سے زیادہ غرباءکا خیال رکھا جاتا ہے، یہی نہیں بلکہ وہ ہمارے غریبوں کا بھی خصوصی خیال رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ غزہ میں جتنی امداد مغربی ممالک نے کی ہے، اُس کا پانچ فیصد حصہ بھی مسلم ممالک نے نہیں ڈالا۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں، بلکہ ریڈ کراس کی خدمات کو دیکھ لیں۔ کہ اُس میں خدمات کرنے والے سارے مغربی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر یو ایس ایڈ پروگرام دیکھ لیں جن کی وجہ سے ہمارے ملک میں سینکڑوں این جی اوز چل رہی ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس اسلام! جو ہمیں مساوات کا سبق دیتا ہے، اسلام! جو ہمیں قربانی کا سبق دیتا ہے، اسلام جو کہتا ہے کہ آپ کا پڑوسی بھوکا نہ سوئے۔ہمارا ملک جو اسلام کے نام پر قائم ہوا.... ہمارے یہاں رمضان میں کیا ہوتا ہے؟رمضان شروع ہوتے ہی امّتی ناجائز منافع خوری کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ 20روپے کی چیز 120تک پہنچ جاتی ہے۔ سبزیاں، پھل اور عام اشیائے خور و نوش کی چیزیں اتنی مہنگی ہو جاتی ہیں کہ اچھا خاصا کمانے والوں کے بجٹ بھی بگڑ جاتے ہیں۔ سفید پوش لوگوں کے دستر خوان پر جو کبھی پھل دکھائی دیے جاتے تھے، اس ہوش ربا مہنگائی کی وجہ سے وہ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ رمضان کا سب سے زیادہ اثر اس طبقہ پر پڑتا ہے جن کے لئے زندگی پہلے ہی مشکل اور ضروریات زندگی پہلے ہی شجر ممنوعہ ہوتی ہیں۔ یہ وہ غریب دیہاڑی دار لوگ ہیں جو روز کماتے اور روز کھاتے ہیں، جنہیں ایک دن کام نہ ملے تو دوسرے دن گھر میں فاقہ ہو جاتا ہے۔ انکے لئے روز مرہ کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافے کا مطلب فاقوں میں اضافہ اور مرے پہ سو درّے وہ ٹی وی پروگرام ہیں جن میں کھانا پکانے کی وہ ترکیبیں اور مختلف انواع و اقسام کے وہ کھانے دکھائے جاتے ہیں جنکا وہ غریب شاید خواب میں بھی تصّور نہ کرتے ہوں۔ ان کے لئے تو رمضان میں پکوڑوں کیلئے بیسن اور اضافی تیل بھی بڑی عیاشی ہوتا ہے اوراس لئے اس قسم کے پروگرام اس محروم طبقے کی محرومیوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ لہٰذااس حوالے سے ہماری اجتماعی تربیت کی ضرورت ہے اور اس بات کا تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں خود کو کیا کرنا ہے؟ جب تک ہم انفرادی طور پر ٹھیک نہیں ہوں گے، ہمارا کچھ نہیں ہوسکتا.... پس ہم اپنی برائیوں، ناکامیوں اور غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں کو گالیوں کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں، ہمارا کام محض حکومت کو گالیاں نکالنا رہ گیا ہے،ہمیں کسی نے باہر سے آکر ٹھیک نہیں کرنا، ہمیں عثمان بزدار ٹھیک نہیں کر سکتے، نہ چوہدری نثار کے آنے کے بعد ہم ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ ہم اُس وقت ٹھیک ہوسکتے ہیں جب ہم خود کوشش کریں گے۔ ہم تو رمضان میں سوفٹ ہی نہیں ہوتے ، ہمارا لہجہ ہی بدل جاتا ہے، ہمارا رویہ ہی کھا جانے والا ہوتا ہے،ایک بار پھر معذرت کے ساتھ کہ جو روزہ رکھ لیتا ہے وہ گلے پڑ جاتا ہے۔ بہرکیف ہمیں اس ماہ مقدس کے احترام میں مال کی خریدوفروخت میں نرمی کا برتاو¿رکھنا چاہیے، ذخیرہ اندوزی سے گریز، ملاوٹ سے مکمل اجتناب، ناجائز منافع خوری سے پرہیز، مال کا عیب نہ چھپانا، پورا ناپنا اور تولنا اور مال بیچنے کے لیے قسمیں کھانے سے احتراز، دوسرے ان تمام باتوں سے بچنا چاہیے جو مسلمان کو روزے کے اجروثواب سے محروم کردیتی ہیں ۔ ہم ایسا بالکل نہیں بننا چاہیے کہ ایک طرف ناجائز منافع خوری بھی کریں اور دوسری طرفزیادہ سے زیادہ خیرات و صدقات بھی کریں، کیوں کہ ناجائز منافع کما کر اس میں سے خیرات کرنے سے وہ مال پاک نہیں ہو جاتا۔ ایسے لوگوں سے صرف اتنی ہی استدعا ہے کہ لوگوں تک صدقات و خیرات پہنچانے کے بجائے مساوات پہنچائیں۔ زیادہ منافع کمانے کے بجائے قیمتوں میں کمی کر کے صدقہ دیں تاکہ چیزیں لوگوں کی پہنچ میں ہوں اور ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہے اور آپ کا نامہ اعمال بھی۔میرے خیال میں یہی احسن طریقہ ہے جنت کمانے کا!