چین ”خاموش سپرپاور“ ؟

آج 9سال بعد ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے سرکاری دورے کو مکمل کرکے واپس جا چکے ہیں، امریکا چین تعلقات بحال ہونے کے بعد یعنی 50سال میں یہ پندرھویں مرتبہ ہوا کہ امریکی صدر چین گئے،،، جبکہ چین میں سکیورٹی کا یہ عالم تھا کہ وہاں نہ کوئی سڑک بند کی گئی اور نہ ہی بیجنگ شہر کو بند کیا گیا اور نہ ہی گردونواح کے علاقوں میں کہیں پکڑ ڈھکڑ والا ماحول دیکھا گیا۔ اور یہ سب کچھ صرف چین میں ہی نہیں ہوا، بلکہ دنیا بھر میں جہاں بھی عالمی رہنما ملاقات کرتے ہیں، کبھی بھی عام عوام کو تنگ نہیں کیا جاتا،،، بلکہ دنیا اسے ”روٹین“ ایکٹیویٹی کے طور پر دیکھتے ہیں،،، آپ دیکھ لیں، میونخ میں انٹرنیشنل سیکیورٹی کانفرنس ہوتی ہے، دنیا بھر کے سربراہان آتے ہیں، اُس کانفرنس کے ہوٹل کے سامنے کسی راستے کو بند نہیں کیا جاتا،،، سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے،،، پھر امریکا میں چینی صدر جاتے ہیں تو وہاں بھی سان فرانسسکو یا واشنگٹن میں روٹین میں سب کچھ چل رہا ہوتا ہے،،، لیکن یہاں ہمارا سیکیورٹی کا ویژن اور سٹرٹیجی بہت روایتی، فرسودہ اور عوام کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، ناکے لگانا، راستے بند کرنا، کاروبار بند کرنامعمول کی بات بن جاتا ہے،،، بلکہ پچھلے دنوں امریکی نائب صدر کی آمد پر اور امریکی و ایرانی وفود کی متوقع آمد پر دارلحکومت (پورا شہر) کئی کئی دن کے لیے بند کر دیا گیا،،، حالانکہ پاکستان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اس قسم کے بھونڈے انتظامات نہ کیا کریں بلکہ اپنی سرحدوں کو محفوظ کریں، ٹیکنالوجی کا استعمال کریں، قانون کو مضبوط کریں، ہمسایوں سے تعلقات بہتر کریں، پولیس کی تربیت ماڈرن طریقے سے کریں، کرپشن کا خاتمہ کریں، میرٹ قائم کریں ،،،تب آپ کو پورے ملک کی سکیورٹی بھی بہتر لگنے لگے گی اور دنیا بھی آپ پر اعتماد کرے گی۔ خیر بات ہورہی تھی امریکی صدر کے دورہ چین کی تو اِس دورے پر ساری دنیا کی نظریں تین دن تک جمی رہیں کہ شاید ایران امریکا جنگ کے حوالے سے کوئی بڑی خبر آجائے ،،، کیوں کہ اس دورے کا مقصد ہی تھری ٹیز(Three T's) یعنی تہران ، ٹریڈ اور تائیوان تھے۔ لہٰذاتہران کے حوالے سے تو کوئی بڑی خبر نہ آسکی،،، مگر تجارت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف اعلانات کیے اور تائیوان کے حوالے سے کہا گیا تائیوان کے حوالے سے چین سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا،،، وغیرہ ۔لہٰذا دیکھنے میں تو لگ یہی رہا ہے کہ یہ دورہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پچھلے دورے (2017) جیسا ہی ،،، اُس دورے میں بھی جن موضوعات پر بات چیت ہوئی ، تو اُس وقت بھی دونوں رہنما ءکسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے۔۔۔ اور یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کہنے کو تو کوئی امریکی صدر 9سال بعد پہلی بار چین پہنچا ہے ،مگر حقائق بتاتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار نہیں ، بلکہ رواں دورے میں ساتویں بار چینی صدر شی جن پنگ کے روبرو بیٹھ رہے ہیں۔ دونوں رہنما پہلی بار 6اپریل2017 کو فلوریڈا میں ٹرمپ کی شاندار نجی رہائش گاہ Mar-A-Lagoمیں ملے تھے۔اُس وقت ٹرمپ پہلی بار نئے نئے صدر منتخب ہوئے تھے۔اُس وقت بھی ٹرمپ نے چین پر بھاری ٹیکس عائد کیے تھے ، اس لیے یہ ملاقات کوئی خاص خوشگوار نہیں گردانی گئی تھی۔ اِس ملاقات کے بعد ہی ٹرمپ نے شام ( جہاں بشار الاسد کی حکومت تھی اور جسے چائنہ کی بھرپور حمائت حاصل تھی) پر مہلک حملوں کا حکم دیا تھا۔ اِس پہلی ملاقات کے بعد جولائی2017 کو ہیمبرگ ( جرمنی) میں ،جی ٹونٹی کے اجلاس میں، ٹرمپ اور شی جن پنگ دوسری بار رو برو بیٹھے۔ دونوں کے درمیان تیسری براہِ راست ملاقات اُس وقت ہوئی جب 8نومبر2017 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ چین کا 3روزہ دورہ کیا۔اِس دورے سے ٹرمپ بڑے خوش اور مطمئن واپس آئے تھے کہ ٹرمپ نے اِس دورے میں دیوارِ چین بھی دیکھی ، چینی صدر اور اُن کی اہلیہ محترمہ کے ساتھ بیٹھ کر بیجنگ کے معروف عالم اوپیرا کو بھی انجوائے کیا ، اُنھوں نے بیجنگ کے صدیوں پرانے ”شہر ممنوعہ“ کا بھی دورہ کیا ، ایک عظیم الشان ڈِنر سے بھی لطف اندوز ہوئے اور آخر میں چینی صدر سے تنہائی میں خاص ملاقات بھی کی تھی۔اربوں ڈالرز کی بزنس ڈِیلز بھی کیں۔ لیکن ٹرمپ پھر بھی چین پر بھاری ٹیرف عائد کرنے سے باز نہ آئے۔پھر ٹرمپ اور شی جن پنگ چوتھی باریکم دسمبر2018ءکو ارجنٹینا میں ملے جہاں جی ٹونٹی کی سربراہی کانفرنس ہو رہی تھی۔ اِسی دوران ٹرمپ نے امریکہ پہنچنے والے 250ارب ڈالر کے چینی سامان پر جب بھاری ٹیرف عائدکیا تو چین نے بھی چین پہنچنے والے 110ارب ڈالرزکے امریکی سامان پر بھاری ٹیرف عائد کر کے ترکی بہ ترکی جواب دے ڈالا تھا۔ 29جون 2019ءکو امریکہ اور چین کے یہ دونوں رہنما پانچویں بار اوساکا (جاپان) میں ملے۔ یہ موقع بھی جی ٹونٹی سمّٹ ہی کا تھا۔ اِس ملاقات میں ٹرمپ نے چین پر عائد بھاری ٹیکسز میں کمی کر دی تھی۔ اور یوں ، بدلے میں، چین نے امریکہ سے 200ارب ڈالر کا سامانِ تجارت خریدا۔ دونوں میں چھٹی ملاقات 30 اکتوبر 2025 کو بوسان ( جنوبی کوریا) میں ہوئی تھی اور یہی تھی وہ ملاقات جس میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں رہنما جنوری 2026میں بیجنگ میں باقاعدہ ملیں گے۔چارماہ کی تاریخ سے اب یہ ملاقات ہوئی ہے۔ بہرحال چین اور امریکہ کو اس وقت کئی نازک مسائل کا سامنا ہے مگر اس دورے میں تین اہم موضوعات زیرِ بحث آئے،جیسے کہ میں نے اوپر بتایا کہ پہلا مسئلہ ”تہران“ رہا،،، یعنی اولین ترجیح ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین ایران پر دباﺅ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز کھلے اور جنگ ختم ہو۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس امر میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ چین نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ دوسرا مسئلہ ٹیرف کا رہا،،، چین اور امریکہ کے مابین 2025ءمیں تقریباً 414.7 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے چین پر 20فیصد ٹیرف لگا رکھے ہیں،،،سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق دونوں فریقین نے تجارتی جنگ بندی میں ایک سالہ توسیع پر غورکیا۔ سب سے زیادہ اہم اور تیسرا نمایاں موضوع تائیوان کا مسئلہ ہے۔ تائیوان چین کیلئے ”ریڈ لائن“ ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ تائیوان کا واپس چین میں شامل ہونا دوسری عالمی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا حصہ ہے۔لہٰذاان تینوں مسائل پر بات چیت تو ہوئی مگر شاید ڈونلڈ ٹرمپ کی قسمت میں ہی نہیں ہے کہ وہ کسی اہم سنگ میل کو عبور کر لیں۔ لہٰذااب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا وہی ملک ہے جو اپنے سے کمزور ممالک پر اپنی مرضیاں مسلط کرتا ہے،،، مگر چین سے وہ ایک بات بھی منوانے میں کامیاب نہیں ہوا،،، بلکہ چین میں تو میرے خیال میں صدر کی تضحیک ہوئی ہے کہ اُن کا استقبال چینی صدر نے 2017ءکی طرح خود نہیں بلکہ ہین ینگ (نائب چینی صدر) نے کیا ،،، اور بعد میں رسمی تقریبات میں بھی چینی صدر امریکی صدر کے ساتھ مل کر پرجوش نظر نہیں آئے،،، بلکہ اُن کے ساتھ ہاتھ ملانے کی ویڈیو میں بھی اپنی جگہ جم کر کھڑے رہنے کی ویڈیوز نے امریکا کو یقینا آئینہ ضرور دکھایا ہے۔۔۔ یہی اگر کوئی ہم جیسا ملک ہوتا تو ہم نے امریکی صدر کی آﺅ بھگت میں نہ جانے کیا کچھ کر رہے ہونا تھااور زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہونا تھا،،، بلکہ ہمیں چھوڑیں آپ سعودی عرب، قطر یا متحدہ عرب امارات جیسے امیر ممالک کو دیکھ لیں ،،، جہاں امریکی صدر قدم رکھتے ہیں تو یہ ممالک اپنے خزانے کے منہ کھول دیتے ہیں،،، اور کھربوں ڈالر کے معاہدے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس چین نے بتادیا کہ اُس پر امریکی مرضیاں مسلط نہیں کی جاسکتیں،،، جبکہ ایران کے حوالے سے بھی امریکی بیان یک طرفہ ہی آیا ہے کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا،،، جبکہ چین نے اس پر پراسرا ”خاموشی“ اختیار کیے رکھی ہے،،، اور ظاہر ہے چین امریکا کے لیے ایران کے ساتھ کیوں بگاڑے گا؟ اور کیوں ایران میں امریکی کٹھ پتلی حکومت بنوا کر وہ اپنے لیے مسائل پیدا کرے گا،،، اور ویسے بھی چین ایران کے خام تیل کی برآمدات کا 80سے 90فیصد خریدتا ہے۔ چین روزانہ تقریباً 1.2سے 1.4 ملین بیرل ایرانی تیل لے رہا ہے‘ زیادہ تر رعایتی قیمت پر۔ لہٰذا اگر چین یہ خریداری روک دے یا کم کر دے تو ایران کی معیشت فوری دباﺅ میں آ جائے گی کیونکہ ایران پر پہلے ہی عالمی پابندیاں ہیں۔ دوسرا سفارتی محاذ پر چین ہمیشہ ایران کے مفادات کا تحفظ کرتا آیا ہے۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور ایران کا سب سے بڑا سیاسی حامی رہا ہے۔ 2023ءمیں چین نے ہی سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کی بحالی میں ثالثی کی تھی اور اس کی بات تہران میں وزن رکھتی ہے۔ تیسرا پہلو سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کا ہے جس میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین نے ایران میں بندرگاہوں‘ ریلوے اور توانائی کے منصوبوں میں اربوں ڈالر لگانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ان منصوبوں کو روکنا یا سست کرنا بھی دباﺅ کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔ لیکن چین یکطرفہ اقدامات کیوں نہیں چاہے گا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا خود چین کے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ اس کا 40فیصد سے زائد تیل وہیں سے گزرتا ہے۔ لیکن وہ ایران کو مکمل ناراض نہیں کرنا چاہے گا کیونکہ ایران روس اور چین پر مشتمل مغرب مخالف بلاک کا کلیدی حصہ ہے۔ لہٰذاکیسے ممکن ہے کہ چین اپنے بلاک میں موجود ایران جیسے ملک پر سے اپنا ہاتھ اُٹھالے؟ بلکہ میرے خیال میں تو حالیہ ایران ، امریکا و اسرائیل جنگ ہی نے تو نئی عالمی سیاست اور گٹھ جوڑ کو جنم دیا ہے،،، بلکہ یہ کہیں کہ اب اس جنگ کی وجہ سے ہی دنیا بھر نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں،،، اور ویسے بھی یہ تاریخ ہماری زندگی کا حصہ رہی ہے کہ دنیا کی سیاست میں طاقت کا توازن ہمیشہ بدلتا رہا ہے۔ کبھی برطانیہ کی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، پھر امریکا نے عالمی قیادت سنبھالی، اور اب اکیسویں صدی میں ایک نئی طاقت خاموشی سے دنیا کے افق پر ابھر رہی ہے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ چین نہ صرف اپنی معاشی قوت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو متاثر کر رہا ہے بلکہ وہ ایک ایسے عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھتا دکھائی دیتا ہے جو مغربی دنیا کی کئی دہائیوں پر محیط برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چین واقعی خاموش سپرپاور بن چکا ہے؟اس کے لیے ممکن ہے کہ مستقبل قریب میںیہ فیصلہ بھی ہو ہی جائے!