تحریک انصاف پر پابندی، کل آپ بھی اسی جال میں پھنسیں گے!

9مئی کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے، اُس وقت سے لے کرآج تک سو مرتبہ سنا گیا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی لگ سکتی ہے، تحریک انصاف کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، بلکہ اس شوروغل میں الیکشن بھی ہوگئے اور عوام نے اپنا فیصلہ بھی سنا دیا لیکن حکمران ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ اور اپنی ضد اور انا کی بھینٹ ملک کو چڑھا رہے ہیں۔ اچھے اچھے اشتہارات لگوا رہے ہیں، نیشنل ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ کیبلز پر بھی اشتہارات چلائے جا رہے ہیں کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں ہے۔ بلکہ اب تو ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پی ٹی آئی ایک دہشت گرد گروہ ہے جس پر مکمل پابندی لگنی چاہیے۔ بلکہ پنجاب اور بلوچستان اسمبلی سے یہ قرار داد بھی منظور کر لی گئی ہے کہ مذکورہ جماعت پر پابندی لگا دی جائے۔ پھر بلاول کے بھی اسی قسم کے الفاظ تھے۔کوئی عوام کو یہ بتائے گا کہ یہ کونسا جمہوری رویہ ہے؟ کیا جمہوری ملکوں میں ایسا ہوتا ہے؟ ہر گز نہیں وہاں سیاسی جماعت گتھم گتھا بھی ہوتی ہیں، لیکن ملک کی خاطر تمام اقدامات کرتی ہیں۔ کبھی ایک دوسرے کے لیے دہشت گرد جماعت کے القاب استعمال نہیں کرتیں اور نہ ہی کبھی کسی کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے دیکھا گیا ہے۔ ٓاور پھر حیران کن امر یہ ہے کہ جو جماعت تحریک انصاف پر پابندی لگانے میں سب سے آگے ہے ، اُسے خود کئی مرتبہ پابندی کا سامنا رہا ہے اور کئی مرتبہ وہ غدار کہلائی گئی ہے۔ بلکہ ہر مرتبہ آپ کے ساتھ اچھا خاصا کھلواڑ ہوا ہے، 2مرتبہ حکومت چلی گئی جبکہ تیسری مرتبہ آپ کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ کو طیارہ سازش کیس میں غداری کی سزا ہونے لگی تھی۔یعنی 12اکتوبر 1999کو جب پرویز مشرف نے آپ پر جہاز اغواءکرنے کا مقدمہ قائم کروایا اور ساتھ ہی ملک سے غداری کا مقدمہ درج کروایا، اور آپ کو ملک دشمن قرار دیا گیا تو اُس وقت آپ کی اور آپ کی پارٹی کی حالت بھی آج کی تحریک انصاف جیسی تھی۔ اس موقع پر سعودی عرب نے سیاسی معاملات میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور ایک مبینہ معاہدے کے بعد معزول وزیراعظم نواز شریف 10 سال کے لیے ملک سے جلاوطن ہوگئے۔ پھر آپ 2013ءمیں دوبارہ اقتدار میں آئے اور دوبارہ نکال دیے گئے، پھر آپ نے مہم شروع کی کہ ”ووٹ کو عزت دو“۔ نہیں یاد تو میں آپ کو مکمل تاریخیں بھی بتا دیتا کہ کب کب کیا کیا ہوا آپ کے ساتھ۔ اور کب کب آپ کو غدار کہا گیا۔اگر آج آپ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے ساتھ سب کچھ کر رہے ہیں، پھر تو اُس وقت بھی آپ کے ساتھ ٹھیک ہوا ہوگا۔ اگر وہ فعل ٹھیک تھا تو اب تک آپ کو پھانسی کی سزا بھی ہوجانی چاہیے تھی! خدارا اس روایت کو توڑیں کہ جب آپ طاقت میں آئیں تو پھر ہاتھی نہ بن جائیں، اور سب کو روند دیں۔ سب کو روندنے والا کبھی دیرپا امن قائم نہیں رکھ سکتا۔ اور ویسے بھی یہ بات آپ کو کس نے کہہ دی ہے کہ جمہوری ملکوں میں سختیاں زیادہ دیر چل سکتی ہیں۔ میرے خیال میں ہم سے بہت بہتر تو جنوبی کوریا والے ہیں،کہ وہاں پر پارلیمنٹ نے اپنے اندر کسی تیسری طاقت کو نہیں گھسنے دیا۔ یہ ہوتی ہے، سیاستدانوں کی طاقت، یہ ہوتی ہے عوام کی طاقت۔وہاں کے عوام نے بھی یہ ثابت کیا کہ اگر تیسری قوت کو ایک بار موقع مل گیا تو پھر وہاں سے جمہوریت خال خال ہی ملے گی۔ سب کچھ ختم ہو جائے ، یعنی جنوبی کوریا کے صدر نے پورے ملک کو اس وقت حیران کر دیا جب منگل کی رات اچانک ہی انھوں نے اس ایشیائی جمہوریت میں تقریبا 50 سالہ بعد پہلی بار مارشل لا لگانے کا اعلان کیا۔یون سوک یول کا یہ انتہائی اقدام، جس کا اعلان رات دیر گئے ٹی وی پر نشر کیا گیا، بظاہر ریاست مخالف قوتوں اور شمالی کوریا کے خطرے کے پیش نظر اٹھایا گیا تاہم جلد ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ اس کی اصل وجہ بیرونی خطرات نہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی مشکلات تھیں۔تاہم اس اعلان کے بعد ہزاروں لوگ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہو گئے اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی مارشل لا ختم کروانے کے لیے ایمرجنسی ووٹ دینے پہنچے۔چند ہی گھنٹوں کے اندر شکست خوردہ صدر نے پارلیمنٹ کے ووٹ کو تسلیم کرتے ہوئے مارشل لا ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ملک کی سب سے بڑی حزب اختلاف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ، لی جائی میونگ، نے اراکین اسمبلی کو پارلیمان پہنچنے کی درخواست کی تاکہ مارشل لا کے خلاف ووٹ ڈالا جائے اور انھوں نے عام شہریوں سے بھی التجا کی کہ وہ پارلیمان پہنچ کر احتجاج کریں۔وجوہات وہاں پر جو کچھ بھی تھیں لیکن وہاں پر جمہوریت پر کسی قسم کا داغ نہیں لگنے دیا گیا۔ وہاں کی افواج نے بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی نے اقتدار میں آنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا اور نہ کسی نے جلد بازی میں ایسا قدم اُٹھا کہ اُسے 11سال تک اقتدار سونپ دیا جائے۔ پھر وہاں کے میڈیا نے بھی مارشل لاءکے خلاف خوب خبریں چلائیں ، چیخنا چلانا شروع کیا، تبھی حالات وہاں پر نارمل ہوئے۔ خیرپاکستان تو خاکم بدہن اس قسم کے کسی حادثے کا متحمل نہیں ہو سکتا مگر سوال یہ ہے کہ ایسے حالات کیوں بنائے جا رہے ہیں کہ جس سے سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے۔ اگر پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ 9مئی اور 27نومبر دونوں پر جوڈیشل کمیشن بنائیں کہ ریاست کہاں قصور وار ہے، اور مظاہرین کہاں قصور وار ہیں۔تو اس میں مسئلہ ہی کیا ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ جو رپورٹ سامنے آئے گی، اُس کی بنیاد پر فیصلے کریں،،، لیکن اس کے برعکس یہ ظلم نہ کریں کہ فوری فوری آپ نے قانون بھی پاس کر لیا کہ جو کوئی احتجاج بھی کرے گا آپ اُسے 5سال تک قید کی سزا بھی دیں گے، یا دس لاکھ روپے جرمانہ بھی کریں گے۔ یا دونوں چیزیں ہی بیک وقت آپ کر سکتے ہیں۔ کیا کسی جمہوری ملک میں اس کی مثال سنی یا دیکھی ہے؟ ہاں اگر اس ملک کو مصر جیسا بنانا ہے، شام یا یوگنڈا جیسا بنانا ہے تو پھراُن کا حال دیکھ لیں۔ ویسے تو ہم اُن کے قریب ترین ہیں۔ ہمارا تو پاسپورٹ ہی دنیا کے آخری پانچ ممالک میں گنا جاتا ہے۔ اور پھر یہ قوانین اور اقدامات دیکھ لیجئے گا کہ کل کو آپ کے اپنے گلے کا پھندا بنیں گے۔ پھر آپ چیخیں ماریں گے،،، لیکن سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔ سب یہی کہیں گے، کہ یہ مکافات عمل ہے۔ کیا آپ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ آپ اس وقت 80فیصد عوام کے مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں، تمام یوتھ آپ سے اس وقت نالاں ہے۔ بلکہ سخت نفرت کا اظہار کر رہی ہے۔ اور پھر شاید آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر 6ہزار نوجوان نئے ووٹر بن رہے ہیں، یہ سارے وہ ووٹر ہیں جو آپ کے قصیدے پڑھنے کے بجائے تحریک انصاف کے گن گاتے ہیں۔ اور پھر یہ سبھی لوگ آپ کی بے حسی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ اور آپ کی بے بسی کو بھی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس 80فیصد عوام کو آپ مہنگی ترین ایڈورٹائزنگ، اربوں روپے کے اشتہارات کو بدل دیں گے؟ ایسا کرنے سے آپ 0.001فیصد عوام کو بھی اپنے ساتھ نہیں ملا سکتے۔ بلکہ ان اشتہارات کو دیکھ تو ہر کوئی آپ کا مذاق بنا رہا ہے۔ کیا ایسا کرنے سے تحریک انصاف کی مقبولیت میں فرق پڑے گا؟ بالکل نہیں! یہی اربوں روپے آپ کسی اچھے کام پر خرچ کریں۔ عوام کی بھلائی کے لیے خرچ کریں، اُنہیں صحت کارڈ جیسی سہولت دیں، اُنہیں روزگار دیں، اُنہیں کاسمیٹکس پراجیکٹ دینے کے بجائے حقیقت میں ایسے پروگرامز دیں جن سے وہ آسان زندگی گزار سکیں، لیکن اس کے برعکس اگر آج کوئی جماعت احتجاج کا اعلان کر دے، آپ فوراََ شہر بند کرنا شروع کر دیتے ہیں، پھر عوام کو وہ خفت اُٹھانا پڑتی ہے کہ خدا کا نام! پھر آپ انا اور ضد کی وجہ سے کسی سیاستدان سے ڈائیلاگ کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ بلکہ تیسری قوت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن جاتے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہو کہ آپ کسی جماعت کو دہشت گرد یا غدار بنانے کے لیے سکیورٹی اداروں کے استعمال سے اجتناب کرتے ہوئے سیاستدانوں کے مسائل سیاست کے میدانوں تک رکھیں۔ بادی النظر میں کسی کو دہشت گرد تنظیم کہنے یا اُس پر پابندی لگانے سے اگر کوئی حل نکل سکتا ہوتا تو آج حکومت میں موجود تمام جماعتوں پر پابندی لگ چکی ہوتی۔ بہرکیف آپ جمہوری رویہ اپنائیں، کسی کو دہشت گرد جماعت قرار دینے سے وہ کبھی بھی دہشت گرد جماعت نہیں بن سکتی۔ ن لیگ پیپلزپارٹی اے این پی سب کو کئی کئی بار غدار قرار دیا چکا ہے تو کیا یہ جماعتیں ختم ہوگئی ہیں؟اگر آپ نے اُن کو دباﺅ میں لانا ہے تو کوئی اور طریقہ اپنایا جائے، اُن سے ڈائیلاگ کیے جائیں، جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر آپ یہ بات لکھ لیں کہ اگلا الیکشن آپ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ پھر آپ کے کام نا تو الیکشن کمیشن آئے گا، نہ ہی اسٹیبشلمنٹ آئے گی اور نہ ہی کوئی اور ادارہ آئے گا۔ ووٹ کو عزت دینے والے نعرے کو احترام کریں، ورنہ یہ کل کو آپ کو بھی استعمال کرکے پھینک دیں گے۔ سب کو علم ہے کہ آپ کی مقبولیت نہ ہونے کے قریب ہے۔ کیوں کہ آپ کا Behaviourسیاستدانوں جیسا نہیں بلکہ ڈکٹیٹروں جیسا ہے، جو جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے!