سولر سسٹم پر بھی سرکار کا ”جگا ٹیکس“ !

آپ بجلی واپڈا سے لیں یا سولر سسٹم سے پیدا کریں،،، حکومت کو ”جگا ٹیکس“ دینا ہی پڑے گا،،، یعنی اب نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولر اتھارٹی ) کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق 25کلوواٹ سولر سسٹم لگانے کے لیے فی کلوواٹ ایک ہزار روپے سرکار کو دینا پڑیں گے،،، اور سولر سسٹم لگانے سے پہلے نیپرا سے باقاعدہ لائسنس لینا پڑے گا ورنہ آپ کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کا اختیار سرکار کے پاس ہوگا،،، اس نام نہاد ”ایکٹ“ میںپہلے 25 کلو واٹ تک صارفین کو تقسیم کار کمپنیاں لائسنس دے سکتی تھیں۔لیکن اب آپ کو ”پے آرڈر “ بنام نیپرا ادا کرنا ہوگا۔ ویسے تو پہلے ہی پاکستان میں مہنگی بجلی سے تنگ عوام نے جب اپنی مدد آپ کے تحت سولر سسٹم لگانے شروع کیے تو یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اب بجلی کے بلوں سے کچھ ریلیف ملے گا۔ لیکن اب نئی پالیسی نے صارفین کیلئے ایک اور مشکل کھڑی کر دی ہے۔یعنی سوال یہ ہے کہ جو شہری پہلے ہی لاکھوں روپے خرچ کر کے سولر لگوا چکے ہیں، کیا اب وہ مزید فیسیں بھی دیں؟ کیا اپنی چھت پر بجلی بنانا بھی اب اجازت کا محتاج ہوگا؟حکومت ایک طرف عوام کو متبادل توانائی کی طرف آنے کا کہتی ہے، دوسری طرف اسی راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ یہ پالیسی بظاہر ریگولیشن کے نام پر ہے، مگر حقیقت میں یہ عام آدمی پر ایک اور مالی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔کیا یہ سرکار کی منافقت نہیں ہے، کہ اُنہیں ایک طرف ایران امریکا جنگ میں پھنسا دیا گیا ہے اور دوسری طرف اُن پر کبھی پٹرول ، کبھی ڈیزل، کبھی گیس اور کبھی مہنگی بجلی کے بم برسائے جا رہے ہیں اور اب رہی سہی کسر سولر سسٹم پر نئے ٹیکس کے نفاذ نے نکال دی ہے۔ ویسے میرا ذہن سوچ سوچ کر تھک گیا ہے کہ یہ ”فلاحی ریاست“ کیسے ہے؟ کیوں کہ یہ تو اپنے عوام کو اپنے چنگل میں پھنسانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اور پھر شکراس بات کا ہے کہ سورج کسی حکومت کی ملکیت نہیں، ،، ورنہ اس پر بھی دنیا بھر جنگیں ہو رہی ہونی تھیں جیسے آج کل سمندروں کی حدود کو لے کر ہو رہی ہیں،،، اور پاکستان جیسے ملک اسی کی آڑ میں اپنے عوام سے پیسے نچوڑ رہے ہیں۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی سولر سسٹم لگانے پر نیپرا کو جگا ٹیکس فراہم کرنے کی تو پہلی بات یہ ہے کہ کیا سرکار سولر پلیٹس اور بیٹریوں پر ٹیکس وصول نہیں کرتی؟ کیا اُن کی امپورٹ پر ڈیوٹی وصول نہیں کرتی؟اور کیا سرکار صارفین سے سستے داموں (11روپے فی یونٹ) یونٹس خرید کر دوبارہ اُنہی صارفین کو 50سے 55روپے فی یونٹ میں فروخت نہیں کرتی ،،، اگر ایسا ہے تو پھر ساری رنگ بازیوں کے بعد نیپرا لائسنس کی آخر کیا ضرورت تھی؟ ہاں ضرورت تھی! صرف اس چیز کی کہ جب سورج اس دھرتی پر اپنی روشنی عطا کر رہا ہے تو یقینا اُسے کیسے استعمال کرنا ہے اس حوالے سے تو ہمارے ذہین فیصلہ کرنے والوں سے اجازت لینا ہوگی ناں! لیکن اگر سورج کو علم ہوتا کہ اُس کے ساتھ یہ ہونے والا ہے تو وہ یقینا اپنی کرنیں بھیجنے سے پہلے کسی سرکاری دفتر میں ضرور حاضری لگاتا۔اور کہتا کہ سرکار میں اس کائنات میں موجود ایک ادنیٰ سا ستارہ ہوں جو اربوں سال سے روشنی عطاءکر رہا ہوں،،، آج تک مجھ پر کسی کے ٹیکس لگانے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔۔ تو جناب! اب یہ ظلم کیسا؟ اس پر سورج کو ہمارے سرکاری دفاتر میں بیٹھا ایک چھوٹا سا کلرک کہتا کہ میں ”صاحب“ سے بات کروں گا،،، مگر مجھے پتہ ہے کہ اُنہوں نے Agreeنہیں کرنا،،، اس کے لیے آپ یہ فارم پرُ کریں،،، اس کے ساتھ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی لگائیں اور پھر اس کی تین کاپیاں کسی مصدقہ افسر سے تصدیق کروا کر لے آئیں ،،، پھر میں صاحب سے بات کروں گا،،، لیکن آپ ذہن میں رکھیے گا کہ تھوڑا بہت خرچہ بھی ہو سکتا ہے،،، لیکن آپ کاکام ہو جائے گا! اس کے بعد اگر سورج کو اجازت نامہ مل بھی جاتا توروزانہ صبح صبح سورج کو ایک نوٹس ضرور ملنا تھا کہ آج کا کوٹہ اتنا ہے،،، اور اس اس جگہ پر خوب گرمی برسانہ اور باقی جگہوں پر فی الوقت آپ کی ضرورت نہیں ہے،،، لیکن اگر سورج سے اس دوران گستاخی ہو جاتی تو یا تو اگلے دن اُسے کسی سرکاری دفتر کے سامنے کھڑا دیکھنا نصیب ہوتا،،، یا وہ کسی بینک میں لائن میں لگ کر اضافی ”کرنوں“ کی فیس جمع کروا رہا ہوتا۔ یقین مانیں یہ مذاق نہیں ہے،،، اگر ان فیصلہ کرنے والوں کو بس چلتا تو یہ ایسا ہی کرتے،،، اور پھر آپ ان سے دھوپ خرید رہے ہوتے ،،، جیسے آج پٹرول ، گیس و بجلی سرکار سے خریدنے کے پابند ہیں اسی طرح پھر آپ دھوپ بھی سرکار سے خرید رہے ہوتے۔یعنی آپ تصور کیجیے ایک دن ایسا آئے جب حکومت اعلان کرے:محترم شہریو! آج بادلوں کی وجہ سے دھوپ کی سپلائی متاثر ہے، لہٰذا لوڈشیڈنگ شیڈول کے مطابق صرف مخصوص علاقوں کو سورج فراہم کیا جائے گا۔ بہرحال یہ تو ایک مزاح تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ سورج کسی حکومت کی ملکیت نہیں، یہ ربِ کائنات کی ایسی نعمت ہے جو بلا امتیاز ہر انسان پر یکساں طور پر برس رہی ہے۔ نہ اس کی روشنی کسی سرحد کی پابند ہے، نہ کسی قانون کی محتاج۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کو انسان کے لیے عام رکھا ہے تو پھر اس سے فائدہ اٹھانے پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا انصاف کے کس اصول کے تحت آتا ہے؟یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ سولر انرجی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ ملک کے توانائی بحران کا ایک مو¿ثر حل بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب عوام مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان ہیں، ان پر سولر پینل لگانے کے لیے لائسنس یا پیچیدہ اجازت ناموں کی شرط عائد کرنا عوامی مشکلات میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں خود لوگوں کو سولر انرجی کی طرف راغب کرتی ہیں، سبسڈی دیتی ہیں، ٹیکس میں چھوٹ دیتی ہیں۔کیونکہ یہ نہ صرف ماحول کے لیے بہتر ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ مگر یہاں الٹا معاملہ نظر آتا ہے، جہاں سہولت دینے کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔یہ سوال صرف قانون کا نہیں بلکہ انصاف کا ہے۔ کیا ایک عام شہری کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی چھت پر پڑنے والی سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھا کر اپنے گھر کو روشن کرے؟ کیا یہ بنیادی آزادیوں کے خلاف نہیں کہ ایک فطری اور مفت ذریعہ توانائی پر بھی بیوروکریسی کی زنجیریں ڈال دی جائیں؟ اب سوال یہ ہے کہ قوم کس کے پاس جائے؟ پوری عدلیہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ ایکشن لے سکیں، بلکہ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے تو ویسے ہی سوموٹو ختم کر دیا گیا ہے۔ کیوں کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری ۔ مطلب! کورٹس تو بس کینگرو کورٹ ہی رہ گئی ہیں، ججز محض تنخواہیں اور مراعات لینے کے لیے رہ گئے ہیں،،، پھر پوری کی پوری اپوزیشن اس وقت عمران خان کی بیماری کے حوالے سے اپنی تمام تر توانائیاں ضائع کر رہی ہے،،، اور سرکا ر ہے کہ اُس سے ملاقاتوں پر پابندیاں لگا کر اور خان کے ہیلتھ ایشوز بنا کر سب کا دھیان بٹائے ہوئے ہے،،، اور رہی بات عوام کی تو وہ ویسے ہی ڈرے سہمے بیٹھے ہیں،،، ہارڈ اسٹیٹ بننے کی وجہ سے کوئی باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے، سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں،،، کیا یہ بلنڈرنہیں ہے؟ بلکہ اگر کوئی سمجھے یا محسوس کرے تو یہ بہت بڑا جرم ہے،،،اگر کوئی اس سے انکاری ہے تو اُس سے پوچھا جائے کہ کیا پہلے آپ نے بے شمار ٹیکس نہیں لگا رکھے؟ اور پھر جو اسٹاک منگوانے کے حوالے سے انہوں نے بڑی بڑی کرپشن کی وہ کم نہیں تھیں کیا؟ جب عوام نے کم و بیش ایک ایک گھر میں 20،20لاکھ روپے ،،، 30،30لاکھ روپے کے سولر سسٹم لگا ئے لیے ہیں،،، اور اپنی جمع پونجی اس پر خرچ کر دی ہے تو اب آپ کے ٹیکسز ہی ختم نہیں ہورہے۔ بہرکیف دنیا کا مستقبل مصنوعی ذہانت اور سولر انرجی سے وابستہ ہے، اور ہماری حکومت سولر انرجی کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں رہا کہ سولر پینلز کی درآمد پر سبسڈی ختم ہونے کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی شخصیات کبھی نہیں چاہیں گی،،، کہ اُن کے نجی بجلی گھروں سے بجلی خریدنا بند کر دی جائے،،، اس سے اُنکی اپنی ترقی رُک جائے گی۔ لیکن ان کو سمجھنا چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی طرف بڑھنا دنیا بھر کا رجحان ہے۔ جرمنی، چین اور دیگر ممالک نے شمسی توانائی کو فروغ دے کر نہ صرف ماحولیاتی اہداف حاصل کیے بلکہ نئی صنعتیں بھی کھڑی کیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سورج کی روشنی وافر ہے، وہاں سولر توانائی ایک نعمت بن سکتی تھی۔ مگر جب پالیسیوں میں غیر یقینی ہو تو لوگ آئندہ کسی سرکاری اعلان پر کیسے یقین کریں گے؟لیکن اگر نیتوں میں فتور ہو تو ہر کوئی یہی سمجھے گا کہ ملک میں سولر انرجی کے سورج کو غروب کرنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اور یقینی طور پر اس کے پیچھے کھرب پتی اشرافیہ ہے۔جنہوں نے مہنگی بجلی، لوڈ شیڈنگ اور حکومتی نااہلی سے جان چھڑانے والے لاکھوں سولر صارفین کیلئے حکومت چند فیصلوں میں ہی منظر نامہ بدل رہی ہے،،، اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو لوگ سولر لگانے سے بھی گھبرائیں گے، اور ملک ایک بار پھر مہنگی بجلی کے جال میں پھنسا رہے گا۔لہٰذافیصلہ کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو صرف ریگولیشن کے زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ عوامی فلاح کے تناظر میں بھی غور کریں۔ قوم پہلے ہی معاشی دباو¿ کا شکار ہے۔ایسے میں سولر جیسے سستے اور پائیدار حل کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، نہ کہ اسے محدود کرنا۔اگر واقعی عوام کی بہتری مقصود ہے تو ایسے قوانین پر نظرثانی کی جائے جو سہولت کے بجائے رکاوٹ بن رہے ہیں۔ کیونکہ جب ریاست اپنے شہریوں کو قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے سے روکتی ہے تو سوال صرف قانون کا نہیں رہتا، بلکہ اعتماد کا بھی بن جاتا ہے۔