نتاشہ کیس: اور ایک بار پھر طاقتور نے قانون کی واٹ لگا دی!

اچھا ہوا ، نتاشا بری ہوگئی ، ورنہ تو پیسے کی طاقت سے میرا یقین ہی ختم ہو جانا تھا، ،، یہ تو بھلا ہو ہمارے سسٹم کا کہ اس بار تو زیادہ دیر ہی نہیں لگی، بلکہ دو تین ہفتوں میں ہی کیس پھڑکا دیا گیا،،،یعنی کراچی کے علاقے کار ساز میں پیش آنے والے حادثے کے کیس میں فریقین میں معاملات طے پا گئے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثاءنے حلف نامے تیار کروا لیے ہیں۔ورثاءکی جانب سے ملزمہ کی درخواست ضمانت پر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کرایا جائے گا۔ نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ جاں بحق ہونے والے عمران عارف کی اہلیہ کی جانب سے جمع کرایا جائے گا۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف کے بیٹے اسامہ عارف اور بیٹی کی جانب سے بھی نو اوبجیکشن سرٹیفیکٹ جمع کرایے جائیں گے۔طے پائے گئے حلف نامے میں متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ہمارے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں ہم نے ملزمہ کو معاف کر دیا ہے۔حلف نامے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاءنے کہا ہے کہ ہم نے اللہ کے نام پر معاف کیا ہے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ ورثاءنے حلف نامے میں کہا ہے کہ ملزمہ کو ضمانت دینے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، جو حادثہ ہوا تھا وہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ حادثہ 19 اگست کو حادثہ پیش آیاتھا جس میں کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔جاں بحق شخص عمران عارف دکانوں پر پاپڑ فروخت کرتے تھے جبکہ خاتون آمنہ عارف نجی کمپنی میں ملازم تھی۔اس حادثے کے بعد راقم نے کالم”فکر نہ کریں! ملزمہ نتاشہ کو کچھ نہیں ہوگا!“ میں یہ بات برملا کہی تھی ” کچھ دن تک یہ کیس سب کی نظروں میں رہے گا پھر سب کچھ پہلے سے لکھے گئے سکرپٹ کے مطابق طے پائے گا، جس کے بعد ملزمہ ،مظلوم کو چند روپے تھما کر اپنے گھر روانہ ہوگی اور وطن عزیز کا قانون ایک بار پھر منہ دیکھتا رہ جائے گا۔ “ خیر یہ تو ہونا ہی تھا، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ شاید جتوئی خاندان کے پاس شاید پیسے کم ہوں گے،،، جن کا کیس اتنے سال چلتا رہا اور بے چارے شاہ رُخ جتوئی نے پیسے کی طاقت ہوتے ہوئے بھی خامخواہ اتنے سال جیل بھی کاٹی،،، ویسے وہ الگ بات ہے کہ یہ جیل نہیں بلکہ لگژری نظر بندی تھی۔اور پھر افسوس شرجیل میمن پر کہ وہ بھی ایویں اتنے سال کرپشن کے کیس میں جیل کاٹتا رہا، پیسے کی طاقت کا فائدہ تو نہ ہوا پھر! کہ چیف جسٹس جیل کا دور کرے، شراب بھی پکڑے ، لیکن وہ الگ بات ہے کہ پھر وہی شراب شہد اور زیتون کے تیل میں بدل جائے.... افسوس اس کیس کے آگے تو ریمنڈ ڈیوس کیس بھی ہار گیا، کیوں کہ اُس نے بھی اسی قسم کا ڈرامہ کیا تھا جس کے عوض اُسے دو ڈھائی ماہ جیل میں رہنا پڑا تھا، حالانکہ اُس کے پیچھے پورا امریکا تھا، اُس نے بھی 27 جنوری 2011ءکو مزنگ لاہور کی سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو مار دیاتھا۔ مقتولین کے نام فہیم اور فیضان تھے۔ پھر اسی اثنا میں اُس نے بھاگتے ہوئے ایک راہگیر موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک کر دیاتھا۔ اس ہلاک ہونے والے کا نام عبادالحق ہے۔ بعد میں پولیس نے ریمنڈ کو گرفتار کر لیاتھا۔جس کی شناخت امریکی سی آئی اے ایجنٹ کے طور پر ہوئی تھی، بعد میں سعودی عرب حکومت نے 2ملین ڈالر کے عوض لواحقین سے زبردستی صلح کروائی اور اُسے مارچ میں ملک سے لے اُڑے اور افغانستان میں امریکی اڈے پر پہنچایا۔ یعنی اُس نے بھی دوماہ جیل میں گزار ہی لیے تھے.... اور پھر افسوس سانحہ ساہیوال کے ملزمان بھی تو جنوری 2019سے اکتوبر 2019ءتک دس ماہ جیل میں رہے تھے، حالانکہ اُن کے پیچھے پوری ریاست کھڑی تھی، اور یہاں تو ویسے بھی عام آدمی ریاست کے ساتھ لڑ نہیں سکتا۔ اس لیے اس واقعہ کے بعد پوری قوم نے اس پر احتجاج پر ہی اکتفا کیا تھا ، لیکن عدالت نے تمام اہلکاروں کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا اور قوم منہ تکتی رہی۔ لیکن حالیہ کیس تو سب کا باپ نکلا کہ ملزمہ کو دوران ”علاج“ ہی ضمانت بھی مل گئی ، یہ ہے پاکستان کا قانون!کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔ آپ یقین مانیں کہ ہمارا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ،نہ ہی ہمیں اس سے سروکار کہ ملزمہ کے خون اور پیشاپ کے نمونوں میں آئس کے نشے کے کیمیکل دیکھے گئے تھے، اور نہ ہی اس سے کوئی غرض ہے کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر نے ملزمہ نتاشہ کو مکمل تندرست قرار دیا تھا، بلکہ مجھے تو اُس ہندو ڈاکٹر چنی لعل کی فکر لگ گئی ہے ، جس نے میڈیکل رپورٹ میں مکمل فٹ قرار دیا تھا ،اور یہ غلط ثابت کیا تھا کہ ملزمہ ذہنی مریضہ ہے۔ اس میڈیکل رپورٹ کے بعد تو کہا جا رہا تھا کہ نتاشہ کے جلد جیل سے باہر آنے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ میں ناقابل ضمانت قتل بالسبب کی دفعہ 322 کا اضافہ کردیا تھا(یہ دفعہ 322 ناقابل ضمانت ہے اور اس دفعہ کے تحت سزا 10 سال سے عمر قید اور دیت ادائیگی کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس وقت دیت کی رقم فی کس 68 لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔ جو کسی بھی ملزم کو مقتول کے ورثا کو ادا کرنا ہوتی ہے۔) حالانکہ ابتدا میں پولیس کی جانب سے کافی کمزور مقدمہ بنایا گیا۔ جبکہ مقدمہ میں قتل خطا کی دفعہ 320، غفلت و لاپرواہی اور تیز رفتاری سے ٹکر مارنے کی دفعات شامل کی گئیں، جو قابل ضمانت دفعات تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس نے ملزمہ کو تھانے میں رکھ کر تفتیش کرنے کے بجائے اسے جناح اسپتال منتقل کردیا۔ جہاں اسے شعبہ نفسیات میں ایڈمٹ کرلیا گیا۔ جبکہ پولیس کی جانب سے ملزمہ سے کسی قسم کی کوئی تفتیش عمل میں نہیں لائی گئی۔ ملزمہ کو اگلے روز ریمانڈ کیلئے متعلقہ عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ تاہم ایسا نہیں کیا گیا اور ملزمہ کو پولیس و وکیل صفائی کی جانب سے نفسیاتی مریضہ قرار دے دیا گیا۔پھر یہ کہا گیا کہ ملزمہ کے پاس یو۔کے کا لائسنس موجود تھا، لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یوکے نے ذہنی مریضہ کو لائسنس کیسے دے دیا؟ خیر اگلے روز جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں سماعت کے دوران مقدمہ کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر ریحان احمد کی جانب سے ملزمہ نتاشا کی عدم پیشی سے متعلق رپورٹ اور جناح اسپتال کے شعبہ نفسیات کے انچارج ڈاکٹر چنی لعل کا ملزمہ سے متعلق میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرایا گیا جس میں کہا کہ ملزمہ ٹھیک ہے، متعلقہ عدالت میں بھی پیشی کے موقع پر پولیس نے ملزمہ کو پروٹوکول فراہم کیا۔ ملزمہ کو ہتھکڑی بھی نہیں پہنائی گئی تھی۔ جبکہ اسے خواتین و مرد اہلکاروں نے حصار میں لیکر عدالت میں پیش کیا تھا۔اس سماعت کے بعد عدالت نے ملزمہ نتاشا کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیاتھا۔جبکہ پولیس کو مقدمہ کی تفتیش مکمل کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ خیر میں ایک بار پھر کہوں گا کہ ہمارا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر ریاست کے یہ تماشے جس میں تمام سکیورٹی ادارے، معزز عدالتیں، وکلاءاور دیگر لوگ شامل ہیں کو دیکھ کر خون ضرور کھولتا ہے۔ اور دل چاہتا ہے کہ اب یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا، یہاں ریاست آپ کے تحفظ میں بری طرح ناکا م ہو چکی ہے۔ اور رہا دیت کا قانون تو یقین مانیں اسے کسی طرح ختم کردینا چاہیے، میں قانون دان تو نہیں ہوں اور نہ ہی مولوی ہوں کہ دیت کے بارے میں فتویٰ جاری کر سکوں، لیکن حالیہ واقعات نے اس قانون کو طاقتور لوگوں کے لیے سہل بنا دیا ہے، طاقتور جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اُس کے ذہن میں دیت کا قانون لازمی ہوتا ہے، تبھی وہ ارادتاََ ایسے قتل یا اقدام قتل کرتا ہے.... آپ ناظم جوکھیو کیس کو ہی دیکھ لیں، جس میں ناظم جوکھیو کو ممبران اسمبلی جام اویس اور جام عبدالکریم نے مبینہ طور پر قتل کیاتھا، مگر دیت کا قانون سامنے آیا اور معاملات لے دے کے ساتھ ختم ہوگئے اور ملزمان باعزت بری ہوگئے۔ پھر کوئٹہ میں مجید اچکزئی کیس کا تو سب کو علم ہوگا، اگر نہیں یا د تو میں بتاتا چلوں کہ20جون 2017کو موصوف نشے میں دھت گاڑی چلا رہے تھے، اسی اثنا میں ٹریفک پولیس انسپیکٹر عطا اللہ کو روند ڈالا، عبدالمجید اچکزئی اُس وقت بلوچستان کی اسمبلی کے رکن اور اس وقت پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے چیئرمین تھے ، مقدمہ چلا لیکن 4 ستمبر کو بلوچستان کی ماڈل کورٹ نے عبدالمجید خان اچکزئی کو عدم ثبوت پربری کر دیا۔یقین مانیں مجھے اُس وقت اتنی حیرت ہوئی اور بے اختیار ہنسی بھی آئی کہ کیا اب ہمارے ملک میں ایسا بھی ہوگا۔ قاتل اپنے کیے پر شرمندہ بھی نہیں ہوگا، معافی بھی نہیں مانگے گا، دیت کی رقم بھی نہیں دے،،، اور تب بھی وہ بری ہو جائے گا۔ پھر سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے کون واقف نہیں اُس کے بھی تمام ملزمان کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ پھر اسامہ ستی کیس میں بھی کسی ملزم کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی ۔ مطلب! جب یہ سب کچھ ”صلح صفائی“ سے ہی ختم ہونا ہے تو ریاست خود ہی ایک ایسا ادارہ بنا دے جس کا نام ”باہمی صلح صفائی اتھارٹی “ رکھ دے۔ جس میں ہر قتل کا ملزم، ہر کرپٹ ملزم پیش ہو اور لے دے کر صلح کا راستہ اختیار کر لیا جائے! ورنہ تو یقین مانیں جن طاقتوروں پر الزامات لگتے ہیں، ایسے لوگ تو ریاست کے ہی گلے پڑ جاتے ہیں۔ یعنی ریاست کو اُن کے تمام پروٹوکول کا خیال رکھنا پڑتا ہے، اُن کے اُٹھنے، بیٹھنے، سونے ، جاگنے کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ نہیں یقین؟ تو آپ خود دیکھ لیں کہ چند ماہ قبل جب اسی کیس میں یعنی شاہزیب قتل کیس میں شاہ رخ خان جتوئی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی تو اُس کے بعد ڈھائی سال تک ملزمان ایک نجی ہسپتال کو اپنا ”گھر“ بنا کر رہتے رہے اور لگژری لائف سٹائل کے ساتھ وہاں رہائش پذیر رہے۔ مطلب! یہ تو بالکل ایسے ہی ہوا جیسے بقول بہادر شاہ ظفر ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں بہرکیف سوال یہ ہے کہ کیا ریاست ایسے کیسز میں مدعی کو تحفظ فراہم کرتی ہے؟ یا وہ صلح کے لیے مظلوموں پر دباﺅ ہی ڈالنے کے لیے رہ گئی ہے۔ کیوں کہ ساری زندگی خوف اور تنہائی میں اندرون و بیرون ملک گزار نے اور بااثر جاگیر داروں، وڈیروں کے انتقام سے بچنے کے لیے ریاست کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔اس لیے میرے خیال میں سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں جینے کے طریقے دو ہیں طاقت، دولت اور اختیار کے زور پر اندھیر مچائے رکھو، قتل، ڈکیتی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کو شعار کرو یا پھر ان قاتلوں، اغواءبرائے تاوان کے مجرموں، وحشی درندوں اور عزتوں، عصمتوں کے لٹیروں سے تصفیہ کرلو، باقی سب کہنے کی باتیں ہیں۔