پی آئی اے: قومی اثاثے اب چند پلاٹس کی قیمت کے برابر!

سنا ہے ہمارے ملک میں ایک قومی ادارے پی آئی اے کی بولی لگائی گئی ہے، جس کا سب کو برسوں سے انتظار بھی تھا اور اُمید بھی تھی کہ سب اچھا ہو جائے گا، مگر ایک پراپرٹی ڈیلر نے اس کی قیمت دس ارب روپے لگا کر ہمیں شرمسار سا کر دیا ہے، قصور ڈیلر کا بھی نہیں ہے، کیونکہ جب کوئی گاہک ہوگا ہی نہیں تو کاہے کی بولی اور کاہے کا سودا! اور ویسے بھی جب ہم خریداری کرنے جاتے ہیں اور ہمیں دوکاندار کی مجبوری کا بھی علم ہوتو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ بالکل نچلی سطح کا ریٹ لگایا جائے تاکہ چاہتے ناچاہتے ہوئے بھی دوکاندار باعث مجبوری اپنا سودا بیچ دے۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ دوکاندار جو اپنی چیز کا بیڑہ غرق کرنے کا خود ذمہ دار ہے اُس کی قابلیت اور وژن کا اندازہ آپ گزشتہ ہفتے ہوئی ایک پاکستان چین کانفرنس میںایک افسوسناک واقعہ سے لگا لیں۔ ہوا کچھ یوں کہ سینیٹر مشاہد حسین کے قائم کردہ پاکستان چین انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام کانفرنس کے دوران چین کے یوم آزادی کے حوالے سے ’چین کے 75 سال‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں دیگر لوگوں کے علاوہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ اور ماہر معیشت ڈاکٹر عشرت حسین شریک تھے۔ اسحاق ڈار نے مہمان خصوصی کے طور پر تقریر کرتے ہوئے چین میں معاشی اصلاحات، ماحولیات کی بہتری کے لیے اقدامات، اور ڈیجیٹل ایجادات کی تعریف کی، مزید کچھ اور باتیں کیں اور ساتھ یہ بھی کہہ ڈالا کہ ”چینی صدر نے کہاتھا کہ ہمارے لوگ جس ملک میں مارے جائیں تو ہم اس ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری نہیں کرتے، لیکن پاکستان کو ہم نے درگزر کیا ہوا ہے،،،“ یعنی یہ بات ملک کا نائب وزیر اعظم کہہ رہا ہے کہ چینی صدر نے کہا ہوا ہے کہ جتنے مرضی بندے مروا دیں لیکن کام نہیں رکے گا، مطلب یہ کہ چینی ماہرین یا چینی شہری پاکستان میں قتل ہوتے رہیں چین کو اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ یہ بیان سننے کی دیر تھی تو وہاں بیٹھے حاظرین میں سے بہت سے سنجیدہ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ گئے،،، کہ ہمیں تو عادت پڑگئی ہے ، اپنے بندے مارنے اور مروانے کی مگر ہم سمجھتے ہیں کہ شاید دوسرے ممالک بھی اس قسم کی طبیعت کے مالک ہیں۔ پھر وہی ہو ا جس کا ڈر تھا، کہ اس پر چینی سفیر جو اپنی تقریر کر چکے تھے، وہ دوبارہ سٹیج پر آئے ،انہوں نے منتظمین سے مزید بات کرنے کی اجازت چاہی۔ اور ہمارے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو شٹ اپ کال دیتے ہوئے کہا کہ ’چین دنیا بھر میں چینی باشندوں کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کو لاحق خطرات سے پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے‘۔ انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ انہیں بہتر حفاظتی انتظامات کرنے چاہئیں۔ ’اگر سکیورٹی کے بارے میں اندیشے ختم نہ ہوئے تو ہم اپنے منصوبوں پر کام جاری نہیں رکھ سکیں گے۔یعنی انہوں نے خوب سنائیں اور کہا کہ وہ اپنے شہریوں کو ان اربوں ڈالر کے عوض قربان نہیں کریں گے،،، اور نہ ہی اپنے شہریوں کو پاک چین دوستی پر قربان کریں گے،،، وغیرہ ،، اب بندہ پوچھے کہ اگر آپ عقل سے پیدل نہیں ہیں تو کیا ضرورت ہے، ایسی باتیں کرنے کی۔ آپ کو تو شاید 80، 90ہزار بندے دہشت گردی میں مروا کر فرق نہیں پڑا مگر چین کو تو نہ اس میں گھسیٹیں۔ اُن کے شہری دہشت گردی میں ہلاک ہو رہے ہیں، تو اگر ہم افسوس نہیں کر سکتے تو کم از کم خاموش ہی رہیں۔ لیکن سو باتوں کی ایک بات جب ہمیں اپنے لوگوں کے قتل ہونے کا افسوس نہیں تو چینیوں کا کہاں ہوگا؟ پھر ہم نے چینیوں کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کررکھا ہے کہ ہر مرنے والے چینی کے خاندان کو لاکھوں ڈالر معاوضہ دیا جائے گا۔ یوں ڈالر ادا کر کے ہم خود کو اپنے فرض سے سبکدوش سمجھتے ہیں۔ دو تین بیانات ‘ چند دن کی خاموشی اور پھر دہشت گردی۔ خیر بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص اپنے خصوصی شعبہ میں ہی ناکام ہو چکا ہو، اسے وزارت خارجہ یا نائب وزیر اعظم جیسے عہدے جس کا قانون میں کوئی ذکر بھی نہیں ہے کا قلمدان سونپنا قومی المیہ سے کم نہیں ہے۔ اب آپ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے کی نجکاری کا عمل کس حکومت کے پاس ہے۔ خیر آگے بڑھنے سے پہلے پی آئی اے کے اثاثہ جات اور اس پر ایک نظر ڈالیں تو 60کی دہائی یعنی جب سے یہ قومی ائیر لائن بنی ہے، یہ پاکستان کی شایان شان رہی ہے۔ یہ پہلی ایشیائی فضائی کمپنی تھی جس نے لندن اور یورپ کے بعد امریکہ کیلئے بھی پروازیں براہ راست شروع کیں۔1964ءمیں چین کیلئے پہلا فضائی رابطہ قائم کرنیوالی پہلی غیر کمیونسٹ ایئر لائن پی آئی اے تھی۔ پی آئی اے کے عروج کے دنوں میں ایئر مارشل اصغر خان بھی اسکے سربراہ رہے جنہوں نے محض تین سال کے اندر اسکی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ایئر مارشل اصغر خان نے فضائی میزبانوں کا نیا یونیفارم ایک فرانسیسی ڈیزائنر سے تیار کروایا جسکے چرچے دنیا بھر میں تھے۔ تب پی آئی اے اپنے تمام شعبہ جات میں خود کفیل تھی۔ انجینئرنگ، ٹیکنیکل گراﺅنڈ سپورٹ، پیسنجر ہینڈلنگ، مارکیٹنگ، سیلز، فلائٹ آپریشن اور دیگر شعبہ جات کے علاوہ پروازوں میں کھانا فراہم کرنے کیلئے اپنا کچن رکھتی تھی۔ اسکے عروج کا یہ عالم تھا کہ دنیا کی بڑی ایئر لائنز کے پائلٹس کراچی میں پی آئی اے کی تربیت گاہ میں تربیت حاصل کرتے تھے۔ ایمریٹس ایئرلائن، سنگاپور ایئرلائن، جارڈینین ایئر لائن، اور مالٹا ایئر کے پائلٹس کو پی آئی اے نے تربیت دی۔1985 ءمیں ایمریٹس ایئر لائن کھڑی کرنے میں پی آئی اے نے اہم کردار ادا کیا۔عروج کے زمانے میں پی آئی اے اپنے طیارے غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو لیز پر دیا کرتی تھی۔اس کے علاوہ اتحاد ائیرلائنز کو بھی خاصی سپورٹ فراہم کی تھی۔ عروج کا یہ دور 1990ءتک جاری رہا، تاہم اس دہائی سے پی آئی اے کا زوال بھی شروع ہو گیا۔یعنی یہ جو لوگ اس کی نجکاری کر رہے ہیں، جیسے ہی ان کے ادوار شروع ہوئے تو پی آئے اے ڈاﺅن ہوتا چلا گیا، من پسند افراد کی سیاسی تقرریاں کرکے اس ائیر لائن کا بیڑہ غرق کرنے کی بنیاد رکھی اور رہی سہی کسر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نجی ایئر لائنوں کے مالکان کو پی آئی اے کا چیئرمین بناکر نکال دی گئی۔سیاسی طور پر بھرتی ہونے والے نااہل اور نالائق افراد نے پی آئی اے میں دھڑے بازی اور یونین سازی کو فروغ دیا۔جس کے بعد امریکا کی براہ راست فلائیٹ کو بند کر دیا گیا، حالانکہ وہ فل پیک فلائیٹ تھی، اور ایسی فلائیٹس کیسے گھاٹے میں ہو سکتی ہیں؟ اسی طرح یورپ سمیت ہر ملک میں پی آئی اے کی براہ راست فلائیٹس تھیں، لیکن وہ تمام روٹس بند کردیے گئے، یا کروا دیے گئے۔ ظاہر ہے اگر براہ راست فلائیٹ ہوگی تو کوئی مسافر کیوں کسی اور فلائیٹ سے جائے گا، اور آٹھ دس گھنٹے درمیان میں انتظار میں گزارے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ریلوے کا نظام سوچی سمجھی سازش کے تحت فلاپ کیا گیا۔ مثال کے طور پر فیصل آباد، گوجرانوالہ،گجرات، قصوروغیرہ سے لاہور کے لیے روزانہ 6بجے گاڑیاں نکلتی تھیں، اور آفس ٹائم سے پہلے لاہور پہنچ جاتی تھیں، لیکن انتظامیہ نے لوکل ٹرانسپورٹر حضرات سے پیسے لے کر گاڑیاں لیٹ کرنا شروع کیں، اور پھر آہستہ آہستہ بہت زیادہ لیٹ ہونا شروع ہوئیں۔تاکہ لوگ وقت پر آفس نہ پہنچ سکیں، جس سے ٹرانسپورٹ مافیا کی چاندی ہوگئی، یعنی سواریاں ٹرین سے نکل کر لوکل ٹرانسپورٹ میں آگئیں۔ اگر اس قومی ائیر لائن کے اثاثوں کی بات کریں تو ایک وقت تھا جب پی آئی اے اپنی آمدن سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اثاثے خرید رہی تھی،(جن میں نیویارک کا ہوٹل روز ویلٹ اور فرانس میں سکراب ہوٹل سرفہرست ہیں) اس کے علاوہ کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی پی آئی اے اپنے اثاثے رکھتی ہے ، یہ اثاثے اچھے وقت میں خریدے گئے ، جن کی آج مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔ لیکن آج اس کی حالت یہ کہ ماہانہ آمدن 7ارب روپے کے قریب اور ماہانہ خرچ 13ارب روپے ہے یعنی ماہانہ نقصان 6ارب روپے اور سالانہ نقصان کا تخمینہ 80ارب روپے سے زائد کا ہے۔ اب جبکہ اس کے حالات خراب ہیں تو ایوانوں میں بیٹھے طاقتور مافیا کی نظریں اس کے اثاثوں پر ہے، کبھی اس کے اثاثوں کی دستاویزات غائب کر دی جاتی ہیں تو کبھی اندر کھاتے اثاثوں کی نجکاری کر دی جاتی ہے یا اپنے بندوں کو نوازنے کے لیے”جوائنٹ وینچر“ کی باتیںکی جانے لگتی ہیں۔ لیکن میرے خیال میں ایئر لائن جو کہ اربوں روپے کے قیمتی اثاثے اندرون اور بیرون ملک رکھتی ہے کے پیچھے طاقتور مافیا سر گرم ہوگیاہے۔ اور خدشہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس بین الاقوامی مافیا کے ہاتھوں استعمال ہونے والی ہے۔ اور یہاں پر آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس قومی ائیر لائن کی بولی کے لیے کاغذات بنانے والی فرم کو دو ارب روپے دیے گئے ہیں۔ اورحکومت نے جس ملکی اثاثے کی بولی کی ابتدائی قیمت 85 ارب روپے لگائی‘ اس کو خریدنے والوں نے آخری قیمت 10 ارب روپے لگائی ہے۔ اس سے نہ صرف پی آئی اے کی نجکاری متاثر ہو گی بلکہ دیگر اداروں کی نجکاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ تاثر بڑھ سکتا ہے کہ حکومت سرمایہ کاری یا نجکاری کے لیے اپنے اثاثوں کی جو قیمت بتاتی ہے وہ درست نہیں۔ جب مقامی سرمایہ کار لگ بھگ پچاسی فیصد کم قیمت میں ملکی اثاثے خریدنے کی بات کریں گے تو بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد کیسے بحال ہو سکتا ہے؟ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب حکومت کو معلوم تھا کہ تمام کمپنیاں پیچھے ہٹ گئی ہیں اور صرف ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی بِڈنگ کر رہی ہے تو اسے موخر کیوں نہیں کیا گیا؟ شاید حکومت کو معلوم تھا کہ کتنی آفر ہونے جا رہی ہے‘ اسی لیے کوئی وزیر نجکاری کی تقریب میں شامل نہیں ہوا۔ بہرکیف اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ نجکاری کمیشن کے افسران سال سوا سال کی ”محنت “ کے بعد ایک خریدار ڈھونڈ لائے ہیں جو مقامی پراپرٹی ڈیلر ہے یا کہہ لیں کہ ہاﺅسنگ سوسائٹی کا مالک ہے۔مزے کی بات ہے کہ اس پراپرٹی ڈیلر نے پی آئی اے کی بولی دس ارب روپے لگائی ہے اور نجکاری کمیشن نے جو کنسلٹنٹ ہائر کیا تھا کہ پی آئی آے کی بولی کے کاغذات تیار کرے اور اسے اچھی قیمت پر بیچے اور ٹیکنکل مدد فراہم کرے ‘ اسے سوا دوارب روپے فیس دی گئی تھی۔اسلام آباد میں مذاق چل رہا ہے کہ اس پراپرٹی ڈیلر نے نجکاری کمیشن کو یہ بھی کہا تھا کہ کیا وہ دس ارب روپے کے بدلے اتنی مالیت کے پلاٹ لے کر قیمت ایڈجسٹ کر لیں گے؟ یوں پی آئی اے کو پلاٹوں میں ایڈجسٹ کیا جارہا تھا۔مطلب پاکستان میں کچھ بھی متوقع ہے؟،،، کل کلاں یہ کہیں گے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام گروی رکھ دیں اور ہم سے ایک دو کمرشل پلاٹ لیں لیکن اس پر صرف ہم افسوس ہی کر سکتے ہیں اور کچھ نہیں!