”سوشل میڈیا انتخابات“ حکومت روزانہ ہارجاتی ہے!

ایک دوست نے مزاحاََ تحریک انصاف اور موجودہ حکومت کے ادوار کے موازنے پر قصہ چھیڑ لیا،،، اور ساتھ ہی نعرے لگانے لگا کہ ڈھلوں صاحب نیپال تک انقلاب پہنچ چکا ہے ،،، مگر ادھر نہیں آنے والا،،، ! دوست کا تعلق چونکہ ن لیگ سے ہے،،، بلکہ اُن کا پورا خاندان ہی ن لیگ سے تعلق رکھتا ہے،،، تو ایسے شخص کے سامنے کسی بھی قسم کے دلائل بے کار ہوتے ہیں،،، بلکہ ایسے دوست آج کل ’شیر‘ بنے ہوئے ہیں۔ ویسے میں دوستوں سے سیاست پر گفتگو کم ہی کرتا ہوں مگر میرے ایک سوال پر خاموش ہوگیا،،، سوال یہ تھا کہ جب موجودہ حکومت اچھے کام کر رہی ہے،،، تو ان کاموں کی عوام میں پذیرائی کیوں نہیں ہورہی؟ کیوں سارا سوشل میڈیا آج بھی آپ کے خلاف ہے،،، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ آپ ابھی اسی وقت سوشل میڈیا پر ”پول“ کروا لیں،،، ایک طرف آپ تحریک انصاف کا ادنیٰ سا لیڈر رکھیں اور دوسری طرف موجودہ حکومت میں سے کسی ایک جماعت کا ڈیسنٹ ترین سیاستدان رکھ لیں،،، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ لوگ کس کو پسند کر تے ہیں۔۔۔ حتیٰ کہ آپ پی ٹی آئی دور اور موجودہ دور کا موازنہ کروالیں،،، آپ کو لگ سمجھ جائے گی۔ اس بات کا جواب تو واقعی اُس کے پاس نہیں تھا،،، مگر میں بھی خاموش ہوگیااور سوچا کہ ایسا کیوں ہے؟ خیر اس کا جواب تو سب کو ہی معلوم ہے اور سب لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس وقت فیصلہ کرنے والوں کا پورے ملک پرکنٹرول ہے، پارلیمنٹ بھی ان کے ہاتھ میں ہے، 2تہائی اکثریت بھی ان کے پاس ہے، 26ویں ترمیم کے بعد عدلیہ بھی ان کے ہاتھ میں ہے، میڈیا پر بھی ان کا مکمل کنٹرول ہے، اخبارات بھی ان کے کنٹرول میں، جو چاہتے ہیں خبر شائع ہوتی ہے، جو خبر چاہتے ہیں روک دی جاتی ہے۔ سیاستدان بھی ان کے مکمل کنٹرول میں ہیں، ہر ادارے کے سربراہان ان کے اپنے ہیں، ،، عمران خان کی رہائی کی تحریک بھی کچل دی گئی ، تحریک انصاف کے 90فیصد قائدین ان کے اپنے پاس آگئے،،، اور پھر ایکسٹینشن کا بھی کسی کو کوئی رولا نہیں ہے،،، وہ توجب 26ویں آئینی ترمیم ہوئی،،، اُس میں چیفس کے دور کو 3سال سے 5سال تک ویسے ہی بڑھا دیا گیا تھا،،،اس لیے یہ جو Tenureوالی لڑائی ہے، یہ تو بنتی ہی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی سیاستدان جیسے نواز شریف جن کی ہر جرنیل کے ساتھ ان بن رہی ہے، ،، یعنی جہانگیر کرامت، جنرل مشرف، جنرل باجوہ وغیرہ کے ساتھ سب کے علم میں ہے کہ ان کی مخالفت کے چرچے رہے ہیں،،، تو وہ بھی یہاں کچھ نہیں کر سکتے،،، کیوں کہ ن لیگ کبھی بم کو لات نہیں مارے گی،،، اور ایسا کرنے سے اُن کی پارٹی کے اندر ہی اتنے اختلافات بڑھ جائیں گے کہ اُن کے ہاتھ سے اقتدار کا ہمہ بھی جا سکتا ہے۔ حالانکہ بادی النظر میں اس وقت نواز شریف کی حد تک مقتدرہ اور موصوف کے پیجز الگ الگ ہیں،،، جس کی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اُن کے کنٹرول میں رہیں جبکہ قائد مسلم لیگ ن کہتے ہیں کہ جتنے اختیارات دے چکے ، اُتنے کافی ہیں،،، لیکن مقتدرہ کو چونکہ”ناں“ سننے کی عادت نہیں ہے،اُن کی تربیت میں ہی یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ اُن کے ماتحت افسران صرف ”یس سر“ کہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان کے اختلافات وجود رکھتے ہوں ،،، اور اس بات میں بھی کسی حد تک سچائی ہو سکتی ہے کہ موصوف کو باہر جانے سے بھی روکا جا رہا ہے،،، جس کی وجہ سے اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں،،، اور پھریہ بات بھی درست ہے کہ نواز شریف کی طبیعت میں ”بغاوت“ کا عنصر پایا جاتا ہے،،،جیسا کہ میں نے کہا کہ اُن کی آج تک کسی جرنیل سے نہیں بن پائی،،، اور اندر کی خبر یہ بھی ہے کہ نواز شریف کو ان سے اختلافات بھی یہی ہیں کہ اس وقت دو درجن سے زائد محکموں کے ڈائریکٹر، چیئرمین وغیرہ تو ان کے لگے ہوئے ہیں ،،، یعنی ہر محکمے میں جہاں بھی جائیں ایک ریٹائرڈ افسربیٹھا ہوا ہے،،، اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ وہ یا اُن کی پارٹی مقتدرہ کو کتنا ”ان“ کریں؟ اسی لیے اختلافات کا عنصر بھی پایا جا رہا ہے،،،، اور اسی باعث اگر اقتدار ان کے ہاتھ میں نہیں رہتا ،،، تو پھر تھرڈ پارٹی (تحریک انصاف ) ہی آپشن بچتا ہے،،، اس لیے یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ ایک پیج سے آگے پیچھے ہوں۔ لیکن مسئلہ یہاں پر آجاتا ہے، کہ اصل حکمران یا حکومت جو بھی اچھا کام کرتے ہیں، شام تک وہ سوشل میڈیا پر اس برے انداز میں پٹ جاتا ہے، کہ ان کی راتوں کی نیندیں اُڑی رہتی ہیں،،، حالانکہ بھارت کے ساتھ جنگ میں پاکستانی ہوائی افواج کی بہادری کے چرچوں کا ذکر عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے،،، جس سے پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ہے،،، پھر امریکا میں پاکستانی فوج کے چرچے عام ہیں،،، اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت پاکستان امریکا کی آنکھ کا تارہ بنا ہوا ہے تو اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے،، پھر پاکستان کے چین کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں،،، پھر سعودیہ، عرب امارات ، روس الغرض تمام بڑے ممالک کے ساتھ اس وقت پاکستان کے مثالی تعلقات قائم ہیں ،،، لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ یہ سب کچھ عوام کی نظر میں زیرو ہے،،، اگر عوام کی نظر میں زیرو ہے تو پھر آپ چاہے سونے کے بن کے آجائیں ،،، آپ صفر ہی رہیں گے،،، اور اندر ہی اندر ان فیصلہ کرنے والوں کو صرف ایک یہی پریشانی لاحق ہے، کہ وہ کوئی بھی اچھا کام کیوں نہ کر لیں مگر دن ڈھلنے تک اُس کا سارا اثر اُس کی مخالفت میں نکل جاتا ہے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ حکومت اس کا توڑ نکالنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی،،، بلکہ انہوں نے چین سے فائر وال بھی منگوا کر دیکھ لی، وی لاگرز، یوٹیوبر اور صحافیوں کو سزائیں بھی دے کر دیکھ لیں،،، اُنہیں جیلوں میں بند کر کے بھی دیکھ لیا،ظلم کر کے دیکھ لیا، سوشل میڈیا پر جزوی پابندیاں بھی لگا کر دیکھ لیں ، مگر مجال ہے کہ ان کا زور ٹوٹا ہو،،، نیپال میں جو ہوا ، وہ سوشل میڈیا پر پابندی کا شاخسانہ ہے،،، نیپال میں خوفناک مظاہروں کی اصل وجہ یہ نہیں کہ انہوں نے وہاں سوشل میڈیا کو بند کیا تھا،،، بلکہ اصل وجہ وہاں کے عوام کو کسی خاطر میں نہ لانا تھا،،، آپ خود دیکھیں کہ عوام اور حکومت کے درمیان لڑائی شروع کیسے ہوئی،،، یعنی کچھ دن پہلے ایک وزیرکی گاڑی نے نوجوان لڑکی کو ٹکر ماری تھی جس پر وزیراعظم نے بیان دیا کہ یہ کوئی اتنا سنجیدہ معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ کوئی سیاسی کھیل ہو سکتاہے ، ان کا رد عمل نوجوانوں کو ٹچ کر گیا کہ لڑکی آئی سی یو میں زیر علاج ہے مگر ملک کا سربراہ کیسے بیان دے رہاہے، نوجوانوں نے احتجاج کا اعلان کر دیا، انہی دنوں میں سوشل میڈیا پر پابندی بھی لگ گئی ،،، جس کے بعد نیپالی سیاستدانوں کا عوام نے جو حال کیا ،،، کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا رہ گیا ہے؟ جبکہ اس کے بدلے میں ہم تو بہت زیادہ شریف قوم ہیں،،، ہم تو ان حکمرانوں کو ان کی پابندیوں کے باوجود انہیں کچھ کہہ ہی نہیں رہے۔۔۔ نہ کہیں احتجاج ہو رہا ہے،،، نہ کہیں کوئی پارلیمنٹ کی طرف بھاگ رہا ہے،،، نہ کوئی سیاستدانوں کو کچھ کہہ رہا ہے،،، لیکن اگر کہیں بھڑاس نکالی جا رہی ہے تو وہ ہے سوشل میڈیا پر۔وہاں پر 80سے 90فیصد عوام روزانہ ان کے اچھے سے اچھے کام کو بھی اس انداز میں نظر انداز کر رہی ہے کہ یہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے،،، جبکہ کہیں اگر کوئی بلنڈر ہو جائے تو پھر ویسے ہی ان کی جان چھڑانی مشکل ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ تحریک انصاف کے اپنے لوگ بھی اگر اپنے لیڈران کے ساتھ غداری کرتے ہیں تو خواہ اُن کی پارٹی کے لیے جتنی بھی قربانیاں ہوں،،، اُس کے لیے رات تک اپنے گھر واپس جانے میں بھی مسئلہ ہوتا ہے،،، وہ کئی دن تک منہ نہیں دکھاتا کہ اُس کی پارٹی کارکن اور عوام اُسے کن الفاظ میں یاد رکھیں گے! حالانکہ اب تو تحریک انصاف میں اتنی بھی سکت نہیں رہی کہ وہ اپنی تحریک کو آگے لے کر چلے،،، یا اپنے کارکنان کی رہائی کی تحریک ہی چلا لیں،،، جو ظلم کا شکار ہوئے وہ بھی خاموش ہیں،،، کئی سیاستدان اختلاف کر سکتے ہیں،،، مگر وہ بھی مصلحتاََ خاموش ہیں۔۔۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ نیپال جیسی صورتحال سے جتنا ہو سکے بچا جائے،،، انڈا گردی،،، سیاہی گردی،،، یا جوتا گردی جیسی سیاست اب پرانی ہو چکی ہے،،، بلکہ اب تو ن لیگی اراکین بھی اس قسم کی حرکات کی شدید الفاظ میں مذمت کرنے لگے ہیں،،، شاید وہ اس لیے بھی کر رہے ہیں کہ کل کو اُن کی باری بھی آسکتی ہے،،، یا شاید اس لیے کہ وہ سیاست کو سیاست سمجھ رہے ہیں،،، ا س لیے خدارا ہوش کے ناخن لیں ،،، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے،،، کیوں کہ یہ جو سیاسی قیدی ہیں، یہ آج کے قیدی اور کل کے ہیرو ہیں، انہیں نیلسن منڈیلا نہ بنائیں، انہیں رہا کریں،،، ملک کا ایک اچھا سیاسی امیج بھی دنیا کو دکھائیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہارے ہوئے لوگ ہیں،،، چلیں آپ لوگوں کو چھوڑیں اپنے ضمیر کو کیسے مطمئن کریں گے کہ آپ کا بیانیہ عوام میں مکمل طور پر پٹ چکا ہے،،، اور وہ کسی طرح بھی آپ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں!