ہمیں کب صحیح الیکشن ملیں گے؟

ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ملک اور اُن کے عوام آج کہاں کھڑے ہیں اور ہم کد ھر اور ہماری حیثیت کیا؟ اس پر بات کرنا کہیں بغاوت ہے، کہیں غداری، کہیں توہینِ ریاست، کہیں دہشت گردی۔ جسے ثبوت چاہیے ہوں وہ پچھلے 2، 3سال کے دوران سیاسی کارکنوں کے خلاف درج ہونے والی ہزاروں ایف آئی آرزمیں یہ من گھڑت الزامات اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔اور پھر شاید ایسی ریاستوں میں بغاوت ہی جنم لیا کرتی ہے، اور خاص طور پر پاکستان جیسی ریاستوں میں جہاں ہر طاقتور کی اپنی الگ عدالت ہے، وہ جہاں چاہتا ہے، لگا لیتا ہے۔ اس کی تازہ مثال آپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز دیکھ لیں، جس میں ایک بہن اپنے بھائی پر ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے بھیک مانگ رہی ہے، مگر طاقتور شخص اس پر تشدد کروارہا ہے۔ یہ وطن عزیز کی ایک چھوٹی سی مثال ہے،،، یقین مانیں ایسے سینکڑوں واقعات روزانہ میرے پیارے ملک میں ہو رہے ہیں،،، ہوں بھی کیوں نہ جب ریاست ہی منہ زور ہو جائے، کہیں قانون نہ ہو، کہیں قانون پر عمل درآمد نہ ہو۔۔۔ تو ایسے میں ہر شخص اپنے آپ میں ہی فرعون بن جاتا ہے۔ خیر آج کا ہمارا موضوع گزشتہ روز سمبڑیال ضلع سیالکوٹ (حلقہ پی پی 52) میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے حوالے سے ہے جہاں ن لیگ نے میدان مار لیا۔ مگر اس دوران ایسا شور شرابہ ایسا شور شرابہ کہ خدا کی پناہ۔ الیکشن کے دن ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ الیکشن خدانخواستہ 2، 4لوگوں کی جانیں لے کر خونخوار ہونے والا ہے۔ مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ ایسا کچھ نہ ہوا۔کارکنوں میں جھگڑے بھی ہوئے، کہیں کہیں ہوائی فائرنگ کے بارے میں بھی اطلاعات آتی رہیں لیکن، کہیں کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ بلکہ حکمران جماعت نے اس حلقے میں پرتشدد ہونے کے حوالے سے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، پورے صوبے کی سرکاری مشینری حلقہ پی پی 52میں سرگرم تھی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے صدارتی انتخابات یا وزیر اعلیٰ کا انتخاب اسی حلقہ سے ہونے والا ہے۔ خیر جیت جیسے بھی ہوئی ، ن لیگی امیدوار حنا ارشد کامیاب ٹھہریں، اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار فاخرنشاط گھمن دوسرے نمبر پر رہے۔کہنے کو تو یہ ایک چھوٹا سا انتخاب تھا، مگر ہر طرف سے دھاندلی کے شور سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اب ہمارا کل مستقبل ہی یہی ہے۔ اس ضمن میں سوویت یونین کے آنجہانی مردِ آہن جوزف سٹالن کے لافانی الفاظ یاد رہیں کہ اہمیت ووٹ ڈالنے والوں کی نہیں بلکہ ووٹ گننے والوں کی ہوتی ہے۔ یعنی جو کچھ 8فروری کے الیکشن میں ہوا، یقینا وہی کچھ گزشتہ روز کے ضمنی انتخاب میں ہوا ہوگا۔ اور سوال یہ ہے کہ اب کبھی بھی آئندہ الیکشن ہوگا تو یہی کچھ سننے، دیکھنے اور محسوس کرنے کو ملے گا؟ ویسے تو موجودہ حکمران کہتے نہیں تھکتے کہ وہ پاکستان کے مضبوط ترین حکمران ہیں ، تو کیا وہ ان اداروں کو ٹھیک نہیں کر سکتے؟ کیا وہ ایسا مثالی الیکشن کمیشن نہیں بناسکتے جو پاکستان میں حقیقی تبدیلی کا باعث بنے۔ لیکن فی الحال تو حالیہ الیکشن کمیشن پر اتنے سوالیہ نشان لگ چکے ہیںکہ حالیہ سیٹ پر ہونے والے الیکشن میں حکمران جماعت کی بڑی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی بھی بلبلا اُٹھی، بلکہ تیسرے چوتھے نمبر پر آنے والی جماعتیں بھی دھاندلی کا شور ڈال رہی ہیں۔ چلیں مان لیا کہ تحریک انصاف نے ہارنے پر شور مچانا ہی تھا، مگر کیا پیپلز پارٹی کے شکوے بھی بلاجواز ہیں؟ آپ یقین مانیں کہ وہاں اس حلقے میں ایک دوست سے میری بات ہوئی تو اُس نے کہا کہ پوری سرکاری مشینری ملوث ہے، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ یہ پھر بھی نہیں جیت سکتے! شرط یہ ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کروا دیں۔ یہ آج بھی شفاف الیکشن کروادیں گے تو آپ کو 1970ء کے عام انتخابات جیسے لگیں گے جن میں پنجاب کے تمام بڑے نام اور بڑے برج گرتے جا رہے تھے اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایسے ایسے لوگ کامیاب ہو رہے تھے جن کا نام کسی نے نہیں سنا تھا۔ پنجاب میں پی پی پی بھاری اکثریت سے جیتی اور لاہور شہر میں تو پی پی پی کی تلوار نے سب کا صفایا کر دیا تھا۔ جیسے لاوا پھٹتا ہے اس انتخاب میں ایسا ہوا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر یہ آج بھی سب کچھ عوام پر چھوڑ دیں تو ان کا انجام 1970ءسے بھی برا ہوگا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ایسا الیکشن اگلے کئی سالوں تک نہیں کروانا،،، یہ بھی لکھ لیں۔۔۔ میں نے سوچا کہ اگر ایسی ہی بات ہے ، ،، جب آپ نے رزلٹ ہی اپنی مرضی کا سنوانا ہے، تو سرکار کے خرچ پر الیکشن کروانے کی کیا ضرورت ہے،،، صرف حکومتی اُمیدوار کے نام کا اعلان کردیں اور اُسے سیٹ دے دیں۔ تاکہ حکومت کے اخراجات تو بچ جائیں۔ اور پھر یہ نہیں ہے کہ صرف اس دور میں الیکشن کمیشن کمزور ہے، بلکہ یہ ہر دور کی لعنت ہمارے حصے میں پڑی ہوئی ہے۔ 1977ءسے لے کر آج تک سبھی الیکشن کو دیکھ لیں،،، آپ کو ہر الیکشن میں پہلے سے زیادہ دھاندلی کی آوازیں سننے کو ملیں گی۔ 1977ءکے الیکشن میں بھٹو نے دھاندلی کروائی تھی، 1988ءکے الیکشن میں جنرل حمید گل نے خود اعتراف کیا تھا کہ ہم نے 20سیٹوں پر دھاندلی کی تھی، تاکہ جیتنے والوں کو 51فیصد اکثریت نہ مل سکے۔ بلکہ آپ کسی بھی الیکشن کو شفاف نہیں کہہ سکتے، تو ایسی صورتحال میں آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ملک ترقی کرے گا۔ یہ ایک آزمائی ہوئی بات ہے کہ جس ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہوں گے، وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکے گا؟ آپ بھارت کو دیکھ لیں، خواہ وہ ہم سے شکست کھا گیا، مگر وہ اس وقت بھی دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے، اُس کا الیکشن کمیشن بھی دنیا کا بہترین الیکشن کمیشن ہے، وہاں دھاندلی کا کبھی شور شرابہ نہیں کیا گیا۔ آپ امریکا کو دیکھ لیں، اس وقت وہ دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ ٹیرف سیٹ کر رہا ہے،،، مطلب اُس کی معاشی پاور دنیا کے رولز اینڈریگولیشن سیٹ کرتی ہے،،، تو اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہاں کبھی عام انتخابات پر دھاندلی کی ضربیں نہیں لگیں۔ الغرض مغربی ممالک کے انتخابات ہمیشہ کلیئر ہوتے ہیں،،، لیکن اس کے برعکس یہاں کم سیٹوں والی ”اقلیتی“ پارٹی حکومت کرتی ہے، اور زیادہ سیٹوں والی پارٹی جیلوں میں ہوتی ہے۔ اور پھر جس ملک میں اقلیت کی حکومت ہوگی وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ جس ملک میں اکثریت پارٹی اداروں کے زیر اعتاب آئی ہوگی وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ جمہوری عمل کے ساتھ جس ملک میں بھی چھیڑ چھاڑ ہوئی وہ ملک آگے کی بجائے پیچھے چلنے لگا۔ اور پھر حالیہ انتخاب نے تو ان دو تین سال میں ملک کے 65فیصد عوام یعنی نوجوانوں کو سخت مایوس کر دیا ہے، اُنہیں اتنا باغی کر دیا ہے، کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی آج ملک سے بھاگ رہا ہے۔ حالانکہ یہی بچے تو اصل میں امیدِ پاکستان ہیں، جن کے پاس پچھلی نسلوں سے ماورا صلاحیت، زیادہ اہلیت اور وقت، تینوں بڑھ چڑھ کر ہیں۔لیکن ھل من مزید اور کثرت کی ہوس رکھنے والوں کے سارے خواب انہی نوجوانوں نے بکھیر ڈالے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ یہ ساری ایکسرسائز صرف ووٹ کو عزت دینے کے لیے کی گئی ہے یا ووٹر کو بھی؟ فرض کریں کہ کوئی پی ٹی آئی سے تمام سیٹیں چھین لے۔ کیا اس کے ذریعے ملک میں سیاسی استحکام آسکتا ہے۔ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ سب کہتے ہیں میں سیاسی استحکام لاﺅں گا، لیکن جن 25کروڑ لوگوں کو سیاسی استحکام چاہیے، ان کا فیصلہ کیوں مسترد کیا جا رہا ہے۔ ایک اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ مانگے تانگے، چھینے جھپٹے، لوٹے اور ڈرائے ہوئے لوگ، کیا قوم کو لیڈ کرنے کے قابل ہوتے ہیں؟ وہ بھی بدترین بحران میں؟کبھی نہیں ! ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہمیشہ پہاڑی علاقوں میں جو بس سب سے جلدی لڑھکتی ہے، اسے 1984ءماڈل پرانے بیڈ فورڈ ٹرک کے چیسیز پر بنایا جاتا ہے جس کے ماتھے پہ ماڈل 2024ءلکھا ہوتا ہے۔ مستری جانتا ہے، بنانے والی کمپنی جانتی ہے، ڈرائیور کو چھوڑیں،انگریزی کا کنڈیکٹر‘ جسے اچھی اُردو میں سہولت کار کہتے ہیں، اسے بھی سب پتا ہوتا ہے کہ اس بس میں کچھ نیا نہیں،جس کے پائیدان پہ جلی لفظوں میں یہ نوٹس لکھتے ہیں: ”چلنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے‘ شاید یہ تیری زندگی کا آخری سفر ہو۔“ اور پھر اللہ نہ کرے ”سفر آخرت“ ہو بھی جایا کرتا ہے،،، اس لیے فیصلہ کرنے والوں کو پھر ہوش کے ناخن لینے چاہیے، اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے سب کچھ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے،،، ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔ اور جب کچھ نہیں بچتا تو پھر ملک سفر کرتاہے،،، ہم پہلے ہی دنیا سے کم از کم 40سال پیچھے ہیں تو کیا ایسے فیصلے کرنے سے ہم مزید پیچھے نہیں رہ جائیں گے؟ بہرکیف افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ یہ دھرتی انقلاب کی دھرتی نہیں‘ ہم لوگوں کا مزاج اور ہے۔ جسے ہم آزادی کہتے ہیں وہ بھی انقلاب کے ذریعے حاصل نہیں ہوئی تھی۔ گفت وشنید چلتی رہی تھی‘ پریس کانفرنسیں منعقد کی جاتی تھیں‘ قراردادیں پڑھی جاتی تھیں۔ انگریز سامراج سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوتی تھی اور آخرکار برطانوی پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے ہندوستان کو آزادی ملی اور پاکستان ایک علیحدہ ملک کی حیثیت سے معرضِ وجود میں آیا۔اس لیے انقلاب کی اُمید نہ رکھیں ،،، اور ویسے بھی جو قومیں انقلاب لاتی ہیں وہ کبھی دوسرے ملکوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتیں،،، اور جو طاقتیں ملکوں سے پیسے مانگ کر لاتی ہیں، اُن کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ آخر کار یہ کام اُن کا نہیں ہے، لیکن پھر بھی کرنا پڑرہا ہے تو کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ صحیح قیادت اس ملک کو آج تک نصیب نہ ہوسکی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جنہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے لایا جاتا ہے، وہ پراعتماد کیوں نہیں ہوتے؟ وہ اس شرمندگی سے ہی باہر نہیں آتے، کہ اُنہیں لایا گیا ہے تو وہ کیسے ملک کے بارے میں سوچیں گے؟ اس لیے ملک کو شفاف الیکشن دیں، پھردیکھیں کہ یہ ملک کیسے مسائل کی دلدل سے نکلتا ہے!