9مئی: پاکستان سزاﺅں کا ”جمعہ بازار“!

جب سے ہوش سنبھالا ہے، ہم نے یہی دیکھا ہے کہ ہر حکومت کو ایک بار عروج ضرور نصیب ہوتا ہے،،، شاید ”اغلے“ آغاز میں بھرپور موقع دیتے ہیں کہ کھل کر کھیلو۔۔۔ لیکن جب ”کھیل“ غلط راستے یا منشا سے ہٹ کر کسی اور طرف نکل جاتا ہے ،،، یا حکومتی جماعت کے قائدین آزادانہ اُڑان بھرنے لگتے ہیںاور یا ان کا ”ہنی مون “ پیریڈ جیسے ہی ختم ہونے لگتا ہے تو اُن کی لگامیں کھینچ لی جاتی ہیں،،، اور ”اختیارات“ محدود کر دیے جاتے ہیں،،، ہر کام جائز و ناجائز کام کے آگے رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں،،،اور موصوفان کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کے اختیار میں یہ کام ہے،،، یہ نہیں ہے،،،، یہ بالکل ایسے ہی بن جاتا ہے جیسے فیصل آباد کا گھنٹہ گھر ہو،،، کہ جہاں ہر بازار کا مرکز ایک ہی ہے،،، یعنی آپ جس بازار میں داخل ہو جائیں آپ کا راستہ گھنٹہ گھر ہی جاکر نکلے گا۔ اور ان سیاستدانوں کا ”مرکز“ کونسا ہے،،، وہ مجھ سے زیادہ آپ بخوبی جانتے ہیں! لہٰذااس وقت شہباز شریف کی حکومت کا ہنی مون پیریڈبھی عروج پر ہے۔امریکا سے صدائیں، بلائیں لی جا رہی ہیں،،، ہمارے ”اکابرین “صدر ٹرمپ کی آنکھ کا تارہ بنے ہوئے ہیں،،، انڈیا والے ایک نظر ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ایک نظر ٹرمپ کو کہ یہ وہی ٹرمپ ہے جس کی الیکشن مہم میں مودی جی نے حصہ لیا تھا۔۔۔ لیکن بھارت شاید بھول گیا کہ ٹرمپ کاروباری شخصیت ہے،،، اُسے احساسات و جذبات سے کوئی سروکار نہیں،،، وہ Give and Takeوالی پالیسی پر یقین رکھتا ہے،،، خیر بات ہورہی تھی شہباز حکومت کے ہنی مون پیریڈ کی تو جناب یہ اسی پیریڈ کا حصہ ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالتوں نے تحریک انصاف کے لیڈروں کو دھڑا دھڑ سزائیں دے کر پارٹی کی تقریباً ساری اعلیٰ قیادت کو نا اہلی کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کی تاریخ (پانچ اگست) جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، بظاہر ویسے ویسے پاکستان تحریک انصاف کو دھچکے ملنے کا عمل تیز تر ہوتا نظر آ رہا ہے۔جیسے گزشتہ روز فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماو¿ں سمیت 108 کارکنوں کو قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔یہ فیصلہ نو مئی 2023 کو فیصل آباد میں واقع ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے کیس میں سنایا گیا ہے جس میں 185 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 108 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں دی گئیں۔ اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں سے سامنے آنے والے فیصلوں میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد احمد خان بچھر،رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور سابق وزرا یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر مرکزی رہنماو¿ں کو سزائیں سنائی گئی تھیں۔ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماو¿ں خالد قیوم، ریاض حسین، علی حسن اور افضال عظیم پاہٹ بھی دس، دس برس قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہیں۔ اور پھر اب یہ بات تو عیاں ہو چکی ہے کہ ”سرکار “ تحریک انصاف کو عوام ، پارلیمان اور ہر جگہ سے کمزور کرنا چاہ رہی ہے،،، تبھی حالیہ دنوں میں عدالتوں سے 14 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو سزائیں سنائی گئی ہیں جس کے بعد انھیں الیکشن کمیشن کی جانب سے یا تو نااہل قرار دیا چکا ہے یا یہ پراسیس شروع کر دیا گیا ہے۔یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنے دانت تیز کیے بیٹھا ہے،،، کہ جیسے ہی فیصلہ آتا ہے،،، ویسے ہی نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جاتا ہے،،، بالکل ایسے ہی جیسے پنجاب اسمبلی میں بچھر صاحب کی قائد حزب اختلاف کی خالی سیٹ کا فوری نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے،،، شاید یہ صاحب ”میڈم“ کو پسند نہیں تھے،،، ورنہ اتنے سخت ایکشن کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔۔۔ خیر سانوں کی.... ویسے کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے،،، جیسے سوشل میڈیا پر چلنے والی ”فیک نیوز“ بالکل درست ہیں،،، کیوں کہ حالات ان کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں،،، لیکن پھر ذہن جھٹک دیتا ہوں کہ نہیں،،، ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا! کیوں کہ سرکار میں بیٹھی شخصیات بہرحال اپنا کوئی تو معیار رکھتی ہیں،،، بہرحال بات ہو رہی تھی 9مئی کے حوالے سے کہ تحریک انصاف کے متعدد قائدین بلکہ 70فیصد قائدین کو اب تک سز اسنائی جا چکی ہے،،، 15فیصد ”ایمان“ لے آئے ہیں،، اس لیے وہ بے قصور قرار دیے جا چکے ہیں،،، جبکہ باقی ماندہ دیگر شہروں کی عدالتوں سے ابھی فیصلے آنا باقی ہیں،،، بلکہ بانی تحریک انصاف کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ اُنہیں بھی 9مئی کے مجرمان کی فہرست میں شامل کر کے آج کل میں ہی سزا سنا دی جائے گی۔۔۔ جس کے بعد بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ ہنی مون پیریڈ والی حکومت اس وقت پھولے نہیں سماں رہی،،، لیکن پھر وہی بات کی بات کہ ہنی مون کے بعد کی زندگی ہی ”اصل“ زندگی ہوتی ہے،،، اس لیے ریاستی عہدیداروں کو اُس زندگی کی فکر کرنی چاہیے،،، کہ اُس زندگی میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے،،،ویسے تو تحریک انصاف کی حکومت کا ہنی مون پیریڈ بھی بہت اچھا تھا،،، ہمیں کہا جاتا تھا کہ ”مثبت خبریں“ دیں تاکہ حکومت کو رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔ لیکن اغلوں کا موڈ کب تبدیل ہو جائے یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔۔۔ اس لیے ن لیگ و پیپلزپارٹی کے قائدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان سیاسی لوگوں نے ہمیشہ رہنا ہے،،، ان کے ساتھ اُتنا ظلم کریں جتنا کل کو یہ برداشت کر لیں۔۔۔ آج یہ لوگ بلکہ عطا تارڑ جیسے ترجمان ان سیاسی لوگوں کی سزاﺅں پر جتنے خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں،،، انہیں شاید علم ہی نہیں کہ سیاسی سزاﺅں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،،، جیسے ہی رجیم چینج ہوتا ہے،،، عام معافی کا اعلان کر دیا جاتا ہے،،، آپ اس کی مثال بنگلہ دیش کو دیکھ لیں کہ پھانسی کے مجرمان کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کر کے مخالفین کی پکڑ دھکڑ کی گئی اور اب وہاں حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد سب کچھ اُلٹ چل رہا ہے۔۔۔ لہٰذامیں ایک بار پھر کہوں گا کہ ریاست ان تمام مجرمان و ملزمان کے لیے عام معافی کا اعلان کرے ،،، اور مسائل کو سمیٹے،،، تاکہ ملک آگے بڑھ سکے،،،، اب اگر کوئی اس ملک میں پرامن احتجاج نہیں کر سکتا تو بتائے وہ اپنا احتجاج کہاں ریکارڈ کروائے،،، بلکہ بادی النظر میں تو حکومت کے پاس یہ موقع آچکا ہے کہ جب اُنہیں کرپشن کے کیسز نہیں ملے تو وہ احتجاج کو بنیاد بنا کر سزائیں دے دہی ہے،،، جیسے 9مئی کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی انسداد دِہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں سابق صدر عارف علوی، وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور سلمان اکرم راجہ سمیت پی ٹی آئی کے 50 رہنماو¿ں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔اب بندہ پوچھے کہ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا یہ ریاست کا جبر نہیں ہے؟ اور ان اقدامات کا مقصد حکومت کو پارلیمان میں اپوزیشن سے بچا کر مزید مضبوط بنانا نہیں ہے؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ پی ٹی آئی سے زیادہ جمہوریت کو سزا دی جا رہی ہے اور اس عمل کے ذریعے ٹوٹی پھوٹی جمہوریت ڈی ریل ہو جائے گی۔ جہاں اپوزیشن نہیں ہو گی تو وہاں کیا سیاست ہو گی اور کیا جمہوریت ہو گی۔کیا فیصلہ کرنے والوں کو نہیں لگ رہا کہ پارلیمنٹ کا توازن بگڑتا جا رہا ہے اور ملک اس وقت ایک پارٹی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا بظاہر مقصد مرضی کی قانون سازی کرنا اور عوامی امنگوں کی پرواہ کیے بغیر نئے ضوابط متعارف کرانا ہے۔ بہرکیف آپ پوری قیادت کو نظر بند کرکے یا سزائیں دے کر یہ کہیں گے کہ 9مئی کا احتجاج فلاپ ہو گیا تو میرے خیال میں اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات ہو ہی نہیں سکتی۔ لہٰذایہ دنیا مکافات عمل ہے،،، جہاں اللہ نے حساب و کتاب کے لیے روز آخر رکھا ہوا ہے ،،، وہیں دنیا پر بھی حساب کتاب کے لیے مکافات عمل رکھا ہوا ہے،،، اس لیے میرے خیال میں ریاست ان ملزمان کے لیے عام معافی کا اعلان کرے،،، وقت کے حکمرانوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ درگزر سے کام لیں،،، اور خاص طور پر عوامی نمائندوں پر ہاتھ ہولا رکھیں،،، کیوں کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے پر تحریک انصاف کے لیڈروں کو سزاﺅں کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح امریکہ میں کیپیٹل ہل پر 6 جنوری 2021 کو حملہ ہوا تو ملوث افراد کے خلاف نہایت سخت کارروائی کی گئی۔ سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں، طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں اور بعض کو دہشت گردی کے مقدمات میں سزائیں دی گئیں۔لیکن ٹرمپ کے آنے کے بعد کم و بیش سب کو رہا کر دیا گیا،،، کیوں کہ یہ سزائیں خالصتاََ سیاسی تھیں۔ پھر برطانیہ میں 2024 میں ہوئے ہنگاموں اور ان میں ملوث ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا بلکہ ان کے خلاف 10 سے پندرہ دنوں میں عدالتی فیصلے سنا ئے گئے،،، لیکن بعد میں جن پرسنگین نوعیت کے الزامات نہیں تھے،،، اُنہیں رہائی مل گئی،،، اس لیے حکومت اور اپوزیشن اگر معاملات کو ہوشمندی سے طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں لیکن حالات یونہی یک طرفہ چلتے رہے،،،تو اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے پاس جارحانہ احتجاج ہی واحد راستہ بچتا ہے،،، جس کی وہ پہلے ہی منصوبہ بندی کر چکے ہیں،،، اس لیے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ریاست فیصلے کرے،،، اگر سرکار مخلص ہے تو مفاہمت کے خالی نعرے لگانے کے بجائے عملی اقدامات کرے،،، لیکن اگر اقتدار کی ہوس ان کو کھائے جا رہی ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی جنگ میں قومی مفاد محض ”نعرے“ کی حیثیت رکھتا ہے!