آئینی ترامیم کے ”ڈرامے“: عوام کہاں ہے ؟

اہم ترین حالیہ ترامیم کی خبریں ، تجزیے اور تنقید امریکی الیکشن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے پیچھے چھُپ گئی ہیں۔ اپوزیشن نے تو ویسے بھی فی الوقت ساری اُمیدیں نومنتخب امریکی صدر پر لگا لی ہیں کہ اب وہ ہی ان کے غم کا مداوا کریں گے۔ تبھی اپوزیشن ایوانوں میں محض ”پھوکا“ احتجاج کرتی نظر آئی۔ بلکہ اتنا پھوکا کہ صاف لگا کہ ان میں اب دم خم نہیں رہا۔ بلکہ اپوزیشن کو ایک موقع پر تو ”سلام“ کرنے کو بھی دل چاہا۔ بلکہ دونوں ہاتھوں سے سیلوٹ کرنے کو جی چاہا۔کہ جب پیر کو قوانین میں ترامیم کے چھ اہم سرکاری بلوں کی دونوں ایوانوں سے کثرت رائے سے منظور ی ہو رہی تھی تو اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا۔ خاص طور پر جب عدالتی اور دوسرے قسم کے بل پیش ہوئے تو تھوڑی بہت شدت بھی آئی، اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے پہنچے۔ نو ‘نو کے نعرے لگائے۔ بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں۔ نوبت حکومتی ارکان سے ہاتھا پائی اور گتھم گتھا ہونے تک بھی پہنچی ۔ لیکن ”سلام“ اس بات پر کہ جیسے ہی آرمی چیف یا اسٹیبلشمنٹ سے متعلق ترامیم کا موقع آیا تو ہر طرف خاموشی طاری رہی۔ یہ دیکھ کر تو یقین مانیں میرا اپنا دل کیا کہ میں بھی اُٹھ کر دو تین سیلوٹ ٹھوک دوں،،، پہلا سیلوٹ صاحب ِکمان کو، دوسرا اپوزیشن کو اور تیسراخاص طور پر مولانا فضل الرحمن کو.... اب یقینا آپ سوچیں گے کہ بھئی اُنہیں کیوں؟ تو موصوف جب ایوان سے باہر نکلے تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی کہ” آرمی چیف کی مدت میں اضافہ انتظامی معاملہ ہے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے تا ہم غیر شرعی یا غیر آئینی فیصلوں کو ہم نہیں مانیں گے۔“ خیر بات آئی گئی ہوگئی لیکن اس بات کا کھٹکا ضرور لگ گیا کہ من مرضیاں کرنے والی ن لیگ کی حکومت اب کوئی لوز شاٹ کھیلنے کے موڈ میں نہیں لگ رہی ۔ 1997ءوالی حکومت میں بھی ایسا ہی لگ رہا تھا جب نواز حکومت زیادہ سے زیادہ اختیارات کو سمیٹنے کی دوڑ میں لگی ہوئی تھی۔ پھر ایک دم پلٹا کھایا اور 12اکتوبر کو سب کچھ ختم ہوگیا۔ اور پھر ہم بھی مولانا فضل الرحمن کی طرح آرمی چیف کی پانچ سالہ مدت کے خلاف تھوڑی ہیں، ہم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟ ہم قطعاََ غداری کے فتوے کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔ اور پھر ہمیں کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد آپ 17کے بجائے 170کردیں، ہم اس پر اعتراض کرنے والے ہوتے ہی کون ہیں، ایسا کرکے ہم توہین عدالت کے زمرے میں تو کبھی بھی نہیں آنا چاہیں گے۔ اور ویسے بھی آئین و قانون پر عمل نہ کرنے والا شہری ہمیشہ ”باغی“ کہلاتا ہے۔ اور ہمیں کوئی شوق نہیں ہے اس عمر میں باغی بننے کا۔ چلیں مان لیا کہ یہ نام نہاد آئینی ترامیم بہترین ہیں،،، لیکن انہیں ایک خاص مقصد یعنی ایک جماعت کے پر کاٹنے کے لیے تو اپلائی نہ کریں، اگر یہ سب کچھ عوام کے لیے ہو رہا ہوتا تو آپ داد کے مستحق تھے،،، جیسے واقعی اگر آپ کی سوچ درست ہوتی کہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 17سے بڑھا کر34کرنے سے سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کی تعداد 60ہزار کو کم کرنا ہے تو واقعی یہ اچھا اقدام تھا۔ لیکن اس میں تو ”ملاوٹ“ لگ رہی۔ کیوں کہ جیسے ہی آپ کو خطرہ ہوا یعنی آپ نے الیکشن کمیشن والے فیصلے کے بعد بھانپ لیا کہ سپریم کورٹ اب اپنی نہیں پرائی ہو گئی ہے تو آپ نے ججز کی تعداد کو Maximumکر دیا۔ تاکہ کوئی رولا ہی نہ رہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے جہاں بہت سے نقصانات ہوئے ہیں وہیں یہ بڑا نقصان بھی ہوا ہے کہ بات تیرا جج یا میرا جج سے نکل کر آپ کا بینچ اور میرا بینچ تک آگئی ہے۔ اور یہ انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اور پھر اسی طرح آرمی چیف کی تقرری کو لے لیں، میں پھر یہی کہوں گا کہ ہمیں کیا اعتراض ہونا؟ لیکن یہ موقع و محل نہیں ہے۔ اس سے ادارے کے اندر ہلچل پیدا ہوگی۔ اور پھر ایک ترمیم دہشت گردی ایکٹ کے حوالے سے تھی کہ آپ 90دن کے لیے کسی کو بھی حراست میں رکھ سکتے ہیں ۔ کیا ارباب اختیار اس بات سے واقف ہیں کہ پہلے اس ایکٹ کے تحت دو دہائیوں میں 2لاکھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے صرف 10ہزار کو سزائیں ہوئیں۔ باقی ہزاروں گرفتاریاں سیاسی قسم کی تھیں۔ اور پھر کیا ہم گمشدہ افراد کے حوالے سے ایک بین الاقوامی مسئلے میں نہیں پھنسے ہوئے؟ یہ بلوچی یا پی ٹی ایم والے ہم سے کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟ کیا اس پر کبھی کسی نے غور کیا؟کیا یہ ایک نازی قانون نہیں بن گیا؟ ہٹلر کیا کرتا تھا؟ تاریخ پڑھیں تو سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ کیا آپ ہٹلر بننے جا رہے ہیں؟ بہرحال سوال یہ ہے کہ ان آئینی ترامیم میں عوام کہاں ہے؟ بلکہ عوام تو کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے، اسے رہنے دیں بلکہ صاف صاف یہ لکھ دیں کہ جو ایک بار وزیر اعظم منتخب ہوگیا وہ لائف ٹائم ہوگا۔ جو ایک بار آرمی چیف یا چیف جج بنے اُسے لائف ٹائم کے لیے لگا دیں۔ اس میں اتنی برائی بھی نہیں ہے، اس سکول آف تھاٹ میں بے شمار فائدے بھی ہیں، کیوں کہ ایسا کرنے سے کم از کم سیاسی استحکام تو آجائے گا، یا وہ عہدیدار کم از کم ذمہ دار تو ہوگا۔ ورنہ تو کوئی سیاستدان ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے، جیسے موجودہ سیاستدانوں نے 75سالوں کی تباہی تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور پر ڈال دی ہے، کہ جو کچھ بیڑہ غرق ہوا وہ اسی دور کی مرہون منت ہے۔ لیکن بات نیت کی ہے، آئینی ترامیم کرنی ہیں تو نیت درست کریں۔ جب رات کے اندھیروں میں آپ آئینی ترامیم کریں گے تو وہ کیسے ایک نمبر ہو سکتی ہےں، جب آپ ایک آئینی ترمیم کے لیے مرے جا رہے ہوں گے تو اس میں شائبہ تو ضرور ہوگا ناں! اس لیے رولا ختم کریں، یہاں بادشاہت کا نظام قائم کرلیں، عوام کے ووٹ کی عزت ختم ہوگئی ہے، ہونا جب وہی ہے جو اغلوں نے چاہنا ہے تو پھر کاہے کا ووٹ۔ کاہے کی عدالتیں جب ہم دنیا بھر میں کسی رینکنگ میں ہی نہیں آرہے تو پھر کیسا عدالتی نظام۔ پرانے زمانے کی طرز پر ایک مستقل قاضی بٹھائیں وہی فوری فوری فیصلے کرے۔ نہ تاریخیں پڑیں اور نہ پیسہ ضائع ہو۔ فوری فوری انصاف بھی ہو جائے۔ اور رہی بات سرکاری اداروں کی تو وہاں ویسے بھی رشوت چلنی ہے، تو کیوں نہ رشوت کے ریٹس مقرر کردیے جائیں، اُس سے کم از کم آپ اس رشوت کی رقم میں سے ٹیکس تو کاٹ سکیں گے ناں! بہرکیف تشویش ناک امر یہ ہے کہ ہم نے 2008ءسے لے کر 2024ءتک یعنی نام نہاد میثاق جمہوریت سے لے کر آج تک ہم نے اُنہی قوتوں کو مضبوط کیا ہے جنہیں سیاست میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں قصور تینوں بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا ہے۔ خاص طور پر اول الذکر دونوں جماعتوں کے اسی طرز سیاست اور خراب طرز حکمرانی نے ایسے حالات کو جنم دیا کہ انہیں مداخلت کرنا پڑی۔ اور اپریل 2022ءکے بعد تو اخیر ہی ہوگئی۔ بلکہ 8فروری کے الیکشن کے بعد تو ایسے ایسے اقدام ہو رہے ہیں کہ صاف لگ رہا ہے کہ کہیں بھی جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ ہماری انوکھی اور دلچسپ تاریخ میں بڑی انگوٹھا چھاپ اسمبلیاں رہی ہیں لیکن اس فارم47 والی اسمبلی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ جو ایجنڈا اس کے سامنے رکھا جاتا ہے اُس پر فوراً انگوٹھا لگ جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے جوکچھ ہو رہا ہے، عین قرینِ انصاف ہے کیونکہ فارم47 کا جادو نہ چلتا تو یہ اسمبلی کہاں سے قائم ہونی تھی اور پھر اس اسمبلی سے جس حکمرانی بندوبست نے جنم لیا ہے وہ کہاں سے آتا۔ ایک جماعت کا دعویٰ تھا ”ووٹ کو عزت دو“ ووٹ کو تو ایسی عزت ملی ہے کہ کوئی مثال نہیں ملتی۔ دوسری جیے بھٹو والی جماعت کا نعرہ تھا ”طاقت کا سرچشمہ عوام“۔ اس دور میں جمہوریت کے ایسے عَلم زمین میں گاڑے جا رہے ہیں کہ خیال اٹھتا ہے کہ بھٹو کی روح پرکیا گزر رہی ہو گی۔ چھبیسویں ترمیم کا ناٹک مکمل ہوا تو قبلہ مولانا صاحب کے چہرے کا چمکنا قابلِ دید تھا۔ ہر ایک کوئی ا±ن کے در پر حاضری دے رہا تھا۔ لیکن یہ جو تاریخی قانون سازی ہوئی ہے اس کے بعد حضرت کے چہرے کو غور سے دیکھئے‘ بالکل ا±ترا ہوا لگتا ہے۔ حضرت نے فرمایا تھا کہ کالے ناگ کے دانت ہم نے نکال دیے ہیں۔ اصل میں دانت سپریم کورٹ اور اس فارم 47 کی پارلیمنٹ کے نکل گئے ہیں۔ اور ایسے نکلے ہیں کہ چبانے کیلئے اب کچھ نہیں رہا۔ یہ جو قانون پاس ہوئے ہیں‘ تاریخی نوعیت کے حامل ہیں کیونکہ جو اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ہوا ہے وہ ماضی کا کوئی طالع آزما بھی‘ چاہے ا±س کا نام ضیاالحق تھا یا پرویز مشرف‘ نہیں کر سکا۔ گزرے ادوار میں اس پر اکتفا کیا جاتا تھا کہ جج صاحبان سے نیا حلفِ تابعداری لے لیا جاتا۔ ناپسندیدہ ججوں کو اس رسمِ وفا کی زحمت نہیں دی جاتی تھی۔ اب کی بار کوئی نیا حلف نہیں لیا گیا‘ کسی کو فارغ نہیں کیا گیا‘ بس سپریم کورٹ کے دودھ میں نزدیک گزرتی کسی ندی سے اتنا پانی ملا دیا ہے کہ نہ پانی کا ذائقہ رہا نہ دودھ کی چاشنی۔ اب جس مدھانی میں بھی یہ سب کچھ ڈالا جائے ا±س میں زور لگا کر رِڑکتے رہیے‘ کچھ نہیں نکلے گا۔ اب بھی حکمرانی بندوبست کے فیصلوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں تھا لیکن نوزائیدہ ترمیمات کے بعد عدالتی چیک ایند بیلنس کا تصور ہی کسی گہرے گڑھے میں دفنا دیا گیا ہے۔ جو دماغ اس کارنامے کے موجد ہیں ا±ن کو داد دینی پڑتی ہے۔ سترہ جج تھے سپریم کورٹ کے‘ ان میں اکثریت ا±ن جج صاحبان کی تھی جن کے فیصلے سرکاری بندوبست سے ہضم نہیں ہو رہے تھے۔ سترہ کی تعداد چونتیس تک پہنچا دی گئی ہے‘ ظاہر ہے نئے ججوں کی تقرریوں کا جو طریقہ کار بنایا گیا ہے ا±س سے اپنے ہی بندے اوپر آئیں گے۔ کیا فیصلے ہو سکیں گے اورحکومتی من مانیوں پر کیا نظر رکھی جا سکے گی!یہ تو وقت ہی بتائے گا۔۔۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ عوام بری طرح نظر انداز ہوئی ہے اور ان کے ہوتے ہوئے مسلسل ہوتی رہے گی!