پنجاب پولیس کو بھی آخر کار اپنے لیے بنیادی انسانی حقوق یاد آگئے!

آج کل پنجاب میں اور خاص طور پر لاہور میں پولیس (ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران ) اور صحافیوں کے درمیان ایشوز چل رہے ہیں،،، صحافی کہہ رہے ہیں کہ اُنہیں پولیس کی طرف سے ہراساں کیا جار ہا ہے، اُنہیں درست انداز میں رپورٹنگ نہیں کرنے دی جارہی حتیٰ کہ انوسٹی گیٹنگ رپورٹس پر بھی صحافیوں کو پولیس کی طرف سے دھمکایا جا رہا ہے،،، جبکہ پولیس کہتی ہے کہ اُن کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اُنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے،،، جبکہ ان ساری چیزوں میں سب سے اہم اور حیران کن بات جو ڈی آئی جی آپریشن کامران فیصل نے کہی کہ اُن کے خلاف اگر غلط خبریں لگائی جائیں گی تو یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔۔۔ویسے ایسا پہلی دفعہ پولیس کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ”یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے“۔ حیرت اس بات پر ہے کہ آخر کار پولیس کو بھی اپنے بنیادی حقوق یاد آگئے ہیں،،، اور مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی کہ ہماری پولیس کس منہ سے بنیادی انسانی حقوق کی بات کر رہی ہے؟ پولیس یہ بات کیوں نہیں سوچ رہی کہ اگر پورے شہر کے رپورٹرز پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں تو آخر کوئی تو بات ہوگی ، کہ جس کی وجہ سے وہ احتجاج کر رہے ہیں،، اور یہ رپورٹرز کو ئی ٹک ٹاکرز یا یوٹیوبر نہیں بلکہ بڑے بڑے چینلز کے رپورٹرز ہیں،،، وہ آخر کار ڈی آئی جی کے خلاف اکٹھے کیوں ہوگئے؟ اور صحافیوں پر مقدمات بھی قائم کیے جا رہے ہیں اس پر صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔ صدر پریس کلب لاہور ارشد انصاری بذات خود ڈی آئی جی آپریشن کے خلاف سراپا احتجاج ہیں،،،وہ کہتے ہیں کہ گورننگ باڈی مکمل طور پر کرائم رپورٹرز کے ساتھ تھی ، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران صحافیوں کے خلاف نازیبا اور غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں جسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔بہرحال میں یہ نہیں جانتا کہ صحافی درست ہیں یا پولیس والے ۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ جس طرح ہم رپورٹنگ کیا کرتے تھے،، ،، جیسے ہم نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی رپورٹنگ کی اور ضیا دو رمیں بھی رپورٹنگ کی۔۔ لیکن جیسی آج پابندیاں ہیں،،، ویسی کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ ہم صحافی لوگ تحقیقاتی خبریں شائع کرتے ہیں،،، اگر خبر غلط ہے تو اُس پر قانون کے مطابق ایکشن لیں، دھمکیاں دینے یا حبس بے جا میں رکھنے سے ان کرائم رپورٹرز کو دبایا کیوں جاتا ہے؟ کیا صحافیوں کے بنیادی انسانی حقوق نہیں ہوتے؟ اور پھر کیا پولیس کے منہ سے بنیادی انسانی حقوق جیسی باتیں بات اچھی لگتی ہیں؟کیا عوام بے خبر ہے کہ یہ وہی پولیس ہے جو 9مئی کے بعد لوگوں کے گھروں میں ایسے داخل ہوئے جیسے یہ دشمن کے گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اور لوگوں کی ماﺅں بہنوں کے ساتھ فزیکل بے حرمتیاں کیں، اُن کے گھر توڑ پھوڑ کیں،،،کیا اُس وقت آپ کو بنیادی انسانی حقوق نہیں یاد آئے تھے؟ کیا اُس وقت بھی بنیادی انسانی حقوق یاد نہیں آئے تھے جب خواتین کو گھسیٹ کر تھانوں میں لایا جا رہا تھا، ان خواتین کو آپ نے بالوں سے پکڑ کر کھینچا ، ان کے کپڑے پھاڑے جا رہے تھے، اُس وقت آپ کو بنیادی انسانی حقوق یاد نہیں آئے؟ ،،، یا جب چادر اور چار دیواری کو روندا جا رہا تھا، کیا اُس وقت بنیادی انسانی حقوق کا خیال نہیں آیا؟کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میاں اسلم اقبال کے گھر پولیس گئی ہے تو اُس کی بیٹی کا سامان بھی اُٹھا کر لے آئے کیا یہ بھی آپ کو اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا کہ سامان بھی اُٹھا لو،،، اُس وقت آپ کو بنیادی انسانی حقوق یا دنہیں آئے؟ اور پھر یاد نہیں کہ کس کس طرح عمر ڈار کی والدہ کے ساتھ یہ کیا کیا کرتے رہے ہیںِ،،، اور حال ہی میں علیمہ خانم کو انڈہ مارنے والی خواتین کو انہوں نے کیسے بھگایا۔ لیکن اس کے برعکس آپ کے خلاف دو خبریں کیا لگ گئی ہیں،،، آپ صحافیوں کو زدوکوب کرنے پر اُتر آئے ہیں؟ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ آپ کو انسانی جان لیتے وقت اور نہ ہی آپ کو کسی کا گھر لوٹتے وقت انسانی حقوق یاد آتے ہیں،اوراگر کسی کے گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے وقت اگر ہیومن رائٹس کا خیال نہیں آیا تو اب کیوں آرہا ہے؟ اگر آپ کو کسی ایس ایچ او کی پرائیویٹ حوالاتوں اور جیلوں کو دیکھ کر انسانی بنیادی حقوق یاد نہیں آئے تو اب کیوں یاد آرہے ہیں؟ کیا آپ کو اُس وقت بنیادی انسانی حقوق یاد نہیں آتے جب بے گناہ عوام کو ناکوں پر روک تنگ کیا جاتا ہے۔ اس وقت ان دو چار سالوں میں جتنا پولیس کے خلاف پنجاب کے عوام میں نفرت پائی جا رہی ہے، وہ کسی نہ کسی طرح تو نکلنی ہے،، چلیں ! مان لیا کہ ڈی آئی جی بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اپنے افسران یا ماتحت عملے کے لیے اچھا کام بھی کر رہے ہوں مگرکیا وہ عوام کے لیے بھی بہتر ہیں؟ انہوں نے ایک پارٹی کا جو حال کیا ہے،اُس ورکرز ، قائدین وغیرہ پر یہ ابھی تک 9مئی کے کیسز درج کر کر کے اُن کے خلاف اقدام کر رہے ہیں،،، تو کم از کم پنجاب پولیس تو انسانی حقوق کی بات نہ کرے۔ خیر آپ ان چیزوں کو بھی چھوڑ دیں،،، آپ گزشتہ تین سالوں کو دیکھ لیں،،، کہ یہ کہانی ہر بندے کی زبان پر آج موجود ہے کہ بندے کو تفتیش کے لیے پولیس لے کر جا رہی ہوتی ہے،،،راستے میں وہ مارا جاتا ہے،،، یعنی اپریل 2025ءسے جب سے ”سی سی ڈی“(کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) تب سے لے کر اب تک 3 ماہ میں پنجاب بھر میں پولیس مقابلوں میں 35 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے،،، اور رواں سال اب تک پولیس اور مجرموں کے درمیان 777 ”مقابلے“ ہوئے، جن میں 363 ”مجرم“ اپنے ”ساتھیوں“ کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔مزید وضاحت کردوں کہ آج کل عوام کو لوٹنے والے ڈاکوﺅں کو ان کے ساتھی چھڑوانے کے چکر میں جان سے مار رہے ہیں۔یعنی کہانی وہی پرانی گھسی پٹی اور ایک ہی ہے کہ ان کے ساتھی چھڑوانے آئے تھے اور اپنے ہی ساتھی کو مار کر بھاگ گئے۔کیا ان مجرمان یا ملزمان کو مارتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کا خیال نہیں آتا؟ اورپھر کیا یہ سارے مجرمان کو درست نشانہ بنا رہے ہیں؟ اگر درست ہیں تو ان پر اب تک ملتان میں ایک باپ بیٹے کو قتل کرنے کی ایف آئی آر کیوں درج ہو چکی ہے؟ اور کاہنہ میں مبینہ پولیس مقابلے میں سی سی ڈی کی زیر حراست روحیل مسیح عرف سنی کی ہلاکت کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ لہٰذاکسی کا ”پولیس مقابلے میں مارا جانا“کیا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد کو پولیس ماورائے عدالت پار لگاتی ہے،،، جس کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے،،، اور پھر جنہیں آپ بندے مارنے کی کھلی چھٹی دے رہے ہیں،،، جب آپ اُن پر سے ہاتھ اُٹھا لیں گے،،، یا اُن کے چیف تبدیل ہو جائیں گے،،، تو جو اُن کو ”عادت“ پڑ گئی ہے،،، وہ کیسے جائے گی؟ پھر ہو گا یہ کہ ایک تو یہ لوگ سیاسی لوگوں کے ہتھے چڑھیں گے،،، اور سیاسی لوگ انہیں اپنے مخالفین کو مارنے ، ڈرانے ، دھمکانے یا بھتہ لینے کے لیے استعمال کریں گے،،، یا یہ لوگ راﺅ انوار یا عابد باکسر بن کر خود سے بھی اکا دکا مقابلے کرکے ہاتھ صاف کریں گے،،، اور پھر جب ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے فلاں بے گناہ شخص کو کیوں مارا تو یہ کہیں گے کہ جہاں اتنے لوگ آپ کے کہنے پر مارے،،، وہاں ایک دو کو مارنا تو اُن کا بھی حق بنتا ہے۔ بہرحال میں یہ بات نہیں جانتا کہ ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران ٹھیک ہیں، یا ہمارے رپورٹرز ،،، لیکن جب سارے رپورٹرز ہی ایک بات کر رہے ہیں،،، پوری پریس کلب باڈی ایک بات کر رہی ہے تو یقینا دال میں کچھ کالا ضرور ہوگا۔ آخر پنجاب میں کئی ڈی آئی جیز ہیں،،، کسی اور کے خلاف کیوں نہیں بولا یا لکھا جا رہا ،،، اگر آپ کے خلاف بولا یا لکھا جا رہا ہے تو پھر آپ کو اپنا احتساب کو کرنا چاہیے۔لہٰذاآپ سے دست بستہ التماس ہے کہ آپ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنیں،،، جو سچ ہے اُس کا سامنا کریں۔ اور یہ بات سمجھنے کی کوشش کریں کہ پولیس کا کام صحافیوں کے ساتھ تعاون کرنا ہوتا ہے، اگر صحافی کسی جگہ کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کررہے ہیں تو اُن کا ساتھ دیں ،،، اُنہیں دھمکیاں نہ دیں۔ لیکن اگر آپ پھر بھی باز نہ آئے تو پھر بقول شاعر آپ ہی اپنی اداو¿ں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی بہرکیف ہم پولیس کے خلاف نہیں ہیں،،، لیکن اس کے حوالے سے آنے والے بیشتر مسائل سے باخبر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خود سے دھمکانا ان کا کام نہیں ہے۔اگر صحافیوں کے حقوق یا عام عوام کے حقوق کا خیال نہیں رکھیں گے تو کیسے ممکن ہے کہ صحافی برادری بھی ان کا خیال رکھے۔ وہ تو پہلے ہی ان کے خلاف کئی قسم کے سکینڈلز مارکیٹ میں لانے کو پھر رہے ہیں،،، لہٰذا ریاست کے ان دوستوں کی لڑائی اچھی چیز نہیں ہے،،، اس سے جتنا بچاجائے اُتنا بہتر ہے،،، ورنہ صحافی تو کم از کم سرنڈر نہیں کریں گے!