او آئی سی ہنگامی اجلاس بلانے سے بھی ڈر تی ہے؟

میرا ایک سوال ہے کہ اس وقت کیا مسلم دنیا میں ”ایران اسرائیل جنگ“ سے بڑی کشیدگی یامسلم اُمہ کو کوئی مسئلہ درپیش ہے؟ یقینا آپ کا جواب نہیں میں ہوگا۔ کیوں کہ پوری دنیا کی توجہ اس وقت دونوں ممالک کی جانب ہے، کئی ممالک مصالحت کروانے کی حقیر سی کوشش کرر ہے ہیں، بھارت جیسے دو چار ممالک اسرائیل کی دُم لال کر رہے ہیں کہ نہیں تم حملے جاری رکھو....امریکی صدر جو ”امن“ کا ووٹ لے کر صدر بنے وہ اس جنگ کو رکوانے کے بجائے ایران کو سرنڈر کرنے کا حکم صادر فرما رہے ہیں،،، جبکہ طویل خاموشی کے بعد چین نے بھی امریکا کو خبردار کر دیا ہے، کہ وہ جلتی پر تیل پھینکنے کا کام نہ کریں تو اچھا ہوگا۔ روس یوکرین جنگ میں اٹکا ہوا ہے، لیکن اُس پر بھی الزام ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ مل کر ایران کی اندر کھاتے مدد کر رہا ہے۔ جبکہ ہماری حکومت گھبراہٹ کا شکار نظر آرہی ہے کہ ایران کے ساتھ طویل سرحد کی وجہ سے اُن پر ”مدد“ کا الزام نہ لگ جائے۔ لیکن اگر کہیں کوئی نظر نہیں آرہا تو وہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) ہے،،، مجال ہے کہ اس 57اسلامی ممالک کی نام نہادنمائندہ تنظیم نے کہیں اپنا کوئی کردار ادا کیا ہو۔۔۔ ویسے میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے،،، تب سے آج تک ان ساٹھ سالوں میں،،، میں نے اس سے زیادہ ڈھیٹ تنظیم نہیں دیکھی۔ جو محتاجی، بزدلی، منافقت، کینہ پروری اور ڈرپوک میں نمبر ون پوزیشن پر ہو۔ یقین مانیں کالج دور میں جب ہم طلبہ یونین میں ہوا کرتے تھے، تووہ تنظیمیں بھی او آئی سی سے ہزار درجے بہادر ہوا کرتی تھیں،،، کئی کئی بار حکمرانوں کا جینا دو بھر کردیتی تھیں،،، مخالفین کی جرا¿ت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اُن کی مرضی کے برخلاف کوئی کام کر لیں،،، حتیٰ کہ سرکار نے کالجز کی فیسیں بھی بڑھانا ہوتی تھیں تو طلبہ تنظیمیں اُس میں اسٹیک ہولڈر ہوا کرتی تھیں.... لیکن اوآئی سی،،، تو ”اوہ آئی سی۔۔۔ “ بن کر رہ گئی ہے۔ حالانکہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کو بھی ایک ہفتہ گزر گیا، مگر مجال ہے کہ ماسوائے مذمت کے اس نام نہاد تنظیم نے کسی ہنگامی اجلاس کو بلانے کی زحمت کی ہو۔ حالانکہ میں نے اپنے آفس میں بھی سٹاف کو فون کیا کہ او آئی سی کے حوالے سے اجلاس کی کوئی خبر بریک ہوئی ہے،،، تو انہوں نے بھی اس بات کی تردید کی،،، پھر میں نے گزشتہ ایک ماہ کی خبروں کو سرچ کیا کہ شاید میں غلط ہوں،،، لیکن بقول شاعر کہانی آپ اُلجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا اور پھر یہی نہیں بلکہ جب اسرائیل ہر ایک منٹ میں ایک بم غزہ پر پھینک رہا تھا، اور بین الاقوامی ادارے ریڈکراس کے ذمہ دار عہدیداران چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ حالات بہت خراب ہیں،،، اور اسرائیل سے درخواست کر رہے تھے کہ وہ بمباری روکے، تاکہ وہ غزہ کے اندر کے حالات سے واقفیت حاصل کر سکیں، وہ کہہ رہے تھے کہ ’جو چیز ہمیں اندر جانے سے روک رہی ہے وہ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کے پورے حصے پرشدید ترین بمباری ہے۔وہ کئی کئی ماہ تک سرحد پر تعینات رہے ، جانیں بھی گنوائیں مگر پیچھے نہیں ہٹے۔ حتیٰ کہ وہ ان دنوں بھی وہیں کھڑے رہے جب بنجر زمینوں پر بمباری ہو رہی تھی، جہاں نہ تو جانور تھے اور نہ ہی انسان۔‘ لیکن مجال ہے اس دوران او آئی سی نے کوئی عملی اقدام اُٹھایا ہو،،، مسلم اُمہ کو یکجا کیا ہو،،، اتنی کمزور تنظیم، اتنی کمزور تنظیم،،، کہ خدا کی پناہ ....ہاں مجھے یاد ہے کہ اس دوران ایک اجلاس ہوا تھا ،،، لیکن محض برائے نام اُس اجلاس میں محض 20نکاتی ایجنڈے پر ہی اکتفا کیا گیا۔ یہ اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہوا جہاں اسرائیلی کی ’غیر انسانی جارحیت‘ کو فوری روکنے اور بین الاقوامی برادری سے اسرائیل کے ’احتساب‘ کا مطالبہ کیا گیا۔حالانکہ یہ اجلاس سعودی عرب اور پاکستان کی دعوت پر بلایا گیا تھا۔نہ اس اجلاس میں امریکا کے لیے کوئی سخت پیغام دیا گیا اور نہ ہی اسرائیل پر اس کا کوئی اثر ہوا۔ ویسے تو میں پہلے ہی کہتا ہوں کہ اسلامی ممالک ہوں یا غیر اسلامی سبھی ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کے لیے جڑے ہوئے ہیں، آپ کہیں مذہب کی وجہ سے انہیں جڑا نہیں دیکھیں گے۔ اگر ایسا ہی ہے جیسا میں کہہ رہا ہوں یا اس سے بھی زیادہ سوچ رہا ہوں تو پھر او آئی سی کو بند کر دینا چاہیے۔ کیوں کہ یہ وہ تنظیم ہے جو آج تک کوئی بڑا اور مشترکہ فیصلہ نہ کر سکی اور مذمتوں کے ساتھ کام چلانے پر ہی اکتفا کرتی رہی۔ یقین مانیں، میرا آج کا موضوع یہ بالکل نہیں تھا کہ میں او آئی سی جیسی فضول تنظیم پر لکھوں،،، مگر میں مجبور ہوا ہوں کہ اب تک اس تنظیم کی جانب سے جتنے بھی فیصلے کیے گئے اُن کا معیار یہ تھا کہ اُس میں سے99فیصد آج بھی زیر التوا ہیں۔ اور پھر یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ یہ پلیٹ فارم دنیا بھر کے 2 ارب مسلمانوں کی اجتماعی آواز ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے مسائل کو اُجاگر کرنے، اُنہیں حل کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس تنظیم کے بڑے بڑے ممالک خود مختار ہونے کے بجائے مغربی قوتوں کی چھتر چھایہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، ترکی، ملایشیا ، پاکستان اور انڈونیشیا وغیرہ جیسے امیر اور اسلحہ سے مالا مال ممالک بھی مغربی ممالک کی مرہون منت ہیں۔ معذرت کے ساتھ یہ تنظیم اسلام کے نام پر بنی لیکن اس میں موجود تمام اسلامی ممالک کے دوسرے ملکوں کے ساتھ مفادات جڑے ہیں اور یہ ممالک انہی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کو اس تنظیم کی مزید بہترین ”کارکردگی“ بھی بتاتا چلوں کہ جس سے آپ اُمیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں، اُنہوں نے 2017ءمیں کیا کیا؟ 13دسمبر 2017ءکو ترکی کے صدر اردگان نے او آئی سی کا اہم ترین اجلاس اس وقت بلا لیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم (القدس) سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے اسے غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت بنانے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا جسے 2022میں عملی جامہ پہنایا گیا۔ اس موقع پر ترک صدر نے انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا اور فلسطینیوں کا درد سینے میں لئے سب سے پہلے آگے بڑھ کر او آئی سی کا اجلاس طلب کر لیا لیکن اس اجلاس کے فیصلوں نے جہاں فلسطینیوں کے درد کا مداوا کرنا تھا وہاں نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپ دیا گیا بلکہ پوری مسلم امہ کو بھی حیران کن صورتحال میں لا کھڑا کیا، اس اجلاس میں کہ جس کا مقصد قبلہ اول بیت المقدس کی شناخت کو امریکی فیصلوں کے سامنے محفوظ کرنا اور دفاع کرنا تھا اس میں کہا گیا کہ مشرقی القدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے، جبکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو القدس شہر جو مشرقی و مغربی حصوں پر مشتمل ہے دراصل پورے کا پورا ہی فلسطین کا ابدی دارالحکومت رہاہے جبکہ 1948ءسے مغربی القدس کا علاقہ پہلے ہی غاصب صیہونی ریاست کے تسلط میں ہے۔لہذٰا او آئی سی کی اس قرار داد نے جہاں ایک طرف 48ءکے صیہونی غاصبانہ تسلط کو بھی قانونی شکل دے ڈالی وہاں قبلہ اوّل کے تشخص کے عنوان سے فلسطینی مسلمانوں اور مسلم دنیا کے جذبات بھی مجروح کر ڈالے۔افسوس ہے کہ اگر اس اجلاس میں مسلم دنیا کے یہ حکمران واضح اور شفاف فیصلہ کرتے تو شاید آج امریکہ و اسرائیل کو یہ ہمت نہ ہوتی کہ وہ مسلمان ملکوں کی لاشوں پر سے ہوتا ہوا گریٹر اسرائیل کا خواب نہ دیکھتا ۔ بہرحال آپ دنیا کی طاقتور تنظیموں کے مقابلے میں او آئی سی کو دیکھیں تو یہ کٹھ پتلی کے سوا کچھ نہیں ہے، نہیں یقین تو آپ یورپی یونین کو دیکھ لیں۔اس تنظیم میں یورپ کے 29ممالک جڑے ہیں لیکن یہ دنیا کی سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والی جماعت ہے۔ یہ دنیا کے کسی بھی ملک کو بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کرنے سے روک سکتی ہے۔ اسی لیے یہ دنیا میں حکم چلانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی جیسے گزشتہ سال یورپی یونین نے قرار داد منظور کی کہ جب تک پاکستان اپنی شرائط پوری نہیں کرتا پاکستان کا جس ایس پلس کا درجہ ختم کر دیاجائے،پاکستان متحرک ہوا اور فوری طور پر یورپی یونین کو منانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیں۔ یورپی یونین ہی نے چین کے کئی عہدیداروں پر صوبہ سنکیانگ کے ویغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پابندیوں کا اعلان کیا ، چینی حکام نے فوری طور پر یورپی یونین کو اپنے موقف سے آگاہ کیا اور پابندیوں پر نرمی اختیار کرنے کے لیے کہا۔ یورپی یونین ہی نے بھارت میں ہونے والے امتیازی رویوں اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بھارتی حکومت کو انتباہ کیا، جس کے بعد نمایاں طور پر پرتشدد واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی۔ مطلب! یورپی یونین کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ امریکا بھی اس تنظیم کی ناراضگی مول لینے سے ڈرتا ہے۔ پھر ”دولت مشترکہ“ تنظیم کی بات کر لیں، جی 20ممالک کے گروپ کی بات کرلیں یا جی 8ممالک کی سبھی کا اپنا اثررو رسوخ ضرور ہے۔ بہرکیف شایدفلسطینیوں کے بعد ایرانی بھی اس بات کواسی دن ہی سمجھ چکے تھے کہ او آئی سی سے ان کو مزید کوئی توقعات نہیں رکھنی چاہئیں۔تبھی پہلے حماس نے اپنے تعیں اتنا بڑا حملہ کر دیااور اب ایران بھی اکیلا جنگ لڑ رہا ہے۔ لہٰذامیرے خیال میں او آئی سی کو فوری بند کر دینا چاہیے تاکہ کوئی ملک یہ نہ سمجھے کہ او آئی سی مغرب ہی کی کٹھ پتلی جماعت ہے، جس سے ہم جیسا چاہیں اور جب چاہیں بیان دلوا سکتے ہیںجو دنیا پر تو اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ مسلمان ممالک کے لیے بھی وہ زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتا ہے۔ ورنہ وہ اب تک دنیا کو واضح پیغام دے چکی ہوتی اور 40اسلامی ممالک کی فوج جس کے سربراہ راحیل شریف تھے جیسی ایک اور فوج بنا کر اسرائیل کا مقابلہ کر رہی ہوتی،،، تو شاید پھر دنیا میں امن ہو جاتا! ورنہ تو ابھی تک ایسا کوئی امکان نظر نہیں آرہا!