عمران خان کی قید کے دو سال : حکومت نے عوام کو کیا دیا؟

”جس بحران کے خاتمے کے لیے بانی تحریک انصاف کو جیل میں بند کیا گیا تھا، وہ ختم کیوں نہیں ہوا؟“ یہ سوال ایک دوست نے پوچھا ، تو میں بھی سوچ میں پڑ گیا کہ اُن پر الزام تھا کہ وہ لوگوں کو مشتعل کر کے حکومت کے خلاف بغاوت پر اُکسا رہے ہیں،،، لوگوں کو اپنی طرف مائل کر رہے ہیں،،،یا ملک میں سیاسی و معاشی انتشار پیدا کر رہے ہیں،،، لیکن یہ بحران تو آج بھی ہے،،، آج بھی حکمران مذکورہ جماعت کو احتجاج کرنے کی اجازت دے (جو اُن کا بنیادی حق ہے) اگر لوگ ان کے کنٹرول میں آگئے تو بات کرنا! لیکن یہ بات تو طے ہے کہ وطن عزیز واقعتا ان دو سالوں میں بحرانستان بن گیا ہے،،، نہ کہیں امن، نہ کہیں عوامی ریلیف، نہ حکومتی رٹ۔ بلکہ اگر کہیں بہتری ہوئی ہے تو یہ کہ میڈیا حکومتی کنٹرول میں آگیا ہے، اب کہیں بلوچستان، باجوڑ ، وادی تیراہ ، خضدار یا کہیں بھی کوئی شورش ہو، احتجاج ہو یا نقصِ امن ہو تو وہاں کی کوئی خبر مین اسٹریم چینل پر بغیر ”اجازت“ نہیں لگتی۔ اور نہ ہی بانی تحریک انصاف کا کوئی بیان مین اسٹریم میڈیا پر چلایا جاتا ہے،،، کہ اس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ خیر اگر ان دوسالوں میں دیکھا جائے تو حکومت کو ماسوائے خان کے اُسے کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا ۔ ان کا ایک ہی ایجنڈا رہا ہے کہ تحریک انصاف سے ہر حال میں چھٹکارہ چاہیے، خواہ اس کے لیے اُنہیں ہر ایرے غیرے ملک کی غلامی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ انہوں نے اسے جیل میں ڈال کر کیا کچھ نہیں کیا؟ عدالتی نظام تباہ کردیا، من مرضیوں کے قانون بنائے ، پولیس کو بے اختیار و بے حیا کر دیا، حکومت بچانے کے لیے غیر ملکیوں سے غلط معاہدے کیے، سنا ہے معدنیات کے بھی سستے سودے کر لیے ہیں،،، اس دوران پارلیمنٹ میں بھی ”ریڈ“ ڈالی گئی، اور پھر سب سے بڑھ کر ہم نے موسٹ سینئر چیف جسٹس کو پیچھے کرکے جونیئر کو سینئر بنا دیا، ہم نے ایسی قانون سازی کی کہ مخالفین کے لیے عرصہ حیات تنگ کردیا۔ لیکن اس دوران عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی، پٹرول اور بجلی میں ٹیکسوں کی بھرمار کرکے وہ ٹیکس بھی عوام کے کھاتے میں ڈال دیے کہ جن کا اُن کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بقول شاعر مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے یعنی کیا اقتدار کی ہوس ایسی ہوتی ہے؟ کہ نہ ہی آپ کو ملک کی فکر ہو، نہ آپ کو قوم کی فکر ہو، بلکہ آپ مخالفین پر چڑھ دوڑیں....بڑے بڑے حکمران آئے چلے گئے، ایوب خان، ضیاءالحق،ذوالفقار علی بھٹو، جنرل مشرف سب چلے گئے۔ شاہ ایران چلا گیا، صدر صدام چلاگیا، صد ر قذافی چلا گیا .... اگر آپ ابدی زندگی پر یقین رکھتے ہیں تو اس بات پر بھی یقین رکھیں کہ ،،، رہ جائے گا تو صرف نام اللہ کا۔ اگر آپ کو اس پر کسی قسم کا شک ہے کہ عوام آپ کے ساتھ نہیں ہیں تو آپ ایک غیر جانبدار سروے کروالیں،،، آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ اس وقت پاکستان کی 100فیصد عوام کو اپنے عدالتی نظام، پولیس، پارلیمنٹ، انتظامیہ،الیکشن کمیشن ،محافظین یا اپنے کسی ادارے پر نہ تو کوئی یقین ہے اور نہ ہی اُن پر اعتماد ہے۔کیا عوام کے لیے ہم نے پٹرول سستا کیا؟ کیا ہم نے گیس سستی کی؟ کیا ہم نے چینی سستی کی؟ کیا ہم نے بجلی سستی کی؟ اگر عوام نے سولر لگائے تو حکمرانوں نے اُس پر ٹیکس لگا دیے،،،کیا ہم نے روز مرہ کی اشیاءسستی کیں؟ لیکن پھر بھی ہم نے ان دو سالوں میں عوام کا دل تو کیا جیتنا تھا، اُلٹا اُن سے صحت کارڈ، پناہ گاہیں، احساس کارڈ سمیت متعدد سہولتیں چھین لیں۔ اور بدلے میں ہم نے اپنا پروٹوکول بڑھا لیا، ہم نے کرپشن بڑھا لی، لیکن کوئی یہ بتائے گا کہ قوم کو کیا ملا ہے؟ ہم اکثر کہتے ہیں کہ نظام خراب ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نظام کو خوامخواہ”خراب“ نہیں بنایا گیا، بلکہ ایسا ”چالاکی سے“ بنایا گیا ہے ، تاکہ مخصوص لوگوں کو فائدہ ہو اور عام انسان ہمیشہ پستارہے۔انصاف کا نظام ایسا ہے کہ طاقتور بچ جائے اور کمزور گھسٹتا رہے۔ معاشی نظام ایسا ہے کہ امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہو جائے۔اصل بات تو یہ ہے کہ عام آدمی تک ریلیف نہیں پہنچا۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ معیشت کے اشاریوں کے بارے میں بے شمار دعوے کیے جارہے ہیں کہ یہ بہتر ہو رہے ہیں،،، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ الغرض اب تو اقوام متحدہ بھی کہہ چکا ہے کہ بانی تحریک انصاف کی گرفتاری غیرقانونی، غیرمنصفانہ، اور سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہے،، حالانکہ خان کی گرفتاری پر سبھی یہی کہہ رہے تھے کہ کپتان اپنے ”مشاغل“ کے باعث دو ہفتے بھی جیل میں نہیں گزار سکے گا اور رہائی کیلئے ڈیل کرنے پر مجبور ہو جائیگا لیکن اُس نے طاقت ور قوتوں کے سامنے سرنڈر کیا اور نہ ہی رہائی کیلئے شرائط قبول کرنے پر راضی ہوا۔ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کو بہادری سے قید کاٹنے پر10میں 10نمبر دئیے ۔ بلکہ خبریں یہ آرہی ہیں کہ جیل میں عمران خان کے ساتھ سختی کی جارہی ہے ان کو تنگ و تاریک کوٹھری میں رکھا گیا ہے ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی،،، حتیٰ کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جو اسی جیل میں قید ہیں ،کو اپنے شوہر سے قواعد و ضوابط کے تحت ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ عمران خان کے ساتھ نامناسب سلوک کی آہ وزاری کی گونج امریکہ کے ایوانوںمیںسنائی دے رہی ہے،قاسم نیازی اور سلیمان نیازی عمران خان کی رہائی کیلئے امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے دروازے کھٹکھٹارہے ہیں۔ بہرحال 5اگست 2023 کو اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے ُنہیں توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سنا ئی گئی تو اسی روز پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا۔ یقینا 2 سال کے دوران تحریکِ انصاف کے لیے بہت کچھ بدل گیا ہے ،،، پاکستان میں اگر کسی کے پاس تھوڑی سی بھی طاقت ہے تو وہ اُسے مذکورہ جماعت کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے،،، چاہے وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پاکستان پیپلزپارٹی، یا مقتدرہ۔ سبھی کی منزل ایک ہی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس دوران سبھی نے کچھ نہ کچھ کھویا اور کچھ نہ کچھ پایا، مگر ملک نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ کیا یہ پایا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف سے تین سے چارمرتبہ قرض لے لیے، عوام کا خون نچوڑا گیا.... لیکن مسئلہ پھر وہی رہا کہ تمام تر حربوں کے باوجود حکومتی ادارے اُس کا کچھ نہیں کر سکے۔ لہٰذایہ ساری چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف فیصلہ کرنے والوں کی ”انا“ کا ہے، کہ اُن کے سامنے سب جھکیں! حالانکہ اُنہیں اس چیز کی قطعاََ کوئی فکر نہیں ہے کہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں، بارشوں سے مر رہے ہیں، مہنگائی نے بھرکس نکال دیا ہے، عوام کا پیسہ اشرافیہ کو دیا جا رہا ہے، مگر فیصلہ کرنے والوں کو فرصت ہی نہیں ہے تحریک انصاف پر پابندیاں لگانے سے۔ ابھی بھی آپ دیکھ لیں کہ کیا عمران خان کو اڈیالہ جیل میں رکھنے پر اخراجات نہیں ہو رہے ہوں گے؟ ضرور ہو رہے ہوں گے۔ اُن کی سکیورٹی پر اخراجات ہو رہے ہوں گے، اُن کے کیسز پر اخراجات ہو رہے ہوں گے، اور پھرلگتا ہے کہ سپریم کورٹ بھی انہی سیاسی کیسز کے لیے رہ گئی ہے، عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ بھی ہزاروں کیسز چھوڑ کر انہی سیاسی کیسز کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ کئی کئی سال جب ہمارے فیصلہ کرنے والے فضولیات میں وقت گزاریں گے تو ملک نے کیا ترقی کرنی ہے؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان گناہ گار ہے تو ابھی تک اُس پر کوئی کیس ثابت کیوں نہیں ہوا؟اگر نواز شریف گناہ گارتھا تو اُسے دو سال میں کیوں نہ کوئی ٹھوس سزا ہوئی؟ان چیزوں سے تو یہی ثابت ہو رہا ہے کہ فیصلہ کرنے والی قوتیں چاہتی ہیں کہ ہر کوئی اُن کے سامنے جھکا رہے۔ جو ہم کہیں وہ مان لو، اور اگر نہ مانو گے تو ہم تمہیں گھسیٹیں گے، ماریں گے بھی اور قید میں بھی رکھیں گے۔ اور چونکہ سزا دینے کی طاقت ان کے اندر نہیں ہے ، تبھی یہ سب کو ہی اپنے پیچھے لگا کر رکھتے ہیں۔ تبھی یہ ن لیگ کو بھی گھسیٹتے ہیں، پیپلز پارٹی کو بھی گھسیٹتے ہیں اور تبھی یہ تحریک انصاف کو بھی گھیٹتے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ ،مانیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ملک کے خوشحالی نہ ہونے کی وجہ یہی بدشگونیاں ہیں۔ بہرحال عمران خان کو اقتدار چھوڑے ساڑھے تین سال ہوگئے، پی ڈی ایم ٹو نے ڈیڑھ سال حکومت کی۔ نگرانوں نے کئی مہینے گزارے، موجودہ حکومت کو بھی 17ماہ ہوگئے۔ لیکن ملک کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ کئی مرتبہ ڈیفالٹ ہونے سے بچا، اب بھی ڈیفالٹ ہونے کے بادل منڈلا رہے ہیں، ملک میں ایجوکیشن کی حالت زار آپ کے سامنے ہے، کھیلوں کے حالات آپ کے سامنے ہیں، کرکٹ ٹیم کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ حیرت ہے ہر چیز کی۔ ان کو شرم نہیں آتی۔اور پھر اگر آپ نے اُس شخص کی اہمیت کا اندازہ لگانا ہے تو خود دیکھ لیں کہ پارٹی چھوڑنے والوں کا انجام کیا ہوا؟ سابق وزیرِ دفاع پرویز خٹک، سابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان، سابق گورنر عمران اسماعیل، سابق وفاقی وزرا اسد عمر، فواد چوہدری، علی زیدی، فردوس عاشق اعوان، عامر کیانی، علی نواز اعوان آج کہاں ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریکِ انصاف میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور اس وقت کوئی باقاعدہ تنظیم بھی موجود نہیں ہے۔ لیکن عمران خان بطور لیڈر مزید مضبوط ہوئے۔وہ دوسال سے قید میں ہیں،ہر طرح کی فسطائیت کے باوجود نہ عمران خان اور نہ ہی تحریک انصاف اپنے نظریے سے پیچھے ہٹے،بادی النظر میں ہر گزرتے دن کیساتھ عمران خان کا نظریہ جیت رہا ہے اور غیر آئینی حکومت زمین بوس ہورہی ہے۔ یہ زمین بوس ہی نہیں بلکہ فارم 45اور 47کے چکروں میں پھنسی ہوئی ہے ۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ تحریک انصاف کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، اگر وہ کہہ رہے ہےں کہ پاک فوج اور حکومت اُن کے مینڈیٹ کو تسلیم کرےں، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی جیت ہوئی ہے تو جہاں اتنا نقصان ہوا ہے وہاں ایک شفاف الیکشن کروا کر دیکھ لیں، جس کو عوام چاہے اُسے اقتدار سونپ دیں۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ اس پر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا میں یہ تاثر قائم ہوگیا کہ پاکستان میں شفاف قیادت آچکی ہے تو یقین مانیں جتنا پیسہ الیکشن پر خرچ ہوا ہوگا۔ اُس سے کئی گنا زیادہ بیرون ملک سے انویسٹمنٹ آجائے گی۔ لیکن آزمائش شرط ہے!