نواز شریف کی مجبوریاں: دیکھیں !”تاریخ“ سے پردہ کب اُٹھتا ہے!

الحمد اللہ ! جس تیزی سے آئین پر کام ہو رہا ہے،،، لگتا ہے، ملک اُڑان بھرنے ہی والا ہے،،،جیسے 27ویں ترمیم چند دنوںمیں منظور کروا لی گئی، جسٹس امین الدین نے نئی وفاقی آئینی عدالت کا حلف اُٹھا لیا ہے، آرمی چیف کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا 2030تک کا نوٹیفکیشن ہو چکا ،یہی نہیں بلکہ چٹ منگنی پٹ ویاہ والا کام سپریم کورٹ کے مخالف جج صاحبان کے استعفے آئے اور فوری فوری قبول بھی کر لیے گئے،،، لیکن اس تمام ترکارروائیوں کے دوران اسمبلیوں نے 27ویں ترمیم کے لیے جس یکسوئی اور دل لگا کر کام کیا،، لگتا ہے کہ ملک جلد ہی اتنی ترقی کرلے گا کہ ہم ہر چیز پر قادر آجائیں گے! لیکن آج اسمبلی میں بیٹھے اُس شخص پر مجھے ترس آیا جو ووٹ کو عزت دلاتا دلاتا آج فیلڈ مارشل کو استثنیٰ دینے پر مجبور ہو گیا ہے،،، اب یہ علم نہیں کہ یہ ”مجبوریاں “ تاریخ میں کب سامنے آتی ہیں،، کب حضرت اپنا منہ کھولتے ہیں کہ اُس وقت یہ مجبوری تھی کہ انہوں نے فیلڈ مارشل کا ساتھ دیا۔ ورنہ میرا ذہن یہ بات ماننے سے انکاری ہے کہ نواز شریف نے 27ویں ترمیم کو خوشی خوشی پاس کروایا ہے! اور حیرت کی بات یہ تھی اسمبلی سے یہ ترمیم منظور کرواتے وقت ہر کوئی پرجوش نظر آیا،،، ماسوائے نواز شریف کے،،، جو اسمبلی میں بیٹھے سب سے زیادہ بے بس، مایوس اور خاموش نظر آئے،،، ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ 27ویں ترمیم میں باعث مجبوری اپنی پارٹی کا ساتھ دے رہے ہیں،،، کیوں کہ جس نواز شریف کو ہم جانتے ہیں اُس کی کبھی اسٹیبشلمنٹ سے نہیں بنی،،، وہ ہمیشہ فوج کے اختیارات کو محدود کرنے کے درپے رہتے رہے،،، نہیں یاد؟ ایک تو ہماری یادداشت بہت کمزور ہے! اگر کسی کو کچھ نہیں یاد آرہا تو میں بتاتا چلوں کہ یہ وہی نواز شریف ہیں جس نے ”ووٹ کو عزت دو“ مہم چلائی تھی، اور پہلی بار سرونگ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف جنرل فیض کا نام لے کر کہا تھا کہ مجھے اقتدار سے الگ کرنے والے یہ دو لوگ ہیں۔ ویسے ذہن پر زور دینا دماغ کی ورزش کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے،،، آپ کی یادداشت بہتر ہوتی ہے،،، آپ دلائل سے بات کرتے ہیں،،، آپ کے ذہن میں پورا سیاسی نقشہ کھینچا چلا جاتا ہے،،، اور ویسے بھی سائنس کے مطابق انسان پوری زندگی میں اپنے دماغ کا صرف چارسے پانچ فیصد حصہ استعمال کرتا ہے،،، نیوٹن واحد شخص تھا جس کا 8فیصد حصہ استعمال ہوا تھا،،، اندازہ لگائیں کہ اگر کوئی 15، 20فیصد استعمال کر لے تو دنیا کو فتح کر سکتا ہے،،، خیر بات شروع ہوئی تھی دماغ پر زور دینے کی تو نواز شریف سے ہزار اختلاف سہی، مگر اُس کی تعریف تو بنتی ہے، کہ جب سے نواز شریف نے سیاست میں قدم رکھا، ہم اُس وقت سے اُنہیں جانتے ہیں کہ اُن کا غلام اسحق خان سے جھگڑا شروع ہوا تھا، یعنی 1990 میں جب نواز شریف وزیرِ اعظم بنے تو ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاو¿س کے درمیان طاقت کی کشمکش شروع ہوگئی۔اُس وقت غلام اسحق خان صدر پاکستان تھے،،، نواز شریف ایک بااختیار وزیر اعظم کے طور پر حکومت چلانا چاہتے تھے۔لیکن غلام اسحق خان ایسا نہیں ہونے دے رہے تھے،،، نواز شریف کو لغاری، چوہدری شجاعت اور دیگر سیاست دانوں کی حمایت حاصل تھی، جبکہ غلام اسحاق خان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حلقے کھڑے تھے۔پھر آرمی چیف کی تعیناتی کے مسئلے پر نواز شریف اور غلام اسحاق خان ایک پیج پر نہیں تھے۔صدر غلام اسحاق خان جنرل وحید کاکڑ کے قریب سمجھے جاتے تھے جبکہ نواز شریف کی اپنی ترجیحات تھیں۔معاملات بگڑتے گئے، حتیٰ کہ 1993ءمیں بدترین سیاسی بحران پیدا ہوگیا۔ جس کے بعد مئی 1993 میں غلام اسحاق خان نے 58(2)(b) استعمال کر کے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کردیا۔لیکن سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بحال کردیا۔بحالی کے بعد بھی دونوں اکٹھے کام نہ کرسکے۔جس کے بعد آرمی چیف نے نواز شریف سے استعفیٰ مانگا تو وہ اڑ گئے کہ اگر میں استعفیٰ دوں گا تو ساتھ صدر اسحق خان کو بھی دینا پڑے گا،،، نواز شریف اپنی بات منوانے میں کامیاب رہے اور جنرل وحید کاکڑ کے ”کاکڑ فارمولا“ کے تحت دونوں کو مستعفی ہونا پڑا۔ اس کا نقصان نوازشریف کو یہ ہوا کہ اُس وقت کے فیصلہ کرنے والوں نے جماعت اسلامی کو توڑ دیا،،، نواز شریف 1990ءمیں جو آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے مذہبی اور اسٹریٹ ووٹ لے کر آئے تھے، وہ جماعت اسلامی کی وجہ سے تھا،،، لیکن 1993ءمیں جماعت اسلامی قاضی حسین گروپ اورسید منورحسن گروپ(سیاسی لائن) میں تقسیم ہوگئی ،،، اس تقسیم کا نواز شریف پر اثر نقصان کی صورت میں ہوا؟ 1993 میں جماعت کی کمزوری کا مطلب ، نواز شریف کی کمزور انتخابی پوزیشن تھی،،، نواز شریف کو وہ مذہبی/شہری ووٹ بینک نہیں ملا جو 1990 میں ملا تھا۔بلکہ کئی نشستیں پیپلز پارٹی کے پاس چلی گئیں جنہیں عام حالات میں جماعت اسلامی آئی جے آئی کو دلاتی تھی۔ پھر اس سے پہلے جنرل آصف نواز جنجوعہ کے ساتھ نواز شریف کے تعلقات دیکھ لیں، دونوں کے درمیان سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کو لے کر اختلافات اتنے بڑھ گئے تھے،،، کہ جنجوعہ صاحب دباﺅ برداشت نہ کرسکے اور ہارٹ اٹیک کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے۔ حالانکہ نواز شریف پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ نوا زشریف ہی ان کی موت کے ذمہ دار ہیں ، لیکن تف ہے نواز شریف پر کہ انہوں نے یہ سب کچھ بھی فیس کیا۔ پھر پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی آرمی چیف نے استعفیٰ دیا ہے تو وہ بھی نوازشریف کا ہی کریڈٹ ہے کہ انہوں نے جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لیا،،، جنرل جہانگیر کرامت نے ٹکراو¿ سے بچنے کے لیے خاموشی سے استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے کوئی مزاحمت نہ کی، اسی لیے انہیں بطور مضبوط اور باوقار جنرل یاد کیا جاتا ہے۔ پھر نواز شریف نے مشرف کو آرمی چیف لگایا، اُس کے ساتھ بھی ان کی نہ بن سکی، اور اُسے بھی نواز شریف نے اُتارنے کی کوشش کی، لیکن وہ ان کے گلے پڑ گئی،،، اور اسی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے موصوف کو دس سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنا پڑی۔۔۔ پھر جب یہ واپس آئے تو انہوں نے پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کیا۔ اور یہی میثاق جمہوریت بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھا، ،، جس کے بعد عمران خان کو لانچ کیا گیا۔ خیر بعد میں مشرف کے ساتھ جو ہوا وہ دیکھ لیں،،، اس بات کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے کہ اُنہوں نے 2013ءمیں اقتدار میں آکر مشرف کو عدالتوں میں جس طرح گھسیٹا، اُس کی مثال نہیں ملتی، وہ الگ بات ہے کہ اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ بھی یہی تھے۔ اور پھر ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی،،، جس کے بعد نواز شریف نے پرویز مشرف بارے پراسرار خاموشی اختیار کر لی تھی۔ پھر اسی نوازشریف نے ثاقب نثار کا سامنا کیا، جس نے اُس کو ڈسکوالیفائی بھی کیا،،، تبھی نواز شریف نے سب کو یاد ہوگا کہ کہاں سے کہاں تک لانگ مارچ نکالے اور ہر لانگ مارچ میں ایک ہی نعرہ لگایا گیا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ ،،، انہی مارچ میں مریم نواز نے کہا کہ ”یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے“ ،،، اسی احتجاجی تحریک میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے نہ جانے فوج کے بارے میں کن کن القابات سے نوازا۔ مطلب! نوازشریف کی ٹیم نے لڑائی کی اور بہادری سے ان کا مقابلہ کیا۔ پھر نواز شریف کو اپنی اسی روش اور عادت کے باعث 2024ءکے انتخابات کے بعد وزیر اعظم نہیں بنایا گیا،،، حالانکہ خاندان ایک،،، سیاسی جماعت ایک،،، اور باپ ایک۔۔۔ لیکن کیسی بات ہے کہ فیصلہ کرنے والے اس بات پر راضی ہی نہیں ہوئے کہ نواز شریف وزیر اعظم بنیں ،،، بلکہ اُنہوں نے چھوٹے بھائی شہباز شریف کا انتخاب مناسب سمجھا۔ یہاں سے آپ اندازہ لگا لیں کہ نواز شریف اور اسٹیبشلمنٹ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔ اور پھر اب بھی آپ دیکھ لیں کہ موصوف پراسرا ر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں،،، بلکہ وہ اسی خاموشی کو لے کر لندن چلے گئے اور سنا ہے کہ وہاں سے یہ واپس کسی کے کہنے پر آئے ہیں،،، لیکن نہ جانے اب ایسی کونسی مجبوری ہے، جس کی وجہ سے موصوف خاموش ہیں۔ لہٰذایہ ساری صورتحال میں آپ خود فیصلہ کریں کہ جناب! نواز شریف آسانی سے اپنے ہاتھ کاٹ کر اگلے کی جھولی میں ڈال سکتے ہیں؟ کیا ایک عام پاکستانی اس بات کو نوٹ نہیں کر رہا ہوگا کہ تین دفعہ کا پرائم منسٹر ، ایک دفعہ کا وزیر اعلیٰ ،،، جس کی تمام سیاست اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات میں گزر گئی،،، اُسے آخر کیا مجبوری ہوگی کہ اُس نے اپنے اختیارات کم کردیے۔ بہرکیف قصہ مختصر کہ اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ آج تک نواز شریف کی نہیں بنی،،، وہ ہمیشہ ان کے اختیارات پر کٹ لگانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتے رہے،،، بلکہ ایک مرتبہ ظفر اللہ جمالی کے ساتھ میں گپ شپ لگا رہا تھا،،، تو میں نے یہی سوال اُن سے پوچھا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ تو اُنہوں نے ان کے لیے مزاحاََ کہا تھا کہ ان کی کسی کے ساتھ کیا، ان کی اپنے ساتھ بھی کبھی نہیں بن سکتی۔ یعنی جونیجو اور ظفراللہ جمالی جیسے شریف النفس قائدین کے ساتھ اگر ان کی نہیں بن سکی تو باخدا کسی کے ساتھ بھی نہیں بن سکتی۔بلکہ 1990کے نواز شریف کے ساتھ بھی نہیں بن سکی تھی جو محض ابھی ابھی سیاست میں انٹر ہی ہوئے تھے۔ اور موصوف ان کے بغل بچے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ اگر اُس وقت نہیں بنی تو یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اب کیسے بن گئی ہے؟ اس کے لیے ہمیں نہ جانے کتنا انتظار کرنا پڑے گا،،، کیوں کہ بقول شاعر بے خودی بے سبب نہیں غالب کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے