بزرگ سیاستدان اور اخلاقیات کی دھجیاں !

ایک عرصہ سے تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنان جیل میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں،،، ان میں سے بہت سے بیمار ہیں، جنہیں جان بوجھ کر صحت کی سہولیات نہیں دی جا رہیں اور ساتھ ہی اُنہیں خاندان سے ملاقات کروانے کے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے،،، اب انہیں کس نے جیل میں ڈالا ہوا ہے اور کس کے ایما پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے،،، اس حوالے سے سب جانتے ہیں مگر کیا ایسے مواقعوں پر سیاستدان کو آپس میں اتفاق نہیں کرنا چاہیے؟ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ ان میں سے سب سے سینئر سیاستدان اور ملک کے صدر آصف علی زرداری خان صاحب کی آنکھ کی بیماری کو لے کر ہمدردی دکھانے کے بجائے اُلٹا اُن پر طنز کر رہے ہیں،،، موصوف فرماتے ہیں کہ” ابھی ڈیڑھ سال ہوا،،، جیل مردوں کی طرح کاٹو،،، عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو؟؟جیل میں رہنا ایک”عظیم امتحان“ ہے اور حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو مشکلات کا مقابلہ کرے نہ کہ ”شکایات کرے“۔ انہوں نے جیل کو”عبادت کا مقام“ قرار دیا اور ایسے قائدین کی تعریف کی جو جیل کی سختیوں کا مقابلہ کریں، جبکہ ان کے بقول وہ لوگ جو آنکھوں میں درد یا دیگر آسانیوں کی بات کرتے ہیں، قیادت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔یہ باتیں اگر طلال چوہدری کرتے، یا فیصل واوڈا کرتے یا کوئی اور کرتا تو ہمیں شاید اعتراض نہ ہوتا،،، لیکن سینئر سیاستدان ایسی بات کریں تو یقینا ہمیں حیرانگی بھی ہوتی ہے اور تعجب بھی کہ یہ کیسے بے حس سیاستدان ہیں جو کبھی بھی ایک دوسرے سے سیکھ ہی نہیں سکتے۔ ٹھیک ہے صدر آصف زرداری نے جیل بڑے حوصلے سے کاٹی ہے، مگر اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ آپ اگلے بندے کا مذاق بنائیں کہ جیل ایسے نہیں ایسے کاٹیں،،، بلکہ آپ کو تو کہنا چاہیے تھا کہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ برا سلوک نہ کریں، کل کو آج کے حکمران بھی جیل جا سکتے ہیں۔ اور اس روایت کو بلکہ ختم کرنا چاہیے۔ یعنی بتائیں کہ ایک صدر اور پارٹی کے سربراہ کو کیا یہ باتیں زیب دیتی ہیں ،،، لہٰذامیری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ آخر تمام سیاستدان ایک دوسرے کو ہی ذلیل کیوں کر رہے ہیں کہ جیل ایسے نہیں ایسے ہوتی ہے،،، جیل میں یہ ہوتا ہے وہ ہوتا ہے،،، کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ جو ان سب کو جیل کی سیر کرواتے ہیں، اُس کے بارے میں بھی تو بات ہونی چاہیے،،، کیا یہ مقتدرہ کو محدود کرنے کے لیے آپس میں اتفاق نہیں کر سکتے ؟ کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر ایک دوسرے کو جیلوں میں بندکرنے کا رواج اب ختم نہیں ہو جانا چاہیے؟لیکن اس کے برعکس یہ تو ایسے سُن ہو کر بیٹھے ہیںکہ جیسے انہوں نے ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہونا بلکہ اُسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہوا ہے۔۔۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے پرانے وقتوں میں ایک ریاست کا بادشاہ عوام پر بڑا ظلم کرتا تھا، ہر فرد پر ا±س نے ہر طرح کا ٹیکس لگا دیا تھا، عوام پھر بھی برداشت کر رہی تھی ایک دن بادشاہ نے وزیر خاص کو بلایا اور کہا مَیں نے عوام پر جتنا ظلم کِیا جا سکتا تھا ،کِیا ہے، جتنا ٹیکس لگایا جا سکتا تھا لگایا ہے، عجیب ڈھیٹ قوم ہے خاموشی سے برداشت کر رہی ہے میرے پاس کوئی شکایت کرنے یا ٹیکسز کی واپسی کا مطالبہ لے کر نہیں آیا آپ مشورہ دو کہ مَیں ایسا کیا کروں؟ جومیری رعایا مجھ سے انصاف اور رعایت مانگنے میرے دروازے پر آئے۔وزیر موصوف نے اپنی عقل و دانش کے مطابق مشورہ دیا بادشاہ سلامت آپ حکم فرما دیں، آئندہ شہر سے باہر جو بھی مزدوری کرنے جائے گا وہ فلاں پ±ل پر سے گزر کر جائے گا، وہاں بیٹھے ہمارے سرکاری اہلکاروں سے دس دس جوتے کھا کر جائے گا، بادشاہ کو وزیر کا مشورہ بڑا صائب لگا۔ دوسرے دن ہی بادشاہ کے حکم پر عمل شروع کر دیا گیا جو بھی شہر سے باہر جاتا پ±ل سے گزر کر جاتا، بادشاہ کے حکم کے مطابق دس دس جوتے کھا کر جاتا، کسی نے دس دس جوتوں کی وجہ نہیں پوچھی، کسی نے احتجاج نہیں کیا، کچھ دن گزرے ہوں گے بادشاہ کو اطلاع دی گئی محل کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں، بادشاہ بڑا خوش ہوا۔ آج عوام مجھ سے انصاف مانگیں گے، مَیں انصاف فرماو¿ں گا۔ بادشاہ کی عدالت لگ گئی، محل کے باہر جمع ہونے والوں نے بولنا شروع کیا،بادشاہ سلامت آپ نے ظلم کی انتہا کر دی،ہم نے برداشت کیا آپ نے ٹیکسز کی بھرمار کر دی، ہم نے خاموشی سے ادا کئے۔ اب بات ہمارے بچوں کی روزی روٹی پر آ گئی ہے اب ہم بالکل برداشت نہیں کر سکتے۔ بادشاہ نے خوشی خوشی فرمایا:بولو آپ لوگ کیا چاہتے ہو، عوام ایک ساتھ بولے بادشاہ سلامت ہم شہر سے باہر مزدوری، ملازمت اور کاروبار کے لئے جاتے ہیں پورے شہر کو پ±ل پر سے گزرنا پڑتا ہے وہاں آپ کے جوتے مارنے والے صرف دو بندے موجود ہوتے ہیں باہر نکلنے کے لئے کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں ہماری آپ سے التجا ہے کہ شہر کے باہر جانے والے راستوں پر جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ جوتے کھا کر ہم جلدی فارغ ہوں اور شہر سے باہر نکل جائیں،ہمیں دیر نہ ہو،جناب کا عوام پر بڑا احسان ہو گا، ،، لہٰذاہمارا حال بھی بالکل اس جیسی قوم کی طرح ہو چکا ہے کہ فیصلہ کرنے والے خواہ جتنا بھی ظلم کرلیں،ہم اُس پر کتفا کر لیں گے،،، لیکن آپس میں اتحاد کرکے ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے،،، اور رہی صدر آصف علی زرداری کی بات تو آپ ایک میچور سیاستدان ہیں، دو دفعہ آپ صدر رہ چکے ہیں، آپ کا ایک ساتھی سیاستدان جھوٹے مقدمات کے باعث جیل میں زندگی گزار رہا ہے، آپ اُس سے ہمدردی کرنے کے بجائے طنز کے نشتر چلا رہے ہیں، آپ نے جس خوبصورتی سے جیل میں وقت کاٹا ہمیں اُس کا علم ہے، لیکن جناب عالی آپ یہ تو نہ کہیں کہ آپ رو رہے ہیں،،، وہ تو صرف اپنا علاج مانگ رہا ہے، اور وہ بھی جو اُس کا بنیادی حق ہے،،، کیا پی پی پی کو یاد نہیں ہے کہ جب زرداری جیل میں تھے، ،، تو نواز لیگ اُس وقت بے نظیر فیملی پر ظلم کر رہی تھی،،، بی بی کو دو دو تین تین گھنٹے دھوپ میں کھڑا رکھا جاتا تھا،،، اُس وقت پیپلزپارٹی کو خاصی ہمدردی چاہیے ہوتی تھی، ،، لیکن جب یہ خود اقتدار میں آئے ہیں تو اب یہ دوسروں مذاق بناتے ہیں۔۔۔ ان کو اس پر شرم بھی نہیں آتی؟اس لیے میرے خیال میں ن لیگ سے زیادہ پی پی پی کو اس حوالے سے زیادہ خیال کرنے کی ضرورت ہے،،، کیوں کہ یہ پرانے اور میچور سیاستدان ہیں،،، ان کے خاندان کے خاندان سیاست میں ہیں،،،زرداری کا باپ سیاست میں تھا، بلاول کو دیکھ لیں، اُس کا نانا سیاست میں تھا، اُس کی والدہ ملک کی وزیر اعظم رہیں، اُس کا باپ سیاست میں ،،، مطلب ان کے تو خون میں سیاست ہے، چیئرمین سینٹ کے خون میں سیاست ہے، سپیکر قومی اسمبلی کے خون میں سیاست ہے، ،، وزیر اعلیٰ سندھ کے خون میں سیاست ہے،،، جبکہ ان کے مدمقابل عمران خان کو ان کے مقابلے میں سیاست کا عشر عشیر بھی نہیں آتا۔ اُن کے خاندان سے پہلا بندہ سیاست میں آیا ہے، وہ بھی حادثاتی طور پر ۔ وہ تو محض ایک سپورٹس مین تھا، اُس کو تو سیاست آپ نے سکھانی ہے۔ یعنی آپ کو تو زیادہ محتاط ہونا چاہیے،،، اور بتانا چاہیے کہ سیاست کیسے ہوتی ہے،،، اور آپ کو تو زیادہ اخلاق کی بات کرنی چاہیے، آپ کو تو زیادہ وضح دار ہونا چاہیے، لیکن آپ تو ایک دوسرے کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ پھر آپ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ الگ الگ کرتی ہے،،، لیکن جب آپ کی صفوں میں اتحاد ہوگا تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی تیسر ا فائد اُٹھا جائے۔ اور پھر کیا اس میں حقیقت نہیں کہ عمران خان پر قائم ہونے والے مقدمات کی کوئی اہمیت نہیں ہے،،، اگر اُس وقت ن لیگ نے آپ پر جعلی مقدمات بنائے تھے تو کیا بانی تحریک انصاف پر بننے والے مقدمات درست ہیں؟ دراصل قصور ان کا بھی نہیں ہے،،، بلکہ اس وقت پاکستان چوں چوں کا مربع بن چکا ہے،،، کیوں کہ پاکستان میں جو حلف لیتا ہے وہ اس کی پاسداری نہیں کرتا،،، اور ہم جو قوانین بناتے ہیں، کوئی اُس پر عملدرآمد نہیں کرتا۔ لہٰذااگر کوئی قانون پر عمل نہیں کرتا تو پھر ہم قوانین بناتے ہی کیوں ہیں؟ اسی طرح ہمارے ججز بھی جو حلف لیتے ہیں ، وہ کبھی آپ کو اُس کی پاسداری کرتے نظر نہیں آئیں گے،،، سکیورٹی فورسز والے حلف لیتے ہیں، وہ اسکی پاسداری نہیں کرتے،،،سیاستدان اقتدار میں آنے کے بعد حلف لیتے ہیں، وہ اپنے حلف کی پاسداری نہیں کرتے،،، آپ نے جیل مینﺅل کے حوالے سے ایک قانون بنایا ہوا ہے، اور کوشش کرتے ہیں کہ سب کو اُس کا پابند بنایا جائے،،، اب اس مینﺅل میں جو چیزیں میسر ہیں وہ تو دیں،،، جو چیزیں نہیں ہیں، آپ وہ نہ دیں،، کبھی کبھی تو آپ جیل احکامات کی ایسے پابندی کرواتے ہیں کہ باتھ روم تک میں کیمرے لگا دیتے ہیں،،، لیکن کبھی کبھی جو جائز چیزیں ہیں آپ وہ بھی نہیں دیتے۔ بہرکیف ن لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اب یہ تین بڑی پارٹیاں ملک میں برسراقتدار ہیں،،، لہٰذاانہیں چاہیے کہ اب بھی وقت ہے ، ہوش کے ناخن لیں اور اپنی صفیں درست کر لیں، اور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا سیکھیں، ورنہ سیاستدانوں کی حیثیت کٹھ پتلیوں کی بھی نہیں رہے گی،،، آج بھی ہمارے سیاسی فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں،،، صرف اسی وجہ سے کہ ایک ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نااہل لوگ ہیں،،، ان کی آپسی لڑائیاں ہی انہیں لے ڈوبیں گی۔۔۔ لہٰذااس چھاپ کو اس وقت ختم کرنے کی ضرورت ہے،،، تاکہ ملک آگے بڑھ سکے،،،ا ور ملک اُسی وقت آگے بڑھتا ہے یا دنیا اُسی وقت ہم پر اعتبار کرتی ہے، جب ملک میں جمہوری نظام قائم ہو،،، بلکہ خالص جمہوری نظام قائم ہو۔ اور خالص جمہوری نظام اُسی وقت آئے گا جب ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں گے!