کرکٹ بورڈ اور بکاﺅ کھلاڑی ،،، سب دھندہ ہے!

اس وقت ملک میں امن و امان کی جو صورتحال ہے، وہ اتنی خراب ہے کہ کچے کے ڈاکوﺅں کی کارروائی تو آپ نے سن لی ہوگی ، مگر بلوچستان کی بھی سن لیں کہ ایک دن میں دہشت گردی کے چار مختلف واقعات ہوئے ہیں۔ ایک واقعہ موسیٰ خیل میں ہوا جہاں 23افراد کو مختلف گاڑیوں سے نکال کر شناختی کارڈ چیک کرکے مخصوص فرقے اور گروہ کے افراد کو قتل کر دیا گیااور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ دوسرا واقعہ مستونگ میں پیش آیا جہاں پورے کا پورا تھانہ ہی جلاد یا گیا۔ پھر قلات کی ہی سن لیں جہاں مسلح دہشت گردوں نے 10لیویز کے اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔ جبکہ بولان میں ریلوے کا پل تباہ کردیا گیا ، جس میں خدانخواستہ ٹرین حادثہ تو نہیں ہوا مگر ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جب امن و امان کی یہ صورتحال ہو تو کیسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ملک ٹھیک چل رہا ہے، اور آپ یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں کہ بغیر کچھ کیے حالات بہتر ہو جائیں گے اور پھر جب ملک کے حالات یہ ہوں تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دیگر ادارے بھی صحیح انداز میں کام کر رہے ہیں۔ آپ کرکٹ کو ہی دیکھ لیں! ویسے تو اتنے افسوسناک واقعات کے بعد کرکٹ آج کا موضوع تو نہیں ہونا چاہیے تھا مگر گزشتہ روز بنگلہ دیش کے ہاتھوں ہوئی ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد شائقین کرکٹ انگشت بدندان ہیں کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ قوم اس وقت اس قدر افسردہ ہے کہ سرہی نہیں اُٹھایا جا رہا ۔ جس میچ کے بارے میں پہلے تین دن تک کہا جا رہا تھا کہ یہ میچ پاکستان کے حق میں جائے گا، پھر چوتھے دن کہا جانے لگا کہ یہ ڈرا کی طرف جا رہا ہے، جبکہ پانچویں دن ہم نے خود میچ بنگلہ دیش کو جتوا کر اپنے خلاف ہی کئی ریکارڈز بھی بنوا لیے۔ آپ یقین مانیں کہ میچ ہارنے کے بعد تو ایک وقت کے لیے پوری قوم سکتے میں آگئی کہ یہ کیسے ممکن ہے، پھر کہا جانے لگا کہ میچ ”فکس“ تھا، پھر بات ہوئی کہ ٹیم میں گروپ بندی جڑیں پکڑ چکی ہے، میچ کے دوران کئی حیران کن فیصلے کیے گئے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن سو باتوں کی ایک بات کہ 90فیصد کرکٹ ماہرین یہی کہتے پائے گئے کہ ہم میچ جان بوجھ کر ہارے ہیں۔ اور اگر ایسی بات ہے تو کیا اس کا مقصد بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کو خوش کرنا تھا؟ پیسہ کمانا تھا یا کوئی اور مقصد تھا؟ اس حوالے سے ضرور انکوائری ہونی چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے یہ انکوائر بھی لازمی کیا جانا چاہیے کہ بورڈ اس حوالے سے کیا کر رہا ہے؟ اور کیا کھلاڑی ان کے کنٹرول سے باہر نکل چکے ہیں؟ میرے خیال میں اس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی قصور وار نہیں ہیں۔ محسن نقوی جیسے کئی چیئرمین کئی آئے اور چلے گئے، کئی اس بورڈ میں جنرل بھی آئے کئی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز بھی آئے ۔ لیکن یہ کھلاڑی کبھی بورڈ کے کنٹرول میں رہے ہی نہیں ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کھلاڑیوں اور اس کھیل کو ان کی اوقات سے زیادہ پیسہ اور اہمیت دے رہے ہیں، سب کو نظر آرہا ہے کہ یہ کھلاڑی لالچی ہوگئے ہیں، کھلے عام یا ڈھکے چھپے انداز میں، براہ راست یا کسی کے ذریعے یہ کسی نہ کسی طرح جوا کھیلتے ہیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بسا اوقات پی سی بی جوے میں خود بھی شامل ہو جاتا ہے، اس لیے آپ کیسے اسے روک سکتے ہیں؟ مجھے یاد ہے کہ 90کی دہائی میں جب پنجاب کا محکمہ پولیس چن چن کر جرائم پیشہ افراد کو اصلی نقلی انکاﺅنٹرز میں مار رہا تھا، اُس وقت کئی ایسے انکاﺅنٹرز ہوتے تھے جن پر سوالیہ نشان لگتا تھا۔ خاص طور پر رات گئے جو پولیس مقابلے ہوتے تھے وہ جعلی ہی ہوتے تھے۔ عین اس وقت ایک پولیس آفیسر جو انکاﺅنٹرسپیشلسٹ تھے، اُس پر مقدمات درج ہونا شروع ہوگئے۔ جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب جن افراد کے انکاﺅنٹر کرنے کے ”احکامات “ وصول کرتے اور اُس پر عمل کرتے تھے، ساتھ ایک دو جعلی پولیس مقابلے اپنے ”ذاتی “ بھی کر لیتے۔ یاد دھانی کے لیے آپ کو بتاتا چلتا ہوں موصوف پر 1999ءمیں طاہر پرنس کو جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ جب افسران بالا نے اُن سے پوچھا کہ اُنہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ تو انہوں نے برملا فرمایا کہ اگر میں نے آپ کے کہنے پر درجنوں جعلی پولیس مقابلے کیے ہیں تو پھر ایک آدھ اگر میں نے مار دیا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہی حال ہمارے کرکٹ بورڈ کا ہے، کہ اگر وہ مبینہ طور پر کسی جگہ ملوث ہوتے بھی ہیں تو جناب! ایسا کرنے سے کھلاڑیوں کو شہہ ملتی ہے، وہ اپنی اپنی دوکانداری لگا لیتے ہیں، اور پھر اُتنا پیسہ وہ کرکٹ سے نہیں کماتے جتنا وہ جوئے سے کمالیتے ہیں۔ اور پھر دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ میں یا آپ جب لڑکپن میں تھے، تو یاد کریں، اُس وقت ہمیں کتنی سمجھ بوجھ ہوا کرتی تھی۔ اکثر اوقات ہم وہی کرتے تھے جو ہمارے قرب و جوار میں ہو رہا ہوتا تھا، یا جن لوگوں کی صحبت میں ہم بیٹھا کرتے تھے ہم وہی کچھ ہی کیا کرتے تھے، آپ کالج لائف کو دیکھ لیں، اُس وقت طلباءتنظیمیں عام تھی تو ہم بھی اُن میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے، آج یہ تنظیمیں نہیں ہیں تو یقینا ہمارے طلباءبھی اس سے آشنا نہیں ہوں گے۔ بالکل اسی طرح یہ کھلاڑی بھی جب کچی عمروں میں پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کرتے ہیں تو پھر یہ اُسی سازشی ماحول میں ڈھل جاتے ہیں، نہ تو کرکٹ بورڈ کی طرف سے ان کی باقاعدہ کوچنگ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی ذہنی تربیت کے لیے کلاسز کا اجراءکیا جاتا ہے۔ اگر ان تربیتی کورسز کی ضرورت نہ ہوتی تو پاک فوج یا دیگر اداروں میں انہیں بغیر تربیت کے ہی بھیج دیا جاتا ۔ وہاں سکواڈز کی تربیت اس لیے بھی کی جاتی ہے کہ اُنہیں ہر اچھی اور بری چیزوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ اُنہیں ایک عرصہ کے لیے زیر تربیت رکھ کر وہاں اُن کو متعلقہ ادارے کے ماحول میں رکھ کر اُنہیں اس ماحول سے شناسا کروایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس پاکستانی کھلاڑیوں خواہ وہ کرکٹ کے ہوں، ہاکی کے یا دوسری کھیلوں کے ۔ اُن کے لیے ایسا کوئی پلیٹ فام مہیا نہیں کیا جاتا۔ جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے 90فیصد کھلاڑی ملک کے لیے کھیلنے کے بجائے شہرت، روپے پیسے اور دیگر مراعات کی چکاچوند روشنیوں میں گُم ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ بہت سے کھلاڑی کالج یا یونیورسٹیوں کے مقابلوں میں نکلتے تھے، انٹرکالجز مقابلوں میں حصہ لیتے، ڈومیسٹک کھیلتے تھے، پھر تب جا کر بین الاقوامی کرکٹ تک پہنچتے تھے۔ یعنی تب تک اُن کی عمر 25سال کے قریب ہوجاتی تھی۔ لیکن اب 15سال سے 18سال کے لڑکے میدان میں اُترتے ہیں اور دو چار سال میں اپنا کیرئیر کسی نہ کسی وجہ سے متنازع کروا لیتے ہیں اور اندرونی سیاست کی ایسی بھینٹ چڑھتے ہیں کہ اُن کا کیرئیر ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اور پھر ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں سے بہت سے کھلاڑی غریب یا مڈل کلاس گھرانوں سے آتے ہیں ، جو یک دم پیسے کی فراوانی دیکھ کر اپنے ہوش و ہواس ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ اور اپنا لائف سٹائل ہی بدل لیتے ہیں جس کا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ تنقید کی زد میں آجاتے ہیں ، جس کے بعد وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذاایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ قوم کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کریں ، آپ پہلے باﺅلنگ میں یا بیٹنگ میں اپنی جگہ بنائیں، پھر باﺅلنگ میں سکور کھاتے رہیں، اور قوم آپ کو دیکھتی رہے، یا بیٹنگ میں پہلے اکا دکا میچ میں آپ سکور کریں، ٹیم میں جگہ بنائیں پھر آپ پیسے لے کر آﺅٹ ہوتے رہیں اور قوم آپ کا منہ دیکھتی رہے؟اور کہتی رہے کہ یہ سب بکے ہوئے ہیں! اور رہی بات بنگلہ دیش کی تو 1971ءتک کوئی ایک بنگالی کھلاڑی بھی پاکستانی ٹیم میں شامل نہیں تھا، اُس وقت ہم کہا کرتے تھے کہ ان کھلاڑیوں میں صلاحیت نہیں ہے، لیکن آج اُن کی گیم دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ ہم سے بہتر ہیں۔ اُن میں کم از کم ٹیم سپرٹ تو ہے، جذبہ ہے، لگن ہے، اُن کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی کہ وہ کرکٹ کو جیتنے آئے ہیں ۔ حالانکہ بنگلہ دیش میں ابھی تازہ تازہ انقلاب آیا ہے، وہاں کی حکومت کا تختہ اُلٹا گیا ہے، پھر دوسری جانب اکا دکا کھلاڑیوں پر قتل کے مقدمات بھی درج ہوئے ہیں لیکن یہ سب چیزیں انہوں نے اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیں۔ بہرکیف کرکٹ کے ساتھ اس قوم کے جذبات اس لیے جڑے ہیں، کیوں کہ کوئی اور کھیل نمایاں کارکردگی دکھانے سے قاصر ہے، ماسوائے جیولین تھرو کے حالیہ گولڈ میڈل کے بعد کھلاڑی اس کھیل میں بھی تھوڑی دلچسپی دکھا رہے ہیں مگر اس وقت کرکٹ ہی قومی اُفق پر چھایا ہوا ہے تو خدارا! اسے گلیمرائز نہ کریں، کرکٹ بورڈ ہمارے اُبھرتے ہوئے بچوں کا خیال رکھے، اُن کو ”آٹوگراف“ لینے والوں اور والیوں سے بچائے۔ اور اُنہیں بتائے کہ آپ کی منزل یہ گلیمر نہیں ہے، اور نہ ہی یہ اداکارائیں ہیں بلکہ آپ کی منزل برائن لارا ہے، سچن ٹنڈولکر ہے، دھونی ہے، ڈان بریڈمین ہے، عمران خان ہے، شین وارن ہے، سر ویون رچرڈ ہے، گیری سوبر ہے، وسیم اکرم ہے، مارک وا، سٹیوا ہے یا رکی پونٹنگ ہے۔ اداکاراﺅں والی بات میں نے مزاحاََ نہیں کی بلکہ آپ خود دیکھ لیں کہ جتنی بھی اداکاراﺅں کے افیئرز بنتے ہیں وہ انہی کھلاڑیوں کے ساتھ بنتے ہیں، اُنہیں شاید اس میں پیسہ نظر آتا ہے یا شہرت۔ اس کا کچھ علم نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ اداکارائیں ان کھلاڑیوں کو اپنے جال میں ضرور پھنسا لیتی ہیں۔ پھر مبینہ طو ر پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان اداکاراﺅں کے گیمبلنگ پارٹیوں کے ساتھ روابط ہوتے ہیں جو ان کھلاڑیوں سے میچ پوزیشن یا کنٹرول جان کر آگے بتاتی ہیں جس سے وہ بھی روپے پیسے میں کھیلتی ہیں،،، اس لیے کرکٹ بورڈ سے گزارش ہے کہ آپ بقول شاعر خود ہی اپنا احتساب کریں،،،، ورنہ آپ ہی اپنی اداو¿ں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی