شخصیات کے ذاتی مفادات سے ملک تباہ ہو رہا ہے!

پاکستان میں آج کہنے کو تو جمہوری دور حکومت ہے۔مگر یہاں کوئی بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔کیوں کہ حکومتی وزراءکہہ رہے ہیں کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، راتوں رات ڈرافٹ تیار کر کے ہمیں پکڑا دیا جاتا ہے، ہم صرف پوسٹ مین یا کوآرڈی نیٹر کا کام کررہے ہیں۔ حکمران کہہ رہے ہیں کہ اُنہیں اقتدار نہیں چاہیے تھا مگر اُنہیں مجبوری میں تھمایا گیا، بڑی سیٹ پر بیٹھا ایک شخص کہہ رہا ہے کہ اُسے ایکسٹینشن نہیں چاہیے تھی، مگر اُسے زبردستی اس میں اُلجھایا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف آئینی ترامیم کا پورا پنڈال ہی اُس کے لیے سجا دیا گیاہے، پھر ایک شخص کو اُس کی ”خاص“ کارکردگی کی بنا پر اُس کے دور کو بڑھانے کے لیے بھی قانون سازی کی جا رہی ہے، جبکہ اُس کا براہ راست تعلق بھی جنرل الیکشن سے ہی ہے۔ لیکن مجال ہے کہ یہ لوگ مل کر اداروں کو اتنا مضبوط بنا لیں تاکہ ہم دنیا میں منہ دکھانے کے قابل رہ جائیں۔ حالانکہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ دنیا ہماری ان حرکتوں سے بے خبر ہے تو وہ سراسر غلط سوچتا ہے، کیوں کہ آپ دنیا کی کوئی بھی رینکنگ اُٹھا کر دیکھ لیں، آپ اپنے آپ کو آخری نمبروں پر ہی پائیں گے،،،اس کی وجہ آخر ہے کیا؟ صرف یہی کہ اداروں سے زیادہ شخصیات کے ہاتھ مضبوط کرنا۔ اور پھر وہ شخصیات اتنی مضبوط ہوجاتی ہیں کہ آپ اُن کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔ خیر بات ہو رہی تھی ایکسٹینشن کی تو ہم ہر شخص کی ایکسٹینشن کے خلاف ہیں، کیوں کہ اس سے اداروں میں میرٹ نہیں رہتا۔ جونیئرز کا استحصال ہوتا ہے، اور پھر اُن کا کیا قصور جو اعلیٰ ترین عہدہ لینے کی پوزیشن تک پہنچ جاتے ہیں مگر صرف اس لیے اُنہیں اعلیٰ ترین عہدہ نہیں دیا جاتا ہے کہ اُن کے سینئر کو ایکسٹینشن مل چکی ہے۔ اس طرح پھر کوئی محنت نہیں کرتا، سفارشی کلچر پروان چڑھتا ہے۔ اور سب سے اہم کہ فیصلے بھی میرٹ پر نہیں ہوتے۔ میں یہاں کسی ایک ادارے کی بات نہیں کررہا، پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے ادارے میں یہی حال ہے، حد تو یہ ہے کہ ہماری جو بھی سیاسی پارٹی اقتدار میں آتی ہے، اُس کا جی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاور سمیٹے، زیادہ سے زیادہ دیر تک اقتدار میں رہے، اور ہر ادارے میں زیادہ سے زیادہ اپنے بندے بھرتی کرے۔ آپ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کو چھوڑیں، پی ٹی آئی کے دور کو دیکھ لیں جنہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی، لیکن پھر بعد میں سب نے دیکھا کہ وہ اُن کے گلے بھی پڑ گئی۔ حالانکہ تحریک انصاف نے یہ کام اپوزیشن کے ساتھ مل کر کیا تھا۔اور پھر رہی پیپلزپارٹی کی بات تو آپ یقین مانیں اس وقت 26ویں آئینی ترامیم میں سب سے زیادہ جلدی پیپلزپارٹی کو ہے۔بلاول کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر آپ وقت پر انصاف چاہتے ہیں تو آئینی عدالت ضروری بھی ہے اور مجبوری بھی۔ تبھی یہ پارٹی بالکل ایسے لگ رہی ہے جیسے یہ اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے۔ یا یوں بھی لگ رہا ہے کہ اب اگلی باری پیپلزپارٹی کی ہوگی، یا بلاول کو کسی نے اگلا وزیر اعظم بننے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر کہاں ہے، پروگریسو موومنٹس، سوشلزم، انسانی حقوق، اداروں کی مضبوطی، یا جمہوریت۔ پھر تو آپ شخصیت پرستی کو فروغ دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں ن لیگ تو شاید ان سے بھی پیچھے رہ گئی ہے، یا اُس نے چپ سادھ لی ہے۔ یا یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ان کی خاندانی لڑائیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ نوازشریف کو فی الوقت خاموش کروا دیا گیا ہے۔ اس سے لگ رہا ہے کہ وہاں بھی دال میں کالا ہے۔ ویسے انہوں نے اداروں کا کیا ٹھیک کرنا ہے، ان کی تو اپنی سیاست ہی ایسی ہے، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں ہماری تمام سیاسی جماعتیں شخصیت پرستی کے گرد گھوم رہی ہیں، پی پی پی کو دیکھ لیںاسی وجہ سے بلاول کو اعتزار، قمر الزماں کائرہ، نیئر بخاری، فاروق ایچ نائیک جھک کر سلام کرتے ہیں، جبکہ ن لیگ میں مریم نواز اور حمزہ شہباز کو اسی شخصیت پرستی کی وجہ سے احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، جاوید لطیف، خواجہ آصف، سعد رفیق جیسے سینئر سیاستدان جھک کر سلام کرتے ہیں ۔ اے این پی کا بھی یہی حال ہے، یعنی سلطنت عثمانیہ یا سلطنت مغلیہ اور ہماری حکومتوں ، سیاسی جماعتوں اور اداروں میں کیا فرق ہے؟ خیر بات ہو رہی تھی اداروں میں میرٹ کی تو جناب! ہمارے ہاں یہ ایک روایت بنتی جا رہی ہے کہ ہم لوگ اداروں کو بہتر بنانے کے بجائے شخصیات کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ جیسے پاک فوج میں یا دیگر اداروں میں مدت ملازمت میں توسیع دی جاتی ہے ،ا ب عدلیہ میں بھی یہ کام شروع ہونے لگا ہے، اور یہی کام نیب چیئرمین کی مدت ملازمت میں بھی توسیع کرنے کی غرض سے ہو چکا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ نیب یا کوئی دوسرا ادارہ صرف ایک شخص کی مرہون منت کام کررہا ہے جبکہ پورے ملک میں اُن کے پلے کا کوئی بھی شخص موجود نہیں ہے۔ حالانکہ دنیا میں جتنے بھی ملکوں نے ترقی کی، کسی ایک نے بھی شخصیت پرستی کی پیروی نہیں کی۔ دوسری جنگ عظیم میں وزیراعظم سر ونسٹن چرچل برطانوی عوام کا ہیرو تھا۔ اس نے حیران کن جرات، دلیری اور تدبر سے انگلش قوم کی قیادت کی اور ہٹلر کے طوفان سے بچایا۔ اس جنگ میں چرچل کی جگہ کوئی اور وزیراعظم ہوتا تو شائد جنگ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ جنگ کے فوری بعد برطانیہ میں عام انتخابات ہوئے۔ چرچل کا خیال تھا کہ اس کی قائدانہ صلاحیتوں کے پیش نظر جیت یقینی ہے۔ اسے اپ سیٹ شکست ہوئی اور لیبر پارٹی کے ایٹلی وزیراعظم بن گئے۔چرچل نے یہ کہہ کر اقتدار منتقل کیا کہ آج ملکی ادارے مضبوط ہیں تو برطانیہ ترقی کرتا رہے گا۔ مطلب وہاں کے عوام نے بھی شخصیت پرستی کو فروغ دینے کے بجائے ”آواز کا ووٹ“ دیا اور ایٹلی کو وزیراعظم بنا دیا۔ لیکن اس کے برعکس اگر چرچل اقتدار کے ساتھ چمٹے رہتے اور اُن کی اولاد اقتدار سنبھالتی تو شاید برطانیہ آج ایک تیسری دنیا کا ملک ہوتا۔ پھر امریکی صدر اوباما ریٹائرڈ ہوئے تو وہ واپس نہیں آئے، اور نہ ہی اس نے اپنی بیٹیوں کو سیاست میں زبردستی دھکیلا، بلکہ پنٹا گون اُن کے تجربے سے استفادہ حاصل کر رہا ہے، اور وہ بھی کسی نہ کسی تھنک ٹینک کا حصہ ہیں ۔ اسی طرح صدر کلنٹن جوانی میں ہی ریٹائرڈ ہوگئے، مگر دوبارہ سیاست میں نہ آئے جبکہ ان کی بیگم ہیلری کلنٹن سیاست میں آئیں لیکن ایک سسٹم سے گزر کر سیاست میں آئیںاور صدارتی الیکشن لڑا ۔ پھر جرمنی کی چانسلر کو دیکھ لیں، اُنہوں نے جتنا بھی Surve کیا خود ہی کیا ، اپنے بچوں کو سیاست میں لانے سے گریز کیا۔ یا اپنے بچوں کو سیاست میں لانے کے لیے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا۔ بہرحال سیاست یا ملکی و قومی اداروں میں تو ویسے بھی شخصیت پرستی زہر قاتل ہوتی ہے، اور آج کے دور میں تو ویسے بھی یہ نہیں ہونی چاہیے، کیوں کہ تحقیق کے مطابق اگر ایک شخص تین سال تک ایک ہی عہدے پر کام کرتا رہے تو اُس کی کارکردگی میں فرق پڑتا ہے، آپ یہی تحقیق ہمارے اداروں پر چیک کر لیں، سب کچھ سامنے آجائے گا۔آپ ڈکٹیٹرز کو دیکھ لیں، جن کا پہلے تین سال کا عرصہ انتہائی متاثر کن رہا لیکن بعد میں انتہائی مایوس کن کارکردگی دکھاتے رہے ہیں، آپ مشرف کے آغاز کے سال دیکھ لیں، ایسے لگ رہا تھا جیسے اس ملک کے لیے اللہ نے فرشتہ بھیج دیا ہے، مگر بعد میں امریکا کو اڈے دینا، پرائی جنگ میں خود کو دھکیلنے، ڈاکٹر عافیہ سمیت بہت سے پاکستانیوں کو امریکا کے حوالے کرنا جیسے فیصلے کرکے ملک کو مستقل مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا۔ پھر ضیاءالحق کو دیکھ لیں، آغاز میں بہترین تھے، بعد میں تو حالات سب کے سامنے تھے۔ ایوب خان کو دیکھ لیں، اُنہوں نے بھی آغاز میں اچھا کام کیا.... اور پھر لوگ تنگ آجاتے ہیں، بلکہ ان کے قریبی لوگ بھی تنگ آجاتے ہیں اور پھر ملک کا نقصان الگ ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب آپ من پسند شخصیات سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں تو کبھی یہ آپ کواوپر لے جاتی ہےں، کبھی عروج کی بلندیوں پر، توکبھی زوال کی گہرائیاں مقدر بنتی ہیں۔یعنی بعض اوقات نتیجہ الٹ نکلتا ہے۔ جس لیڈر سے امید ہوتی ہے کہ وہ اصلاحات لائے گا، تبدیلی کے ایجنڈے کو کامیاب کرے گا، وہ اس بری طرح ناکام ہوتا ہے کہ اس کا ووٹر بھونچکا رہ جائے۔ اس کی طلسماتی شخصیت کا مجسمہ وقت کے تھپیڑوں سے یوں اچھل کر گرتا اور چکنا چور ہوتا ہے کہ کوئی ٹکڑا سلامت نہیں رہتا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ فلاں شخص نے اچھے کام نہیں کیے، کیے ہوں گے،،، ظاہر ہے وہ میرٹ کو ہمیشہ سامنے رکھتے ہیں ، لیکن کیا اُن کے پائے کا ادارے میں کوئی ایک بندہ بھی نہیں ہے، یقین مانیں جب کبھی آرمی چیف کی ایکسٹینشن، چیئرمین نیب یا چیئرمین الیکشن کمیشن کی ایکسٹینشن کی بات آئے تو ہم مثالیں دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہمیں سپریم کورٹ جیسے ادارے سے سبق لینا چاہیے جہاں چیف جسٹس سینئراٹی کی بنیاد پر بنتے ہیں اور وہاں کبھی کوئی اس معاملے میں خرابی بھی پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن اب وہاں بھی وزیر اعظم ہی اگر آرمی چیف منتخب کیا کرے گا تو کیا حکومت کے خلاف فیصلے آیا کریں گے؟ کس چیف جسٹس کی جرا¿ت ہو گی کہ وہ ان کے خلاف فیصلہ دے۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ نوازشریف کے خلاف احتساب عدالت میں فیصلہ دینے والا جج ارشد ملک آج اس دنیا میں نہیں ہے، وہ بظاہر تو کورونا سے جاں بحق ہوا مگر .... آپ اُس کسٹم انسپیکٹر کا بھی کبھی پتہ کر لیجئے گا جس نے ایان علی کو لاکھوں ڈالر کے ساتھ پکڑا مگر 2016ءمیں وہ اندھے قتل کا شکار ہوگیا۔ الغرض یہ لوگ خود اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ لوگ ان سے ڈرتے ہیں، جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو یہ فرعون بن جاتے ہیں۔ اور جب یہ اقتدار میں نہیں ہوتے تب مخالف افسران کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ .... نہیں چھوڑیں گے، اور پھر یہ واقعی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس لیے خدارا اگر اس ملک کو بچانا ہے تو اداروں کا ساتھ دیں اُنہیں مضبو ط کریں ورنہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔