پی ٹی آئی کا 30واں یوم تاسیس

مجھے اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ تحریک انصاف کی صف اول کی قیادت جیل میں ہونے کے باوجود وہ آج بھی وہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے،،، اس جماعت کو آج سے 30سال قبل 25اپریل 1996کو اس لیے شروع کیا گیا تھا کہ ملک میں موجود 2سیاسی جماعتوں کے جمود کو توڑا جاسکے،یہ جماعت عوام میں مقبول ہوئی،،، پھر اقتدار میں آئی اور عوامی مقبولت کے فیصلے کیے اور ساتھ ہی اُسے اقتدار سے صرف اس لیے فارغ کر دیا گیا کہ اس کے قائدین عوامی سطح پر مقبول فیصلے کر رہے تھے اور ہمہ وقت ”یس سر! “ نہیں کہہ رہے تھے،،،، اور اب تواتر سے کہا جا رہا ہے یا کہلوایا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کا قصہ ختم ہو گیا،،، وہ اپنے کے پی کے تک محدود ہو گئی ہے،،، لیکن میرے فیصلہ کرنے والی قوتوں سے ایک سوال ہے کہ 1977ءمیں پیپلزپارٹی سے حکومت لے لی گئی، اور 1979ءمیں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تھی، تو کیا پیپلزپارٹی ختم ہوگئی تھی؟ نواز شریف کو مشرف نے 10سال کے لیے جلا وطن کر دیا تھا، تو کیا مسلم لیگ ختم ہوگئی تھی؟ کیا آپ اس وجہ سے کہہ رہے ہیں کہ یہ جو بھگوڑے پی ٹی آئی کو چھوڑ کر جا رہے ہیں، یا چلے گئے ہیں، یا نئی پارٹیاں بنا رہے ہیں ، یا بنا کر 2024ءکے الیکشن میں لے چکے ہیں،،، تو کیا ان کے جانے سے تحریک انصاف ختم ہوگئی؟ آپ ماضی کو اُٹھا کر دیکھ لیں،،، مشرف دور میں ن لیگ پر برا وقت آیا، بہت سے لوگ چلے گئے،،، حتیٰ کہ ن لیگ ٹوٹ کر ق لیگ بنی اور پھر یہ اقتدار میں بھی آئی تو بتائیں کہ ن لیگ کو کیا فرق پڑا؟ پھر پیپلزپارٹی میں سے نکل کر کتنی پیپلزپارٹیاں بنیں،،، اُس وقت بھی فیصلہ کرنے والے خوش ہو رہے تھے کہ ہم نے پیپلزپارٹی کا کچومر نکال دیا ہے، اور اسے ختم کر دیا ہے، تو کیا پارٹی ختم ہو گئی تھی؟ تو کیا فیصلہ کرنے والوں کو دوبارہ پیپلزپارٹی سے رجوع نہیں کرنا پڑا؟ تو کیا ن لیگ سے دوبارہ رجوع نہیں کرنا پڑا؟ بلکہ بار بار کرنا پڑا۔ نواز شریف کو بار بار وزیر اعظم انہوں نے ہی بنایا،،، اور محترمہ کو بھی بار بار انہوں نے ہی منتخب کروایا،،، اور پھر صدر زرداری کو بھی بار بار صدر انہی کے مشورے سے بنایا گیا ؟لہٰذااگر مقتدرہ ان کرپٹ جماعتوں کو سینے کے ساتھ لگا سکتی ہے تو کیا تحریک انصاف کی دوبارہ باری نہیں آئے گی؟ الغرض تاریخ گواہ ہے کہ پارٹیاں کبھی ایسے ختم نہیں ہوا کرتیں،،، ان کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی، کہ کسی پارٹی کو آپ اُس وقت ختم کر سکتے ہیں،،، کہ جب آپ اُس کے بعد ملک کی حالت بہتر کریں،، جب تک آپ ملک کی حالت بہتر نہیں کریں گے،،، عوام کو پرانا حکمران بہتر لگتا رہتا ہے،،، یا یوں کہہ لیں کہ پرانے حکمران کا سودا بکتا رہتا ہے،،،، آپ اپنے آپ کو دیکھ لیں کہ چار سال ہو گئے تحریک انصاف کو اقتدار سے الگ کیے ہوئے،،، کیا آپ نے کسی ایک شعبے میں ترقی کی؟ آپ نے تو ان کو بھیجنے کے بعد صرف بدتمیزیاں کی ہیں، بلکہ تاریخی زیادتیاں بھی کی ہیں۔ بلکہ پورے ملک کو کنگال کر کے رکھ دیا ہے،جن ملکوں کے آپ کے پاس پیسے پڑے ہوئے ہیں، وہ جب چاہیں آپ سے پیسے مانگ لیتے ہیں، یہی نہیں بلکہ وہ اپنی مرضی کے کام بھی کروا رہے ہیں۔ جو آنے والے دنوں میں ملک کے لیے تباہی کا باعث بنیں گے۔۔۔ آپ کی خود مختاری خطرے میں پڑچکی ہے،،، لیکن آپ تو خوش ہی بہت ہیں کہ سعودی عرب ہمیں ڈالر دے رہا ہے،،، اور بدلے میں آپ نے اُس کا پورا دفاع سنبھالا ہو اہے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ عوام کی حالت دیکھ لیں،،، لوگوں کے گھروں کے چولہے بند کروا کراُنہیں ”فری دسترخوان“ کی لائن میں لگا دیا ہے،،، لوگوں کو گیس نہیں مل رہی، پٹرول و ڈیزل لوگوں کی پہنچ سے باہر نکل گیا ہے، بجلی کے بلوں اور گیس کے بلوں نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے،،، کبھی لاکھ لاکھ روپے بل آجاتا ہے تو آپ کی کسی دفتر میں شنوائی بھی نہیں ہوتی، بلکہ آپ کو وہ ادا کرنا ہی پڑتا ہے،، اُس کے لیے خواہ آپ کا زیور بکے، جمع پونجی چلی جائے یا گھر کا سامان،،، اس سے سرکار کو کوئی غرض نہیں ہے۔ سرکار اپنی تمام تر عیاشیوں، نقصانات اور غیر ضروری ادائیگیوں کے پیسے عوام سے پورے کر رہے ہیں،،، اور سوچ رہے ہیں کہ تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا یہ دیوانے کا خواب نہیں؟ اس لیے میرے خیال میں تحریک انصاف کے ووٹ میں آج رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا،،، اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ان بھگوڑوں کے جانے سے تحریک انصاف کو کوئی فرق پڑا ہے تو وہ غلط ہیں،،، یہ لوگ یقینا جماعت چھوڑ سکتے ہیں،،، مگر” ووٹر“ تحریک انصاف کو ووٹ دینے سے پیچھے نہیں ہٹا۔اور یہ جو لیڈر تحریک انصاف کو چھوڑ کر گئے ہیں کیا آپ نے ان کا حال دیکھا ہے؟ یہ اپنے حلقے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں،،، کیا پرویز خٹک کے جانے سے تحریک انصاف ختم ہوئی ہے؟ یا جہانگیر ترین کے جانے سے کوئی فرق پڑا ہے؟ یا تحریک انصاف کو توڑ کر استحکام پاکستان پارٹی بنانے والوں کی وجہ سے پارٹی ختم ہوگئی ہے؟ ایمانداری سے بتائیں کہ کیا پی ٹی آئی کا ووٹر ٹس سے مس ہوا؟ اگر میرے اس دعوے سے کسی کو کوئی شائبہ ہے تو آپ آج بانی تحریک انصاف کو ضمانت دے کر دیکھ لیں،،، آپ کو خود اندازہ ہو اجائے گا۔ بہرحال تحریک انصاف پر جتنی مرضی سختیاں کر لیں، قدرت کا ایک اصول ہے کہ مظلوم ، ظلم سے کبھی نہیں مرتا بلکہ اُس کے اندر بدلے کی آگ ہمیشہ رہتی ہے۔ اس لیے میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ بانی تحریک انصاف کے ساتھ الیکشن لڑیں یا اُس کے بغیر تحریک انصاف کا ووٹ آج بھی اُتنا ہی ہے جتنا 2024ءکے الیکشن میں پڑاتھا۔ اس لیے میں تو یہی کہوں گا کہ اس وقت ”سیاسی “ رویے اپنائیں،،، اور یہ سیاسی رویے ہمیشہ سیاسی لوگوں سے ہی آگے بڑھتے ہیں،،، لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ موجودہ سیٹ اپ میں کوئی سیاسی شخصیت موجود ہے تو آپ غلطی پر ہیں،،، نہ اس وقت ہماری سیاست میں نوابزادہ نصراللہ خان رہا، نہ مفتی محمود رہا، نہ ہی معراج خالد جیسے زیرک سیاستدان رہے جنہیں سیاست کرنا آتی تھی، جو عوام کی بات کرتے تھے،،، جو اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لیتے تھے،،، لیکن آج کے سیاستدان تو الحمد اللہ ”فنڈز“ کے علاوہ بات ہی نہیں کرتے،،، جو اسمبلی میں بولتا ہے اُسے فنڈز کا چورن دے دیا جاتا ہے،،، اور وہ چپ ہو جاتا ہے،،، مطلب! یہ صرف عوام کا خون چوسنا جانتے ہیں، لکھی ہوئی تقریریں کر سکتے ہیں،،، یا لکھے ہوئے فیصلے و مسودے پڑھ سکتے ہیں ،،، اس کے علاوہ انہیں کچھ نہیں آتا۔ اس لیے اب توعوام کے لیے حالات یہ ہے کہ وہ سسکیاں لے رہے ہیں،،، کبھی روٹس کے نام پر اُنہیں باندھ دیا جاتا ہے ،،ویسے پہلے روٹ لگا کر کبھی رنگ روڈ کو بند نہیں کیا جاتا تھا،،، لیکن اب آدھا آدھا گھنٹہ رنگ روڈ بند رہتا ہے،،، ابھی مذاکرات کوسوں دور ہوتے ہیں ،،، آپ جڑواں شہروں کے عوام کو بھیڑ بکریاں بنا دیتے ہیں،،، میں تو یہ کہوں گا کہ آپ نے عوام کو مختلف مسئلوں میں اُلجھا کر رکھ دیا ہے ،،، کبھی آپ اُن پر چیک اینڈ بیلنس کے لیے فائر وال لگا رہے ہیں، کبھی جرمانے کر رہے ہیں، کبھی سی سی ڈی وغیرہ کے ذریعے اُنہیں دھمکا رہے ہیں تو کبھی پولیس گردی کروارہے ہیں اور خوش ہیں کہ آپ نے عوام کے دل جیت لیے ہیں! پھر مارکیٹیں 8بجے بند کررہے ہیں،،، آپ باہر نکل کر دیکھیں،،، 8بجے تمام شہروں میں کہرام مچا ہوتا ہے،،، بلکہ تاجر برادری تو ملک سے نکلنے کے لیے پر تو ل رہی ہے،،، آپ نے تو عمران دور کے ہیلتھ کارڈ تک بند کر دیے ہیں،،، آپ نے خان دور کے مفت دسترخوان بند کر دیے۔ اور پھر یہ سب حرکتیں کرنے کے بعد آپ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی مقبولیت کم ہو جائے گی؟ تو یہ آپ کی بھول ہے۔۔۔ بہرکیف اگر آپ نے پیپلزپارٹی کو اقتدار سے فارغ کیا، یا ن لیگ کو اقتدار سے فارغ کیا یا تحریک انصاف کی ساری قیادت کو جیل میں بند کر دیا تو بدلے میں عوام کو بھی تو کچھ دو ! میں کہتا ہوں کہ یہ تینوں جماعتیں ہی فارغ ہیں،،، چلیں! آپ ہی تھوڑا بہت عوام کو ریلیف دے دیں۔ آپ نے نواز شریف پر کیس بنائے،،، دسیوں ملوں کے کیس بنائے گئے،،پھر آپ نے محترمہ بے نظیر بھٹو پرکئی قسم کے کرپشن کیس بنائے،،، پھر آپ نے ڈیڑھ سو سے زائد کیسز عمران خان پر بنا دیے،،، جن کا سر پیر ہی نہیں ہے،،، کبھی گھڑی چوری کا الزام لگا دیا جاتا ہے تو کبھی عدت کا کیس ڈال دیتے ہیں تو کبھی اُس پر اسلامی انسٹی ٹیوٹ بنانے کا الزام ڈال دیتے ہیں،،، بلکہ لوگ تو ہنس رہے ہیں کہ آخر کیس ہیں کیا؟ لیکن آپ کی بنائی ہوئی عدالتیں انہی کیسوں کو لے کر خاصی سنجیدہ بھی ہیں۔ اور ”سنجیدہ“ فیصلے بھی کر رہی ہیں۔ اس لیے میں دست بستہ گزارش کر رہا ہوں کہ عوام کی بات کریں،،، وہ خاصی مشکل میں ہیں،،، اگر اُن کی مشکلیں بڑھیں تو پھر کوئی نہیں بچے گا،،، اور یہ مت سوچیں کہ آپ کو عوام پسند کرنے لگے ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گاکہ پہلے آپ نے انڈیا کے ساتھ جنگ میں اپنی فتح قرار دے کر اپنے آپ کو بچالیا، پھر آپ نے ایران امریکا میں ثالثی کا کردار ادا کر کے اپنے آپ کو بچالیا،،، لیکن آئندہ کیا کریںگے؟ اور پھر کیا اس ثالثی کا ثمر عوام تک پہنچا؟ کیا عوام کے لیے کوئی چیز سستی ہوئی؟ کیا آنے والے دنوں میں جب عوام کی بس ہو گئی تو اُن کے غیض و غضب سے بچ جائیں گے؟ میں یہاں یہ بات واضح کردوں کہ عوام کی ہمدردی ایران کے ساتھ اُس وقت تک ہے جب تک اُن کے پاس کھانے کے لیے آخری لقمہ بچا ہوا ہے، لیکن جب جس کے گھر میں روٹی نہیں ہوگی تو اُسے کسی معرکے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ پھر وہ آپ پر چڑھ دوڑے گا،، کیوں کہ ایک کہاوت ہے کہ بھوکا پیٹ تو کبھی کسی مذہب کی سپورٹ بھی نہیں کرتا! اس لیے میرے خیال میں یہ وقت ہے حکمرانوں کا اپنے آپ کو سدھارنے کا اور ظلم کو کم کرنے کا،،، میں یہ نہیں کہتا کہ عوام سے ہمدردیاں بانٹنے کا ،،، لیکن ظلم کو کم سے کم کردیں گے تو یہی بہت بڑا احسان ہوگا۔ اور ظلم صرف ماردھاڑ ہی نہیں ہوتا ، عوام پر بھاری اور ناجائز جرمانوں کو بھی ظلم کہتے ہیں،،، جس سے آپ نے اربوں کھربوں روپے اکٹھے کر کے ،،، بعد میں اپنے لیے لگژری جہاز خرید لیا۔ پھر یہی نہیں بلکہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں بھی کٹوتی کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے،،، حالانکہ یہ دونوں بجٹ تو پہلے ہی ڈیڈ لیول پر ہیں۔ اس لیے تحریک انصاف ایسے ختم نہیں ہوگی بلکہ عوام کو اُن کا حق دینے سے ختم ہوگی !