ہماری بقاءمحبت میں ہے، نفرت میں نہیں!

ریاست ایک بار پھر عوامی احتجاج کو بزور قوت کچلنے میں کامیاب ہوگئی، سمجھ سے باہر ہے کہ اس پر حکومت کو مبارکباد پیش کروں یا تنقید لکھوں کہ ریاست کو جو ڈنڈہ سوٹا چلانے کی عادت پڑ گئی ہے، وہ یقینا کسی دن کسی بڑے سانحے کو جنم دے گی۔ اور سانحہ بھی خدانخواستہ ایسا ہوگا جو انقلاب کو جنم دے سکتا ہے۔ کیوں کہ عوام ابھی تو ظلم و جبر کو برداشت کر کے دبک کر کونے کھدروں میں چلے جاتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا دیرپا ہونے والا ہے۔یعنی جو کچھ مریدکے میں ہوا، کیا یہ کسی جمہوری ریاست کو زیب دیتا ہے؟ یقین مانیں احتجاج کرنے والوں کو اس طرح اُٹھانے کے حوالے سے مجھے مصر کے تحریر اسکوائر کی یاد دلا دی،،، جب احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے بل بوتے پر روند دیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا گیا،،، اورپھر وطن عزیز میں ایک اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن ، 9مئی، 26نومبر کر دیا گیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ریاست ایسے اقدام اُٹھانے سے پہلے مکمل سوچ بچار سے کام لیتی تھی،لیکن آج تو یہ کھلے ہاتھوں عوام پر گولیاں برسا رہی ہے،،، اور ایسا لگتا ہے کہ کسی کو اس چیز کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہے،،، ایسا شاید اس لیے بھی ہے کہ یہ ایک ”ہارڈ اسٹیٹ“ بن گئی ہے،،، جس میں نہ تو صحافت آزاد ہے، نہ عدلیہ ، نہ الیکشن کمیشن اور نہ ہی ریاست کے نمائندے۔ آج مذکورہ مذہبی جماعت کے رہنماﺅں گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں،،، جماعت کے قائدین پر دہشت گردی کے پرچے بھی کر دیے گئے ہیں۔مبینہ سکرپٹ کے مطابق بھارتی ، امریکی ، برطانوی، کینڈین کرنسی بھی اُن کے گھر سے نکل آئی ہے،،، سونے ، چاندی کی اینٹیں بھی نکل آئی ہیں،،، ان برآمدگیوں کے حوالے سے مجھے بھٹو دور یاد آگیا کہ جب پنجاب پولیس نے استاد دامن کو گرفتار کیا تو عدالت پیشی پر پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ان کے گھر سے، اسلحہ، بم، پستول، ہینڈ گرنیڈ، وغیرہ بر آمد ہوئے ہیں۔ تو عدالت نے استاد دامن سے پوچھا ”یہ آپ کے گھر سے کیا ملا ہے؟“ تو استاد دامن نے کہا ”معزز جج صاحب، میرے گھر کا دروازہ چھوٹا تھا ورنہ یہ یہاں سے ٹینک بھی برآمد کر سکتے تھے“۔ خیر ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمیں ریاست کے اندر جتھوں کو مضبوط کرنا چاہیے،،، کہ وہ جب مرضی اُٹھیںاور اسلام آباد کی طرف رُخ کر لیں،،، یا امریکی سفارتخانے و دیگر سفارتخانوں کا رُخ کر لیں۔ ایسا کرنے سے یقینا وطن عزیز کی بدنامی ہوتی ہے،،، میں کبھی کسی دور میں ان پرتشدد تنظیموں کا حامی نہیں رہا،،، لیکن سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ ان ”جتھوں“ کی پرورش کون کرتا ہے؟ کون انہیں اسلام آباد تک پہنچاتا آرہا ہے،،، اور وہاں پھر مخصوص گاڑیاں انہیں دو وقت کا کھانا پہنچاتی رہی ہیں۔ کون ان کے سامنے بار بار سرنڈر ہوتا رہا ہے،،، کبھی ان کو کڑک نوٹ دیکر گھروں کوروانہ کیا گیا ، کبھی انہیں حکومت کا دھڑن تختہ کرنے اسلام آباد بھیجا جاتا رہا، کبھی فیض آباد پر بستر ڈالنے کیلئے تمام تر سہولتیں فراہم کی گئیں، کئی دن چلنے والے دھرنے میں جی میں جو آیا انہوں نے کہا۔ اُنہیں وہاں پانی کی کمی تھی نہ خوراک کا مسئلہ تھا۔ ٹھنڈ سے بچاﺅ کیلئے ایرانی کمبل بھی پہنچا ئے گئے ۔ حالانکہ فیض آباد وہ جگہ ہے کہ جو روک دی جائے تو پاکستان کا آدھا سانس بند ہو جاتا ہے،،، پھر اُنہیں جس طرح تھپکی دے کر اُٹھایا گیاوہ بھی سب نے دیکھا۔ پھر ان کے سامنے ایک وفاقی وزیر قانون کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا، اور استعفیٰ لیا گیا،،، پھر اسے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کروا کر ایک جماعت کا ووٹ بنک خراب کیا گیا،،، سمجھا یہ جارہا تھا کہ اس سب کے نتیجے میں حکومت کمزور ہو رہی ہے۔ حقیقت مگر یہ تھی کہ اس سب کے نتیجے میں ریاست کمزور ہورہی تھی۔ جس کی نہ کسی کو اُس وقت فکر تھی اور نہ ہی آج ہے۔ اگر آپ نے ان کو بنایا تو کم از کم اس کا ریموٹ کنٹرول تو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے تھا،،، لیکن ریموٹ ”مصلحتاََ“ توڑ کر ریاست نے سیدھی گولیاں مارنے کو ترجیح دی۔ اور پھر حیرت زدہ بات یہ ہے کہ ایسی خبروں کو روک کر ریاست عوام کو سوشل میڈیا کے سہارے چھوڑ دیتی ہے،،، حالانکہ مستند خبر کے لیے آپ کا الیکٹرانک میڈیا موجود ہے،،، مگر وہاں مکمل بلیک آﺅٹ ہوتا ہے،، لوگ خبروں کی تلاش میں سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں جہاں سے اُنہیں جھوٹ سچ سب کچھ دیکھنے کو ملتا ہے،،، اور وہیں سے عوام کے اندر ریاست کے لیے نفرت بڑھتی ہے،،، جبکہ اس کے برعکس اگر ریاست میڈیا پر پابندیاں نہ لگائے تو یا اگر آج صحافت آزاد ہوتی تو مجھ سمیت کئی صحافی ان مولانا حضرات سے سوال پوچھ سکتے تھے کہ جب فلسطین میں ٹوٹے پھوٹے امن معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں،،، بھیڑیے اور میمنے کی صلح ہو گئی ہے،،، حالانکہ بھیڑیے میمنے کے سارے خاندان کو ختم کر دیا ہے،،، لیکن پھر بھی میمنا چاہتا ہے کہ صلح کر لی جائے،،، کیوں کہ اُس کے پاس کوئی حل نہیں ہے،،، وہ دو سال سے بھیڑیے کے ہاتھوں تذلیل کا شکار تھا، اُس کو اتنا مارا گیا ، اُس پر اتنے ظلم ڈھائے گئے کہ ہم ہٹلر کو بھلا بیٹھے،،، 80ہزار فلسطینیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا،،، پورا غزہ تباہ ہوگیا ،، جس کا ملبہ اُٹھانے کے لیے ہی 15سال سے زائد کا عرصہ لگے گا۔ ان حالات میں جب حماس نے ہتھیار ڈال دیے،،، امن فورسز وہاں تعینات ہوگئی ہیں،،، اور جیسے تیسے کر کے عرب ممالک اور امریکا و یورپ.... بھیڑیے (اسرائیل )کے شکر گزار ہیں کہ اُس نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ تو ایسے میں ہم کس باغ کی مولی ہیں؟ ....پھر میں یہ سوال بھی ان حضرات سے پوچھتا کہ اگر آپ امریکی ایمبیسی جانا چاہتے ہیں تو اپنا ایک وفد بھیج دیں،،، تاکہ وہ آپکی شکایت لے جائے اور اس سے یہ بھی تاثر جائے گا کہ آپ نے ایک اچھا کام کیا ،،، بلکہ سادہ لفظوں میں آپ کی ”حاضری“ بھی لگ جانی تھی۔.... پھر میں اُنہیں اس بات کا احساس دلاتا کہ راستوں کی بندش کے بارے میں رسول اکرم کس قدر ناراض ہوا کرتے تھے،،، کہ ایک غزوہ کے سلسلے میں لشکر روانہ ہوا تو راستے میں بعض اصحاب نے خیمے لگاتے ہوئے گزرگاہ کو بھی استعمال کر لیا۔ حضور اکرم تک جب یہ بات پہنچی کہ تو آپ نے ایک صحابی کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس جگہ پر جا کر اللہ کے رسول کی طرف سے اعلان کریں کہ راستے میں بندش کا باعث بننے والے خیموں کو اکھاڑ کر راستے کو کشادہ کر دیں۔ جو لوگ مسافروں اور گزرنے والوں کیلئے باعثِ آزار بن رہے ہیں اللہ کی راہ میں ان کا جہاد قبول نہیں ہوگا۔ اندازہ کریں کہ جہاد کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے میدانِ جنگ کی جانب گامزن مجاہدین کو وارننگ دی گئی کہ وہ لوگوں کے راستے بند نہیں کر سکتے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کا جہاد قبول نہیں کرے گا۔ .... پھر میں اُن کو یاد دلاتا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ”راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے“ ۔ حضور کریم نے مزید فرمایا ”راستوں پر مت بیٹھو“۔ لیکن نہیں! ریاست کبھی وہ راستہ نہیں چنے گی، جس سے آپ کا سافٹ امیج اُبھرتا ہو۔ بلکہ اپنے بلنڈرز چھپانے کے لیے ہر چیز جو عوام سے وابستہ ہے ، اُس پر پابندیاں لگائے گی،،، ایسا کرنے سے نقصان کسی اور کا نہیں بلکہ ریاست کا ہوتا ہے،،، کیوں کہ حکمرانوں نے جب جب اپنی مرضیاں مسلط کیں تب تب ریاست نے نقصان اُٹھایا ہے،،، اور پھر جب سے ریاست کا 9مئی کے بعد سیاسی کارکنان پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا ہے تب سے ان کا حوصلہ بڑھ گیا ہے اور ریاست ”ہارڈ اسٹیٹ“بن گئی ہے،،جو ہر کسی کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی عادی ہو چکی ہے۔ حالانکہ ہارڈ اسٹیٹ دشمنوں کے لیے ہوتی ہے،،، اپنوں کے لیے نہیں۔ ہارڈ سٹیٹ کی اصطلاح وہاں استعمال ہوتی ہے جہاں ریاست سب کچھ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہو،،، سکیورٹی ادارے اور بیوروکریسی مضبوط ہوں، اور پالیسی سازی میں عوامی رائے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ یا ریاستی اداروں کا زیادہ اثر و رسوخ ہو۔ریاست کے مختلف ادارے، جیسے عدلیہ، پولیس، اور سول بیوروکریسی، عوامی دباﺅ کے بجائے ریاستی پالیسیوں کے تابع رہتے ہیں۔ میڈیا، سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے پر مختلف اوقات میں ریاست کی سخت پالیسیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ بہرحال وقت کے حکمرانوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ ہارڈ اسٹیٹ بننے کے بجائے سافٹ اسٹیٹ بنائیں،،، خاص طور پر عوامی نمائندوں پر ہاتھ ہولا رکھیں،،، ایسا نہ ہو کہ کل کویہ لوگ اپوزیشن میں آئیں اور ان کا جینا دو بھر ہو جائے۔۔۔ اور پھر یوں یہ سلسلہ چل نکلے۔ کیوں کہ ریاست ہمیشہ ماں کا کردار ادا کرتی ہے،،، اور سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ آج پاک بھارت بارڈر کے ساتھ ساتھ افغان بارڈر (ڈیورنڈلائن) پر جھڑپیں ہیں،،، ہمیں تحریک طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کا سامنا ہے،،، تو ایسی صورت میں کیا ریاست اس چیز کی متحمل ہو سکتی ہے کہ وہ اندرونی اختلافات اتنے بڑھا لے ۔ کیا اس وقت ریاست کو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت نہیں؟ نیلسن مینڈیلا کہا کرتے تھے کہ عظیم لوگ اعلیٰ مقصد کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے سے کبھی گھبرایا نہیں کرتے، اگر آپ اپنے دشمن کے ساتھ امن چاہتے ہیں تو اس کو اپنا شراکت کار بنا لیں۔یہی بات امریکہ کے سولہویں صدر ابراہام لنکن بھی کہا کرتے تھے کہ میں اپنے دشمن کو دوست بناکر دشمنی ختم کرنے کا قائل ہوں، عظیم امریکی لیڈر ابراہام لنکن نے سیاہ فام غلامی کے خاتمے کیلئے اپنا بھرپور قائدانہ کردار ادا کیا۔ میں ہر فورم پر اپنا یہ موقف پیش کرتا ہوں کہ کامیابیوں کے حصول کیلئے ہرمذہب کی اعلیٰ تعلیمات اور تاریخ کے عظیم انسانوں کی زندگیاںہمارے لئے مشعل راہ ہونی چاہئے۔ لہٰذامیں پھر یہی کہوں گا، کہ ان مسلح جتھوں کی ریاست میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، لیکن انہیں بنانے والوں ، اور ان کے سہولت کاروں کا بھی تو احتساب ہونا چاہیے، ورنہ ریاست کمزور سے کمزور ہوتی جائے گی۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ریاست کی بقاءمحبت میں ہے، نفرت میں نہیں۔ ہمیں ہر مسئلے کو محبت کے ساتھ سلجھانے کی ضرورت ہے،،، ایک دوست صحافی کہتے ہیں کہ یاد کریں کہ 1977ءمیں قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی میں خونیں جنگ جاری تھی، قومی اتحاد کی قیادت جیلوں میں بند تھی مگر پھر ان کو سہالہ ریسٹ ہاﺅس منتقل کرکے مذاکرات شروع کئے گئے۔ اب بھی ملکی استحکام، سیاسی ساکھ اور معاشی مستقبل کیلئے ایسا کرنا اشد ضروری ہے۔ فرض کریں میری یہ تجویز مان لی جائے تو یکایک ملک میں کشیدگی کا ماحول بدل جائے گا اور ریاست اپنی بھرپور توجہ معیشت کی بہتری کی طرف مرکوز کر سکے گی۔ اور رہی بات مذہبی جماعت کی تو ریاست پرامن احتجاج کو پرتشدد احتجاج میں بدلنے کے لیے خود سے کوئی قدم نہ اُٹھائے،،، حکومت ان سیاسی جماعتوں کے لیے اتنے کانٹے بچھائے جتنے کل کو یہ برداشت کرسکیں کیوں کہ بقول شاعر موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے