جنگ جیتنے کی زیادہ خوشی بھی سمجھ سے بالا تر ہے!

بھارت میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد خراب ہونے والے حالات ابھی تک پوری طرح نارمل نہیں ہوسکے۔ پاکستان نے تو آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کر کے اُسے ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا مگر بھارت میں آپریشن ”سندور“ ابھی تک جاری ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں حالات یک طرفہ طور پر اس قدر نارمل ہیں کہ ہم نے پی ایس ایل کے بقیہ میچز بھی کروا دیے ہیںاورمحض فائنل میچ ہونا باقی ہے، جبکہ بھارت میں ابھی تک کچھ نارمل نہیں ہوا، وہاں آئی پی ایل کا ابھی تک دوبارہ آغاز نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بھارتی سرکار ابھی تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ ہر روز دن میں کئی مرتبہ اُن کے وزراءپاکستان کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور اپنی جنگ کی حکمت عملی تبدیل کرنے کا بھی عندیہ دے رہے ہیں۔ یقینا اُن کا اشارہ پاکستان میں بلوچستان، کے پی کے یا دیگر جگہوں پر دہشت گرد کارروائیاں کرنا ہے۔ اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ جیسے گزشتہ تین چار دن میں ہمارے بچوں کی سکول بس پر خضدار میں حملہ کیا گیا۔ جس میں بچوں سمیت درجن بھر افراد شہید ہوئے جبکہ چار درجن افراد شدید زخمی ہیں۔ پھر ملک میں دیگر مقامات پر بھی دہشت گرد کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ یقینا یہ کام بھارت کا ہی ہو سکتا ہے، یا 5، 10فیصد شائبہ کسی اور پر بھی کر سکتے ہیں لیکن 90فیصد اس دہشت گردی میں بھارت ہی ملوث ہے جو بی ایل اے، افغان طالبان، یا دیگر خوارج کے ذریعے پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کر رہا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ جیت کے جشن سے ہی باہر نہیں آرہے ! اور دشمن پاکستان کے اندر تک مرضی کی کارروائیاں کر رہا ہے،،، اور پھر یہی نہیں بقول ڈی جی آئی ایس پی آر جنوری 2024سے آج تک 4850دہشت گرد کارروائیاں ہوئیں جن میں بقول ڈی جی صاحب کے تمام کارروائیوں کے پیچھے بھارت چھپا ہوا ہے۔ اور ان وارداتوں کے ثبوت بھی اداروں کے پاس موجود ہیں۔ اگر ثبوت موجود ہیں تو پھر ہماری حکومت خاموش کیوں ہیں؟ پھر ان دہشت گردکارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں معصوم لوگوں کو نشانہ بننے کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیوں پاکستان کے عوام کو دشمن کے آگے ڈال دیا گیا ہے؟ اور پھر ایمان داری سے بتایا جائے کہ کیا ہم نے واقعی جنگ جیت لی ہے؟ پانی تو ابھی تک بند ہے ہمارا؟ اور کیا یہ جو ہم نے ”جنگ“ جیتی ہے،،، آپ اسے جنگ کہیں گے یا ”جھڑپ“۔ جس پر مہینوں جشن منایا جا رہا ہے، عہدے بانٹے جا رہے ہیں،،، اسی اثنا ءمیں آرمی چیف فیلڈ مارشل بھی بن گئے،،، ائیر چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کر دی گئی،،، پھر اراکین اسمبلی جنہوں نے آج تک ایک بھی قانون عوام کے حق میں نہیں بنایا وہ تب بھی ماہانہ تنخواہوں میں ہو شربا اضافے کی مد میں اور مراعات کی مد میں اربوں بٹور گئے۔ ایف بی آر نے ہدف پورا بھی نہیں کیا تب بھی اُسے ہزار سے زائد گاڑیاں مل گئیں اور تنخواہیں و مراعات بھی مل گئیں ۔ عوام کو کیا ملا؟ 15سو ارب روپے کے نئے ٹیکسز؟ جو انہوں نے ہر صورت ادا کرنے ہیں۔اور پھر انہی ٹیکسوں سے اضافی پروٹوکول دیے جائیں گے،،، غیر ترقیاتی اخراجات کیے جائیں گے،،، نہیں یقین تو ابھی بھی دیکھ لیں کہ اس جیت کی خوشی میں کروڑوں روپے تقریبات لگائے جا رہے ہیں ؟ زندہ قومیں کیا ایسے کرتی ہیں؟ وہ تو ایک ہدف کامیابی کے ساتھ حاصل کرکے اگلے ہدف میں اپنے آپ کو کھپانے میں مگن ہو جاتی ہیں۔ اور پھر آپ جن لوگوں کو تاریخ میں فیلڈ مارشل کے عہدوں سے نوازا گیا اُن کی خدمات تو چیک کر لیں،،، جیسےبرنارڈ منٹگمری سابق آرمی چیف تھا، برطانوی حکومت کو کئی جنگیں جیت کر دے چکا تھا۔اس میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ بھی شامل تھی، اسی لیے برطانوی حکومت نے اُنہیں فیلڈ مارشل کا اعزاز عطا کیا۔ بقول شخصے منٹگمری جاگتا تھا تو اس کی قوم سکون سے سوتی تھی۔ بلکہ اُس کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات میں درخواست کی کہ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، ریٹائرمنٹ کے بعد سوائے پنشن کے کوئی ذریعہ آمدنی نہیں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، گزارش ہے مجھے ایک مکان اور تھوڑی سی زرعی زمین الاٹ کر دیں تاکہ میں زندگی کے باقی ایام پرسکون طریقے سے گزار سکوں۔وزیراعظم نے تحمل سے ساری بات سنی اور پھر جواب دیا:مسٹر منٹگمری، یقینا آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ عالمی جنگ میں آپ نے تاج برطانیہ کے لئے شاندار خدمات دی ہیں جس کی ساری قوم معترف ہے۔ لیکن جنرل صاحب، آپ کو اس قومی خدمت پر ہر ماہ معقول معاوضہ دیا جاتا رہا ہے۔اب آپ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ریاست کے لئے کوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے اس کے باوجود برطانوی حکومت آپ کو ہر ماہ معقول پنشن دے رہی ہے۔مسٹر منٹگمری بطور وزیر اعظم میں عوام کے حقوق کا محافظ ہوں اور ملکی آئین کے مطابق عوامی ٹیکسوں کے پیسے کو اپنے لئے یا کسی دوسرے کے لئے خرچ کرنے کا مجھے کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔انکار سن کر جنرل منٹگمری نے غصہ نہیں کیا۔اس نے وزیر اعظم کیساتھ کافی پی، اس کا شکریہ ادا کیا اور اپنے کرائے کے مکان میں وآپس لوٹ گیا۔ پھر آپ بھارتی فیلڈ مارشل مانیک شاءکو دیکھ لیں ، انہیں 1973ءمیں فیلڈ مارشل بنایا گیا۔ وہ بھارت کے 1971ءکی جنگ کے ہیرو مانے جاتے ہیں جس میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا۔ ان کی قیادت میں بھارتی فوج نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ ان کے زیرِ کمان بھارتی افواج نے ایک بڑی جنگی کامیابی حاصل کی، جسے بھارت کی عسکری تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔یہ جنگ ہمارے خلاف تھی، لیکن بھارت کی اس میں جیت ہوئی تھی اور ہمیں سقوط ڈھاکہ کی شکل میں سانحہ دیکھنا پڑا تھا.... پھر مانسٹین دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کی فوجی صفوں میں بڑھے، 1940 کے فرانس پر حملے اور جون 1941 میں سوویت یونین کے جارحانہ آغاز میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بعد میں ان کی شراکت کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔پھر آپ جوہانس ایرون یوگن رومیلکو دیکھ لیں جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران شمالی افریقی تھیٹر میں شہرت حاصل کی۔ اس نے پہلی جنگ عظیم میں بھی خدمات انجام دی تھیں اور فرانس پر حملے کے دوران ساتویں پینزر ڈویڑن کی کمانڈ کی تھی۔ ان کی میدان جنگ میں کامیابیوں نے انہیں فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا۔ الغرض ہمیں کسی عہدے کو دینے یا لینے کا مسئلہ نہیں ہے،،، مگر آپ جنگ جیت تو لیں،،، مکمل فتح کے بعد آپ دشمن کو مکا دکھائیں۔ انڈین فیلڈ مارشل مانک شاہ سے صحافی نے پوچھا’سر آپ فیلڈ مارشل بن گئے۔ اب آپ کیا کریں گے؟مانک شاہ نے دکھی لہجے میں جواب دیا”اب میں صرف شادیوں اور جنازوں میں شرکت کیا کروں گا“ اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں برطانوی ملٹری میسز میں کہا جاتا کہ ”فیلڈ مارشل فرنچ ملٹری کے اس افسر کو کہتے ہیں جس کے ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں سرنڈر کا سفید جھنڈا ہو“۔ خود فرانس میں فیلڈ مارشل کی تعریف مزید دلچسپ تھی۔ وہاں کہا جاتا تھا کہ ”فیلڈ مارشل وہ ہوتا ہے جو جنگ تو جیتتا ہے مگر جنگ کے 20 سال بعد لکھی گئی اپنی کتاب میں“۔ بلکہ آپ کے نالج میں اضافہ کرتا چلوں کہ بقول شخصے برطانوی ملٹری تاریخ میں کوئی 150 کے قریب فیلڈ مارشل گزرے ہیں جن میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے سرے سے کوئی جنگ ہی نہ لڑی تھی۔ گویامعذرت کے ساتھ اعزازی فیلڈ مارشل والی ریوڑیاں بانٹنے کا رواج وہاں بہت ہی عام رہا۔یہ اسی ڈی این اے کا اثر تھا کہ ایوب خان نے بھی اس روایت کا فائدہ اٹھا لیا۔ بہرحال اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ 22 اپریل کے بعد والی صورتحال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 2 حوالوں سے شاندار مثال قائم کی ہے۔ پہلا حوالہ یہ کہ وہ بالکل واضح اور غیر متزلزل تھے۔ کسی بھی زاویے سے ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ کنفیوژن یا افراتفری کے شکار ہیں۔ دوسرا حوالہ یہ کہ وہ جو زکسی ملٹری نغمے کا بول تھا، فوج اور عوام ایک، انہوں نے اسے عملاً کرکے دکھا دیا، اور وہ یوں کہ ایک طرف آئی ایس پی آر پورے تسلسل کے ساتھ قوم کو اپڈیٹ رکھ رہی تھی وہ بھی پوری ٹرانسپیرنسی کے ساتھ۔ جبکہ دوسری طرف 10 مئی کو سورج نکلنے کے بعد جو فتح ون میزائل داغے جا رہے تھے، ان کے بہت قریب پبلک بھی موجود رہی تھی اور فوج نے انہیں دور جانے کا نہیں کہا بلکہ اس قربت کو قبول کیا۔ یوں اس روز گویا فوج اور عوام عملاً شانہ بشانہ تھے۔مگرخوشی ضرور منائیں، مگر اتنی خوشی؟ ایک مقروض ملک میں جشن 2، 3دن سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، جبکہ دوسری طرف تقریبات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ اور پھر ابھی تک ہم نے پانی واپس نہیں لیا، بھارت نے اپنے ڈیموں پر کام کی رفتار کو 4گنا تک بڑھا لیا ہے ، تاکہ جلد از جلد پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے اقدامات کیے جا سکیں،،، لیکن یہاں ہیں کہ جشن ہی ختم نہیں ہورہے۔ ابھی گزشتہ روز بھارت نے دریائے نیلم کا پانی روک لیا ہے، یعنی روٹین سے 40فیصد کم پانی آرہا ہے۔ لہٰذایہ کونسی فتح ہے کہ جس میں آپ کا پانی ہی بند کر دیا جائے؟ بہرکیف حوصلہ رکھیں جیت کو انجوائے ضرور کریں، مگر عاجزی، صبر و تحمل کا عنصر ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اور سوچیں کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ابھی کیا کیا کرنا ہے؟ ابھی عوام کو ایجوکیٹ کرنا ہے، اُنہیں اس قابل بنانا ہے کہ آنے والے شدید ادوار کا مقابلہ کیا جا سکے۔۔۔ اس لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے، لہٰذاجیت کا جشن ختم کرکے اندرون خانہ سکیورٹی پر توجہ دی جائے تاکہ معصوم جان و مال کا ضیاع روکا جاسکے !بقول شاعر اس دھرتی کے غم کو جانو ،شہر توجہ چاہتا ہے ریاست کے فرمانرواﺅ !شہر توجہ چاہتا ہے