ضمنی الیکشن : ووٹر کا الیکشن سے اعتبار ختم ہوگیا؟

لیں جی! 8فروری کے عام انتخابات کے بعد 23نومبر کوضمنی الیکشن کی رسم بھی ختم ہوگئی، اس الیکشن میں قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں مقابلے تھے، اور الحمد اللہ ہمارے ووٹر ٹرن آﺅٹ گھٹتے گھٹتے 5فیصد پر آگیا،،، مطلب! یہ ایسے ہی ہے کہ اگر کسی حلقے کا 3لاکھ ووٹرہے تو اُس میںسے محض 15ہزار ووٹرز گھر سے نکلے اور باقی نے الیکشن سسٹم پر اعتبار کرنا ہی مناسب ہی نہیں سمجھا۔ کیوں کہ شائد سب کو ہی علم تھا کہ حکمران اتحاد ہی جیتے گا،،، اور پھر فارم 45 کے ہوتے ہوئے جب فارم 47مسلط کیا جانا ہے تو پھر ووٹ کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ بہرحال تمام ضمنی الیکشن کا نتیجہ وہی رہا جس کی اُمید کی جا رہی تھی کہ ن لیگ نے تمام حلقوں میں واضح برتری حاصل کی۔ الیکشن کیا تھے، بلکہ یوں کہیں کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے 8فروری کے الیکشن کو دوبارہ ٹیلی کاسٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان ضمنی الیکشن میں فرق یہ تھا کہ عوامی جوش و خروش نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کی بڑی وجہ بادی النظر میں یہ تھی کہ جو جھرلو 8فروری کے الیکشن میں پھیرا گیا، اُسکے بعد انتخابات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ آپ لاہور ہی کو دیکھ لیں، جسے سیاست کا گڑھ سمجھا جاتا ہے،،، یہاں قومی اسمبلی کی سیٹ پر ووٹنگ ہوئی۔ لیکن پولنگ سٹیشنز پر ٹرن آو¿ٹ انتہائی کم رہا۔چھٹی کے باوجود عام شہریوں نے پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ کاسٹ کرنے میں کم دلچسپی لی۔ میری دوست احباب سے بات ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالنے کا کیا فائدہ ہے؟ جب سب کچھ Decidedہے تو پھر الیکشن کے یہ چونچلے کیوں ہیں؟ سب سے پہلے یہ امر سمجھ لینا چاہیے کہ دھاندلی پولنگ اسٹیشن میں بہت کم ہوتی ہے، وہاں ہر پارٹی کے ایجنٹ بڑی ہوشیاری سے ووٹنگ کی نگرانی کرتے ہیں،ان کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھیں کہ صحیح آدمی ووٹ صحیح طریقے سے ڈال رہا ہے،پہلے یہ پہچان مشکل تھی لیکن اب چونکہ شناختی کارڈ آگیا ہے اس لیے ووٹر کی شناخت آسان ہو گئی ہے لیکن جناب کرپشن اور دھاندلی ووٹنگ کے دن سے بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے جس کوPre Pollingدھاندلی کہتے ہیں اور جو انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، جس طرح کرپشن سرمایہ دارانہ نظام کی خاصیت ہے، اسی طرح الیکشن میں دھاندلی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بنیاد ہے۔بلکہ روسو نے کہا تھاکہ ''Man is born free but every where he is chains.''یعنی انسان آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ہر جگہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ، بلکہ طاقتور کمزور پر حاوی ہے اور وہ اپنی مرضیاں مسلط کرتا آیا ہے۔ اور یہی مثال ہمارے معاشرے پر بھی فٹ بیٹھتی ہے! خیر بات ہورہی تھی ووٹر کے اعتبار کے حوالے سے تو ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ووٹ ڈالنا عبادت ہے،،، مگر ووٹر کی عدم دلچسپی کی یہاں بہت سے دیگر وجوہات ہیں،،، اس میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کا ووٹر باہر نہیں نکلا، شاید وہ حالیہ Developmentسے سخت مایوس ہو چکا ہے۔ شاید وہ اس لیے مایوس ہو چکا ہے،،، کہ تمام فیصلے ہو چکے ہوتے ہیں، کہ کسے اقتدار دینا ہے اور کسے نہیں،،، جس کے بعد الیکشن محض ڈھونگ رچانے کے لیے کروائے جاتے ہیں،،، یا وہ شاید اس لیے مایوس ہو چکے ہیں کہ مقتدرہ جس پر جب چاہے مقدمات بنا سکتی ہے،،، اور جس پر جب چاہے ختم کر سکتی ہے۔ یا وہ شاید اس لیے بھی مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ جان چکے ہیں کہ آپ جتنی چاہیں ماریں کھالیں، ہونا وہی کچھ ہے جس کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ تبھی عوام ان الیکشن میں دلچسپی دکھانے سے گریزاں ہے،،، اور میرے خیال میں فیصلہ کرنے والی طاقتوں کے لیے یہ ایک سخت پیغام ہے۔ ورنہ ماضی میں اتنی بری حالت کبھی نہیں رہی۔ اور یہ جو الیکشن کمیشن ہے اسے بھی اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے ، یہ حکومت سے فنڈز اسی لیے لیتی ہے تاکہ ووٹر کو سہولت کاری دی جائے،،، لیکن یہ تمام فنڈز صرف اور صرف فیصلہ کرنے والی قوتوں کے حق میں استعمال ہو رہے ہیں۔ کیا ایک آزاد رائے میں اس میں قصور وار الیکشن کمیشن نہیں ہے،،، جو مکمل طور پر حکومت کے دائیں بازو کا کام کر رہا ہے۔ اور میں یہاں آپ کو بتاتا چلوں الیکشن کمیشن فی ووٹر حکومتی خزانے سے کتنے پیسے بٹور رہی ہے اور بدلے میں عوام کو کیا دے رہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں کہ 2008ءکے عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو 1.8ارب روپے فراہم کئے گئے تھے تاکہ 81ملین ووٹر حق رائے دہی استعمال کرکے اپنے نمائندے منتخب کرسکیں۔ یعنی فی ووٹر 22روپے خرچ ہوئے۔ مگر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے علاوہ امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم چلانے کیلئے جو اخراجات کئے اگر انہیں شمار کیا جائے تو مجموعی طور پریہ الیکشن 200ارب روپے میں پڑا۔ 2013ءمیں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد بڑھ کر 86ملین ہوگئی۔ افراط زر میں بھی اضافہ ہوچکا تھا چنانچہ الیکشن کمیشن کیلئے4.6ارب روپے مختص کئے گئے یعنی فی ووٹر 58 روپے۔ لیکن مجموعی طور پر ان انتخابات میں اخراجات کا تخمینہ 400ارب روپے رہا۔ 2018ءکے عام انتخابات میں 106ملین ووٹرز کواپنا حق انتخاب استعمال کرنا تھا تو بجٹ میں الیکشن کمیشن کو 21ارب روپے فراہم کئے گئے یعنی فی ووٹر 198روپے۔ البتہ صوبائی و قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے امیدواروں کے انتخابی مہم پر ا±ٹھنے والے اخراجات سمیت مجموعی طورپر تخمینہ لگایا جائے تو اس جمہوری عمل پر440ارب روپے خرچ ہوئے جس طرح گزشتہ عام انتخابات کے موقع پر کہا گیا تھا کہ یہ ملکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ہیں اسی طرح حالیہ الیکشن (فروری 2024)نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔128ملین ووٹرز سے رجوع کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے 47ارب روپے مانگے تھے لیکن قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کو کی جانے والی ادائیگیوں کے بعد یہ بجٹ 49ارب روپے سے تجاوز کرگیالیکن فی الحال 49ارب روپے ہی شمارکئے جائیں تو فی ووٹر 382روپے خرچ ہوئے۔یہ الیکشن کمیشن کے اخراجات کا تناسب ہے اگر امیدواروں کی طرف سے خرچ کی جانے والی رقوم اور دیگر تمام اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو 8فروری 2024ءکو ہونیوالے انتخابات کم ازکم 600ارب روپے میں پڑے۔ جو فی کس ووٹر پانچ ہزار روپے بنتا ہے،،، لہٰذاجب تمام فیصلے ایک روانی اور تواتر کے ساتھ بند کمروں میں ہونے ہیں تو کیوں نہ یہ ڈرامہ بند کیا جانا چاہیے،،، بلکہ فیصلے کرنے والے خود فیصلہ کرلیں کہ فلاں شخص یا پارٹی اقتدار کے لیے موزوں ہے اس لیے اُسے موقع دیا جانا چاہیے،،، کیوں کہ انٹرنیٹ بند کرنے، موبائل سروس بندکرنے یا مختلف سوشل ایپس پر پابندی لگانے سے فضول میں بدنامی ہوتی ہے۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ 2013ءکے الیکشن میں 35پنکچرز کے بیانیے کی وجہ سے بدنامی ہوئی،،، جس میں الزام لگایا گیا کہ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ریٹرنگ آفیسرز نے دھاندلی کرکے مسلم لیگ (ن)کو کامیابی دلوائی، پھر2018ءکے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) نے یہ موقف اختیار کیا کہ نتائج کا اعلان کرنے کیلئے بنائے گئے سوفٹ ویئر RTSکو بٹھا کر نتائج تبدیل کئے گئے اور تحریک انصاف کو کامیابی دلوائی گئی۔ اس بار دھاندلی کے بیانئے پر ایک بار پھر تحریک انصاف کی اجارہ داری ہے اور کہا جارہا ہے کہ نتائج روک کر جیتے ہوئے امیدواروں کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کردیا گیا۔سوال یہ ہے کہ مہنگے ترین انتخابات کے بعد بھی اگر انتخابی عمل کی ساکھ پر سوالات اُٹھتے رہیں ،سیاسی عدم استحکام ختم نہ ہو تو پھر اس لاحاصل مشق کا کیا فائدہ ؟ریاست اور سیاست کے علم برداروں کو اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ الیکشن کروانے کے بجائے پانچ سوقبل مسیح کی ”ٹیکنالوجی“ ”آسٹرے سیزم“ کو استعمال کر لیا جائے جس کے مطابق شہر والے اپنے رہنما یا اہم فرد کی کسی عہدے پر مسلسل موجودگی سے تنگ آجاتے تو آسٹرے سیزم کے ذریعے اُسے دس برس کے لیے جلاوطن کردیتے۔ اس کا طریقہ کار کچھ یوں تھا کہ سال کے دسویں مہینے کے چھٹے دن آسٹرے سیزم کرنے کا اعلان کیا جاتا۔ تمام شہری ٹوٹے ہوئے برتنوں کے ٹکڑوں کو ووٹ کی پرچی کے طور پر استعمال کرتے اوراُن پر اپنے ناپسندیدہ فرد کا نام کندہ کرتے۔ جب تمام شہری یہ کرلیتے تو شہر کا پریزائڈنگ آفیسر ٹوٹے ہوئے برتنوں کے ٹکڑوں کو دیکھ دیکھ کر مختلف ناموں کی ڈھیریاں لگاتا۔ جس نام کی ڈھیری سب سے بڑی ہوتی اُس کے ٹکڑوں کو بطور ووٹ گنا جاتا۔ آسٹرے سیزم کے لیے اُس فرد کے خلاف کم از کم 6 ہزار ووٹ پڑنا ضروری تھے۔ جس پر بھی آسٹرے سیزم ثابت ہو جاتا اُسے اگلے دس روز میں شہر کو چھوڑ دینا لازم ہوتا۔ اگر وہ دس برسوں سے پہلے خود واپس شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرتا تو اُس کی سزا موت قرار پاتی۔قدیم یونان پر تحقیق کرنے والے برطانیہ کے مشہور سکالر ”پی جے روڈز“ نے آسٹرے سیزم کو ”باوقار جلاوطنی“ لکھا ہے۔ لہٰذامیرے خیال میں یہ طریقہ کار درست ہے،،، اس میں کسی قسم کے اخراجات نہیں آئیں گے،،، اور ہماری ان کرپٹ اور بکاﺅسیاستدانوں سے جان بھی چھوٹ جائے گی ورنہ جب الیکشن میں دھاندلی ہی بنیاد ہوگی تو اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ اگر ایسا بھی نہیں کرنا تو خدارا ! ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ خود ہی فیصلے کر لیا کریں،،، فضول کا اربوں روپے کا بجٹ جھونکنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ حالات یہی رہے تو لوگ الیکشن کے دن گھروں میں رہ کر احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اور پھر ٹرن آﺅٹ 10فیصد سے بھی کم ہو جائے گا!