فیلڈ مارشل کو دورہ امریکہ: پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے!

دو کشتیوں میں سوار ہمیشہ ڈوبتا ہے،یہ پرانی کہاوت اس وقت پاکستان پر پوری اُتر رہی ہے جب ایک طرف پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کے بارے میں پاکستانیوں کو اعتماد میںلیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس نے ایران پر گزشتہ روز اعلانیہ حملہ کر دیا ہے، اُسے نوبل پرائز دینے کے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہوچکا ہے،،، شاید ہمارے صاحب اقتدار افراد کو یہ علم نہیں کہ یہ تمغہ امتیاز، تمغہ شجاعت یا تمغہ حسن کارکردگی وغیرہ نہیں ہے،،، کہ جسے چاہا دے دیا اور جس کا چاہا روک لیا۔ بلکہ یہ وہ نوبل پرائز ہے،،جو دنیا میں امن کے لیے کام کرنے والوں، ادب یا سائنس وغیرہ میں کام کرنے والوں کو دیا جاتا ہے،،، یہ جس سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہے اُن کا نام الفریڈ نوبل تھا، جو اپنے دور کے مایہ ناز مو¿جد، انجینئر اور ماہر کیمیاءتھے، جنہوں نے اپنی 355 ایجادات کے ذریعے بے پناہ دولت حاصل کی جس میں سب سے زیادہ اہمیت ڈائنا مائیٹ اور کارڈائٹ کو حاصل ہوئی اور ان کی وجہ سے انہیں عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک تخمینے کے مطابق الفریڈ نوبل کی کل دولت 186 ملین ڈالر(18 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) سے زائد تھی، اپنی وفات سے ایک برس قبل 1895 میں انہوں نے پیرس میں سوئیڈن ناروے کلب کی ایک تقریب میں اپنی آخری وصیت کااعلان کرتے ہوئے اپنی کل دولت کا 94 فیصد حصہ مختلف مضامین میں قابل قدر خدمات سرانجام دینے والے افراد کو نوبل پرائز دینے کے لیے وقف کیا۔ انہوں نے فزکس، کیمسٹری ، فزیولوجی، ادب، میڈیسن اور عالمی امن کے شعبوں میں انعامات دینے کا اعلان کیا۔ اس وصیت کے ایک برس بعد دسمبر 1896 میں الفریڈ نوبل برین ہیمبرج کے باعث انتقال کر گئے، مگر کئی نا گزیر وجوہات کی بناء پر تاخیر کے بعد نوبل پرائز سے متعلق ان کی وصیت پر 1897 میں دی نوبل پرائز کا آغاز ہوا۔1901 سے 2024 تک معاشیات سمیت دیگر 6 شعبوں میں 585 دفعہ 930 افراد کو نوبل انعامات سے نوازا جاچکا ہے، جن میں 24 تنظیمیں ایسی ہیں جنہوں نے ایک سے زائد دفعہ یہ انعام حاصل کیا ہے۔نوبل انعامات کا اعلان ہر برس اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کیا جاتا ہے، تاہم انعامات دینے کی تقریب ہر سال 10 دسمبر کو الفریڈ نوبل کی برسی کے دن سٹوخوم میں منعقد کی جاتی ہے، جبکہ امن کے نوبل انعام کی تقریب کا انعقاد اسی روز اوسلو (ناروے) میں علیحدہ سے کیاجاتا ہے۔انعام جیتنے والے ہر شخص کو ایک گولڈ میڈل کے ساتھ خطیر رقم بھی دی جاتی ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام ملنے کی تو ،،، میرے خیال میں دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، چہ جائے اس کے کہ آپ کے پاس طاقت ہو،،، اور شاید آپ کو یہ بھی علم ہو کہ نوبل کا امن پرائز جن متنازعہ شخصیات کو دیا گیا ہے اُن میں میخائل گوربا چوف (روس-1990)، شمعون پیریز (اسرائیل -1994)، یاسر عرفات ( فلسطین -1994)، ہنری کسنجر (امریکہ -2000)، جمی کارٹر( امریکہ-2002)، الگور (امریکہ-2007)، لی ڈک تھو (شمالی ویتنام 1973)،آن سان سوچی( میانمار 1991)، بارک اوباما (امریکہ 2009)، یورپین یونین (2012) شامل ہیں۔ اب ان شخصیات کو دیکھ کر اندازہ لگا لیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس انعام سے دور نہیں ہیں ....! خیر جو بھی ہو ہمیں کیا، لیکن ہمیں تو اس سے غرض ہے کہ آخر ہماری قیادت خاص طور پر وزیر اعظم کو کیا سوجھی کہ اُنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ بیان داغ دیا؟ چلیں داغ دیا،،، کوئی بات نہیں! مگر جناب اعلیٰ آپ ہیں کس طرف؟ کیا ایسا نہیں لگ رہا کہ آپ اس وقت دو کشتیوں میں سوار ہیں؟ کیا ایسا نہیں لگ رہا کہ جب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاﺅس کے اوول آفس میں ہونے والی تاریخی ملاقات اوران کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے کے بعد معجزے رونما ہونے لگے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ جو پہلے ایران کو دھمکیاں دے رہے تھے اچانک یہ کہتے دکھائی دیئے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت ہورہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے۔ میں نے انہیں بھارت کے خلاف جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کیلئے مدعو کیا تھا۔ اس تاریخی ملاقات کے بعد ٹرمپ کا یہ کہنا کہ پاکستان ایران کو دیگر لوگوں (ممالک) کے مقابلے میں زیادہ بہتر جانتا ہے۔ وہ اس صورت حال پر خوش نہیں ہیں۔ وہ یہ کہتے بھی دکھائی دیئے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کئے۔ وہ اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس ملاقات سے قبل جس یقین کا اظہار کیا تھا دنیا نے دیکھا کہ اگلے ہی لمحے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایٹمی مسئلے پر جنیوا میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوگئی۔ ان ممکنہ مذاکرات کے ساتھ ہی ایران کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا۔ اس درخواست کو پاکستان، روس، چین کی حمایت حاصل ہے۔ ایک ہی دن میں ایران اسرائیل جنگ بارے دو اہم ترین بیٹھکوں پر امریکہ بھی پوری طرح آمادہ ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر امن کے پیامبر بن کر وائٹ ہاﺅس میں داخل ہوئے۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو بھئی آپ بھی عراق، شام جیسے ممالک کی لائن میں کھڑے ہو جائیں جو اعلانیہ یہ چاہتے ہیں کہ ایران میں حکومت تبدیل ہونی چاہیے،،، آپ کیوں آدھا تیتر آدھا بٹیر والا حساب رکھے ہوئے ہیں،،، آپ کم از کم امریکی دورے پر عوام کو اعتماد میں تو لیں،،، چلیں اگر وہ بھی نہیں کرنا تو کم از کم وہ اینٹوں پتھروں سے بنی پارلیمنٹ کے بار ے میں ہی سوچ لیں،،، کہ وہاں پاکستان کے نمائندے بیٹھے ہیں،،، وہاں عوام کے نمائندے بیٹھے ہیں،،، تب جو پارلیمنٹ فیصلہ کرے ،،، آپ بھی اس پر صبر شکر کر لیں،،، لیکن یہ کیا کہ آپ اکیلے فیصلے کر لیں،،، ور پھر بعد میں اس کاخمیازہ پوری قوم بھگتے ،،، جو پہلے ہی جنرل مشرف،،، جنرل ضیاءکے غلط فیصلوں کا خمیازہ آج تک بھگت رہی ہے۔۔۔ اور پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کے دشمنوں میں جہاں بھارت سرفہرست ہے، دوسرا افغانستان بھی دشمنی میں آگے ہے، تیسرا ایران سے بھی ہم دشمنی مول لیں،،، اور افغانستان کی طرح ایران بھی ہم پر الزام لگاتا رہے کہ ایران میں کبھی رجیم چینج نہ آتا ، اگر پاکستان اُن کے مخالف نہ جاتا۔ اور پھر یہ ہرگز نہ سوچیں کہ دنیا آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے،،، یا دنیا ہمیں ایک بہترین Gladiatorsٹیم کے طور پر عزت افزائی کر رہی ہے،،، یاد رکھیں ! کہ بدمعاشو ںکا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا،،، وہ صرف اپنے دوہرے معیار کے طورپر جانے جاتے ہیں،،، وہ اس بات پر نالاں نہیں ہیں کہ ایران اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے،،، بلکہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ اُنہیں اس وقت سنہری موقع ملا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کا قلع قمع کر دیں۔ بلکہ بدمعاشی کا یہ عالم بھی ملاحظہ ہو کہ امریکہ اور باقی مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ اسرائیلی حملوں کے دوران ایران پھر سے بات چیت کی طرف آئے۔ یعنی اسرائیلی حملے جاری رہیں اور ایران د±م دبا کر مذاکرات کی میز پر آ جائے۔ ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ آپ کیا واقعی سمجھتے ہیں کہ ایران ایسا کرے گا؟ یہی سمجھ ہے آپ کی ایرانی انقلاب کے بارے میں اور اتنا ہی کمزور آپ ایرانی قوم کو سمجھتے ہیں؟ ایران نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا لیکن یہ حتمی بات کہی جا سکتی ہے کہ حملے جاری رہیں اور ایران دبک کر مذاکرات پر آ جائے، ایسا ناممکن ہے۔ امریکہ میں بھی وہ لوگ جو بالکل عقل سے فارغ نہیں ہوئے‘ کو احساس ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور نہ ہو گا۔ بہرحال میں پھر یہی کہوں گا کہ پاکستان کو ایران کے حوالے سے جال میں پھنسایا جا رہا ہے،،، بادی النظر میں اس وقت مغربی دنیا ایران میں رجیم چینج کا فیصلہ کر چکی ہے،،، بس اُس پر عملدرآمد ہونا باقی ہے،،، اور پھر دوسری حتمی بات یہ کہی جا سکتی ہے کہ اکیلا اسرائیل ایران کو شکست نہیں دے سکتا۔ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف تو اسرائیل حملے جاری رکھ سکتا ہے لیکن ایران کے خلاف دیرپا جنگ جاری رکھنے سے اسرائیل فیصلہ کن نتائج حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس جنگ میں امریکہ کود چکا ہے،،، اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لگ بھگ تیس چالیس ہزار امریکی فوجی اس خطے میں موجود ہیں۔ امریکی فوجی اڈے قطر‘ بحرین‘ یو اے ای وغیرہ میں ہیں۔ اس لیے امریکا کے لیے ایران پرباقاعدہ حملہ کرنا اتنا مشکل نہیں ہوگا،، بہرکیف میں پھر یہی کہوں گا کہ آپ نے ایران کا ساتھ دینا ہے، یا امریکا کا؟ کسی ایک کے ساتھ رہیں،،، اور عوام کو اُلجھائیں نہیں،،، کیوں کہ ہم پہلے ہی دوسروں کی جنگیں اپنے ملک میں لا کر ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں اور کئی سو ارب ڈالر کا نقصان کر چکے ہیں،،، اور اب کی بار اگر ایک بار پھر ہم نے غلط فیصلے کیے،،، تو یقینا ہمیں غلط فیصلوں کے چنگل سے نکلنے میں اگلے دس سال لگ جائیں گے،،، اس لیے خدارا ہمیں نئے طالبان نہیں چاہیے،،، اس وقت پاکستان کو امن چاہیے،،، ترقی چاہیے،،، اور وہ اُسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ اس جنگ میں پھنے خان بننے کے بجائے دونوں فریقین سے یا تو معذرت کر لیں یا تمام فریقین میں صلح کی کوششیں کریں،،، اس کے لیے ہماری وزارت خارجہ جو اسحاق ڈار پر مشتمل ہے،،، سعودی عرب، قطر ، ترکی وغیرہ کو شامل کر کے ایک گروپ بنائے ،،، تاکہ ہم اس مسئلے میں پڑے بغیر کسی اور ملک کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائیں۔۔۔ یا آخری بات کہ معاملہ پارلیمنٹ میں ڈسکس کر لیں اور وہاں بتایا جائے کہ دو گھنٹے کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں کیا کیا فیصلے ہوئے اور ہمیں آگے چل کیا کرنا چاہیے،،، اور پھر جو فیصلہ پارلیمنٹ کرے اُس پر من و عن عمل درآمد کیا جائے،،، ایسا کرنے سے پاکستان بچ جائے گا،،، عوام بچ جائیں گے،،، اور سب سے اہم بات کہ دنیا کو پیغام جائے گا کہ کیا جانے والا فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے کیا تھا،،، کس فرد واحد کا فیصلہ نہیں تھا!