پی پی پی ن لیگ اختلافات”ڈرامہ “:نئی قسط جاری!

پنجاب میں سیلاب سے شروع ہونے والی پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی اس مرتبہ کی لڑائی کو کوئی بھی سنجیدہ لینے کو تیار نہیں ہے،،، حالانکہ دونوں اطراف کے عہدیداران میڈیا پر اس حوالے سے پرگرامز کا بھی کروا رہے ہیں،،، لیکن اس لڑائی کو وہ ”ہائپ“ نہیں مل رہی جو ماضی میں کبھی ملتی رہی ہے.... کچھ لوگ اسے نورا کشتی سمجھ رہے ہیں،،، کچھ لوگ ڈرامہ جبکہ کچھ اس جانب توجہ ہی نہیں دے رہے،،، اور اُنہیں علم ہی نہیں ہے کہ ہو کیا رہا ہے اور لڑائی کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے افراد کی تعداد بھی کم نہیں ہے،،، اور انہی میں راقم کا شمار بھی ہوتا ہے.... اب آپ کہیں گے کہ اگر مجھے اس لڑائی میں دلچسپی ہی نہیں تو میں کالم کیوں لکھ رہا ہوں،،، تو بھیا! اس مرتبہ بہت سی دلچسپ چیزیں ہو رہی ہیں،،، جیسے یہ لڑائی مرکز کو لے کر نہیں بلکہ پنجاب اور سندھ حکومت کی ہے،،، جس کا اسکرپٹ شائد مشترکہ طور پر لکھا گیا ہے،،، اس اسکرپٹ میں بڑے کرداروں میں مریم نواز صاحبہ، سندھ حکومت کے وزراءاور پیپلزپارٹی پنجاب کے عہدیداران جیسے ندیم افضل چن، قمر الزمان کائرہ وغیرہ کا ہے،،، اس ”کہانی“ کا مقصد یا Moral of the Story یہ ہے کہ پنجاب میں ن لیگ مخالف ووٹ جو تحریک انصاف کے پلڑے میں چلا گیا تھا،،، اُسے واپس لایا جائے،،، اب اس کے لیے اسکرپٹ یہ لکھا گیا ہے کہ سب سے پہلے تو اس لڑائی کو اس حد تک لے جایا جائے گا کہ یہ ہر دم لگے کہ یہ ایک سنجیدہ قسم کی لڑائی ہے،،، اس لیے آنے والے دنوں میں یہ لڑائی مزید بڑھے گی،،، لیکن آپ نے پریشان بالکل نہیں ہونا ،،، اور نہ ہی اس لڑائی میں اپنے جذبات کو شامل کرکے پریشان ہونا ہے!جبکہ ن لیگ بھی یہ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز کا زور ٹوٹے اور وہ اپنی پرانی پارٹی میں چلا جائے۔ اور رہی بات تحریک انصاف کی تو ان دونوں پارٹیوں کے ذہنوں میں فی الحال یہی بات چل رہی ہے کہ چونکہ اگلے الیکشن تک پی ٹی آئی مزید کمزور ہو چکی ہوگی،،،اس لیے اس کا فائدہ اُٹھایا جائے،،، اور اُسے مزید کمزور کرنے کے لیے مقتدرہ کا ساتھ دیا جائے،،، لیکن ان کی اطلاع کے لیے بتاتا چلوں کہ یہ ان کی خام خیال ہے،،، کیوں کہ تحریک انصاف کا سپورٹر کسی نئی جگہ نئی پارٹی میں ایڈجسٹ تو ہوسکتا ہے مگر وہ ان دونوں جماعتوں میں سے کسی کے پاس بھی نہیں جائے گا۔ اور رہی بات مریم نواز صاحبہ کی تو اُنہیں چونکہ پہلی مرتبہ کسی بڑی سیٹ پر کام کرنے کا موقع ملا ہے اور وہ شاید پنجاب کے عوام کی خدمت بھی کرنا چاہ رہی ہیں اس لیے اُنہیں اُکسایا جا رہا ہے،،، اور اُنہیں اس سارے ڈرامے میں محض استعمال کیا جا رہا ہے،،، یا وہ خود استعمال ہو رہی ہیں،،، کیوں کہ مذکورہ اسکرپٹ شاید اُن کے ہاتھ بھی لگ گیا ہے۔ خیر اگر یہ ساری باتیں میری سمجھ میں آرہی ہیں،،، جس کی اس ”ایونٹ“ میں خاص دلچسپی بھی نہیں ہے،،، تو کیا عوام کی سمجھ میں نہیں آرہی ہوں گی؟ ان لوگوں کو کیوں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ووٹر بہت سمجھدار ہوتا ہے۔ وہ جعلی کھیل کے جھانسے میں نہیں آتا۔ جعلی لڑائی سب کی سمجھ میں آجاتی ہے۔اس لیے لڑائی کو اصلی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ پنجاب حکومت کے ساتھ اس کی اصلی لڑائی ہو جائے لیکن مرکز جیسا ہے ویسا ہی چلتا رہے۔بہرحال ان کے دن ہیں،،، ان کی راتیں ہیں،،، یہ اپنے مطابق موسم کو تبدیل کرنا جانتے ہیں،،، یہ جعلی لڑائی لڑ کر ہی اقتدار میں آئے ہیں،،، یہ جعلی تحریکیں چلا کر ہی تحریک انصاف کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہوئے تھے،،، یہ ڈرامے بازیوں کے ایکسپرٹ ہیں،،، ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی والے یا مخالف گروپ گروپس کی حکمت عملی زیرو ہوتی ہے،،، یہ مقتدرہ کے اچھی طرح کان بھی بھر سکتے ہیں اور پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی خبریں چلوا کر سب کچھ سمیٹ بھی سکتے ہیں،،، یہ انہی جعلی لڑائیوں کے باعث کئی کئی مرتبہ اقتدار میں بھی رہ چکے ہیں ،،، جیسے آپ صدر آصف علی زرداری سے شروع ہو جائیں کہ موصوف نے بھی کیا قسمت پائی ہے، کہ دو مرتبہ ”مردِاول“ رہنے کے بعد اب دوسری مرتبہ صدر بھی بن گئے ہیں۔ پھر شہبازشریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بن گئے، نواز شریف نے تین مرتبہ وزیر اعظم بن کر ریکارڈ بنایا، پھر مزے اور تعجب کی بات دیکھیں دونوں بھائی چار مرتبہ وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔پھر ایک مرتبہ شہباز شریف کا بیٹا وزیر اعلیٰ اور پھر ایک مرتبہ نواز شریف کی بیٹی وزیر اعلیٰ بن چکی ہیں....پھر بات یہیں ختم نہیں ہوتی،،، نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار 4 مرتبہ وزیر خزانہ،،، ایک مرتبہ وزیر خارجہ اور اب ساتھ ڈپٹی وزیر اعظم کی پوسٹ کو بھی انجوائے کر رہے ہیں۔ پھر آپ بلال یاسین کو دیکھ لیں اور بھی جگہ جگہ سے رشتہ دار نکال لیں سبھی اعلیٰ عہدوں پر رہے ہوںگے۔ لیکن یہ ریکارڈز نہیں تو اور کیا ہیں؟ لیکن مجال ہے ملک کو بحرانوں سے نکال پائے ہوں۔ آپ پیپلزپارٹی کو دیکھ لیں،ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ، پھر سول ایڈمنسٹریٹو مارشل لاءذوالفقار علی بھٹو، پھر دو مرتبہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، پھر صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو۔ پھر اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیر اعظم۔ پھر دو مرتبہ اُن کا داماد صدر پاکستان۔ نانا بھی وزیر خارجہ رہا اور پھر سب نے دیکھا بلاول کی شکل میں نواسہ بھی وزیر خارجہ رہا، یہ بھی ریکارڈ ہے، بات یہی ختم نہیں ہو رہی بلکہ ان کے وزراءجنہیں علم ہوتا ہے کہ اُن کی پارٹی کی حکومت آنے کے بعد اُنہیں لازمی وزارت سے نوازا جائے گا، وہ بھی کئی مرتبہ وزارتوں سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔ خیر بات ن لیگ اور پی پی پی کی جعلی لڑائی سے شروع ہوئی تھی ،،، راقم نے چند ماہ قبل اس حوالے سے کالم بھی لکھا تھا کہ اب مرکز میں ن لیگ کو پیپلزپارٹی کی ضرورت نہیں رہی اوروہ شہباز شریف کی حکومت گرا نہیں سکتے۔ اب ن لیگ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اکیلے بھی کام چلا سکتی ہے۔ صرف اہم موقعوں پر مدد چاہیے ہوگی۔ اسی لیے پیپلزپارٹی حکومتی بینچز پر بیٹھ کر اپوزیشن بننے کا سوچ رہی ہے۔لیکن کوئی یہ بات نہ بھولے کہ جیسے ہی پی ٹی آئی کے لیے حالات سازگار ہوئے،،، تو ڈرامے کا یہ سیزن ”صلح“ پر ہی ختم ہو گا اور دونوں جماعتیں پھر سے ایک ہو جائیں گی،،، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا ایسا کرنے کے بعد آپ تحریک انصاف کی مقبولیت کو کم کر سکیں گے؟ کیا فیصلہ کرنے والے یہ نہیں دیکھ رہے کہ گزشتہ الیکشن میں عوام نے ان کے یکسر مسترد کر دیا ہے، اور پھر یہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کی بے اعتنائی پر بھی حیرت ہوتی ہے جو ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اُنہی کو سپورٹ کر رہی ہے،،، جنہیں وہ فارم 47کے ذریعے اقتدار میں لے کر آئی۔ لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب کی بار دھاندلی عریانی کی حد تک عیاں تھی جس کا ثبوت یہ ہے کہ جیتنے والے بھی خوش نہیں ہیں اور ہارنے والے بھی ابھی تک ہجر کی سی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ایسی صورتحال کے بعد دونوں پارٹیاں بھی یہ بات جانتی ہیں کہ ابھی تک پی ٹی آئی کا ووٹر غصے میں ہے، وہ کسی بھی وقت لاوے کی طرح پھٹ سکتا ہے، تبھی تو یہ دونوں ”جمہوریت“ کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ ملی تھیں۔میرے خیال میں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوش سے کام لیا جائے۔ ملک ایک گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ اسے نکالنا اشد ضروری ہے اور یہ کام سب سے بہتر انداز میں وہی کر سکتے ہیں جن کے پاس اختیار ہے۔ پاکستانی قوم کے ساڑھے تین سال ضائع ہو چکے ہیں۔ مقتدرہ عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں۔ ظلم اور زیادتی کی فضا کو ختم ہونا چاہئے۔ عدالتوں کو اپنی عزت بحال کرنی چاہیے۔ ذاتی پسند و نا پسند کے مطابق کیے گئے فیصلوں کو دوبارہ دیکھنا چاہئے۔ پاکستانیوں کا مزاج یہی ہے کہ وہ ہر اس شخص کے ساتھ ہوتے ہیں جسے مظلوم سمجھتے ہیں۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا تھا تو پاکستانی قوم اس کی بیٹی کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو قوم نے آصف علی زرداری کو صدر پاکستان بنا لیا تھا۔ جب عمران خان کو سزائیں سنائی گئیں۔ پی ٹی آئی سے اس کا نشان تک چھین لیا گیا تو پوری قوم نے کھمبوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ووٹ دئیے۔ قوم کا مزاج سمجھنے کی کوشش کیجئے،،، فضول کی جعلی لڑائیوں میں عوام کو نہ اُلجھائیں اور ملک کو آگے بڑھائیے وگرنہ وقت کسی کو معاف نہیں کرتا۔ نہیں یقین تو آپ آج الیکشن کروا لیں،،، آپ کو اب بھی لگے گا کہ پی ٹی آئی کا ورکر پوری طرح چارج ہے۔ اگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مجبوری کے عالم میں ان سے ٹکرانے کی کوشش کی تو ان کے عوامی خسارے میں مزید اضافہ ہو گا۔ بہرکیف سب کو نظر آرہا ہے کہ قومی اسمبلی میں تقاریر نظر آرہی ہیں۔ پریس کانفرنسیں نظر آرہی ہے۔ سب ایک ماحول بنایا جا رہا ہے۔ تا کہ ووٹر کو یقین آجائے۔ مگر پھر وہی بات کہ لوگ سمجھدار ہوگئے ہیں،،، وہ ان کی باتوں میں کبھی نہیں آئیں گے،،، ووٹر یہ بات بھی سمجھ چکا ہے کہ انہوں نے ہر جگہ اپنے بندے بٹھا لیے ہیں۔ بہرحال یہ سارا کچھ صرف اور صرف اسی لیے ہو رہا ہے کہ جعلی لڑائی کو حقیقی لڑائی کا رنگ دے کر کم از کم پنجاب میں تحریک انصاف میں گئے ناراض پیپلزپارٹی کے اراکین کو واپس لایا جائے اور ناراض ووٹرز کو منایا جائے،،، اگر پی پی پی اس طریقہ کار کے تحت پنجاب میں 5،7سیٹیں نکالنے میں بھی کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ سودا اُن کے لیے برا نہیں ہوگا! باقی یہ ڈرامہ نورا کشتی سے آگے کی اسٹیج ہے اس کے سوا کچھ نہیں! اس لیے مقتدرہ کو بھی اب سمجھ جانا چاہیے کہ ان جعلی ڈراموں سے آپ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو زیر نہیں کر سکتے ،،، کیوں کہ عوام انہی کے ساتھ رہتی ہے جن کے ساتھ ظلم ہوا ہوتا ہے!