کیا اسرائیل عرب دنیا کو فتح کرنے نکل چکا ہے؟

اسرائیل کے دفاعی سسٹم، انٹیلی جنس معلومات، انسانی ایجنٹس اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے جہاں بڑے بڑے ممالک اپنے جنگی ہتھیاروں کو Reviseکر رہے ہیں، وہیں دنیا کے57ممالک انگشت بدندان ہیں کہ نہ جانے اب اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ کیوں کہ اسرائیل نے گزشتہ روز جب ایران پر حملہ کیا تو یہ اچانک حملہ نہیں تھا، بلکہ اعلانیہ حملہ تھا، جس کے بارے میں امریکا و اسرائیل نے ایک ہفتہ پہلے ہی بتا دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس حالیہ حملے میں اسرائیل کے 200لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا جس میں ایران کی100 سے زیادہ تنصیبات کو نشانہ بنایا ، اور پاسداران انقلاب کے سربراہ، آرمی چیف سمیت متعدد اہم کمانڈوز اور6 جوہری سائنسدانوں سمیت متعدد کو شہید کردیا۔ مطلب! آپ کے ملک کی ہائی پروفائل شخصیات ہی اگر محفوظ نہیں تو اندازہ لگائیں کہ اسرائیل کے پاس ایران کے حوالے سے کس حدتک معلومات ہوں گی۔ بلکہ بعض ویڈیوز میں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اراکین ہی مبینہ طور پر ایرانی تنصیبات میں بم نصب کر رہے ہیں اورایران کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے مقامات کے قریب درست نشانہ لگانے والے ہتھیار نصب کیے گئے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کی رسائی ایرانی فوج کے اندر تک تو ہے ہی مگر ”پاسداران انقلاب“ کی جڑوں تک بھی رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔ جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایران کی جانب سے اگر کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہوا تو اسرائیل یہ جنگ بھی آسانی سے جیت جائے گا۔ اور نقصان ایران کا ہوگا۔ جسے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اپنا نیوکلیئر پروگرام بھی رول بیک کرنا پڑے گا اور ساتھ وہاں پر موجود بقول امریکا ”آمریت“ بھی ختم کرنا ہوگی۔ جبکہ ساتھ ہی نقصان مسلم دنیا کو ہوگا، عرب ممالک مزید دباﺅ میں آئیں گے، وہ امریکا کو مزید بھتہ دیں گے،امریکا اُنہیں مزید ہتھیار بیچے گا اور ساتھ ہی وہاں مزید ہوائی اڈے بھی بنائے گا۔ کیوں کہ ابھی بھی امریکا کو مشرق وسطیٰ کے کئی مسلمان ملکوں نے امریکیوں کو جنگی ہوائی اڈے دے رکھے ہیں، کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے میں مسلمان ملکوں کی فضاﺅں سے کئی جہاز اُڑے ہیں،، اگر مسلمان ملک امریکیوں کو اڈے نہ دیں تو یقیناً امریکیوں کے لئے مشرق وسطیٰ میں لڑنا مشکل ہو جائے گا مگر کیا کیجیے؟ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کے حکمرانوں نے امریکیوں کو اڈے الگ دے رکھے ہیں، پیسہ الگ ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور بھتہ بھی دیتے ہیں۔ اسرائیل اپنے قدم پھیلائے گا، اس کا ٹارگٹ صرف ارض فلسطین نہیں، وہ کئی ملکوں سے رقبہ حاصل کرنا چاہتا ہے، یہودی یو اے ای میں وہی کھیل کھیل رہے ہیں جو انہوں نے اسی 90سال پہلے ارض فلسطین پر کھیلا تھا یعنی دھڑا دھڑ جائیدادوں کی خریداری۔ اگرچہ یمنی، اسرائیل کے خلاف لڑ رہے ہیں مگر اسرائیل مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا دشمن ایران کو سمجھتا ہے، وہ ایران پر حملہ بھی اسی لئے کر رہا ہے، کہ اس کے لئے شرقِ اوسط کی زمین نگلنا آسان ہو جائے۔ اب یہ جنگ پھیلے گی، پتہ نہیں اس کا دائرہ کہاں کہاں تک پھیلتا ہے؟؟ بہرحال جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اسرائیل کی اعلانیہ پالیسی تھی کہ جب بھی ایران ایک خاص حد سے آگے اپنا نیوکلیئر پروگرام لے جائے گا تب اسرائیل اس پر اسٹرائک کرے گا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے جب یہ رپورٹ کیا کہ ایرانی پروگرام ریڈ لائین سے آگے چلا گیا ہے تو اس کے بعد حملہ ہونا دنوں کی بات تھی۔آگے چلنے سے پہلے اگر ہم 7اکتوبر 2023ء(جب اسرائیل فلسطین تنازع نے دوبارہ سر اُٹھایا تھا) کے بعد کی ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے بات کریں تو اسرائیل ایران پر 4مرتبہ سے زائد حملہ آور ہوا، اور 4مرتبہ ہی ایران نے انتقام لینے کا اعلان کیا، مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ میں اس کالم میں اپنے مسلمان بھائی ملک کی تضحیک نہیں کر رہا اور نہ ہی یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اسرائیل ہم سے بہت زیادہ طاقتورور ہے،،، بلکہ زمینی حقائق بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ کس طرح ٹیکنالوجی سے لیس ہے،،، وہ کس طرح ہر چیز پر قابض ہو رہا ہے، وہ کس طرح دشمن پر نظر رکھے ہوئے ہے، وہ کس طرح ہائی پروفائل شخصیات تک رسائی حاصل کرتا ہے، وہ کس طرح ایرانی تنصیبات میں بم نصب کرواتا ہے، وہ کس طرح بغیر نظروں میں آئے 200لڑاکا طیارے اُڑاتا ہے، اور دشمن کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اُس نے کس طرح گزشتہ سال ایرانی سرزمین پر ہی ٹارگٹڈ حملے میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو شہید کیا،،،اور پھر لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو شہید کیا،،، اُس نے کس طرح حماس کی تمام قیادت کو شہید کر دیا، کہ نوبت اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حماس اپنے سربراہ کا نام ہی منظر عام پر لانے سے کترا رہی ہے۔ اور بدلے میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ اسرائیل پر ڈرون حملے کر رہے ہیں؟یاد نہیں اُس نے گزشتہ سال ہی اسرائیل کے سینکڑوں میزائلوں کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی آئرن ڈوم ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوا ہی میں اُڑا دیا تھا؟یعنی ہم مسلمان ملکوں کو کم از کم اتنی ٹیکنالوجی تو حاصل کرنی چاہیے کہ دشمن آپ پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے۔ اب تو حالیہ اسرائیلی کارروائی دیکھ کر لگتا ہے کہ اکیلا اسرائیل عرب دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے ، جبکہ اس وقت امریکا اور مغربی دنیا کے بڑے ممالک اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہےں، اور 6کے قریب امریکی بحری بیڑے اس وقت اسرائیل کا دفاع کرنے کے لیے قرب و جوار کے سمندری علاقوں میں موجود ہیں۔ تو ایسے میں لگ تو یہی رہا ہے کہ اگر ایران اسرائیل جنگ چھڑی تو امریکا سو فیصد اس جنگ میں نیوٹرل ملک ہونے کے بجائے اسرائیل کا ساتھ دیتا نظر آئے گا۔ اور ویسے بھی اس وقت اگر دونوں ممالک کی جنگی قوت کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 2152 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ ہے،،، اور ایران کے پاس 3ہزار کے قریب بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں ،،، مگر ایران اُنہیں صرف اس لیے استعمال نہیں کر رہا کیوں کہ وہ جانتا ہے، کہ اگر اُس نے حملہ کیا تو اسرائیل نے اُسے کامیابی سے ناکام بنا دیا تو پھر وہ یقینا جنگ ہار جائے گا۔ بہرحال بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ مسلمان ممالک اس وقت مغربی دنیا سے جنگ ہار چکے ہیں، اور ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ بڑے مسلمان ملکوں نے امریکا کو دولت دی، ہتھیار خریدے اور اپنا دفاعی نظام خریدا مگر وہ خود ٹیکنالوجی سے دور رہے ۔ اور پھر ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ امریکا جو بھی ٹیکنالوجی آپ کو دے گا، یقینا وہ اُس کا توڑ رکھ کر ہی آپ کو دے گا،،، جبکہ چین اس حوالے سے خود کفیل ہے، اسی لیے اُس کی ٹیکنالوجی کا توڑ بھارت و اسرائیل کے پاس سے نہیں نکلا،،،، خیر واپس موضوع کی طرف آتے ہیں کہ ہمارے مسلمان ملک ان پانچ چھ دہائیوں میں صرف دولت کے انبار لگانے میں مصروف رہے جبکہ اسرائیل جس کے پاس کتنے میزائل ہیں؟ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اگر کسی ملک کے پاس جدید ترین میزائلوں کا ذخیرہ ہے تو وہ اسرائیل ہے۔میزائلوں کا یہ ذخیرہ اس نے گذشتہ چھ دہائیوں میں امریکہ سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے اشتراک یا اپنے طور پر ملک ہی میں تیار کیے ہیں۔ سی ایس آئی ایس میزائل ڈیفنس پراجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کئی ملکوں کو میزائل برآمد بھی کرتا ہے۔ لیکن اسرائیل کے دفاع کی ریڑھ کی ہڈی اس کا آئرن ڈوم سسٹم ہے جو کہ کسی بھی قسم کے میزائل یا ڈرون حملے کو بروقت روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غزہ سے حماس اور لبنان سے حزب اللہ کے راکٹوں کو متواتر فضا میں ہی تباہ کر کے وہ آج تک اپنا لوہا منواتا رہا ہے۔آئرن ڈوم کی طرح کا دنیا میں کوئی اور دفاعی نظام نہیں ہے اور یہ بہت کارآمد شارٹ رینج میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔ بہرکیف یہ بات تو طے ہے کہ دونوں فریقین ایک بار پھر مزید حملوں کی تیاریاں کر رہے ہیں، ایران اپنی لیڈر شپ کی شہادت کا بدلہ لینا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل جواب میں ایران کی بچی کھچی قیادت کو ختم کرنا چاہیے، لیکن یہ بات ہمیں سمجھنی چاہیے کہ جب آپ جنگ شروع کرتے ہیں، تو یہ آپ کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے، آپ کو اس کے نتیجے کا علم ہی نہیں ہوتا، اور پھر اگلا فریق اگر توقعات سے زیادہ ہوشیار اورطاقتور نکل آئے تو پھر واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ جب جنگ شروع ہو تو کون کون سا ملک اس کی زد میں آجائے اور کون کون سا ملک مکمل تباہ ہو جائے، اگر تو محدود جنگ ہوئی تو شاید دنیا بچ جائے، اور اگر جنگ بڑھ گئی تو شاید دنیا ہی ختم ہو جائے۔ اس لیے جنگ کی وسعت کا فیصلہ امریکا کو سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے،،، اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ چین کبھی نہیں چاہے گا کہ اس خطے میں امریکا کی اُجارہ داری ہو،،، اس لیے اگر وہ اس جنگ میں کود پڑا تو یقینا پھر ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہوگا۔۔۔ اور پھر خاکم بدہن ہم تیسری جنگ عظیم کو دعوت دے رہے ہوں گے۔۔۔ لہٰذااس وقت اسرائیل کی جنگی خواہش کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، میرے خیال میں اگر امریکا کو اس وقت اپنا اسلحہ بیچنے کا لالچ ہے تو یہ لالچ کسی اور جنگ میں پورا کر لے۔ اور ویسے بھی وہ اسرائیل کو غزہ جنگ میں اتنا اسلحہ بیچ چکا ہے، کہ گزشتہ 70سالوں میں بھی نہیں فروخت کیا ہوگا۔ لہٰذاجنگ سے جتنا بچا جائے اُتنا ہی سود مند ہے، ایسا نہ ہو کہ دنیا بھر میں پھیلی امریکا و مغربی ممالک کی ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جائے اور جنگ کوئی اور جیت جائے! اس کے علاوہ میرے خیال میں اب چین کو کھل کر سامنے آجانا چاہیے، اور جس طرح اُس نے پاکستان کی مدد کی ہے، اسی طرح اسے ایران کی مدد کرنی چاہیے، کیوں کہ اگر چین کھل کرسامنے نہ آیا تو یہ اسرائیل و امریکا کو کسی کا ڈر نہیں رہے گااور وہ بدمست ہاتھی کی طرح سب کو روند کر نکلتا جائے گا!