4اپریل: بھٹو کی پھانسی کے بعد سب کچھ بدل گیا!

4اپریل 1979ءکو پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 51برس کی عمر میں پھانسی دے دی گئی، میں ہر سال انہی مہینوں یہ سوچتا ہوں کہ اگر بھٹو کا عدالتی قتل نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کے حالات مختلف ہوتے۔ آج پاکستان کی سیاست کا نقشہ بالکل تبدیل ہوتا۔ اور سب سے اہم کہ جنرل ضیاءالحق کو غیر جماعتی الیکشن کروا کر غیر سیاسی شخصیات کو سیاست میں لانے کا موقع نہ ملتا۔ لیکن جو قدرت کو منظور تھا وہی ہوا۔ اور پھر اُس کے بعد پاکستان کی صورتحال کو آج تک سنبھالا نہ دیا جا سکا۔ بلکہ پیپلزپارٹی کا اپنا نقشہ ہی بدل گیا۔ جسے محترمہ بے نظیر بھٹو نے ٹھیک کرنے کی کوشش کی مگر اُنہیں بھی موقع میسر نہ آیا۔ بلکہ وہ کرپشن کے مقدمات میں ایسی پھنسی کہ اُن سے پارٹی پر توجہ ہی نہ دی گئی۔ جس کی وجہ سے اُن کے جانے کے بعد پارٹی کی باگ ڈور صدر زرداری کے ہاتھوں میں آگئی جس کے بعد پیپلزپارٹی محدود ہوتی ہوتی چار صوبوں سے محض ایک صوبے تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ ویسے تو بھٹو اور زرداری میں کسی قسم کا جوڑ نہیں ہے مگر ان دونوں شخصیات میں بنیادی فرق یہی ہے کہ بھٹو پروگرام پر بات کرتے تھے، جبکہ زرداری صاحب یا موجودہ پی پی پی کی قیادت کے پاس پروگرام تو دور کی بات کوئی خاص منصوبہ بندی ہی نہیں ہے۔ محض یہی پروگرام ہیں کہ آج عمران خان کو نیچا دکھانے کے لیے کس قسم کے بیانات دینے ہیں، کل فلاں کوتوڑ لو، پرسوں کسی اور بندے کو توڑ لووغیرہ۔اس کے علاوہ پی پی پی آج اُلجھنوں کا شکار ہے، نہ وہ صحیح طرح اپوزیشن میں بیٹھتی ہے نہ اقتدار کے ایوانوں میں ۔ یوں گمان ہوتا ہے جیسے اِن بے وقت کی الجھنوں نے پیپلزپارٹی کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ فیصلہ سازی کا فقدان نظر آتا ہے۔ بلکہ محدود ہوتی پارٹی کی سوچ بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کیوں کہ پارٹی کی یہ صورتحال ہے کہ بھٹو کے پوتے اور میر مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار بھٹو جونیئر کو پارٹی میں برداشت نہیں کیا جاتا۔ اُس کے سندھ میں جلسہ کرنے پر مقامی پیپلزپارٹی کے صدر کو شوکاز نوٹس جاری ہوتے ہیں۔ اور اب جب کہ اُس نے پیپلزپارٹی بھٹو شہید گروپ سے سیاست کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے تو یقینا زرداری گروپ کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ کامیاب ہو۔ اور یہ بات لکھ لیں کہ اُس پر کئی قسم کے مقدمات دائر کیے جائیں گے۔ جبکہ اس کے علاوہ آپ دیکھیں کہ ”زرداری گروپ“ کو سیٹ سے چمٹے رہنے کا اتنا شوق ہے کہ اللہ اُن کی زندگی دراز کرے، تادم تحریر وہ اس وقت سخت بیمار ہیں، اور چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں ہیں، لیکن مجال ہے کہ وہ صدارت کا عہدہ پارٹی میں کسی اور کو عطا کردیں، بلکہ قوم نے 23مارچ کو خود مشاہدہ کیا تھا کہ اُن سے بولا نہیں جا رہا تھا، کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا ،زبان میں بھی لکنت تھی، مگر مجال ہے کہ وہ اپنی سیٹ سے مستعفی ہونے کے بارے میں سوچیں! بہرحال بھٹو کے جانے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوا ہے کہ سیاست عبادت نہیں بلکہ کاروبار بن کر رہ گئی ہے۔ خاص طور پر دو بڑے خاندان جب سے سیاست میں آئے ہیں ان کے کاروبار کو چار چاند لگ گئے ہیں جبکہ ملک تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ یعنی گزشتہ 40سالوں سے دونوں خاندان امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور ملک غریب سے غریب تر ہوتا گیا۔ اور پھر یہی نہیں یہ خاندان برطانیہ سے بھی صرف اسی لیے ڈیفالٹ ہوئے ہیں کہ ٹیکنیکل طریقے سے مزید چار پیسے بچائے جا سکیں۔ جبکہ پاکستان میں قوانین کو انہوں نے گھر کی باندی بنا کر رکھا ہوا ہے کہ جب یہ چاہتے ہیں پاکستانی عدالتوں سے مفرور حسین نواز اور سلیمان شہباز کو سرکاری وفد کا حصہ بنا کر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے پہنچ جاتے ہیں اور جب دل کرتا ہے کہ پاکستانی عدالتوں کو چکما دے بیرون ملک بیٹھے ہی عدالتوں سے ریلیف حاصل کر لیتے ہیں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کی تو سابق وزیر اعظم کو اس سال 23مارچ کو ملک، جمہوریت اور عوام کی نمایاں خدمت کے اعتراف میں بعد از مرگ نشان پاکستان سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ اُن کی صاحبزادی صنم بھٹو نے وصول کیا، اس موقع پر وہ فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ایوان بھی ”ذوالفقار علی بھٹو“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔یقینا یہ ایک تاریخی دن تھا، جس کے لیے ہمیں بھی شدت سے انتظار تھا، اور یہ اعزازملنے کے بعد یقینا بھٹو صاحب پہلے وزیر اعظم ہیں جن کی خدمات کا ”اعتراف کیا گیا ہے۔ ورنہ یہاں تو ہر وزیر اعظم کو جیل یاترا کرنا پڑتی ہے۔ آج کا وزیر اعظم کل کا غدار بن جاتا ہے، اور کل کا غدار آج وزیر اعظم بن جاتا ہے، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ شہباز شریف ، نواز شریف ، بے نظیر، زرداری، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، عمران خان الغرض سبھی وزرائے کو شاید اُن کی ”اوقات دکھانے کے لیے جیلوں میں بھجوایا جاتا ہے۔ یہ اسی وجہ سے ہے کہ سیاسی ادارہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ جبکہ اس کے برعکس بھٹو آج کی سیاست میں ہمیں ہر پل شاید اس لیے یاد آتے ہیں، یا ہمیں اُن کی کمی ہمیشہ اس لیے محسوس ہوتی ہے کیوں کہ اُن کے بعد اُس لیول کا سیاسی رہنما نہ ہم نے کبھی دیکھا اور نہ سنا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست میں ایک انوکھے کردار تھے۔ جنہوں نے امیروں کی سیاست کو غریب کی دہلیز پر آ کھڑا کر دیا۔ ووٹ کی پرچی اور شناختی کارڈ کی پہچان اورطاقت سے انہوں نے غریبوں کے مردہ جسموں میں جان ڈالی۔ مسٹر بھٹو پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے۔ صدر ایوب سے نہ بنی تو اپنی پارٹی بنا کر الگ سیاسی جماعت قائم کی کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت کی اشد ضرورت۔کیونکہ وزیر خارجہ بننے کے بعد انہوں نے سیاسی جماعتوں میں خد و خال دیکھے۔ 70 کے دہائی میں عام انتخابات ہوئے تو وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو پہلے وزیر اعظم پاکستان بنے۔ پاکستان کو متفق کے طور پر 73 کا آئین دیا۔ جسے تمام سیاسی جماعتوں، مختلف شعبوں اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی عوام، لوگوں نے نہ صرف اسے دل سے قبول کیا بلکہ سراہا بھی گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی طبقہ 73 کے اس آئین کو اسلامی آئین کا درجہ تک دیا گیا ہے۔ آئین دینے کے علاوہ پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور کھل کر اس کا دفاع بھی کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھا۔ آج بھی پاکستان ان کی بنائی ہوئی خارجہ پالیسیوں کے اثرات سے فائدہ حاصل کررہا ہے۔ بھٹو کی خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے چین اور روس جیسے ممالک پاکستان کے قریب آئے اور پاکستان مسلم امہ کی نگاہوں کا مرکز بھی بن گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک نظریہ کا نام تھا، جسے پھانسی نہ مار سکی۔ جس کی جماعت ایک سیاسی تحریک کا نام اور غریب کی ترجمان تھی۔ جس کی جماعت کو آمرانہ ادوار کے جبر نہ ختم کرسکے اور پھانسی کے بعد بھی لوگ ”زندہ ہے بھٹو“ کا نعرہ لگاتے رہے۔یہ وہی وقت تھا جب چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کا ہی سکہ چلتا تھا۔ کیا پنجابی، پشتون، سندھی بلوچی، یا کشمیری یہاں تک کہ کراچی کے اردو بھائی ہوتے ایم کیو ایم میں تھے مگر ان لوگوں کے دل پیپلز پارٹی کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو ہو یا بے نظیر بھٹو ان کے ایک اشارہ پر ہزاروں لاکھوں افراد امڈ آتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے پاس اثاث تھی، سوچ تھی، فکر فلسفہ تھا۔ تب ہی ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے کہ یہاں دو بھٹو ہیں ایک میں ہوں دوسرا آپ ہیں۔ تب پارٹی تنظیم سازی نظم و ضبط ہوا کرتا تھا۔جبکہ اس کے برعکس موجودہ پیپلزپارٹی عوامی پارٹی نہیں بلکہ جوڑ توڑ کی پارٹی بن چکی ہے، اور سمٹ کر ایک صوبے یعنی صوبہ سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی میں جان ڈالی جاتی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح دوبارہ پیپلز پارٹی کو عوامی پارٹی بنا کر چاروں صوبوں میں مزید پھیلا کر کام کیا جاتا۔ تو آج پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کرپشن بدعنوانی، قبضہ گیری، قبیلائی دہشتگردی، بدامنی، پولیسنگ، منی لانڈرنگ میں نہ ڈوبی ہوئی ہوتی۔ اور نہ ہی نیب میں جیل قید بھگتتے! بہرکیف بھٹو کی ذات پر سیاسی نوعیت کے کئی الزام لگ سکتے ہیں، مگر مالی بدعنوانی کا ایک بھی الزام بھٹو سمیت ان کے کسی قریبی رفیق پر بھی نہیں لگ سکتا۔ مگر آج کی پی پی پی اور اس کی قیادت کرپشن کا استعارہ ہے، جس نے بھٹو کا نظریہ دفن کرکے زرپسندی کا نظریہ اپنا لیا۔ اور یوں غریب، کسان، مزدور، ہاری، مظلوم، محکوم، اور بے نوا پاکستانی کا بھٹو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مر گیا ہے، اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس ووٹ تو ہے مگر وہ بھی نظریاتی ووٹ نہیں پٹواری، چوکیداری، کلرک کی نوکری والوں کا ووٹ ہے۔ بلکہ سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں، نوابوں ڈکیتیوں کا ووٹ ہے جو پولیس کی مدد سے کرمنلز کی مدد سے بندوق پیسے لالچ خوف کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔اس وقت حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سرکار چاروں صوبوں کے بجائے سندھ کے سرداروں وڈیروں، کرمنلز اور پولیس کے رحم و کرم پر سانس لے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جہاں لاہور میں بنیاد ڈالی گئی لاہور میں وہاں سے ختم ہو کر آزاد کشمیر، کے پی کے سے ختم ہوتی ہوئی پنجاب میں مکمل صفایا ہونے کے بعد بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں سے بھی پیپلز پارٹی صاف ہوتی ہوئی سندھ میں گزشتہ 17 سالوں سے سرکار جبری مسلط کی گئی ہے۔ صرف لاڑکانہ اور سکھر ریجن تک بچی ہوئی ہے۔میں بھٹو کی برسی کے موقع پر صرف اتنا کہوں گا کہ یہ جماعت اب اسٹیبلشمنٹ کے آئی سی یو میں ہے، جسے عارضی چلانے کی مشق ہو رہی ہے۔ سندھ کی عوام اس وقت سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ کون سا راستہ اپنائیں۔ مگر ایک بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی میں بدعنوانی، کرپشن کی وجہ سے وہ اپنی اثاث کھو بیٹھی ہے۔ لہٰذاپیپلزپارٹی کو بھٹو کی برسی دن اُن کے عزم کو پھیلانے اور اپنی پارٹی میں اُسے دوبارہ لانچ کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے بلاول زرداری کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ورنہ پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بن کر رہ جائے گی!