سیاست میں ذاتی الزامات ،ہم اتنے کم ظرف کیوں ؟

علی امین گنڈا پورکے وزارت اعلیٰ ختم ہونے اور سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ بنانے کے کپتان کے فیصلے کے بعد ملکی سیاست ایک بار پھر دکھا رہی ہے کہ وہ ہر سال کی طرح اس سال بھی ’’اکتوبر‘‘ میں داخل ہو چکی ہے جب موسم میں تو ہلکی سی خنکی ہوتی ہے مگر سیاست کا ماحول کافی حد تک گرم رہتا ہے۔ لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے سیاستدان ،،، سیاست کو انجوائے کرنے کے بجائے ذاتی قسم کی لڑائی میں مصروف ہوجاتے ہیں،،، جیسے سہیل آفریدی کا بطور وزیر اعلیٰ نامزد ہونے کی دیر تھی، اُس نومنتخب وزیر اعلیٰ کی پرانی ویڈیوز ، مقدمات اور ذاتی زندگی کو ڈسکس کیا جانے لگا۔۔۔ بطور عام پاکستان ایک سوال ہے کہ کیا ہمارا یہ رویہ ٹھیک ہے؟ اور تو اور ہمارے موصوف وفاقی وزیر نے بھی پریس کانفرنس کر کے سہیل آفریدی کے کنکشنز افغانستان کے ساتھ جوڑ دیے اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کے پی کے حکومت دہشت گردوں کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ پھر کچھ دن پہلے فلک جاوید کو جب گرفتار کیا گیا تو سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی گئی کہ وہ تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ کے فلیٹ سے گرفتار ہوئی ہے،،، مطلب ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ ایک خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کی بیوی ، کسی کی بہن اور کسی کی بیٹی بھی ہے۔ پھر پچھلے دنوں ایک صحافی فرمارہے تھے کہ ہم حسین حقانی کے بارے میں بھی جانتے ہیں کہ جب آپ لاہور میں تھے، تو ایک چھوٹے سے گھر میں بار بار کیوں جایا کرتے تھے؟ بندہ پوچھے کسی کی ذاتی زندگی کو اس طرح کھنگالنا کیا ہمیں زیب دیتا ہے؟ کیا ہم کہیں سے لگتے ہیں کہ ہم پڑھے لکھے ہیں؟ اور پھر یہ وطیرہ ہمارا آج سے نہیں ہے،،، بلکہ پاکستان بننے کے بعد سے ہی ہے،،، جیسے آناً فاناً خان عبدالغفار خان ، جی ایم سید ، حسین شہید سہروردی اور عبدالصمد اچکزئی غدار قرار پائے۔وزیراعظم لیاقت علی خان نے ایک تقریر میں بنگال کے سابق وزیراعلیٰ اور تحریک آزادی کے سرکردہ رہنما حسین شہید سہروردی کو ہندوستان کا بھیجا ہوا ایجنٹ قرار دے دیا۔’پاکستان‘کے لفظ کے خالق چودھری رحمت علی پاکستان تشریف لائے تو ان کے لیے یہاں ٹھہرنا ناممکن بنا دیا گیا اور وہ واپس انگلستان چلے گئے۔وفات کے بعد اُن کی تدفین بھی کیمبرج میں ہوئی۔پھر ہم نے فاطمہ جناح کے ساتھ کیا کچھ نہیںکیا؟ 1965ء کے صدارتی انتخاب کی انتخابی مہم1964ء کے آخری مہینوں میں شروع ہوئی۔ایوب مخالف اتحاد’کمبائنڈ اپوزیشن پارٹی‘ نے محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے خلاف میدان میں اتارا تو سرکاری مشینری نے فاطمہ جناح کی کردار کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔فاطمہ جناح کو نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی لیگ کی حمایت حاصل تھی جیسا کہ میں نے بتایا کہ جس کے رہنما سہروردی اور غفار خان کو پہلے ہی غدار کا لقب دیا جاچکا تھا، سو فاطمہ جناح بھی غدار قرار دے دی گئیں۔ ایوب خان نے بعد ازاں اپنی کتاب’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ میں لکھا کہ ہم نے قائداعظم کی بہن ہونے کے ناطے فاطمہ جناح کا خیال رکھا ورنہ ہم بہت کچھ کہہ سکتے تھے۔گویا بانی پاکستان کی محترم المقام ہمشیرہ کو غدار قرار دینے کے بعد بھی کچھ گنجائش باقی تھی ایوب خان اور اُن کی انتظامیہ کے پاس ان کی کردار کشی کے لیے۔لیکن پھر بھی موصوف نے ناقابل بیان القابات سے نوازا۔ پھر پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی والدہ پر جماعت اسلامی کے ہم خیال ایک جریدے نے انتہائی قابلِ اعتراض الزام لگائے ،،، اس کے علاوہ پھر جب بھٹو نے شراب پر پابندی لگائی،،، حالانکہ اُن کا یہ فیصلہ بعد میں غلط ثابت ہوا ،،، لیکن اس فیصلے کے بعد بہت سوں نے کہا کہ وہ خود شرابی ہے،،، یا اُن کی جس جس انداز میں کردار سازی ہوئی وہ بھی تاریخ میں درج ہے۔ پھر اُن پر مدھو بالا اور دیگر اداکارائوں کے ساتھ تعلقات کو نیا رنگ دیا گیا اور طرح طرح کے سکینڈلز بنانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ پھر سیاسی اخلاقیات کا زوال مزید اس وقت آگے بڑھا جب ضیاء الحق کی موت کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان اگلے دس سال کی آویزش کا دور دورہ ہوا۔یہ وہ زمانہ تھا جب مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے تمام اخلاقی حدود کو پامال کرکے رکھ دیا۔ بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو صاحبہ کی تصاویر کو جعلسازی کے ذریعے بے ہودہ رنگ دے کر ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا۔ملک میں باقاعدہ مہم چلائی گئی کہ ایک عورت کسی اسلامی مملکت کی حکمرانی نہیں ہوسکتی۔عورت کی حکمرانی کی مذمت کرنے والوں نے ضروری سمجھا کہ عورت کو برا اور بدکردار بھی ظاہر کیاجائے۔ایک مذہبی پس منظر رکھنے والے رسالے نے بے نظیر کے ایک جلوس کی تصویر سرورق پر شایع کی جس میں وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر تالیاں بجارہی تھیں۔اس تصویر کے نیچے سرخی لگائی گئی تھی’ٹھمکے پہ ٹھمکہ‘۔ اُسی زمانے میں ایک اور لفظ ہماری لغت میں شامل ہوا اور وہ تھا’سیکیورٹی رِسک‘۔ بے نظیر بھٹو سیکیورٹی رِسک قرار پائیں۔گویا اب وہ ملک دشمن بھی تھیں۔اسی زمانے میں نواز شریف کے اُس وقت کے قریب ترین رفقاء میں سے ایک شیخ رشید صاحب نے بے نظیر بھٹو کے حوالے سے ذو معنی فقرے کہنے اور اشاروں کنایوں میں ان کی کردار کشی کی شہرت حاصل کی۔پیپلز پارٹی کی قیادت اس حد تک تو نہیں گئی اور شاید بے نظیر بھٹو کا پارٹی کی قیادت پر فائز ہونا پارٹی کو تہذیب کے دائرے میں رہنے میں مددگار بھی ثابت ہوا ،،، ادلے کے بدلے کے طور پر اس گھیرائو میں نواز شریف خود بھی نہ بچ سکے اور اُن پر بھی طاہرہ سید ، فیروز خان کی بہن سمیت دیگر خواتین کے ساتھ تعلق کے الزامات لگے،،، پھر شہباز شریف پر کتنے الزامات لگ چکے ہیں،،، اُن کی شادیوں کو لے کر کیسی کیسی باتیں اُڑائی جاتی ہیں،،، بندہ پوچھے یہ اُن کا ذاتی فعل ہے،،، اس سے آپ کا کیا لینا دینا۔پھر مشرف تک پر الزامات لگتے رہے کہ وہ ڈانس پارٹیوں میں جاتے تھے،،، پھر صد ر آصف علی زرداری پر کون کون سے الزامات نہیں لگے؟ اُن پر اپنے زمانے کی کون کون سی ماڈل کے ساتھ تعلقات کے الزامات لگے ،،،پھر یوسف رضا گیلانی پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی،، پھر آپ مریم نواز کو دیکھ لیں کہ اُن پر کون کون سا الزام نہیں لگا ،،، خیر پھر عمران خان کو دیکھ لیں،، ٹیریان کیس میں خان کو کیا کیا نہیں کہا گیا،،، پلے بوائے سے شروع ہو کر وہ وہ الفاظ اور القابات کہے گئے کہ خدا کی پناہ ،،اور پھر یہی نہیں ،،، بلکہ صحافی بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں، اور پھر یہی نہیں ،،، بلکہ مزید سنیں کہ ہم دنیا بھر میں گندی فلمیں دیکھنے کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہیں،،، تبھی شاید یہ شائبہ جاتا ہے کہ ہم دوسروں کی ذاتی زندگیوں کو ڈسکس کرکے یا اُن میں تانک جھانک کر کے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ مطلب ! کیا یہ رہ گئی ہے پاکستان کی سیاست؟تاریخ میں اگر کوئی شخص زندہ رہتا ہے تو وہ کیا ان چیزوں سے زندہ رہتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں کیا کرتا رہا ہے،،، بلکہ وہ اس لیے زندہ رہتا ہے کہ اُس نے کام کیا کیا ہے؟سمجھ اس بات کی بھی نہیں آتی کہ یہ تمام سیاستدان پڑھے لکھے ہیں،،، لیکن تربیت کا عنصر بھی آپ کی شخصیت میں نظر آتا ہے،،، ورنہ عمران خان کو دیکھ لیں یا بی بی کی زندگی کو اگر کسی نے قریب سے دیکھا ہے تو وہ یہ جانتا ہے کہ پاکستان میں یہ دو شخصیات واحد شخصیات ہیں جنہوں نے کبھی کسی پر ذاتی الزامات نہیں لگائے۔ ویسے یہ دونوں ہی آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہیں تبھی،،، ورنہ ہمارے ہاں تو تربیت اور ڈگریوں کا آپس میں کوئی تال میل نہیں ہے۔ بہرحال ہم اگر یہ کہیں کہ قائداعظم کی ذاتی زندگی یہ تھی وہ تھی،،، یعنی ہمیں کیا لگے کہ وہ ذاتی زندگی میں کیا کرتے رہے۔ کیوں کہ یہ اُن کا ذاتی مسئلہ ہوگا۔ پھر علامہ اقبال تک کو نہیں چھوڑا کہ وہ طوائف …وغیرہ وغیرہ بھائی اگر ایک شخص شاعر ہے تو آپ اُس سے شاعری کی بات کریں ،،، اس کے علاوہ آپ اُس سے کیا چاہیں گے؟ ہمیں اخلاقیات اور ہماری تربیت یہ درس دیتی ہے کہ کسی کی ذاتی زندگی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے،، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ ہمارے لیے، قوم کے لیے، ملک کے لیے کتنا سود مند ہے،،، اور پھر ہماری ترقی بھی اُس وقت ہوگی یا ہم اُس وقت قوم بنیں گے، جب ہم دوسروں کی لائف میں تانک جھانک بند کردیں گے،،، اب سے کوئی ڈھائی ہزار سال قبل یونان کے مشہور فلسفی افلاطون نے کہا تھا کہ’’ریاستیں، شاہ بلوط کی لکڑی سے نہیں بنتیں۔ریاستیں انسان کے کردار سے بنتی ہیں‘‘۔ صدیاں گزر چکی ہیں ،اس قول کو ادا کیے ہوئے لیکن ہر زمانے میں سیاست اور ریاست سے اخلاق و کردار کے تعلق کو تسلیم کیا گیا ہے۔اس عرصے میں ریاست سازی کے لاکھوں تجربات ہوچکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی اخلاقیات کے زوال کے اس رجحان کے آگے بند کس طرح سے باندھا جائے اور اپنی نئی اور آنے والی نسلوں کو یہ کیونکر باور کرایا جائے کہ سیاست ایک مقدس عمل ہے اور انسان کی انفرادی نشوونما اور معاشرے کے ارتقا کے لیے سیاست ناگزیر چیز ہے۔سیاست اور ریاست کے حقیقی مفہوم کو اجاگر کرنے کے لیے اور سیاسی جماعتوں کے حقیقی جمہوری کردار کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اول تو موجودہ سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ اور مخلص رہنما اور کارکن اپنی جماعتوں کی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی اہمیت کو سمجھیں۔اس لیے ہمیں ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ ہم کبھی ایک قوم نہیں بن سکیں گے! اور رہی بات سہیل آفریدی کی تو یہ بات ہمارے لیے خوش آئندہونی چاہیے کہ اب ہمارے ملک میں عام آدمی بھی بڑی سیٹوں تک پہنچ سکتا ہے،،، ورنہ تو یہ چاچائوں، بیٹوں، بیٹیوں، بھتیجے بھتیجیوں تک ہی عہدے رکھے جاتے تھے،،، اس لیے یہ تبدیلی ہمیں خود بھی ہضم کرکے ان عام آدمیوں کو بازو بننا چاہیے جو اوپر آتے ہیں!