”مسلمان “ظہران ممدانی، میئر نیویارک: ایسا صرف امریکا میں ہی ہو سکتا ہے!

اس وقت دنیا بھر میں نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کے چرچے ہورہے ہیں،،، ہوں بھی کیوں نہ وہ کئی حوالوں سے قابل ذکر بن رہے ہیں،وہ 1892 کے بعد شہر کے میئر بننے والے سب سے کم عمر شخص ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے ساتھ ساتھ افریقہ میں پیدا ہونے والے شہر کے پہلے میئر ہیں، وہ نوجوان اور کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں۔جن کی عمر محض34 سال ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ ظہران ممدانی 100 سال سے بھی زائد عرصے میں شہر کے سب سے کم عمر میئر ہیں۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی شخص ہیں۔جبکہ ظہران ہی کی وجہ سے اس بار الیکشن میں ووٹر ٹرن آﺅٹ پانچ دہائیوں میں سب سے زیادہ رہا ہے۔خیر یہ اس نوجوان کی ہمت اور حوصلہ ہے کہ اُس نے ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود میدان جیت لیا اور امریکا سمیت دنیا بھر کے تجارتی مرکز میں اپنی جیت کو یقینی بنایا۔۔۔ ظہران ممدانی کی جیت کے بعد ایک بات میری سمجھ میں نہیں آرہی کہ یہ کیسے ممکن ہوگیا کہ ایک ایسے شہر میں جہاں 97فیصد عیسائی رہتے ہوں وہاں ایک مسلمان لیڈر منتخب ہوجائے۔کل سے اس سوچ میں گُم ہوں کہ کیسے عیسائی مذہب رکھنے والے ملک میں کسی مسلمان کو جگہ مل سکتی ہے؟ کیا اُن کا ظرف ہم مسلمان ممالک میں رہنے والوں سے بہت بڑا ہے؟ کیا وہ توہم پرستی میں نہیں پڑتے ہوں گے، کہ ان مسلمان لیڈروں کے آنے سے اُن کے ہاں اسلام و فوبیا ہی نہ پھیل جائے۔ اور پھر یہی نہیں، بلکہ یہ ”بیماری“ پورے مغرب میں پھیلی ہوئی ہے جیسے لندن جیسے تاریخی شہر کے میئر صادق خان ہیں،،، حالانکہ یہ شہر عیسائیت کے حوالے سے تاریخی پس منظر رکھنے والا شہر ہے،،، پھر ہالینڈ کے شہر ریٹر دام میں سابق میئر احمد ابوطالب جن کا بیک گراﺅنڈ مسلم تھا وہ بھی ہالینڈ میں میئر رہے،،، پھر مشی گن اسٹیٹ کے میئر بھی مسلمان عامر غالب ہیں،،، جنہیں مارچ 2025ءمیں منتخب کیا گیا تھا، ،، اس کے علاوہ بھی یورپ و امریکا کے کئی شہروں، کونسلرز اور مقامی منتخب نمائندے مسلم پس منظر رکھتے ہیں،،، اور پھر آپ دور نہ جائیں بلکہ بھارت کو دیکھ لیں جہاں ڈاکٹر عبدالکلام صدر رہے،،، اُن سے پہلے ڈاکٹر ذاکر حسین، محمد ہدایت اللہ، فخر الدین علی احمد بھی ہندوستان کے صدر رہے،،، یہی نہیں بلکہ غیر ہندو وزیر اعظم من موہن سنگھ (سکھ ) بھی رہے،،،پھر سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے گیانی ذیل سنگھ بھی صدر رہے،،، اور ابھی بھی وہاں پر غیر ہندو دروپدی مرموصدر ہیں جو ہندو دھرم سے الگ ثقافتی و مذہبی روایات رکھتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے ہاں کوئی غیر مسلم کسی بڑے عہدے پر پہنچ جائے تو یہ بات بڑے بڑوں کو ہضم ہی نہیں ہوتی،،، اس کی درجنوں مثالیں ہماری تاریخ کا حصہ رہی ہیں۔ جیسے حالیہ تاریخ میں عمران خان کے دور میں پرنسٹن یونیورسٹی کے معاشیات کے پروفیسر جو غیر مسلم ہیں اور متنازعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں سے تعلق رکھنے والے عاطف میاں کو معاشی مشاورتی کونسل میں شامل کیے جانے پر شدید تنقید ہوئی ،،، کہ اُنہیں فوری استعفیٰ دینا پڑگیا،،، حالانکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ایک رپورٹ میں عاطف میاں کو دنیا کے سب سے زیادہ بااثر نوجوان اقتصادی ماہرین میں شامل کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ آنے والی دہائیوں میں یہ افراد عالمی اقتصادیات پر بے حد اثرات کے حامل ہوں گے۔حالانکہ اُس وقت معیشت سنبھالنے کے لیے بندہ کا اقتصادی علم رکھنا اہم تھا ناکہ اُس کے مذہبی عقائد کا اکثریت کے عقیدے سے ہم آہنگ ہونا۔لیکن اُن کے حوالے سے دباﺅ عمران خان بھی دباﺅ برداشت نہ کرسکے۔ اور اُنہیں وضاحت دینا پڑی تھی۔ حالانکہ عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں عاطف میاں کی تعریف کی تھی، تاہم اس کے بعد انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ انہیں عاطف میاں کے عقیدے سے متعلق علم نہیں تھا۔ خیر اسی روشنی میں کہ جب دنیا کے سب سے امیر اور ترقی یافتہ شہر میں مسلمان میئر منتخب ہوگیا ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کراچی یا لاہور کا میئر کوئی غیر مسلم منتخب ہو کر دکھائے، ہم اُس کا وہ حشر کریں گے کہ اُس بے چارے کی جان بچانا مشکل ہو جائے گا،،، جان بچانے سے یاد آیا،،، ہم تو اتنے ظالم ہیں کہ اقلیتوں کی بستیوں کی بستیاں ہی جلا ڈالتے ہیں،،، ہم بطور قوم اتنے کم ظرف ہیں کہ ہم نے نوبل انعام یافتہ پاکستانی ڈاکٹر عبدالاسلام کو وہ عزت نہیں بخشی جس کا وہ حقدار رہا ہے،،، نوبل پرائز تو اُس نے پاکستان کی خاطر حاصل کیا تھا، پوری دنیا بھی اُس کی عزت بطور پاکستانی ہی کرتے ہیں،،، مگر ہم مذہب اور فرقہ واریت کا لیبل چسپاں کرکے نہ جانے دنیا کو کیا پیغام دے دیتے ہیں۔ ہم نے تو ان کا نام نصاب اور سرکاری اداروں سے مٹادیا، حتیٰ کہ ان کی قبر پر لکھا ہوا لفظ ”مسلم“ بھی مٹا دیا تھا۔ وہ خود اکثر کہتے تھے:”میں نے اپنے وطن کے لیے کام کیا، مگر میرا وطن مجھے قبول نہیں کر سکا۔“ پھر یہی نہیں بلکہ ایئر کموڈور سیسل چوہدری کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ وہ قومی ہیرو ہیں،،، انہوں نے 1965ءاور 1971ءکی جنگ میں پاکستان کے لیے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے،،، اُنہیں نشان جرا¿ت بھی دیا گیا، مگر انہوںنے ریٹائرمنٹ کے بعد شکوہ کیا کہ اُنہیں مذہبی بنیادوں پر غیر ضروری تنقید اور امتیاز کا سامنا رہا،،، پھر جوگندر ناتھ منڈل جو قائداعظم کے ساتھی تھے اور پاکستان کے پہلے قانون و انصاف کے وزیر تھے،،، اُنہیں صرف ہندو پس منظر رکھنے کی وجہ سے نفرت کا نشانہ بنایا گیا،،، حالانکہ وہ ملک کے ابتدائی آئینی ڈھانچے میں شامل تھے، مگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت سے دل برداشتہ ہو کر بھارت ہجرت کر گئے۔پھر ہم نے اقلیتوں کے خلاف جھوٹے مقدمات، جیسے توہینِ مذہب کے کیسز بنائے، آسیہ بی بی کیس عالمی سطح پر پاکستان کی مذہبی برداشت پر سوال اٹھانے کا باعث بنا، ہندو اور عیسائی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہے، اسکولوں، نوکریوں، اور عوامی عہدوں پر بھی اقلیتوں کی نمائندگی محدود رہی۔لہٰذاجب ملک میں اس قسم کے مسائل ہوں گے، تو ملک کیسے ترقی کرے گا،،، دنیا ہم پر کیسے اعتبار کر سکتی ہے؟ مطلب! جب ملک میں اس قسم کے مسائل حل نہیں کریں گے،،، تو کیسے ممکن ہے کہ ہم ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوسکتے ہیں؟ ہم تو اُن کے قریب بھی نہیں بھٹک سکتے۔ آپ یقین مانیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ اتنی اقلیتوں کے لیے کسی نے نفرت نہیں دکھائی جتنی ہم دکھاتے ہیں،،، حتیٰ کہ مرہٹوں کا توپچی مسلمان تھا، بلکہ اُس کی فوج کے کئی اعلیٰ عہدے مسلمانوں کے پاس تھے،،، شیواجی ایک ہندو راجا ضرور تھے، مگر عملی طور پر بہت ذہین اور روادار حکمران تھے۔انہوں نے کئی مسلمان افسران کو اہم عہدے دیے،اور فوج میں توپ خانہ (Artillery) اور بحریہ میں خاص طور پر مسلمانوں پر انحصار کیا۔ان افسران میں ابراہیم خان گارڈی ، مرہٹ فوج کے سب سے مشہور توپچی تھے،،، پھر محمد علی شاہ نظامِ دکن کی فوج سے تعلق رکھتے تھے، مگر بعد میں مرہٹوں کے ساتھ شامل ہوئے۔1761 کی تھرڈ بیٹل آف پانی پت میںمرہٹ توپ خانے کی قیادت انہی کے ہاتھ میں تھی۔انہوں نے احمد شاہ ابدالی کی فوجوں کے خلاف بہادری سے جنگ کی،اور قید ہونے کے بعد شہید کر دیے گئے۔انہیں مرہٹ تاریخ میں”ہیرو آف دی پانی پت“ کہا جاتا ہے،،، پھر دادو خان کو دیکھ لیں،،، شیواجی کے دور میں سمندری توپ خانہ کے ماہر سمجھے جاتے تھے،،، قصہ مختصر کہ یہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ فوجی تاریخ مذہب سے زیادہ مہارت، وفاداری، اور پیشہ وارانہ جذبے پر مبنی تھی۔لیکن ہم بطور قوم کسی غیر مسلم کو برداشت ہی نہیں کرتے ،،، حالانکہ جب ہم سب پاکستانی ہیں تو پھر کسی کے ساتھ اچھا اور کسی کے ساتھ برا سلوک کیوں؟ اور پھر جب ہم کسی کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں تو ہم کوئی بھی دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ کہ ہمارے ملک میں انصاف کا ہر دم بول بالا ہے۔ قائداعظمؒ نے بھی انہی آنے والے مسائل کو سامنے رکھ کر پاکستان بننے کے فوری بعد کہا تھا کہ یہاں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں سب کے مساوی حقوق ہیں۔ اور پھر یہ بھی کہا تھا کہ ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ، سب شہری برابر ہوں گے۔مگر عملی طور پر، وقت گزرنے کے ساتھ مذہبی عدم برداشت، انتہا پسندی، اور سماجی تعصبات نے اس خواب کو مجروح کیا۔ اور افسوناک بات یہ ہے کہ ہم ان سب چیزوں سے باز بھی نہیں آرہے،،، بلکہ ہم نے تو عجیب و غریب قانون بنا کر سب کچھ ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم جان بوجھ کر اقلیتوں کو تنگ کر رہے ہیں۔ ہم نے اگر کسی سے بدلہ لینا ہوتا ہے تو ہم اُس پر مذہبی نفرت کا مقدمہ درج کروا دیتے ہیں،،، یعنی آپ توہین مذہب کے قوانین کو دیکھ لیں،،، 99فیصد جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہوتے ہیں،،،ہم نے کئی بار احتجاج بھی کیا کہ اس پر کوئی کمیشن بنا دیں جو مقدمہ قائم کرنے سے پہلے فیصلہ کرے کہ آخر واقعہ ہوا کیا ہے،،، مگر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے،،، پھر توہین مذہب کے قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں گرفتار 134 متاثرین کے اہلخانہ نے وفاقی حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے درخواست دی۔ان درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کے عزیزوں کو پھنسایا گیا لہذا جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی جائیں۔اسی حوالے سے حال ہی میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے درمیان درج ہونے والے توہین مذہب کے مقدمات پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ، جس کے مطابق چند افراد کو سوشل میڈیا کے ذریعے ٹریپ کیا گیا۔اور پھر آپ خود دیکھیں کہ قصور وار کون ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران توہین مذہب کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں 450 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر ایسا مواد شیئر کیا جو توہین مذہب کے ذمرے میں آتا ہے۔ ان 450 گرفتار ملزمان میں 99 فیصد مسلمان ہیں جبکہ 90 فیصد طالب علم تھے۔ بہرکیف آپ اس حوالے سے کوئی بات کر کے دیکھ لیں،،، لوگ گلے پھاڑنے پر آجاتے ہیں۔ لہٰذاظہران ممدان جیسے مسلمان کا عیسائی مذہب میں منتخب ہو جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھی ہمیں اپنے معاشرے پر ضرورت سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے،،، جب تک ہم اپنے بنیادی مسائل حل نہیں کریں گے،،، تو یہ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم ترقی کر سکتے ہیں؟ایسا ممکن نہیں ہے،،، کبھی بھی ممکن نہیں ہے!