”پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ “ عوام کو کچھ نہیں ملنے والا؟

پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ بھی ہوگیا، امریکا میں عالمی رہنماﺅں سے گپ شپ بھی ہوگئی، ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوگئی،پاکستان کو نئی اہم ”ذمہ داریاں“ بھی مل گئیں،،، بالکل اُسی طرح جس طرح ہمارے سابق رہنماﺅں کو ملا کرتی تھیں،،، اور ہم خوشی سے دیوانوں کی طرح ناچنا شروع کر دیتے تھے کہ ہمیں امریکا بہادر نے کسی قابل تو سمجھا! اب وزیر اعظم کا آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب ہوگا، جس میں غزہ میں شہادتوں کا خوب ”نوٹس“ لیا جائے گا،،، اور مسئلہ کشمیرپر بھی بھارت کو خوب لتاڑا جائے گا،،، کیوں کہ یہی کچھ آج تک ہوتا آیا ہے، اور ہوتا رہے گا،،، اور پھر ہمارے رہنما واپسی کا رخت سفر باندھ لیں گے،،، لیکن ان سارے معاملات میں عوام کو کیا ملا؟ یقینا کچھ نہیں.... ریاست کے اِ ن ، ان چاہے باسیوں کو تو دریاﺅں کی ظلمتوں نے مار دیا ہے،،، یہ لاچار کچھ نہیں چاہتے بس سرکار سے دو وقت کی روٹی چاہتے ہیں،،، کیوں کہ تادم تحریر ہماری قیادت نے عالمی رہنماﺅں سے ابھی تک سیلاب زدگان کے لیے اپیل نہیں کی،،، اور نہ ہی کہیں سے کوئی بڑی امداد آئی ہے،،، بلکہ ابھی تک سندھ ، پنجاب اور مرکز میں یہ لڑائی جاری ہے کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے امداد دی جائے ،،، مریم نواز کی طرف سے یا مرکز کی طرف سے،،، کیوں کہ ہمارے ارباب اختیار سیلاب کو بھی کیش کروانا چاہ رہے ہیں۔ اور رہی بات پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کی تو بقول شخصے جب کوئی گاڈفادر اچانک کسی بھکاری کی عزت کرنے لگے اور اس کے کندھے پر شاباشی سے تھپکی اور غیر یقینی پروٹوکول دے تو سمجھ جاﺅ کہ گاڈ فادر نے بھکاری سے کوئی بڑا کام نکلوانا ہے ۔ اور پھر کچھ بین الاقوامی صحافی تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ مذکورہ پاک سعودی دفاعی معاہدے میں اصل کھیل امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ واشنگٹن کافی عرصے سے سعودی عرب اور پاکستان پر دباو¿ ڈال رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں۔ یہ معاہدہ اسی امریکی منصوبے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے تاکہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب ایک ساتھ اسرائیل کو قبول کر لیں۔ جو اس کو نہیں دیکھتے، وہ یا تو اندھے ہیں یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ خیر ابھی تو اس دفاعی معاہدے اور امریکی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات آنی ہیں،،، تب علم ہوگا کہ ہم نے اصل معاہدے کیا کیے ہیں او ر پاکستان کے اس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے،،، اس پریشانی کو کم کرنے کے لیے ہم نے (لیڈر میڈیا گروپ ) کے ایک نشست ”پاک سعودی دفاعی معاہدہ،،، پیراڈائم شفٹ“کا اہتمام کیا جس میں ایکسپرٹس کو دعوت دی گئی کہ وہ اس پر روشنی ڈالیں کہ آیا یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا یا یہ وطن عزیز کے لیے مزید پریشانیاں بڑھائے گا؟ اس سیمینار میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی، سابق سینیٹر تحریک انصاف ولید اقبال، سینئر صحافی سلیمان غنی ، سینئر صحافی و تجزیہ کار امتیازعالم،سینئر صحافی و سابق صدر لاہور پریس کلب محسن گورائیہ،جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم، صدر پاک روس دوستی انجمن افتخار بخاری، ماہر تعلیم ڈاکٹر رضوانہ و دیگر مقررین نے شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ سب کی مرضی سے طے پایا ہے۔ابھی تک کسی بھی جانب سے اس معاہدہ کے خلاف کوئی نظریہ سامنے نہیں آیا ہے۔میں یہ کہوں گا کہ اس معاہدہ کے تاثر میں پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے۔بھارت کی مذہبی انتہا پسندی ،ہندوانہ سوچ روز اول سے ہی جاری و ساری ہے۔بھارت ہمیشہ ہی سے ایک سیکولر ملک رہا ہے جبکہ پاکستان آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔البتہ پاک سعودیہ معاہدہ میں کہیں بھی ہماری سیاسی قیادت نظر نہیںآئی ہے۔ہم خواہ مخواہ ہی فوج کو برا بھلا کہتے رہتے ہیںجبکہ ہمارے سیاستدان ہمیں فوج کے خلاف کرکے خود قرضے حاصل کرتے اور بیرونی دوروں میں مصروف رہتے ہیں جبکہ جن کی وجہ سے ہماری عزتیں ،جان ومال ،محفوظ ہیں عوام کو ان سے بدگمانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس معاہدہ سے جو معاشی فوائد حاصل ہونگے وہ اگر عوام تک نہیں پہنچتے توکوئی فائدہ نہیں‘پھر سے یہ حکمران اپنی دولت لندن،پیرس منتقل کر دیتے ہیں اس معاہدہ کو حکمران طبقہ و اشرافیہ کا ذاتی مفاد ہی سمجھا جائے گا ‘پوری دنیا پر پاکستان ملٹری،فضائیہ کا بہترین شاندار تاثر ہمیشہ ہی رہا ہے۔موجودہ حکمرانوں کا یہ فرمانا ہے کہ ہم حالیہ سیلاب متاثرین کے لئے دنیا سے کوئی مدد نہیں لیں گے جبکہ سیلاب میں بہہ جانے والے خاندانوں،خصوصاکسانوںکا مال و مویشی ،فصلوں،کا شدید ترین نقصان ہوا ہے۔میری حکومت سے اپیل ہے کہ سیلاب متاثرین کو ریلیف فنڈز دیں۔آئی ایم ایف سے کہیں کہ وہ قرضوں کو ری شیڈول کرے۔اس موقع پر سابق سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ آج کی فکری نشست کا عنوان ”ایک انتہائی مضبوط موضوع۔ بار بار یہ کہا گیا کہ ہمیں متحد ہونے کی اشد ضرور ت ہے۔جس حکومت نے اس معاہدہ پر دستخط کئے ہیں۔اس کی اتحادی پیپلز پارٹی نے یہ کہا ہے کہ آپ نے معاہدہ کرتے ہوئے ہمارے ساتھ اس کو ڈسکس کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔قطر پر حملہ کی صورت میں امریکہ کیطرف سے بے وفائی آئی جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے گریٹر اسرائیل کی بات ہورہی ہے۔آج سے پہلے پاکستان ہمیشہ مغربی ممالک کے ساتھ معاہدے کرتا آیا ہے۔تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان کا کسی مسلمان ملک سے معاہدہ ہوا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا یہ کہنا ہے کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔اگر خدانخواستہ دوبارہ بھارت حملہ کرتا ہے تو کیا سعودیہ عرب کا وہی ردعمل ہوگا جو کہ مئی2025میں رہا ہے۔بطور ترجمان پاکستان تحریک انصاف میں اس معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس معاہدہ کی تائید کرتا ہوں۔اس موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے سینئرصحافی وتجزیہ کارامتیاز عالم نے کہا کہ میرے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا یہ معاہدہ امریکہ یا اسرائیل کے خلاف ہے۔کیا اس معاہدہ کے بعد ہم اسرائیل کے نیوکلیئر پاور حکمت عملی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔اس معاہدہ سے قبل بھی پاکستان و سعودیہ عرب کے بہترین تعلقات ہمیشہ رہے ہیں۔میرے ذہن میں یہ سوال بھی ہے کہ اب نئے اقدامات عالمی سطح پر کیا ہونگے۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا خدانخواستہ پاکستان اپنا اسلحہ سعودیہ بھی منتقل کرسکتا ہے۔اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو پھر یہ سنگین ترین غلطی نہیں بلکہ ناقابل تلافی حماقت ہوگی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرپاک روس دوستی انجمن افتخار بخاری نے کہا یہ جو معاہدہ ہوا ہے اس کا پس منظر ،پیش منظر مختلف ہے۔پاکستان کے مفادات امریکہ و امریکہ کے مفادات پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ پاک سعودیہ معاہدہ ہونا ،امریکہ کی مرضی کے بغیر ہو۔صرف پائیدار حکمران ہی یہ کرسکتے ہیں۔پاکستان کے اندر پائیدار حکمران کون ہے۔البتہ پاک سعودی معاہدہ کو عمران خان ،ایران نے بھی مثبت قرار دیا ہے۔لیکن غور طلب بات ہے کہ سعودیہ عرب کو اپنے اندر سے خطرات لاحق ہیں۔سابق صدر لاہور پریس کلب محسن گورائیہ نے راقم کومختلف موضوعات پر سیمینارز کروانے کے سلسلہ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک سعودیہ معاہدہ اللہ کی طرف سے غیبی مدد ہے۔ہر مشکل وقت میںسعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے سپاہی کے طورپر مدد کی ہے۔ ماہر تعلیم ڈاکٹر رضوانہ نے کہا کہ پاکستان و سعودیہ ہمیشہ اچھے دوست رہے ہیں۔پاکستان خطہ میں مسلم ایٹمی قوت ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس دولت کے ذخائر موجود ہیں۔ہمیں اس معاہدہ کو مثبت لینا چاہیے۔لیکن اس معاہدہ کے پس منظر میں ہمیں چائنہ ،امریکہ،افغانستان کو نظرا نداز نہیں کرنا چاہیے۔سینئر صحافی وتجزیہ نگار سلیمان غنی نے کہا کہ فکری نشست کے حوالے سے راقم کی کاوشوں کو سراہا کہ جن موضوعات پر ایسے سیمینارز منعقد کروائے جاتے ہیں۔یہ ایشوز تو کبھی پاکستان کی پارلیمنٹ میںآج تک زیر بحث نہیں ہوئے۔2025کا سال پاکستان سمیت پوری دنیا و عالم اسلام کے لئے انتہائی اہم ہے۔امریکہ کا کوئی بھی صدر کبھی کسی ملک کے سپہ سالار سے نہیں ملا ،صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بطور پاکستانی سپہ سالار کے ملا ہے۔تب سے بھارت میں سانپ سونگھ گیا ہے۔نریندر مودی تب سے ایک نفسیاتی عارضہ میں مبتلا ہے۔آج سے پہلے ا±مت مسلمہ کی بات کرنے والا ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ہم اپنے لوگوں کو کریڈٹ نہیں دیتے ہیں۔لیکن ہمارے ایک ہاتھ میں ایٹم بم تو ضرور ہے مگر دوسرے ہاتھ میں کشکول ہے۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر اعظیم نے کہا کہ ہم بطور قوم بہترین مواقع گنواد یتے ہیں۔ پاکستان نے28مئی 1998کو ایٹمی دھماکے کئے مگر اس کے بعد اس ملک میں جو عبدالقدیرخان کے ساتھ کیا گیا۔وہ بھی سب کے سامنے ہے ہم کشمیر حاصل کرسکتے تھے لیکن ہم نے موقع گنوا دیا۔ابھی ہمیں اس معاہدہ کی تفصیلات کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کے عوام ،معیشت کو اس کے کیا ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔ ان تمام مہمانان گرامی کی پر اثر گفتگو کے بعد بھلا میری کیا جرا¿ت کہ میں کچھ کہتا ،،، بس اتنا ہی کہہ سکا کہ اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ اس معاہدہ سے پاکستان کے عوام کو کوئی ریلیف ،کوئی مثبت تبدیلی،کوئی خوشحالی میسر آئے گی تو وہ شخص سب سے بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ بھیک دینے والا اور ہمارے بھکاری حکمران ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں۔سلمان غنی نے بھٹو کی تعریف کی ہے ،مگر یہ بتائیں کہ بھٹو کو کس نے مارا؟ محمد علی درانی نے کہا کہ تنقیدنہ کریں،میں یہ کہوں گا کہ بوٹ پالش کروانے خود،”انکار “ سننا پسند نہیں کرتے۔عمران خان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ قائداعظم نے اس کو ماننے سے منع کیا تھا۔تو آج عمران خان کہاں ہے؟ہمارے فیلڈ مارشل کو جس دن ایکسٹینشن مل گئی۔اس کے بعد وہ آج والے فیلڈ مارشل آرمی چیف نہیں رہیں گے۔عوام کو انتخابات پر اعتبار نہیں رہا کیونکہ جب فارم47 ،اسی نوعیت کے سنگین کھلواڑہی عوام کے ساتھ ہوتے رہنے ہیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی آئندہ الیکشن میںباہر نہیں نکلے گاکیونکہ عوام کا ووٹ اور انتخابات پر یقین ہی نہیں رہا۔ بہرحال کسی نے کہا کہ پاک سعودی معاہدے میں امریکہ کی مرضی شامل ہے،،، تو کسی نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت کہیں بھی نظر نہیںآئی، اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ معاہدہ سے عوام کو کوئی ریلیف ،مثبت تبدیلی،کوئی خوشحالی میسر آئے گی تو وہ شخص خوش فہمی میں مبتلا ہے۔لیکن سبھی مقررین اس بات پر متفق نظر آئے کہ بظاہر یہ معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے مگر اس کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اندازہ ہوگا کہ آیا پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟ اور آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے اسرائیل یا امریکا کیا درجہ رکھتے ہیں اور خدانخواستہ اگر بھارت ایک بار پھر پاکستان کے خلاف جارحیت کرتا ہے تو ایسے میں سعودی عرب کہاں کھڑا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ ہمیں عوام کے حق میں بہترین فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)