پاکستان مایوسی کا شکار!

آج سانحہ 26نومبر کو ایک سال ہو گیا، اس دوران ملک کمزور ہوا یا طاقتور اس بارے میں تو عوام بخوبی جانتے ہیں مگر اس کے ساتھ ریاست ”ہارڈ اسٹیٹ“ ضرور ہوگئی ہے،،، یعنی ایسی ریاست جس میں آپ ہر احتجاج، ہر اُٹھنے والی آواز، ہر تحریک اور ہر مخالف رائے رکھنے والے کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں۔ اس کی مثالیں تحریک انصاف کے قائدین کے ساتھ مزید سختیاں، تحریک لبیک کے کارکنان کا قتل عام اور جماعت پر پابندی لگانا،،، افغانستان کے ساتھ بگڑتے حالات کو جنگ کی حالت میں لے جانا، ،، بھارت کے ساتھ حد درجے تک حالات خراب کرلینا کہ دونوں ممالک ابھی تک حالت جنگ میں ہیں،،، بلوچستان میں مقامی افراد کو دبانا اور مذاکرات کو پس پشت ڈال کراُن کے ساتھ سختی سے پیش آنا وغیرہ شامل ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ کا Conceptکسی جگہ تو کارآمد ہو سکتا ہے مگر ہر جگہ اور ہر وقت اس کا استعمال ریاست کو بہت سے مسائل سے دو چار کر دیتا ہے،،، جیسے اس کا سب سے بڑا نقصان ریاست کے عوام کا مایوس ہو جانا ہے،،، جبکہ دیگر نقصانات میں ہارڈ اسٹیٹ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کا رُک جانا، معیشت کا ٹھہر جانا،،، سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہونا،،، کاروبار بند ہونا،،، بے روز گاری بڑھ جانا،،، امن و امان ختم ہو کر رہ جانا،،، دہشت گردوں کے نئے گروپس کا سراُٹھانا،،، سیاحت ختم ہوجانا،،، غیر ملکی کمپنیوں کا عدم تحفظ کا شکار ہوجانا،،، ریاست سے انصاف کا ختم ہوجانا،،، کرپشن بڑھ جانا،،، ملک سے ہنر مند افراد کا انخلاءہونا،،، عوام میں بے چینی پھیلنا،،، خارجہ و داخلہ پالیسیوں میں لچک نہ ہوناوغیرہ شامل ہے۔ لیکن ان تمام خرابیوں میں اس وقت سب سے بڑی خرابی جس کی نشاندہی ہم گزشتہ دو تین سال سے کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وقت عوام مایوس ہو چکے ہیں،،، لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، ،، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے،،، اس حوالے سے میں ریاست سے کیا شکوہ کروں،،، میرے اپنے دونوں بچے بیرون ملک سے تعلیم مکمل کرنے کے باوجود واپس آنے کو تیار نہیں، بلکہ میرے خاندان کے درجن بھر بچے واپس آنے کو تیار نہیں،،، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں مستقبل روشن نہیں رہا۔ حالانکہ یہ بچے گئے ہی اس لیے تھے کہ واپس آکر یہاں بہتر روزگار مل سکے گا،،، لیکن یہاں کے حکومتی عہدیدار بابنگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ ملک حالت جنگ میں ہے،،، جب ہم حالت جنگ میں ہیں تو ہم اپنے بچوں کو کیوں زور دے کر کہیں گے کہ نہیں! تم پاکستان واپس آﺅ؟اور پھر ہمارے نوجوان مایوس کیوں نہ ہوں،،، یہاں بے روز گاری کی شرح بڑھ کر 7.1فیصد ہوگئی ہے،،، یعنی قومی لیبر فورس سروے 2024-25 کے نتائج کے مطابق گزشتہ چند سال میں بے روزگاری میں 1فیصد تک اضافہ ہوا،اور ملک میں اس وقت تقریبا 80 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔جبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق حالیہ سالوں میں معاشی، سیاسی، معاشرتی اور سلامتی سے متعلق مسائل، جو ملک کو شدید عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہیں، عام پاکستان کو انتہائی مایوسی سے دوچار کردیا ہے۔اور گزشتہ سال کے اواخر میں پاکستانیوں کی اکثریت معیشت کے حوالے سے18 سال کے دوران شدید ترین مایوسی کا شکار تھے۔ 70 فیصد پاکستانی معیشت کے حوالے سے انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ جبکہ پاکستان میں زندہ رہنے کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور بے روزگاری بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ایک طرف لوگ معیشت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور دوسری طرف انفرادی سطح پر معاشی معاملات کے بگاڑ نے مایوسی بڑھائی ہے۔ معیارِ زندگی بڑھانا تو دور کی بات، برقرار رکھنا بھی دشوار ہوگیا ہے۔جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق شدید مایوسی کے عالم میں عام پاکستانی کا انتخابی نظام اور حکومتی ڈھانچے پر اعتماد نمایاں حد تک کم ہوا ہے۔ 70 فیصد پاکستانیوں کو یقین نہیں کہ انتخابات شفاف ہوتے ہیں۔ جبکہ 88 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حکومتی نظام میں کرپشن جڑ پکڑ چکی ہے۔ اور پاکستانی اس لیے بھی مایوسی کا شکار ہیں کہ 2022 کے بعد سے اب تک سلامتی کے احساس میں پریشان کن حد تک گراوٹ آئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں خود کو محفوظ محسوس کرنے والوںکی تعداد ریکارڈ کمی کو چھو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی دہشت گردی بڑھی ہے۔ بہرحال قصہ مختصر کہ پاکستان کا موجودہ سماجی اور معاشی منظرنامہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ بے یقینی، اضطراب اور مستقبل کے خوف کا شکار ہیں۔ایسے میں آپ یقین مانیں کہ ایک اور بحران نے جنم لیا ہے جس کے مطابق گزشتہ کچھ ہفتوں سے ملک کے ہوائی اڈوں پر جس قدر بے رحمی کے ساتھ نوجوانوں کو آف لوڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس نے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر شدید نوعیت کے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف بیرون ملک جانے والوں کی تعداد بڑھتی ہے، دوسری طرف ایئرپورٹ سے واپس بھیجے جانے والے نوجوانوں کے چہروں پر مایوسی کی گہری لکیریں ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے معاشرتی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔آف لوڈ ہونا کوئی محض انتظامی کارروائی نہیں، یہ ایک ایسے لمحے کی شکل اختیار کر چکا ہے جو نہ صرف سفر روک دیتا ہے بلکہ انسان کے اندر کی دنیا کو بھی منجمد کر دیتا ہے۔ وہ نوجوان جو مہینوں تک پیسے جوڑ کر، قرض اٹھا کر، کسی دوست کی مدد سے یا گھر کی جمع پونجی بیچ کر ویزا حاصل کرتا ہے، وہ جب ایئرپورٹ کے امیگریشن کاﺅنٹر پر صرف اس وجہ سے روک دیا جاتا ہے کہ ’افسر کو شک ہے‘، تو یہ محض سفر کا نہیں بلکہ اس کی عزت، اعتماد اور خودداری کا بھی قتل ہے۔ اس کے ہاتھ میں ٹکٹ، ویزا، بورڈنگ پاس اور مکمل سفری ریکارڈ ہونے کے باوجود اگر اسے روک دیا جائے تو پھر اس کے پاس اور کیا ثبوت باقی رہتے ہیں؟ اس کے پاس تو صرف آنکھوں میں ہلکورے لیتی وہ امید رہ جاتی ہے جسے ایئرپورٹ کی ٹھنڈی دیواروں سے ٹکرا کر ہر ثانیہ شکست کھانی پڑتی ہے۔ اور پھر آف لوڈنگ کا عمل اکثر ایک ایسے شک پر مبنی ہوتا ہے جو کسی قانون کے دائرے میں آنے کے بجائے محض ایک افسر کی ذہنی کیفیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کہیں افسر یہ سمجھتا ہے کہ نوجوان غیر قانونی طور پر باہر جانا چاہتا ہے، کہیں اسے لگتا ہے کہ ویزا جعلی ہوگا، کہیں اسے مسافر کی شکل ”مشکوک“ لگتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ انسانی عزت نفس کی توہین کے مترادف بھی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں امیگریشن کا عمل مکمل طور پر ڈیٹا، ریکارڈ اور ثبوت پر مبنی ہے۔ وہاں افسر خواہش یا شبے سے نہیں بلکہ ثبوت سے فیصلہ کرتا ہے۔لیکن یہاں امیگریشن ڈیسک پر بھی مبینہ طور پر کرپشن کے ریٹس بڑھ چکے ہیں،،، جسے آف لوڈ کیا جاتا ہے،،، عملے کی کوشش ہوتی ہے کہ اگلی بار جب یہ آئے تو ”ڈیل“ کرکے آئے، ورنہ اُس کے ساتھ پھر دوبارہ وہی سلوک ہوگا، جو اب کی بار ہوا ہے،،، خیر یہ بات تو اب زبان زد عام ہو چکی ہے کہ اس پورے بحران نے ایک اور خطرناک رجحان کو جنم دیا ہے،اور وہ ہے نوجوانوں میں ریاست پر عدم اعتماد۔ جب ایک باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور محنتی نوجوان ملک کے اندر اپنے لیے جگہ نہیں دیکھتا، باہر جانا چاہتا ہے اور اسے وہاں بھی دیوار سے لگا دیا جاتا ہے تو پھر وہ ریاست کو اپنا نہیں سمجھ پاتا۔ یہ فاصلہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، اور جب مستقبل بدگمان ہو جائے تو قوم کی سمت بدل جاتی ہے۔ بہرحال سانحہ 26نومبر ہو، 9مئی ہو، سانحہ مریدکے ہو ، سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہو یا کوئی اور سانحہ ،،، ہر سانحے کے بعد مایوسی کے بادل اس قدر چھا جاتے ہیں کہ دوبارہ ان کی بیخ کنی بھی کوئی نہیں کرتا،،، اور پھر یہ مایوسیاں انفرادی شخصیات سے نکل کر صوبائی اور قومی سطح تک پھیلتی جارہی ہیں،،، جیسے آئینی ترامیم سے ملک کا ایک حصہ ہی اس قدر مایوس ہو چکا ہے کہ اُس کے نزدیک اب ریاست ریاست نہیں رہی بلکہ چند افراد کو گورکھ دھندہ بن چکا ہے۔ جنہیں فکر ہی نہیں ہے کہ اس وقت ملک کن مسائل کا شکار ہے،،، ہم نہ تو آزاد کشمیر کی طرف توجہ دے رہے ہیں، نہ بلوچستان پر جہاں لاتعداد قیمتی معدنی وسائل ہیں جن کی دریافت نے دنیا کی توجہ حاصل کی ہوئی ہے،،، نہ گوادر پر توجہ دے پا رہے ہیں،،، آپ خیبر پختونخواہ کو دیکھ لیں، جہاں کے منتخب وزیر اعلیٰ کے لاچار کیا جار ہا ہے،،، اُسے بھرپور استحقاق کے باوجود اڈیالہ جیل میں اپنے قائد سے ملاقات ہی نہیں کروائی جا رہی،،، جس سے پورا صوبہ وفاق اور فیصلہ کرنے والی قوتوں سے مایوس ہو چکا ہے،،، اس کے علاوہ خیبر پختون خوا اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے حملوں کے علاوہ سول حکومت کی ناقص کارکردگی اور صوبے کو ایک مخصوص پارٹی کی سیاست کے لیے استعمال کرنے کی وجہ سے شدید بحران اور بے چینی کا شکار ہے۔ اس کا مظاہرہ کبھی پولیس احتجاج کی صورت میں دیکھنے میں آتا ہے اور کبھی گروہی اور فرقہ ورانہ فسادات سے امن و امان اور حکومتی ناکامی کی صورت واضح ہوتی ہے۔ بہرکیف ہر طرف مایوسی اور پریشانی کے بادل چھائے ہوئے ہیں،،، مجموعی طور پر یہ قوم کو مایوسی اور پریشانی کی ایسی کھائی کی طرف دھکیل رہے ہیں جس سے بچنے کا کوئی صاف راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اور نہ ہی کوئی مسیحا سامنے ہے۔ جو مسیحا ہیں اُنہیں پابند سلاسل کیا ہوا ہے،،، اور اُس پر ہر روز نت نئے جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں،،، لہٰذاریاست نے اگر یہ ٹھان لیا ہے کہ اب سب کچھ ایسے ہی چلانا ہے تو پھر وہ دن دور نہیں جب یہی مایوسی سرکار کے گلے کا طوق بن جائے گی ،،، عوام سڑکوں پر ہوں گے اور ان فیصلہ کرنے والوں کو پھر چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی!