نجکاری: قائداعظم کی روح خوش ہو گئی ہوگی؟

لیں جی!،،، قائداعظم کی یوم پیدائش پر قوم کو جو تحفہ ملا ہے، وہ ”نجکاری“ کاہے،،، پی آئی اے بک چکا، اب دیگر 25،26سرکاری ادارے بھی بکیں گے،،، جن میں زرعی ترقیاتی بنک، روزویلٹ ہوٹل (نیویارک) ، ڈسٹری بیوٹرز کمپنیاں، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، پاور کمپنیاں(لیسکو، ہیسکو، پیسکو، میپکو وغیرہ ) نمایاں ہیں،،، ویسے مجھے لگتا ہے کہ نجکاری کا یہ عمل دیکھ کر قائداعظم کی روح خوش ہو رہی ہو گی ،،، کیوں کہ انہوں نے پاکستان شاید اس لیے بنایا تھا کہ جو ہمارے اثاثے ہوں گے،،، ہم اُنہیں بیچ کر اپنے ملک کو چلائیں گے،،، کیوں کہ آدھا ملک توہم نے 1971ءمیں بیچ دیا تھا،،، اور جو پاکستان ہمارے پاس بچ گیا تھا اُس میں سے ایک صوبہ تو ویسے ہی ہم بیچ چکے ہیں،،، ایک صوبہ بیچنے کو تیار بیٹھے ہیں، ،، جبکہ آدھے سے زائد اثاثے تو ویسے ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ہاتھوں گروی رکھے ہوئے ہیں،،، اور پھر اب تو ویسے بھی پاکستان ”مضبوط ہاتھوں“ میں تھا،،، اب کیوں پی آئی اے بیچ دیایا دیگر ادارے بیچنے کی راہ پر گامزن ہیں،،، اگر بہت زیادہ مجبوری تھی تو فیصلہ کرنے والے پی آئی اے کو بھی اپنی تحویل میں لے لیتے،،، اور پھر جس طرح ان کے باقی کاروبار ترقی کرر ہے ہیں،،،کل کلاں یہ بھی ترقی کر جاتا،،، اور اُس کو بھی پرافٹ میں لے آتی،،، کیوں کہ جہاں جہاں یہ گئے ہیں،،، وہاں وہاں ترقی ہی تو ہوئی ہے،،، بہرحال پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں حکومت مالی بحران کے نام پر قومی اثاثے فروخت کرنے کو واحد حل بنا چکی ہے۔ سرکاری ادارے، زمینیں، ہوٹل، بینک، ایئر لائنز، بجلی کمپنیاں، سب نیلامی کی فہرست میں ہیں۔ بظاہر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ ادارے خسارے میں ہیں، اس لیے ریاست انہیں نہیں چلا سکتی۔ مگر اصل سوال یہ ہے:کیا ریاست کا کام صرف بیچ دینا رہ گیا ہے؟اور یہ بات بھی اہم ہے،،، اور ان اثاثوں کے بیچنے کے حامی افراد کہہ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں نجکاریاں ہوتی رہتی ہیں،،، جیسے برطانیہ، بھارت، جرمنی اور فرانس نے بھی اپنے اثاثے بیچے۔ مگرمیں یہ بتاتا چلوں کہ وہاں نجکاری ایک معاشی حکمتِ عملی ہوتی ہے، جبکہ پاکستان میں یہ مجبوری اور بدانتظامی کی علامت بن چکی ہے۔ جو ادارے دہائیوں میں عوام کے ٹیکس سے بنے، وہ آج چند فیصلوں میں نجی ہاتھوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔اور پھر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ادارے خسارے میں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں جان بوجھ کر خسارے میں ڈالا گیا ہے۔ سیاسی بھرتیاں، کرپشن، نااہل انتظامیہ اور طاقتور مافیا نے سرکاری اداروں کو لوٹا، پھر انہی کی ناکامی کو بنیاد بنا کر کہا گیا کہ ”یہ تو بوجھ ہیں، بیچ دو۔“یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بیمار کو زہر دے کر کہا جائے کہ اب اسے مار دینا ہی بہتر ہے۔ اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے کمزور ریاستی ڈھانچے میں نجکاری اکثر و بیشتر چند طاقتور سرمایہ داروں کو فائدہ دیتی ہے، عوام کو نہیں۔ بجلی، گیس، بینک اور ایئر لائن اگر منافع خور نجی گروپوں کے پاس چلے گئے تو ریاست قیمتوں پر بھی کنٹرول کھو بیٹھے گی، اور قومی سلامتی تک خطرے میں پڑ سکتی ہے۔افسوس اس بات پر ہے کہ قومی اثاثے محض اینٹ پتھر نہیں، یہ ریاست کی معاشی خودمختاری ہوتے ہیں۔ جو قومیں اپنے اثاثے بیچ کر قرض اتارتی ہیں، وہ وقتی سانس تو لے لیتی ہیں مگر مستقبل گروی رکھ دیتی ہیں۔ نہلے پر دہلا یہ ہے کہ اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر اور اخبارات میں کروڑوں روپے کے اشتہارات شائع کیے جا رہے ہیں کہ حکومت نے بہت بڑا کام کیا ہے،،، حالانکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں قومی اداروں کی نیلامی ریاستی ناکامی، ہزیمت اور اجتماعی شرمندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ حکومتیں اپنے قومی اثاثوں کو بچانے کے لیے سیاسی سرمایہ، عوامی حمایت بلکہ بعض اوقات اپنا وجود تک داو¿ پر لگا دیتی ہیں۔ مگر پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں قومی اثاثے بیچنے کو کامیابی کا تمغہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جہاں دنیا قومی اداروں کو سنبھالنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگاتی ہے، وہیں پاکستان میں انہیں فروخت کرنا ایک ”دلکش پیکیج“ کی صورت عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے ،،، گویا نقصان نہیں، کوئی عظیم کارنامہ انجام دیا جا رہا ہو۔ مسئلہ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان میں ہم نے جو جمہوریت کے ساتھ کیا ہے، سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کیا ہے، سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اُسے دیکھ کر تو واقعی قائداعظم کی روح خوش ہوتی ہوگی،،، یقینا قائداعظم کی روح اس گھٹن زدہ سیاسی ماحول میں جب تمام صحافتی، عدالتی ،قانونی، معاشی، معاشرتی ، دفاعی، خارجی، داخلی و سیاسی فیصلے ”اوپر“ ہور ہے ہیں ،،، خوش ہو رہی ہوگی کہ پاکستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ بلکہ میرے خیال میں اگر وہ 8فروری والے الیکشن دیکھ لیتے تو اور بھی خوش ہوتے،،، پھر یہی نہیں بلکہ سوچیے کہ ہمارے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حالات ، اراکین اسمبلی و سینیٹرز کی خرید و فروخت دیکھ کر وہ کیسا محسوس ہوتے؟ وہ مملکت پاکستان کو دنیا بھر میں تقریباََ ہر ڈیپارٹمنٹ میں پیچھے دیکھ کر کس قدر پشیمان ہوتے؟ وہ 26ویں،27ویں آئینی ترامیم جیسی قانونی تبدیلیوں و موشگافیوں کو دیکھ کر کس قدر زچ ہوتے؟ کیا وہ ہمارے سیاستدانوں کی بے بسی پر چلا نہ اُٹھتے؟ اور پھر اگر اُنہیں علم ہوتا کہ ہمارے سیاستدان قانون سازی کے بجائے ٹھیکیداری جیسی اضافی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھارہے ہیں تو کیا وہ ہر ایک کو لائن میں کھڑا کر کے سو سو جوتے نہیں مارتے؟اور یہی نہیں بلکہ اگر آج وہ زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ ہمارا بھائی بنگلہ دیش ہم سے کہیں آگے نکل گیا ہے اور ہم چاروں طرف سے پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں تو یقینا برائی کی جڑوں کو اُکھاڑنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دیتے۔ اور یقینا وہ ہرصورت مزاحمت کی علامت بنے ہوتے۔ کیوں کہ وہ مقتدرہ کی سیاست میں انٹری کے بھی سخت مخالف تھے۔ انہوں نے 1946 میں رائٹرز کے نمائندے ڈول کیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ” نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوگی۔نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ،ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہونگے۔“پھر 9جون 1947 کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ ”میں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ جب فیلڈ مارشل آرمی کو فتح سے ہمکنار کرتاہے تو اس کے بعد سول اتھارٹی کنٹرول سنبھال لیتی ہے۔“ اس سے عیاں ہوتا ہے کہ قائداعظم نئی ریاست میں سویلین کنٹرول کے حامی اور خواہشمند تھے۔لیکن اُن کی یہی خواہش اُنہیں لے ڈوبی،،، اور اُن کے خلاف اندر کھاتے سازشیں شروع ہوگئیں،،، اور ادارہ بانی پاکستان سے دورہوتا گیا۔ ایئر مارشل (ر) محمد اصغر خاں فوجی افسران کے اس رویے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”14اگست کا دن تھا۔ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کراچی میں ایک استقبالیہ دے رہے تھے جس میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو مدعو کیا گیا تھا۔ حاضرین میں د فاعی ملازمتوں کے چند عہدیدار بھی تھے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ قائد اعظم اپنے مہمانوں کے درمیان بے تکلفی سے گھوم پھر رہے ہیں، وہ فوجی افسر بھی قائداعظم کے قریب آگئے۔ انہیں وردی میں د یکھ کر قائدا عظم نے پوچھ لیا کہ آپ لوگ کیسے ہیں؟ اس بے تکلفی سے اس گروپ کے ایک افسر کرنل اکبر خاں (بعد میں راولپنڈی سازش کیس والے میجر جنرل اکبر خاں) کو حوصلہ ملا اور انہوں نے دفاعی حکمت عملی پر اپنے خیالات کی وضاحت شروع کر دی۔ جوشِ بیان میں انہوں نے ایسے معاملات پر جو ایک جمہوری نظام میں کسی سول حکومت کی ذمہ داری ہوتے ہیں، یہ مشورہ دینا شروع کر دیا کہ دفاعی ملازمتوں کا انتظام کس طرح چلانا چاہیے۔ ابھی کرنل اکبر نے بات پوری نہیں کی تھی کہ قائداعظم نے ان کی گفتگو درمیان سے ہی قطع کر دی۔ اپنی انگلی اٹھا کر انہوں نے اکبر خاں پر کڑی نظر ڈالی اور دھیمے لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا کہ” یہ نہ بھولیے کہ آپ لوگ جو مسلح افواج میں ہیں، عوام کے خادم ہیں۔ قومی پالیسی آپ لوگ نہیں بناتے۔ یہ ہم شہری لوگ ہیں جو ان معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ کا فرض ہے کہ جو ذمہ داری آپ کو سونپی جائے، اسے پورا کریں۔“ بہرحال مسائل بڑھتے گئے، نئے سے نئے تنازعات جنم لیتے رہے، قائداعظم کو کئی مواقع پر آن بورڈ بھی نہیں لیا جاتا رہا،،، قصہ مختصر کہ آزادی کے ایک سال بعد فوج کے عام افسر سیاستدانوں پر غلبہ پا چکے تھے۔اورباوجود یکہ پاکستان کی آزادی میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا، لیکن اس آزادی کے تحفظ کے لیے پاکستان کو ایک فوج کی ضرورت تھی،،، لیکن تمام معاملات اُلٹ چل رہے تھے، تبھی بابائے قوم پریشان رہنے لگے تھے، اسی اثناءمیں انہوں نے 25مارچ 1948ءکو مشرقی بنگال کے گزٹیڈ افسروں سے خطاب کرتے ہوئے براہ راست نہیں بلکہ مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ” آپ حاکم نہیں ہیں، آپ کا حکمران طبقے سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ کا تعلق خدمت گاروں کی جماعت سے ہے۔ عوام الناس میں یہ احساس پیدا کر دیجیے کہ آپ ان کے خادم اور ان کے دوست ہیں۔“ قائداعظم کی یہ تقریرسول اور ملٹری افسران کے لیے ضابطہ اخلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ان کی حدود کا تعین ہے اور سیاست سے دور رہنے کی تلقین و پابندی بھی۔ بہرکیف درج بالا چند حوالے میں نے اس لیے سامنے نہیں رکھے کہ خدانخواستہ قائدا عظم فوج کے سخت خلاف تھے، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ سیاستدان عملی طور پر اس قدر مضبوط ہو جائیں کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں۔ آج اگر سیاستدان اپنے فیصلے کرنے والے ہوتے تو کبھی ادارے نہ بکتے نہ ہی کبھی وہ فیصلے کرنے میں کمزور ہوتے ،،، بلکہ اگر قائد اعظم کو چند سال کی مزید مہلت مل جاتی تو آج پاکستان کے حالات ہی مختلف ہوتے۔ لیکن وہ آج ہم میں نہیں ہیں،،، لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ان کی تعلیمات اور کہی ہوئی باتوں پر عمل کرکے آگے بڑھنا چاہیے لیکن اس کے برعکس اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہم جتنے آج پیچھے رہ گئے ہیں، اس سے بھی زیادہ پیچھے چلے جائیں گے، جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی!