آئی پی پیز مالکان کو کچھ نہیں ہوگا؟

جتنا شور اس وقت آئی پی پیز کے ”جگا ٹیکس“ اور عوام کا بھرکس نکالنے والے ان کے مالکان کے حوالے سے اُٹھایا جا رہا ہے، یقین مانیں میں نے قطعاََ اس حوالے سے کوئی اُمید نہیں لگائی کہ موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی ہوگی ۔ ورنہ غیرت مند حکمران ہوتے تو عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیتے۔ لیکن یہاں تو ریلیف ہے ہی نہیں۔ یہاں تو عوام کے ساتھ وہ Miss-Behave ہورہا ہے جس کے بارے میں دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ کہ انہوں (عوام) نے اُن پاورپلانٹس کی ادائیگی بھی کرنی ہے، جوبند پڑے ہیں اور جن کی پروڈکشن پر فی یونٹ 750سو روپے خرچ آرہا ہے۔ خیر آئی پی پیز پر گزشتہ کالم لکھنے کے بعد شاید یہ کالم اس موضوع پر نہ ہوتا مگر گزشتہ روز سابق نگران وفاقی وزیر برائے صنعت و تجارت کی رپورٹ نے ملک بھر میں کہرام مچادیا ہے۔ اُن کے مطابق پچھلے پورے سال ہر آئی پی پی کو ادائیگیوں، ایندھن کی قیمت، کیپسٹی پے منٹس کی مد میں کھربوں روپے ادائیگی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایک پاور پلانٹ سے سب سے زیادہ مہنگی بجلی 750 روپے فی یونٹ کے حساب سے خرید رہی ہے، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے، جبکہ ونڈ اور سولرپلانٹس سے 50 روپے فی یونٹ سے اوپرمیں بجلی خریدی جا رہی ہے۔یعنی صلاحیت کے 20 فیصد سے کم پیداوار پر آئی پی پیز کو950 ارب روپے (8ارب ڈالر )کی ادائیگی کی گئی، حکومت ایک پلانٹ کو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر 140 ارب روپے ادا کرچکی ہے، دوسرے پاور پلانٹ کو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر 120 ارب روپے ادا کئے گئے، تیسرے پاور پلانٹ کو 22 فیصد لوڈ فیکٹر پر 100 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی، اس طرح صرف تین پاور پلانٹس کو 370 ارب روپے ادا کر دیئے گئے۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے ملک کو بچانے کے لیے 40 خاندانوں کے ساتھ معاہدے کیے گئے! جی ہاں اگر آئی پی پیز مالکان کی تفصیلات میں جائیں تو اس وقت 80فیصد مالکان پاکستانی جبکہ 20فیصد مالکان غیر ملکی ہیں(یاد رہے کہ بادی النظر میں یہ 20فیصد غیر ملکی بھی پاکستانی ہی ہیں جنہوں نے بیرون ملک کمپنیاں رجسٹرڈ کروا کے پاکستان میں ٹھیکے لیے ہوئے ہیں) اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے مالکان کون کون ہیں؟ خیر ان کا نام لینا تو یہاں جرم عظیم سمجھا جاتا ہے۔ جیسے بلیو سٹار انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ ، فرنٹیئر میگا اسٹرکچر اینڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ، کے اے پاور لمیٹڈ کو 12 جون 2023ئ، کریمی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ ، کے او اے کے پاور لمیٹڈ ، پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ، پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن گورکن ماٹلٹن ہائیڈل پاور پلانٹ، سیفکو ہائیڈرو پاور پلانٹ ، ہائیڈرو پاور پلانٹ ، ڈیوس انرجن پرائیویٹ لمیٹڈ ، فوجی کبیر والا پاور کمپنی لمیٹڈ ، گل احمد انرجی لمیٹڈ ، الکا پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ساہیوال، گوگیرا ہائیڈرو پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ ، لاہور زنگزانگ رینیوایبل انرجی کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ ، منڈی بہاو¿الدین انرجی لمیٹڈ ، مہر ہائیڈرو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی، پنجاب ہائیڈرو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ، رسول ہائیڈرو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ، قائداعظم تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ وغیرہ سمیت درجنوں پاورپروڈیوسرز کے مالکان ہمارے سیاستدان و اشرافیہ ہی ہیں۔ ان کے مالکان کے نام لیے تو وہ ہمیں بھی عدالتوں میں گھسیٹیں گے اور کہیں گے کہ یہ کمپنیاں اُن کی نہیں بلکہ اُن کے فلاں فلاں رشتہ دار کی ہیں جس پر ہم خاموش ہو جائیں گے ۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ کمپنیاں ان کے چپڑاسیوں کے نام پر نکلیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بے نامی کمپنیاں بھی ہوں! مگر آپ کو اتنا بتاتا چلوں کہ ان کمپنیوں کے ساتھ سب سے زیادہ معاہدے مسلم لیگ ن کے 2013ءسے 2018ءکے دور حکومت میں ہوئے جن کی تعداد 130 ہے۔ اسی طرح بہتی گنگا میں پرویز مشرف نے بھی ہاتھ دھوئے جن کے دور حکومت میں 48 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں،پھر پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 35 کمپنیاں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 30 کمپنیوں کے ساتھ بجلی بنانے کے طویل معاہدے کیے گئے۔انڈیپنڈنٹ پاورپلانٹس یعنی آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے باعث ہر سال اربوں روپے کی ادائیگی عوام سے وصول کیے گئے بجلی کے بلوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے نیپرا نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں اور کچھ کمپنیوں کے ساتھ 2060ءتک کے معاہدے کیے گئے ہیں یعنی آئندہ 33 سال تک ان کمپنیوں کو ادائیگیاں جاری رہیں گی۔ آپ کی حیرانگی یہیں ختم نہیں ہوگی بلکہ گزشتہ 10 سال یعنی 2013ءسے 2024ءتک کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں آئی پی پیز کو 8 ہزار 344 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ گزشتہ مالی سال میں آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں 1300 ارب ادا کیے گئے جبکہ رواں سال 2 ہزار 10 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ ایک سیاستدان کے مطابق عمران خان کی کابینہ میں چار آئی پی پیز مالکان موجود رہے ہیں۔یعنی ہر جماعت کے حصے کے مفادات یا بیوقوف اس کی فصیل پر پہرہ دینے کو ہردم موجود نظر آتے ہیں۔ الغرض آئی پی پیز ایک معاشی واردات ہے جو اس ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی باری پر ڈالی۔پاکستان میں توانائی کے بحران کے قومی جرم میں سب شریک ہیں۔ پاکستان دریاﺅں کی نعمت سے مالا مال ہے اور ڈیموں کے لیے درجنوں مثالی مقامات ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس نعمت سے فائدہ نہ اٹھایا۔ کالاباغ ڈیم سیاست کی نذر ہو گیا۔ داسو اور مہمند ڈیم کی تعمیر میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی۔ افغان جنگ میں ڈالروں کی آمد کے باعث جنرل ضیا کا ڈیم بنانے کے لئے مناسب ترین دور تھا لیکن وہ بھی ڈیم نہ بنا سکے۔ یہ موقع جنرل مشرف کے پاس بھی تھا لیکن ڈیم بنانا تو درکنار وہ ملک کو ایسی حالت میں چھوڑ گئے کہ توانائی کا شدید بحران تھا۔پختونخوا اور بلوچستان تو کیا کراچی جیسے شہر میں بھی بجلی چوری کا رجحان زوروں پر ہے۔ یہ کام متعلقہ محکمے کے اہلکاروں کی سرپرستی سے ہوتا ہے۔ اس چوری کو بل والے صارفین کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر مہذب ملک میں سہولت پسے ہوئے طبقے کو دی جاتی ہے لیکن یہاں اشرافیہ کو بجلی کے بلوں کی مد میں نوازا جاتا ہے۔ خیر رہی بات آئی پی پیز سے چھٹکارے کی تو یقینا اس میں ملکی عدلیہ، اسٹیبشلمنٹ اور عالمی عدالتیں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر سکتی ہیں، ورنہ یہ جونکیں ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیں گی۔ حالات واقعی خراب ہیں، یہاں کی صنعتیں بند ہورہی ہیں، یہاں کا سرمایہ دار اپنا سرمایہ نکال رہا ہے، اس کا فائدہ ہمسایہ ممالک اُٹھار ہے ہیں جہاں نہ تو مہنگی بجلی ہے ، نہ مہنگے آئی پی پیز ہیں اور نہ ہی آئی ایم ایف وغیرہ۔ نہیں یقین تو خود اپٹما کی رپورٹ پڑھ لیں جس کے مطابق صنعتی شعبے کے نرخ 17 سینٹ (47.60 روپے) فی کلو واٹ تک پہنچ گئے ہیں جبکہ بھارت میں صنعتی سیکٹر کیلئے 6 سینٹ، بنگلہ دیش میں 8.6 سینٹ اور ویت نام میں 7.2 سینٹ ہیں۔ ہمیں بجلی کی اضافی پیداوار روک کر ترسیلی نظام کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ پیدا کی جانیوالی اضافی بجلی استعمال کی جاسکے اور ہم آئی پی پیز کو بجلی خریدے بغیر کیپسٹی سرچارج کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگیوں سے بچ سکیں۔ 1991 میں پاکستان میں 60 فیصد بجلی پانی یعنی ہائیڈرو سے پیدا کی جاتی تھی جو اب کم ہوکر 26 فیصد رہ گئی ہے اور ہم آہستہ آہستہ مہنگے امپورٹڈ فیول سے بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز کے چنگل میں پھنس چکے ہیں جس کے بجلی نرخ عوام اور صنعت برداشت نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں مہنگے فیول سے پیدا کی جانے والی بجلی کی اوسطاً لاگت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ بجلی کی 5 تقسیم کار کمپنیوں ڈسکوز میں بجلی چوری، لائن لاسز، کرپشن روکنے اور بقایا جات کی وصولی کیلئے انہیں فوج کے حوالے کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ لیکن اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ یہ کمپنیاں پھر عدالت سے اسٹے لیں گی اور اس اسٹے میں موجودہ حکومت کے لوگ ہی اسٹے دلوانے میں محنت شاکا کریں گے۔ لہٰذافیصلہ کرنے والی قوتیں سب سے پہلے ان افراد کی ایک فہرست بنائیں جو ان کمپنیوں کے مالکان ہیں، اُس کے بعد ایک بار ان کی بھل صفائی کریں اور ایک ایک کرکے ان مالکان سے دوبارہ معاہدے کریں۔ پھر ڈیم بنانے پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ ان کی محتاجی ختم ہوجائے اور پھر اگر آپ نے خود ہی فیصلے کرنے ہیں تو کم از کم خود احتسابی کے ذریعے اپنے اداروں میں بھی ایسے افراد کو تلاش کریں جو ان کے مالکان ہیں یا سپورٹر ہیں ۔ کیوں کہ ان کمپنیوں کے مالکان بغیر ”سپورٹ“ کے کچھ نہیں کر سکتے۔اگر ایسا نہ کیا تو یقین مانیں پھر لوگ یہ بات صحیح کہتے ہیں کہ ان آئی پی پیز مالکان کو کچھ نہیں ہوگا جو غریبوں کا خون نچوڑ رہے ہیں، لہٰذااگر پاکستان کو بچانا ہے تو ان لابیز کو سب سے پہلے توڑنا ہوگا ورنہ یہ سمجھ لیجیے کہ انقلاب دستک دے رہا ہے۔ جو سب کو جھنجوڑ کر رکھ دے گا!