عمران خان کی گرفتاری کا ایک سال: کیا کھویا کیا پایا؟

آج 5اگست تین حوالوں سے اہم ہوگیا، بنگلہ دیش میں عوامی طاقت نے نیم ڈکٹیٹر حسینہ واجد حکومت کا تختہ اُلٹ دیا،،، پھر 5اگست 2019ءکو بھارت نے کشمیر کی حیثیت بدل دی تھی جس پر پاکستان میں یوم استحصال منایا جا رہا ہے، جبکہ تیسرا ملک کی سب سے بڑی پارٹی تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو حکومت قید میں رکھے ہوئے ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ آج ہم اس تیسرے مسئلے پر بات کریں گے کہ گزشتہ سال جب 5اگست کو بانی تحریک انصاف کو گرفتار کیا گیا تو اُس کے بعد جہاں پی ٹی آئی کے اندر کئی تبدیلیاں آئیں ، وہیں عام انتخابات کے نتائج نے بھی پارٹی کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کیا۔5اگست 2023 کو اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے ا±نہیں توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سنا ئی گئی تو اسی روز پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا۔ یقینا ایک سال کے دوران تحریکِ انصاف کے لیے بہت کچھ بدل گیا ہے جہاں کئی نئے چہرے وکلا کی صورت میں پارٹی کے رہنما بن کر سامنے آئے تو کئی سینئر رہنما بھی اس عرصے کے دوران مختلف مقدمات کا سامنا کرتے رہے۔عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کے چئیرمین کو تبدیل کیا گیا اور بیرسٹر گوہر علی خان کو بطور چئیرمین نامزد کیا گیا، اس دوران تحریک انصاف نے دو مرتبہ انٹرا پارٹی الیکشن بھی کروائے جسے الیکشن کمیشن نے آج تک منظور نہیں کیا۔ پارٹی کو عمران خان کے بغیر انتخابی مہم چلانا پڑی اور ان کے بغیر ہی درپیش عدالتی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا جس میں بلے کے انتخابی نشان کے بغیر الیکشن لڑنا، الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے جیسے مشکل اور اہم فیصلے کیے گئے۔ گرفتاری کے ایک برس بعد ایک جانب جہاں حکومت تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کے درپے ہے تو وہیں فوج کے ساتھ اس کے تعلقات بھی تاحال کشیدہ ہیں۔ تحریکِ انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی مگراس دوران عمران خان مضبوط ہوئے، اور پھر اس ایک سال کے دوران پاکستان کی تمام مین اسٹریم جماعتیں ایک ہی شخص کے ارگرد گھومتی نظر آئیں، چاہے وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پاکستان پیپلزپارٹی، لہٰذا تحریکِ انصاف۔ سبھی کی منزل ایک ہی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس دوران سبھی نے کچھ نہ کچھ کھویا اور کچھ نہ کچھ پایا، مگر ملک نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ لگتا ہے، 25کروڑ کا ملک صرف ایک شخص کے پیچھے پڑا ہوا ہے، اور اسی کے ساتھ ہی پورے ملک کی خوشحالی اور بدحالی کا دارومدا رہے ۔ ملک کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا، کوئی پراجیکٹس نہیں لگائے گئے، کوئی خاطر خواہ معاہدہ نہیں کیا گیا، آئی ایم ایف سے دو مرتبہ قرض ضرور لیے گئے، عوام کا خون نچوڑا گیا.... لیکن ہم نے خوبصورتی کے ساتھ ایک اور قیمتی سال کھو دیا۔ لیکن مسئلہ پھر وہی رہا کہ تمام تر حربوں کے باوجود حکومتی ادارے اُس کا کچھ نہیں کر سکے۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا عمران خان کے دور میں شریف فیملی کا کچھ نہ کیا جا سکا، حالانکہ پانامہ لیکس کے پیچھے اربوں روپے خرچ ہوئے۔ یا یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا ن لیگ کے دور میں زرداری نے 13سال جیل کاٹی مگر مجال ہے کہ اس سے ملک کو کوئی فائدہ حاصل ہوا ہو۔ لہٰذایہ ساری چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف فیصلہ کرنے والوں کی ”انا“ کا ہے، کہ اُن کے سامنے سب جھکیں! حالانکہ اُنہیں اس چیز کی قطعاََ کوئی فکر نہیں ہے کہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں، بارشوں سے مر رہے ہیں، مہنگائی نے بھرکس نکال دیا ہے، عوام کا پیسہ اشرافیہ کو دیا جا رہا ہے، مگر فیصلہ کرنے والوں کو فرصت ہی نہیں ہے تحریک انصاف پر پابندیاں لگانے سے۔ ابھی بھی آپ دیکھ لیں کہ کیا عمران خان کو اڈیالہ جیل میں رکھنے پر اخراجات نہیں ہو رہے ہوں گے؟ ضرور ہو رہے ہوں گے۔ اُن کی سکیورٹی پر اخراجات ہو رہے ہوں گے، اُن کے کیسز پر اخراجات ہو رہے ہوں گے، اور پھر جن جن عدالتوں میں اُن کے روٹس لگتے ہیں، وہاں وہاں اخراجات ہو رہے ہوں گے۔ ان سب کا کون ذمہ دار ہے؟ ایک ملزم کو جب لاہور سے اسلام آباد، لے کر جاﺅ، یا اسلام آباد سے کوئٹہ یا اٹک لے کر جاﺅ تک کیا آپ کو علم ہے کہ اسٹیٹ کے کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں؟ جبکہ تحریک انصاف کی تو آدھی سے زیادہ قیادت ہی اندر جیلوں میں ہے، جنہیں کبھی کہیں تو کبھی کہیں شفٹ کر دیا جاتا ہے۔ پھر سب سے اہم بات کہ عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے، اور لگتا ہے کہ سپریم کورٹ بھی انہی سیاسی کیسز کے لیے رہ گئی ہے، عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ بھی ہزاروں کیسز چھوڑ کر انہی سیاسی کیسز کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ کئی کئی سال جب ہمارے فیصلہ کرنے والے فضولیات میں وقت گزاریں گے تو ملک نے کیا ترقی کرنی ہے؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان گناہ گار ہے تو ابھی تک اُس پر کوئی کیس ثابت کیوں نہیں ہوا؟اگر نواز شریف گناہ گارتھا تو اُسے دو سال میں کیوں نہ کوئی ٹھوس سزا ہوئی؟ان چیزوں سے تو یہی ثابت ہو رہا ہے کہ فیصلہ کرنے والی قوتیں چاہتی ہیں کہ ہر کوئی اُن کے سامنے جھکا رہے۔ جو ہم کہیں وہ مان لو، اور اگر نہ مانو گے تو ہم تمہیں گھسیٹیں گے، ماریں گے بھی اور قید میں بھی رکھیں گے۔ اور چونکہ سزا دینے کی طاقت ان کے اندر نہیں ہے ، تبھی یہ سب کو ہی اپنے پیچھے لگا کر رکھتے ہیں۔ تبھی یہ ن لیگ کو بھی گھسیٹتے ہیں، پیپلز پارٹی کو بھی گھسیٹتے ہیں اور تبھی یہ تحریک انصاف کو بھی گھیٹتے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ ،مانیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ملک کے خوشحالی نہ ہونے کی وجہ ان فضولیات پر پیسہ خرچ کرنا ہے، یہی کروڑوں روپے ہم اپنی عوام پر لگا کر ان کے مسائل کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ان کو بالکل شرم نہیں آتی کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔یہ تو 9مئی کے کیس میں کسی کو سزا نہیں دے سکے۔ گواہ بھی ان کے، پولیس بھی ان کی ، ادارے بھی ان کے۔لیکن سزا نہ ملنے کا مطلب ہے کہ رونما ہونے والے واقعہ میں کہیں نہ کہیں ابہام موجود ہے۔ بہرحال عمران خان کو اقتدار چھوڑے ڈھائی سال ہوگئے، پی ڈی ایم ٹو نے ڈیڑھ سال حکومت کی۔ نگرانوں نے کئی مہینے گزارے، موجودہ حکومت کو بھی 7ماہ ہوگئے۔ لیکن ملک کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ کئی مرتبہ ڈیفالٹ ہونے سے بچا، اب بھی ڈیفالٹ ہونے کے بادل منڈلا رہے ہیں، ملک میں ایجوکیشن کی حالت زار آپ کے سامنے ہے، کھیلوں کے حالات آپ کے سامنے ہیں، کرکٹ ٹیم کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ حیرت ہے ہر چیز کی۔ ان کو شرم نہیں آتی۔ میرے خیال میں جس طرح کرکٹ اور اولمپکس کھیلوں کے ملکی فیصلے کرنے والے انتہائی نان پرافیشنل ہیں، بالکل اسی طرح لگتا ہے ملک کے بارے میں فیصلے کرنے والے بھی انتہائی نان پروفیشنل ہیں۔ جنہیں فیصلے کرنے ہی نہیں آتے بلکہ وہ دھونس اور طاقت کے ذریعے چیزیں مسلط کرنے کے عادی لگتے ہیں۔ اگر یہ پروفیشنل ہوتے تو آج ملک کا کچھ نہ کچھ ہو چکا ہوتا۔ آج ملک ترقی کی پٹری پر چڑھ چکا ہوتا۔ بہرکیف خان کی حکومت کو گئے ڈھائی سال کا عرصہ بیت چکا ہے، آپ ان کی جان چھوڑدیں، ابھی بھی ہر غلط کام خان کی حکومت پر ڈالتے جا رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ قوم کو فضولیات میں اُلجھایا جا رہا ہے۔ جب آپ ان پر ثابت ہی کچھ نہیں کر سکے تو پھر یہ سب زرداری، نواز، عمران و دیگر قائدین مجھے ایماندار لگتے ہیں۔ فیصلہ کرنے والوں اور حکمرانوں کو بنگلہ دیشی موومنٹ سے سیکھنا چاہیے، کہ عوامی طاقت کیا کچھ کر سکتی ہے؟ اگر آپ نے اُس شخص کی اہمیت کا اندازہ لگانا ہے تو خود دیکھ لیں کہ پارٹی چھوڑنے والوں کا انجام کیا ہوا؟ سابق وزیرِ دفاع پرویز خٹک، سابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان، سابق گورنر عمران اسماعیل، سابق وفاقی وزرا اسد عمر، فواد چوہدری، علی زیدی، فردوس عاشق اعوان، عامر کیانی، علی نواز اعوان آج کہاں ہیں؟ اور پھر اس ایک سال میں عمران خان کو گرفتار کرنے والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ زیادہ دیر تک جیل نہیں کاٹ سکیں گے۔ لیکن ا±ن کے سب اندازے غلط ثابت ہوئے۔بعد میں اُن کی اہلیہ کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تاکہ عمران خان ٹوٹ جائیں۔ لیکن اس میں بھی ا±ن کے مخالفین کو ناکامی ہوئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریکِ انصاف میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور اس وقت کوئی باقاعدہ تنظیم بھی موجود نہیں ہے۔ لیکن عمران خان بطور لیڈر مزید مضبوط ہوئے۔وہ ایک سال سے قید میں ہیں،ہر طرح کی فسطائیت کے باوجود نہ عمران خان اور نہ ہی تحریک انصاف اپنے نظریے سے پیچھے ہٹے،بادی النظر میں ہر گزرتے دن کیساتھ عمران خان کا نظریہ جیت رہا ہے اور غیر آئینی حکومت زمین بوس ہورہی ہے۔ یہ زمین بوس ہی نہیں بلکہ فارم 45اور 47کے چکروں میں پھنسی ہوئی ہے ۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ تحریک انصاف کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، اگر وہ کہہ رہا ہے کہ پاک فوج اور حکومت اُس کے مینڈیٹ کو تسلیم کرے، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی جیت ہوئی ہے تو جہاں اتنا نقصان ہوا ہے وہاں ایک شفاف الیکشن کروا کر دیکھ لیں، جس کو عوام چاہے اُسے اقتدار سونپ دیں۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ اس پر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا میں یہ تاثر قائم ہوگیا کہ پاکستان میں شفاف قیادت آچکی ہے تو یقین مانیں جتنا پیسہ الیکشن پر خرچ ہوا ہوگا۔ اُس سے کئی گنا زیادہ بیرون ملک سے انویسٹمنٹ آجائے گی۔ لیکن آزمائش شرط ہے!