سیاسی عدم استحکام بھی ختم کریں!

یہ اچھی بات ہے کہ ہم پاک بھارت کشیدگی میں تمام اختلافات بھلا کر ایک نظر آئے ،،، لیکن یہ معجزہ ”جنگ“ ہی کے لیے محدود کیوں؟ ہمیں ہمہ وقت قومی یکجہتی و ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے،،، پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں مضبوط کرنا چاہیے،،، تنگ نظر ی کے بجائے کشادہ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاک بھارت کشیدگی کے بعد عالمی سطح پر ہماری فوج کی یقینا رینکنگ بہتر ہوئی گی، مگر سیاسی و جمہوری حالات کا تذکرہ بھی سن لیں کہ حال ہی میں جاری صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹریشنل فیڈریشن آف جرنلٹس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان اس وقت جمہوری انڈیکس میں شامل ہی نہیں ہے یعنی ان کے بقول یہاں جمہوریت نہیں ہے۔ انہوں نے ایسا شاید اظہار رائے کی آزادی نہ ہونے اور پیکا جیسے قوانین کے تناظر میں کہا ہو مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہائبرڈ نظام اب جڑیں پکڑ گیا ہے اور سویلین اسپیس کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔کیا اس پر کام کرنے کی ضرورت نہیں ؟ کیا اس حوالے سے کسی نے سوچا کہ یہاں پر آئین ہے مگر آئین کی عمل داری نہیں۔ قانون ہے مگر قانون کی حکمرانی نہیں، میڈیا ہے مگر آزادی اظہار رائے کی آزادی نہیں۔ رہ گئی بات حکومتوں کی تو ان کی کارکردگی صرف سرکاری اشتہارات میں نظر آتی ہے یقین نہ آئے تو روزانہ کے اخبارات ، حتیٰ کہ کیبل یا ٹی وی چینلز پر اشتہارات دیکھ لیں۔ خیر بات ہو رہی تھی جمہوریت اور سیاسی استحکام کی تو ہمیں اس حوالے سے بھی سوچنا چاہیے،،، بلکہ بڑوں کو سوچنا چاہیے کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے عادت رہی ہے، کہ جب وہ طاقت میں ہوتی ہے، تو پھر وہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتی، کسی کو ریلیف نہیں دیتی۔ اس لیے فی الوقت تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ اپوزیشن کو ریلیف دینے کے چکر میں ہیں، لیکن پھر بھی اس بارے میں سوچیں،،، اس میں آپ ہی کا فائدہ ہے۔ اور رہی بات حالیہ جنگ کی تو جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، کیوں کہ نہ جانے بھارت دوبارہ کب فیس سیونگ کے لیے پاکستان پر حملہ کردے،،، اور وہ اس بار طاقت اور ٹیکنالوجی سے حملہ کر سکتا ہے، اپنی حکمت عملی بدل کر حملہ کر سکتا ہے، اس لیے ہمیں ابھی بھی قومی مفاہمت کی ضرورت ہے،،،اور70فیصد عوام کا جو لیڈر ہے، اُسے کب تک آپ جیل میں رکھیں گے؟ اگر عوام اس آپریشن کو Appreciateکر رہی ہے تو اسے ہضم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے،،، ورنہ اس جیت کا مزہ دو دن میں ختم ہو جائے گا۔ اگر آپ کے ذہن میں یہ چل رہا ہے کہ اس حکمت عملی کے ساتھ آپ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو مقبولیت دے سکتے ہیں تو یہ نہیں ہوگا، کیوں کہ عوام اُنہی کے ساتھ ہے، جن کے ساتھ تھے۔ اور ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پاک فوج سیاسی پارٹی نہیں ہے، اس لیے ایسا نہ کریں۔ اس جنگ کی جیت کا ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا، بلکہ ن لیگ کو اُلٹا نقصان ہورہا ہے، کہ وہ ایک وزیر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مذاق بن کر رہ گئی ہے۔کیوں کہ یہ اُن کا میٹر ہی نہیں ہے۔ اگر فائدہ ہوا ہے تو وہ ہمارے اداروں کو ہوا ہے۔ لہٰذابڑی پارٹی کو ساتھ لے کر چلیں، اس میں آپ کا ہی بھلا ہے، کیوں کہ آپ قوانین میں ترمیم کر چکے ہیں،،، اور اب آپ نے 5سال رہنا بھی ہے، تو پھر مسئلہ کیا ہے؟اس ریاست کو ہارڈ اسٹیٹ نہ بنائیں بلکہ اسے سافٹ اسٹیٹ رہنے دیں۔ کیوں کہ ہارڈ ریاست کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ سختی سے کام چلایا جائے۔ یعنی کوئی مسئلہ اُٹھے تو ہاتھ میں ڈنڈا ہونا چاہیے۔ دیکھا جائے تو شروع دن سے ہی ہماری ریاست میں یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ اگر تھانیداری چلتی تو کیا بنگال علیحدہ ہو جاتا؟ بنگالیوں کے خلاف ڈنڈا استعمال ہوا اور اُس میں ہماری ریاست ناکام ہوئی۔ بلوچوں کے خلاف کتنی دفعہ سخت رویہ اپنایا گیا حتیٰ کہ ایک نہیں،وہاں کئی آپریشن ہو چکے ہیں۔ کوئی بھی کارگر ثابت ہوا؟ لہٰذا اکابرینِ ریاست کو کون سمجھائے اور کیسے سمجھائے کہ یہاں تو ہارڈ ریاستی رویہ پہلے دن سے ہی روا رکھاگیا اوراُس سے کچھ حاصل نہیں ہوا، لہٰذا نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جمہوری رواداری کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ پچھلے دو تین سالوں کو ہی دیکھ لیں۔ یہ مان لیتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کوئی مثالی حکومت نہیں تھی، اُس میں لاکھ خامیاں تھیں لیکن اتنا تو دیکھا جائے کہ رجیم چینج کا تماشا رچایا گیا اور حالات بہتر ہونے کے بجائے ہر چیز کا ستیاناس ہو گیا۔ اگر ایک بری چیز تھی تو اُس کی جگہ کوئی اچھی چیز آنی چاہیے تھی۔ لیکن یہاں کام الٹ ہوا اور پھر آوازیں اُٹھیں عوام نے کچھ کہنا چاہا تو سختی کا سہارا لیا گیا۔ مان لیاکہ عوام دبک گئے، کچھ کہنے والے چپ ہو گئے لیکن کیا مسائل حل ہوئے ہیں؟ پاکستان کو استحکام نصیب ہو گیا ہے؟ کیا ہماری حالت بہتر ہو گئی؟ لہٰذا التماس ہے کہ کچھ ٹھہراﺅ پیدا کیا جائے اور سوچا جائے کہ قوم کیلئے اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی بڑی کامیابی سے نوازا ہے، تو ہمیں اس کو برقرار رکھنا چاہیے،،، چہ جائے اس کے کہ ہمارے پیچھے چین کھڑا ہے یا ترکی۔ لیکن شاید ترکی ہمارے ساتھ دل سے کھڑا ہو کہ اُس نے علی الاعلان پاکستان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ، مگر چین کے اپنے مفادات ہیں۔ اس لیے ہمیں مزید حالات خراب ہونے کے حوالے سے ہر وقت تیار ہونا چاہیے۔ بلکہ دشمن کو پیغام جانا چاہیے کہ ان کی اندرون خانہ لڑائیاں ختم ہو چکی ہیں اور یہ لوگ معاشی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے دوبارہ یکجا ہو کر ملک کی ترقی کا سوچ رہے ہیں۔ اسی لیے مودبانہ التجا ہے کہ کچھ آگے کا سوچا جائے اور قوم کو بھی اعتماد میں لیا جائے کہ جو ہونا تھا ہو گیا لیکن موجودہ معاشی اور سیاسی دلدل سے نکلنے کے لیے ہمیں یہ کرنا ہے اور ایسا ہم کریں گے۔اور پھر معاشی حالات تو ہمارے سامنے ہی ہیں ۔ بہرحال اس سیاسی استحکام کے لیے کوئی اور نہیں بلکہ میاں نواز شریف کردار ادا کر سکتے ہیں،،، کیوں کہ ہزار اختلافات کے باوجود وہ آج بھی سب سے تجربہ کار سیاستدان کی حیثیت میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں جس کی ابتدا بہرحال انہیں اپوزیشن لیڈر عمران خان کے بارے میں اپنے رویے میں تبدیلی لانے سے کرنی پڑے گی۔ اُنہیں سوچنا ہوگا کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو جیلوں میں ڈال کر سیاسی استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ 2006ءمیں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی نے تاریخی میثاق جمہوریت کیا اور اگر اس پر عمل در آمد ہوتا اس کی روح کے مطابق تو آج ہماری سیاسی تاریخ مختلف ہوتی اور شاید این آر او کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ بہرکیف عمران خان پر سب سے بڑا الزام 9مئی کا ہے اوررواں ماہ اس واقعہ کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ کیا اس حوالے سے کوئی چارج شیٹ، سازش کہاں ہوئی، کس نے کی، جیسے سنگین الزامات۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس اہم ترین اور غیر معمولی واقعہ کا ٹرائل اب تک مکمل ہو چکا ہوتا۔ بدقسمتی سے اس کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر کے خود اس کی سنگینی کو کم کر دیا گیا یعنی جس مشتبہ شخص نے واقعہ کی مذمت کی وہ گھر چلا گیا یا دوسری جماعت میں، جس نے نہیں کی وہ جیل میں۔ یہ صورتحال کم و بیش ایسی ہی ہے جو متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ 22اگست2016ءمیں ہوئی۔ آج 10سال گزرنے کے باوجود نہ اس مقدمہ کا کوئی فیصلہ ہوتا ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم (لندن) پر سے غیر علانیہ پابندی ختم ہوتی ہے۔ کیا یہی سب کوئی دو دہائیوں تک خود پی پی پی کے کارکن پی آئی اے طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد نہیں بھگتتے رہے۔ خود مسلم لیگ(ن) 12اکتوبر 1999ءکے بعد جنرل مشرف طیارہ ہائی جیکنگ کا مقدمہ اور میاں صاحب کی عمر قید بھلا سکتی ہے؟ مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی نے ماضی سے سبق سیکھا جمہوریت تو خیر وہ پھر بھی نہ لا سکے بلکہ عمران دشمنی میں شاید بہت آگے چلے گئے جس کا احساس انہیں کچھ سال بعد ہو گا۔ اب آتے ہیں عمران اور پی ٹی آئی کی طرف کہ انکو کتنا سبق سیکھنا چاہیے اپنے طرز سیاست کے حوالے سے۔ مجھے یقین ہے کہ جیل نے انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا ہو گا۔ ان کو یہ احساس تو ہو ہی گیا ہو گا کے پارٹی میں کون وفا دار ہے اور کون غدار۔ کون ساتھ رہا اور کس کو انہوں نے عہدہ دے کر غلط فیصلہ کیا۔ اب وہ اپنے سیاسی مخالفین کے حوالے سے بھی ذرا نظرثانی کریں۔ اچھا ہوتا اگر وہ انتقام کے بجائے مضبوط ادارے بناتے اور ذاتی مفاد سے باہر آتے۔ عمران کو اپنے ہی لوگوں پر جنہیں انہوں نے خود جیل میں ہوتے ہوئے عہدہ دئیے چیئرمین ہو یا سیکرٹری جنرل، اعتماد کرنا پڑے گا۔اور یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی جتنی بھی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ان پر اچھا اور برا وقت آیا ہے انہوں نے اپنے اپنے دور اقتدار میں وہی قوانین جو ان کے خلاف استعمال ہوئے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیے کسی نے بھی انہیں ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر یہ ساری بڑی جماعتیں خود ہی غور کر لیں کہ انہوں نے جمہوریت کو مضبوط کیا ہے یاکمزور؟ یقینا کمزور کیا ہے، حتیٰ کہ تحریک انصاف کے اپنے دور میں بھی کئی اقدامات ایسے تھے، جن پر ہم صحافی نالاں تھے، ہم نے اُس وقت بھی احتجاج کیا تھا کہ یہ اقدامات کل کو تحریک انصاف کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں،،، اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ خیر رہی بات مقتدرہ کی تو اگر وزیر اعظم عمران سے بات نہیں کرسکتے تو بے شک نہ کریں حالانکہ یہ ایک غلط فیصلہ ہو گا مگر کم از کم جیل میں ان کی بہنوں اور پارٹی رہنماﺅں کو ان سے ملاقات کی اجازت دے کر ہی کوئی مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے۔ کم از کم 9مئی کا ٹرائل تو شروع کریں۔ بلکہ یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی و دیگر کو باہر لے آئیں، کیوں کہ سیاسی تناﺅ کم ہو گا بات تب ہی آگے بڑھے گی۔ورنہ جیت کا جشن زیادہ دیر تک نہیں منایا جاسکے گا!