تحریک انصاف سے بے اعتنائی ، قومی سیاست کےلئے زہر قاتل!

پاک بھارت جنگ کی وجہ سے تحریک انصاف کا ایشو کچھ دیر کے لیے ٹھنڈا ہو گیا تھا لیکن جماعت نے ایک بار پھر محاذ گرم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ویسے تحریک انصاف یہ بات سمجھ چکی ہے کہ اگر وہ دوبارہ سڑکوں پر نہ آئی تو اس کی مقبولیت و ساکھ کو نقصان پہنچے گا،،، اور بانی کی رہائی، 2024ءکے انتخابات میں دھاندلی اور9مئی کی تحقیقات سمیت متعدد genuine ایشوز دب جائیں گے۔ اور پھر مٹی پاﺅ والی کیفیت ہونے کے بعد بات آئی کہ گئی ہو جائے گی۔ اس لیے یہ مت سمجھیں کہ تحریک انصاف بیک فٹ پر چلی گئی ہے اور موجودہ حکمران اپنا پانچ سالہ دور بڑی خوبصورتی اور سرعت کے ساتھ مکمل کر لیں گے،،، ہم نے پاک بھارت حالیہ ”جھڑپ“ جیتی ضرور ہے لیکن یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وطن عزیز کے خلاف ایک اکیلی جنگ مسلط نہیں کی گئی۔ بلکہابھی پاکستان کو بہت سے محاذوں پر جنگ جیتنا باقی ہے،،، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ ملک کے 4میں سے دو اہم مغربی صوبوں بلوچستان اور کے پی کے میں آپ رات کے اوقات میں سفر نہیں کر سکتے، یہاں امن و امان کی کوئی گارنٹی نہیں، دشمن عناصر جب چاہیں، جہاں چاہیں حملہ کرسکتے ہیں،،، بدلے میں حکمرانوں نے وطن عزیز کو ”ہارڈریاست“ بنادیا مگر فائدے کی بجائے اُلٹا ریاست کو نقصان ہوا۔ ریاست نے نئے دشمنوں کو جنم دیا،پاکستانی طالبان کی نئی قسم ہم سے متعارف کروائی گئی۔ بلکہ اس ہارڈ ریاست کو تو یوں کہنا چاہیے کہ جیسے مغل بادشاہ محی الدین اورنگز یب المعروف عالمگیر کانام آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ جس نے اکبرِ اعظم کی ویلفیئر ریاست کو ہارڈ سٹیٹ میں تبدیل کیا تھا۔ اتنی ہارڈ جس کا غیظ و غضب وارث شاہ کے استاد حضرت غلام مرتضیٰ کو سولی پر لٹکا کر بھی ٹھنڈا نہ ہو سکا۔ اورنگزیبی طرزِ حکمرانی نے ایسی ہارڈ سٹیٹ دریافت کی جس میں دارا شکوہ کے ساتھ ساتھ اورنگزیب نے بھائیوں‘ بھتیجوں کی پہلے آنکھیں نکلوائیں پھر ان کو قبروں میں پہنچا کر دم لیا۔ یہ اندرونی انتقام کی آگ بجھانے والی انتہائی سفاک بے رحمانہ کارروائی تھی۔ خاندان سے باہر اسی بیرونی آگ نے سکھ مذہب کے آٹھویں گرو گوبند سنگھ کے دو نابالغ بچوں کو سرہند کے نزدیک ندی کنارے دیوار میں چنوا دیا۔ اورنگی ہارڈ سٹیٹ ماسٹر نے اپنے لوگوں کی خوشیوں اور زندگیوں سے 49سال تک ہارڈ ہٹنگ کا ایسا کامیاب کھیل کھیلا جس کا نتیجہ ظہیر الدین بابر کے خونِ جگر سے تخلیق شدہ مغلیہ سلطنت کے جنازے کے طور پر نکلا۔ یعنی ظلم زیادہ دیر نہیں رہ سکتا، اب آپ سوچیں گے کہ کونسا ظلم ریاست کے باسیوں پر ڈھایا جا رہا ہے،،، اس کی چھوٹی سی مثال دیتا چلوں کہ ایک تازہ خبر کے مطابق 9مئی کے ملزمان اسلام آبادکی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی 2023 کو اسلام آباد کے رمنا تھانے میں درج مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے عبد الطیف سمیت مجموعی طور پر 11 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔یہ مقدمہ تھانہ رمنا میں مبینہ جلاو¿ گھیراو¿ اور تشدد کے مقدمے سے متعلق تھا۔الغرض اورنگ زیب کی سخت گیر حکمرانی کے بعد جب محی الدین کی قبر کھودی جا رہی تھی، عین اُسی وقت ہندوستان کے کونے کونے میں مغلیہ سلطنت کا جنازہ اُٹھ رہا تھا۔ ایسا جنازہ جسے افغان بادشاہوں نے کندھا دینے کی بار بار کوشش کی مگر ناکام رہے۔ لہٰذا ملک کی سب سے بڑی جماعت کے خلاف حکمران اس وقت ہر حربہ آزما رہے ہےں، کہ اُنہیں ریلیف کے بجائے مزید دبایا جائے،،، تبھی بانی تحریک انصاف نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی ہے۔ پھر ایسی صورت میں وہ بھلا کیا کرے؟ کیا ریاست تحریک انصاف پر جھوٹے مقدمات کو ختم کرنے پر کام نہیں کرسکتی؟ بالکل اُسی طرح جس طرح ان حکمرانوں نے اپنے اوپر درج سینکڑوں کی تعداد میں مقدمات ختم کروائے ہیں، وہ مقدمات تو ان سے کئی گناہ بڑے اور اربوں کھربوں کی کرپشن کے تھے، بلکہ سنگین نوعیت کے تھے۔ لہٰذااگر وہ مقدمات ختم ہو سکتے ہیں تو تحریک انصاف پر قائم جھوٹے مقدمات کیوں ختم نہیں ہوسکتے۔ اور پھر سب جانتے ہیں کہ فروری 2024ءکے قومی انتخابات کے نتائج کو جس طریقے سے ہینڈل کیا گیااُس سے سیاست کا ایک باب ختم ہو کر رہ گیا، اور یہ سوال بھی چھوڑ گیا کہ اب 5سال بعد 2029ءمیں الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں؟ اگر ہونے ہیں تو کیاسوال نہیں اٹھے گا کہ کس طریقے سے ہونے ہیں؟ یا پھر وہی سب کچھ رچایا جائے گا جو پچھلی بار رچایا گیا؟ کیا یہ ایک اپنے طور پر جنگ نہیں ہے؟ آپ یقین مانیں کہ قوم چاہتی ہے، کہ جس طرح پاک افواج نے بھارت کے خلاف کامیابی سمیٹی اسی طرح سیاست، معیشت اور معاشرت میں بھی وہی کامیابیاں سمیٹی جائیں۔ اور یہ سب کچھ تب ہو سکتا ہے جب سیاسی تضادات اور پیچیدگیاں ختم ہوں۔ اگر بانی تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ آئیں اور ٹیبل ٹاک کریں،،، آپ بتائیں کہ اس کے لیے بانی کو کیا کرنا چاہیے،،، ہم وہ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ اور پھر کیا کبھی کسی نے سوچا کہ بانی تحریک انصاف کہہ کیا رہے ہیں،،، بقول شخصے اُن کے مطالبات ملاحظہ فرمائیں کہ سیاسی اخلاقیات کی پستی کی انتہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت چار‘ پانچ مہینے پہلے پوری ہو چکی مگر نئی تعیناتی نہیں ہو رہی، اس کی تعیناتی فوری ہونی چاہیے۔کیوں کہ یہ ایک ایسا آئینی ادارہ ہے جس میں براجمان لوگ عوام منتخب نہیں کرتے بلکہ خواص کے نامزد ہوتے ہیں۔ ان کو سپریم کورٹ کے ججز کے برابر مالی‘ انتظامی‘ رہائشی‘ علاج اور سفریات سمیت دیگر مراعات ملتی ہیں۔ یہ ادارہ اس قوم کے کروڑہا روپے کے خرچے سے چلتا ہے جس کا واحد مقصد ووٹر کے دستوری حق کا تحفظ ہے۔ 1973ءکے آئین کے آرٹیکل 218(3)کے تحت الیکشن کمیشن فیئر‘ فری‘ ٹرانسپیرنٹ اور قانون کے ماتحت‘ کرپشن سے پاک منصفانہ الیکشن کروانے کا پابند ہے۔وہ کہتے ہیں کہ 9مئی کے واقعات کی شفاف انکوائری کروا لیں،،، پھر جو ذمہ دار ہو گا اُسے سزا دے دیں۔ پھر اُن کا مطالبہ ہے کہ کسانوں کی خواری بند کی جانی چاہیے، ان کی فصلوں کی دربدری سخت پریشان رکھتی ہے۔ تازہ رپورٹڈ فیکٹ شیٹ کے مطابق پچھلے ایک سال میں گندم کی پیداوار میں 8.9 فیصد‘ مکئی 15.4فیصد‘ چاول 1.4فیصد‘ گنا 3.9فیصد اور کپاس کی پیداوار میں 30.7فیصد کمی واقع ہوئی۔ لارج سکیل انڈسٹری کی مینوفیکچرنگ بھی منفی میں رہی۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ قوم کے اجتماعی مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے ، جن میں رول آف لاءکی عدم موجودگی، بنیادی دستوری حقوق کی پامالی اور بعض حلقوں کی لامحدود خواہشِ اقتدار کی وجہ سے قوم یکسو نہیں۔ اختلافی آواز قوم کا دستوری حق ہے۔ یعنی میڈیا پر سے نام نہاد پابندیاں ختم کی جائیں۔ اب مجھے بتایا جائے کہ ان مطالبات کو پورا کرنے میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا ان مطالبات میں کوئی ایک مطالبہ بھی ایسا ہے جو بانی تحریک انصاف نے اپنی ذات کے لیے مانگا ہو؟ لہٰذامیرے خیال میں آئندہ انتخابات جب بھی ہوں متنازع نہ ہوں۔ حکومتیں وہ ہوں جو عوام کے ووٹ لے کر آئی ہوں۔ لیڈر وہ ہوں جو بیساکھیوںکا سہارا نہ لیں۔ معیشت صحیح ڈگر پر ہو۔ مانگے تانگے پر گزارا نہ کرنا ہو۔ ایک زما نہ تھا جب پوری عرب دنیا سے طالب علم یہاں پڑھنے آتے تھے۔ رسالپور ایئرفورس اکیڈمی میں باہر کے کیڈٹ ٹریننگ لینے آتے تھے۔ سٹاف کالج کوئٹہ کا ڈنکا ہر جگہ بجتا تھا۔ بیچ کے جھمیلوں میں وہ مقام ہم نے کھو دیا۔اُس مقام کو واپس لانے کے لیے ہمیں محنت کرنی چاہیے۔ اور یہ جو ہم نے رٹ لگائی ہوئی ہے کہ پہلے بانی تحریک انصاف سانحہ 9مئی کی معافی مانگیں،،،یہ بھی ختم ہونا چاہیے،،، بلکہ معافی کا مطالبہ کرنے والوں میں سبزہ زار کیس، ماڈل ٹاﺅن ون اور ماڈل ٹاﺅن ٹو قتلِ عام کے نامزد ملزمان بھی شامل ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ اُس روز دو واقعات ہوئے۔ صبح کے واقعے میں بانی کو نقاب پوش اٹھا لے گئے۔ دوسرے واقعات کے وقت عمران خان نامعلوم افراد میں شمار ہو رہے تھے۔ اس کے باوجود ذرا سی فہم رکھنے والا شخص وہی کہے گا جو عمران خان نے کہہ کر اصل سوال کھڑا کیا۔ عمران خان نے کہا کہ پولیس اور دوسرے متعلقہ لوگ جہاں احتجاجی مظاہرین نکلے اور کسی بلڈنگ تک پہنچے وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لائیں۔ پی ٹی آئی کا کوئی ذمہ دار شخص ملوث نکلا تو میں معافی مانگ لوں گا۔ بہرکیف سیاست میں کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوتے،،، اگر حکمران کرسیاں چھن جانے کے خوف سے باہر نکلیں تو اس حوالے ضرور سوچیں کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ یہ وہی سیاسی جماعت ہے جس کے قائدین بغاوت نہیں کر رہے بلکہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ملک اُن کا ہے، اس کے ادارے قوم کے ہیں۔ قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے صوبے بلوچستان اور پڑوسی برادر اسلامی ملک افغانستان سے جھگڑے کے بجائے ڈائیلاگ کیا جائے۔لہٰذاخدارا ریاست ماں کا کردار ادا کرے اور عوام کے لیے ایسا بجٹ پیش کرے کہ لوگ سابقہ حکومتوں کو بھول جائیں۔ لیکن حالیہ بجٹ تو پچھلے بجٹوں کی طرح آئی ایم ایف نے ہی بنایا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اس سے عام آدمی بچ جائے۔ پاکستان ادارہ شماریات کے اعدادو شمار کہتے ہیں کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں معاشی شرح نمو 1.54فیصد ہے۔ پچھلے دس سال میں یہ معاشی ترقی کی کم ترین سطح پر ہے۔ معیشت بحال ہو گئی کی سینہ کوبی کر کرکے جو نتیجہ نکلا وہ سرکاری محکمے کے منہ سے آپ کے سامنے ہے۔ بجلی سستی کرنے کے نام پہ نوٹنکی کھیلا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پچھلے ساڑھے تین سال میں صفر بجلی پیدا کرنے والی پرانی مشینوں کے مالکان کو قومی خزانے سے کتنے پیسے ملے؟لہٰذاایسے نہ کریں، پاکستان میں امن و شانتی آنے دیں، پولیٹیکل پراسس کو آگے بڑھنے دیں۔ سرکار کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں،،، کیوں کہ وقت کا پلٹا کھاتے دیر نہیں لگتی۔اگر ریاست یہی رویہ اختیار کیے رکھے گی تو وہ دن دور نہیں جب یہ روش ملک کے زہر قاتل بن جائے گی۔ اس لیے بقول شاعر آپ ہی اپنی اداو¿ں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی