پہلگام حملہ : بڑے شطرنجی کھیل کی بڑی چال!

کیا آپ جانتے ہیں کہ جس جگہ پر دہشت گردوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا یعنی پہل گام جو سری نگر سے 70کلومیٹر دور ہے،،، اُس کا پرانا نام ”اسلام آباد“ تھا،،، اور یہ بھی شاید جانتے ہوں کہ یہاں پہلی بار حملہ ہوا بلکہ درجنوں بار حملے ہوئے ہیں جس میں سینکڑوں شہر ی مارے جاتے رہے ہیں،،، اور اس بار یہاں 22اپریل کی دوپہر کو حملہ ہوا جس میں 26نہتے سیاح ہلاک ہوئے،،، جس کی شدید مذمت کرنی چاہیے۔ دہشت گردی کے اس واقعے کا سب سے قابل غور پہلو یہ ہے کہ جنگلات سے گھری اس بلند و بالا گڈریوں کی بستی میں تامل ناڈو، مہاراشٹر اور دیگر بھارتی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کیلئے مناسب حفاظتی انتظامات کیوں نہ کئے گئے تھے؟ اس پر تو خیر بعد میں بات کرتے ہیں مگر اس بار جب پاک بھارت ایک بار پھر جنگی دھانے پر کھڑے تو اس وقت ہمیں کسی قسم کی حیرت نہیں ہے،،، کیوں کہ اب یہ 77سالوں بعد معمول کی کارروائی لگنے لگ گئی ہے۔ یعنی جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی دیکھا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ پھر دونوں کو چھڑا لیا جاتا ہے، کچھ عرصہ سکون سے گزر جاتا ہے اور پھر وہی ٹکراﺅ۔ کبھی کبھار سمجھ نہیں آتی کہ آخر کیا چیز ہم دونوں ملکوں کو جنگ کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ آپ لوگ کہیں گے کہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی ہے جس پر چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ یقینا کشمیر کا مسئلہ بھی ہوگا لیکن اب نفرتیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ کشمیر کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ کوئی بھی چھوٹا موٹا واقعہ دونوں ملکوں کو ایک لمحے میں بھڑکا سکتا ہے۔ اگر لیڈرشپ جنگ نہ بھی کرنا چاہے تو عوام‘ سیاسی مخالفین یا میڈیا آپ کو جنگ کے قریب لے جاتے ہیں۔بلکہ اب تو آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ تیسرے فریق اس لڑائی کو ہوا دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اس کی مثال آپ کو یوں دینا چاہتا ہوں کہ ایک دوست بتاتے ہیں کہ ان کے باس (اخبار مالک) کے خلاف ایک نامور صحافی جھوٹی اور من گھڑت خبریں شائع کیا کرتا تھا، اُس وقت سوشل میڈیا کی عدم موجودگی کی وجہ سے اخبار کی خبر کی ایک خاص اہمیت ہوا کرتی تھی،اور دوست اُس وقت اُن کے اخبار میں بطور چیف رپورٹر کام کر رہا تھا، تو دوست نے اپنے باس سے کہا کہ ہمیں مذکورہ صحافی سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے، وہ آپکی ساکھ کو خراب کر رہا ہے۔ اس پر ”باس“ کہنے لگے کہ نہیں فی الوقت ضرورت نہیں ہے۔ پھر اُسی صحافی نے تین چار ماہ بعد ایک اور نامور صحافی کے خلاف خبریں شائع کرنا شروع کر دیں،،، جس پر اخبار مالک نے دوست سے کہا اب خبریں لگانے والے صحافی سے ”پوچھ گچھ“ کر لو۔ لہٰذااس صحافی کے خلاف”کارروائی“ عمل میں لائی گئی،اوراُن کے آفس میں بھی خاصی توڑ پھوڑ کروائی گئی، جس کی وجہ سے میرے دوست کا باس ایک طرف رہ کر مکھن سے بال کی طرح نکل گیا اور پھر دونوں صحافیوں نے ایک دوسرے پر مقدمات دائر کروا دیے، اور یہ لڑائی کافی دیر تک چلتی رہی۔ اب بھارت کے معاملے میں بھی یہی ہوا ہے کہ ”باس “ کا کردار افغانستان جیسا ہے۔ جس نے افغان مہاجرین کو پاکستان سے بے دخل کرنے ، اُس کے خلاف کارروائی کا عندیہ دینے، یا اگر ہم نے افغانستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کی ہیں،،، تو اُس کا بدلہ لینے وغیرہ کی وجہ سے یہ سب کارروائی کی۔اور خود ایک طرف ہوگیا اور پھر ہمارے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جو پچھلے دنوں تقریر کی ہے، ہم اسے بھی نظر انداز نہیں کرسکتے (کیوں کہ اُس تقریر میں افغانستان سمیت تمام دشمنوں کو مخاطب کیے بغیر انہوں نے سب کو دھمکایا تھا اور کارروائی کرنے کا عندیہ دیا تھا۔) کہ افغانستان بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دھانے پر پہنچا کر خود سائیڈ لائن ہوگیا ہے۔ یعنی یہ کارروائی افغان گروپ کی جانب سے لگتی ہے، کہ جسے علم تھا کہ اس کارروائی کے بعد حالات نارمل نہیں رہیں گے اور پاک بھارت جنگ کے دھانے پر پہنچ جائیں گے ، لہٰذاافغانستان نے ایک بڑی چال کھیلی اور اپنی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے اُس نے ہماری انڈیا کے ساتھ لڑائی کروا دی ہے۔ جب کہ اس حملے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس کارروائی میں بھارت سرکار خود بھی ملوث ہو سکتی ہے، جو اسرائیل کی طرح خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ یعنی یہ علاقہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ ہمیشہ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر رہا ہے۔ اور غیر محفوظ بھی رہا ہے تو بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کو اس علاقے میں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیوں نہیں کیا؟ کیا یہ بھارتی سیکورٹی اداروں کی ناکامی نہیں ہے کہ اچانک جنگل میں سے ایم فور امریکی رائفلوں اور اے کے 47 رائفلوں کے ساتھ عسکریت پسند نمودار ہوئے اور انہوں نے بہت سے ہنستے گاتے سیاحوں کو گھیرا ڈال کر صرف مردوں کو گولیاں ماریں، عورتیں اور بچے انکی گولیوں کا نشانہ نہیں بنے۔ جب ایک عورت کے سامنے اس کے خاوند کو گولی ماری گئی تو اس نے عسکریت پسند سے کہا کہ مجھے بھی گولی مار دو لیکن عسکریت پسند نے اسے گولی نہیں ماری۔ کچھ عرصہ قبل مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی کو یہ بتایا گیا تھا کہ 2024ءمیں 35لاکھ سیاح ریاست کے مختلف مقامات کی سیر کرنے آئے ان میں 43ہزار غیر ملکی سیاح تھے بھارتی میڈیا نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر مقبوضہ ریاست میں تحریک آزادی کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ پہل گام میں نہتے بھارتی سیاحوں کے قتل کی ذمہ داری ایک طرف بھارتی سیکورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے اور دوسری طرف اس کا ذمہ دار وہ کنٹرولڈ میڈیا ہے جس نے بھارتی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ پہل گام ان کیلئے ہت غیر محفوظ علاقہ ہے۔اور پھر یہ چیز بھی اس پورے واقعہ کو متنازعہ بنا رہی ہے کہ واقعہ کے 10منٹ بعد ایف آئی آر درج ہوگئی ، یعنی پہلے سے تیار شدہ ایف آئی آر کے مطابق الزام سرحد پار آتنگ وادیوں پر لگایا گیا ہے۔ خیر دونوں فیکٹر میں سے جو کچھ بھی ہوالیکن ہم ایک بار پھر دشمن کے جال میں پھنس گئے،،، اور پھر ہم اتنے بے وقوف ہیں کہ دشمن جب ہمیں چاہتا ہے اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے، اور پھر ہماری ساری توانائیاں وہاں سے نکلنے کی تگ و دو میں لگ جاتی ہیں۔ نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ نہ تو ہمارے پاس پروفیشنل اور کل وقتی وزیر خارجہ ہے، نہ ہمارے پاس کل وقتی وزیر داخلہ ہے،،، نہ ہماری ایجنسیوں کے پاس تحریک انصاف پر نظر رکھنے اور اُسے پچھاڑنے کے علاوہ کوئی اور کام رہ گیا ہے۔ جس کا ہمارے دشمنوں نے بھرپور فائدہ اُٹھایا ہے۔ لہٰذااب اس پہل گام واقعہ کا فائدہ اُٹھایا جائے گا، اور پاکستان کے خلاف کارروائی کی جائے گی،،، اور عالمی سطح پر بتایا جائے گا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے،اُسے جینے کا کوئی حق نہیں ہے، اور ہم ان کا پانی بند کر رہے ہیں یعنی سندھ طاس معاہدہ ختم کر رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف پانی ہماری لائف لائن کے ساتھ ساتھ ہماری ریڈ لائن بھی ہے،،، جس کی وجہ سے ہمارے فیصلہ کرنے والے بھی جواباََ سخت رد عمل ظاہر کر تے ہوئے بھارت کی فضائی حدود کو بند کر چکے ہیں اور سفارتی عملے کو بھی محدود کر رہے ہیں،،، بہرکیف پاکستان اس وقت نازک صورتحال سے دوچار ہے،،، اور اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے نبرد آزما ہے، اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ فی الوقت ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایک میزائل مار کر بھارت کے ڈیمز کو اُڑا دیں،،، لہٰذاپہلا چانس انڈیا کا لگتا ہے، جبکہ دوسرا افغانستان کا اور 5فیصد لگتا ہے یا بقول بھارت کے کہ یہ بلوچستان میں ہونے والی مبینہ طور پر بھارتی کارروائیوں کے جواب میں پاکستان کی ایجنسیوں نے کاررائی کی ہو۔ لیکن ایسا اس لیے بھی نہیں لگ رہا کہ پاکستان اس پوزیشن میں ہی نہیں ہے، کیوں کہ پاکستان تو اپنے اندرونی مسائل میں اس قدر پھنسا ہوا ہے کہ وہ شاید ایسی کارروائی نہ کرسکے۔ لیکن یہ تو بعد میں چیزیں کھل کر سامنے آئیں گی کہ آخر کس نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے؟ اور رہی بات پاکستانی سیاسی قیادت کی تو یہاں یہ سوال بھی بنتا ہے کہ اس حملے کے اور بھارتی کارروائیوں کے جواب میں کیا ن لیگ اور اسٹیبشلمنٹ ایک صفحے پر ہیں،،، کیوں کہ ان کا ماضی بتاتا ہے کہ ن لیگ کبھی بھارت کے خلاف کارروائیاں کرنے اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کی حامی نہیں رہی۔ نہیں یاد تو بتاتا چلوں کہ نواز شریف اپنے دوسرے دور میں جیتی ہوئی کارگل جنگ کو امریکا میں میز پر ہار آئے تھے۔ پھر نواز شریف کے ساتھ بھارتی کاروباری شخصیات کے آپسی گہرے تعلقات بھی ہیں،، جس کی مثال پچھلے ن لیگی دور میں جندال کی مری میں ن لیگی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں اور مودی کی پاکستان میں بغیر ویزے کے آمد تھی۔ اور پھر ممبئی حملوں میں بھی نواز شریف نے کھل کر یہ بات کہی تھی کہ یہ حملے پاکستان کی طرف سے کیے گئے تھے۔ اور پھر اس حملے سے پہلے موصوف لندن چلے گئے، تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ حملے کے وقت وہ پاکستان میں نہیں تھے۔ اور بعد ازاں وہ دونوں حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کا کوئی کردار ادا کرکے شاید اپنے آپ کو بچا لیں۔ اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس حوالے سے اپنے حق میں استعمال کریں، یا اُنہیں کہیں کہ میں انڈین گورنمنٹ سے بات کرتا ہوں وغیرہ اور ہم دوبارہ ڈائیلاگ کی طرف آتے ہیں۔ یا اگر کچھ بھی نہ ہوا تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس حوالے سے بھی بیان دے دیں کہ یہ حملہ بھی کسی نہ کسی طرح سے پاکستان کی حدود سے ہی ہوا ہے۔ اور بادی النظر میں تحریک انصاف کو آنے والے چند مہینوں میں ریلیف بھی ملنے جا رہا ہے، تو شاید وہ اس پر بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کو بگاڑ لیں ۔ اور اپنی مرضی کا بیان جاری کریں۔ بہرحال بین الاقوامی سطح پر بہت سی چالیں چلی جاتی ہیں،،، یہ حملہ بھی کسی بڑی چال کا نتیجہ ہے، یہ چال اندرونی طور پر بھی ہوسکتی ہے، ہمسایہ ممالک کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے، اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ہو سکتی ہے،،، لہٰذاہمیں ا س حوالے سے ٹھوس حکمت عملی بنانا ہوگی۔ اس حوالے سے اپوزیشن کو ساتھ ملا کر حکمران جماعتیں مربوط حکمت عملی اپنائیں۔ اگر بھارت ہمارا پانی بند کر تا ہے تو اس پر اُسے ایسا سبق سکھانا چاہیے کہ وہ دوبارہ ایسی بات بھی نہ کرے۔۔۔ اس کے لیے اگر ہمیں جنگ بھی لڑنا پڑے تو گریز نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ بھوکے پیاسے مرنے سے بہتر ہے کہ ہم لڑ کر مریں۔ یہی ہماری ریڈ لائن ہونی چاہیے ورنہ آنے والی نسلیں یہاں افریقین قحط زدہ ممالک جیسی زندگی گزاریں گی اور ہمارے ہمسایہ ممالک ہمیں بوند بوند پانی ترسا ترسا کر دیں گے!!!