پاکستان میں” پریشر گروپس“ بطور ٹشو پیپرز ؟

پاکستان میں ایک اور مذہبی و سیاسی جماعت پر پابندی لگا دی گئی ، اس سیاسی جماعت کی عمر زیادہ نہیں ،محض 8،9سال تھی۔ لیکن اس مدت میں یہ جماعت مبینہ طور پر ”غیبی قوتوں“ کے اس قدر زیر استعمال رہی کہ بڑ ے بڑے احتجاج، دھرنے ، لانگ مارچ اور پرتشدد مظاہروں سے اس نے حکومتوں کو پریشان کیے رکھااور ساتھ کئی افراد نے جانیں بھی گنوائیں۔لیکن آخر میں اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو ماضی میں کئی پارٹیوں و سیاسی اتحادوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ خیر اس حوالے سے تو بعد میں بات کرتے ہیں مگر پہلے ہم جس کالعدم پارٹی (تحریک لبیک ) کی بات کر ر ہے ہیں،،، اُس کے ماضی کی بات کرتے ہیں تاکہ ”پکچر“ کلیئر ہو کہ ہمارے ملک میں کیا کیا ہوتا رہا ہے،،، دراصل ٹی ایل پی کی بنیاد گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو چار جنوری، 2011 کو قتل کرنے والے ان کے سرکاری محافظ ممتاز قادری کی رہائی کے لیے شروع ہونے والی ایک تحریک سے پڑی۔اُس وقت یہ جماعت ایک منظم جماعت نہیں تھی اور نہ ہی یہ رجسٹرڈ تھی، مگر تاثر یہ قائم ہوا کہ متحدہ مجلس عمل یا دیگر مذہبی اتحادوں یا جماعتوں کی نسبت اس میں زیادہ جذباتیت کا عنصر پایا جاتا تھا۔ اس لیے ہمارے کئی اسٹیک ہولڈرز نے اندرکھاتے فیصلہ کیا کہ اسے ”استعمال“ میں لایا جا سکتا ہے۔ خیر بعد ازاں یہ پارٹی اپنے مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کے زور پر لوگوں کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی۔ اس پر ریاستی حمایت کے الزامات بھی لگتے رہے جن کی حکومتیں تردید کرتی رہیں۔ بہرحال پہلے تو یہ اتحاد صرف مذہبی طور پر چلتا رہا پھر اس نے سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تو کئی اتحادی مذہبی رہنما اپنی جماعتوں سے الگ ہو گئے۔جب ممتاز قادری کو 2016 میں پھانسی دی گئی تو یہ تحریک مزید زور پکڑ گئی۔ بعد ازاں تحریک لبیک یارسول اللہ کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی میں اراکین کے حلف ناموں میں تبدیلی اور توہین مذہب کے الزام میں گرفتار آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ سے رہائی کے خلاف اس پلیٹ فارم سے فیض آباد میں دھرنا دیا گیا۔اور ساتھ ہی یہ احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا، یہی وہ موقع تھا جب ٹی ایل پی ناموس رسالت کے نام پر گلی محلوں تک پھیل گئی۔پھر 2017 میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں قومی اسمبلی کے ارکان کے حلف نامے میں مبینہ تبدیلی پر ٹی ایل پی نے اس وقت کے وزیرِ قانون کا استعفیٰ طلب کیا۔تحریک نے اسلام آباد کی جانب مارچ کر کے وفاقی دارالحکومت کو تین ہفتوں تک بند کیے رکھا۔ بعد ازاں فوج کی مداخلت یا ثالثی کے بعد حکومت کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ٹی ایل پی دھرنا ختم کرنے پر راضی ہو گئی جس کے تحت وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد مستعفی ہوئے۔حکومت کو معاہدے کے لیے دباو¿ میں لانے میں کامیابی سے ٹی ایل پی کی حوصلہ افزائی ہوئی اور یہ مزید منظم ہوئی۔اسی دھرنے پر سپریم کورٹ نے فروری 2019 میں ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سنایا جو فیض آباد دھرنا کیس کے نام سے مشہور ہوا۔عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ ایسے فوجی اہل کاروں کے خلاف کارروائی کرے جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔مطلب! پریشر گروپ کے استعمال کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ اور پھر آپ کو یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ وہ دور تھا جب ن لیگ کی حکومت تھی،،، اور ن لیگ کی ”ڈان لیکس“ کے معاملے پر بڑے گھر والوں کے ساتھ بگڑ چکی تھی۔ اور تحریک انصاف اپنے سیاسی کزن ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کے ہمراہ بھی اسلام آباد میں دھرنے وغیرہ دے چکے تھے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ن لیگ کی حکومت کی بڑے گھر والوں کے ساتھ کیوں اور کیسے بگڑی لیکن مذکورہ بالا کالعدم جماعت کو اُس دور میں غیبی قوتوں کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ اسی اثناءمیں اس جماعت کی طرف لوگوں کا جھکاﺅ دیکھتے ہوئے ہی اسے بطور سیاسی پارٹی متعارف کروایا گیا۔ تاکہ اس سے مزید کام لیے جا سکیں۔ یعنی 2016 میں الیکشن کمیشن میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) جماعت کے طور پر رجسٹرڈ کرائی گئی۔اس جماعت کی ابتدا میں پیر افضل قادری، آصف جلالی اور خادم رضوی نے قیادت سنبھالی لیکن جب فیض آباد دھرنا ختم کرانے کا مرحلہ آیا تو ان تینوں میں سب سے سخت موقف رکھنے کی وجہ سے خادم حسین رضوی زیادہ نمایاں ہو گئے۔اس کے بعد یہ تنیوں رہنما علیحدہ ہو گئے اور پارٹی قیادت اس وقت کی مجلس شوری نے خادم رضوی کے سپرد کر دی۔ پھر ٹی ایل پی نے 2017 میں لاہور سے نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی نشست پر پہلی بار امیدوار کھڑا کر کے ساڑھے سات ہزار ووٹ لیے۔ 2018ءکا انتخاب ہوا ، ٹی ایل پی کی مجلس شوری نے ہی 2018 کے عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کی سینکڑوں نشتوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔جس کے بعد اس جماعت نے حکمران جماعت کا کم و بیش ایک کروڑ ووٹ ضائع کیا ،،، بلکہ ہر حلقے میں یہ جماعت دوسرے یا تیسرے نمبر پر رہی۔ اور ساتھ ہیکراچی سے دو صوبائی اور ایک مخصوص نشست بھی مل گئی۔ 2018ءمیں ن لیگ کی شکست کا ذمہ دار ٹی ایل پی کو بھی کہا جاتا ہے جس نے ن لیگ کا ووٹ خراب کیا یا کروایا گیا۔ خیر سلسلہ آگے چلتا رہا،،، اور 2018ءکے الیکشن چند ماہ بعد ہی یہ جماعت ایک بار پھر سڑکوں پر تھی،،، یعنی اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہینِ مذہب میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کرنے کا حکم دیا تو تحریک لبیک نے ایک بار پھر ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔تحریک لبیک کے احتجاج کے باعث ملک بھر میں نظامِ زندگی ایک بار پھر مفلوج ہو کر رہ گیا اور مختلف شہروں کے اہم مقامات پر تحریک کے کارکنوں نے دھرنے دے دیے۔اس دوران پاکستان میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے ٹی ایل پی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے بعد پانچ نکاتی معاہدہ طے پایا۔پھر آگے چل کر عمران کے دور ہی میں نومبر 2018 میں لاہور کے چیئرنگ کراس میں دھرنے کے دوران ریاستی اداروں، فوج اور عدلیہ کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کے الزام میں ٹی ایل پی کے رہنماو¿ں پیر افضل قادری اور خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا۔بعد ازاں مئی 2019 میں پیر افضل قادری اور خادم حسین رضوی کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد ایک ویڈیو بیان میں پیر افضل قادری نے چیئرنگ کراس میں اپنی تقریر پر معذرت کرتے ہوئے تحریک لبیک سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔پھر خادم حسین رضوی کا 2020 میں انتقال ہوا تو ٹی ایل پی کا سربراہ ان کے بڑے صاحب زادے سعد حسین رضوی کو بنا دیا گیا۔ پھر 2019ءکے آخری مہینے اور 2020کے چند میں سکون سے گزرے ہی تھے کہ ادھر حکومت اور فیصلہ کرنے والی قوتوں کے درمیان حالات خراب ہونا شروع ہوگئے اور یہ پریشر گروپ ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کے لیے تیار تھا،،، جبکہ اس دفعہ ان کا موضوع فرانس کے خلاف تھا،،، ایک بار پھر حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی سڑکوں پر تھے،،، کچھ دن کی مارکٹائی کے بعد حکومت کی جانب سے فرانس کے حوالے سے سخت موقف اپنانے اور سفیر کی بے دخلی کی یقین دہانیوں کے بعد ٹی ایل پی کے کارکن منتشر ہو گئے۔لیکن چند ماہ بعد ہی ایک بار پھر فیض آباد دھرنے کی کال دے دی گئی،،،اس دوران حکومت بھی سختی سے نمٹنے کے لیے تیار رہتی جبکہ یہ جماعت بھی لوڈڈ رہتی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ سکیورٹی فورسز اور احتجاج کرنے والے اور ساتھ ہی میں راہ گیروں کی اموات ہو جاتیں۔ پھر مبینہ طور پر 2021ءمیں جب جنرل فیض کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم کو ڈی جی آئی ایس آئی لگانا تھا اور حکومت اس کا نوٹیفکیشن نہیں نکال رہی تھی تو ایسے میں سرکار پر دباﺅ ڈالنے کے لیے مبینہ طور پر یہ جماعت پھر سڑکوں پر تھی ،،، پھر وزیر آباد میں ان کا پڑاﺅ ہوا،،، اور ساتھ ہی کئی افراد کے زخمی ہونے اور جاں بحق ہونے کے بعد ”معاہدہ“ ہوا،،، اور یہ واپس لاہور آگئے اور ساتھ ہی مبینہ طور پر ”نوٹیفکیشن“ بھی بحال ہوگیا۔ اور کالعدم تحریک لبیک کو ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت بھی مل گئی۔ پھرفروری 2024 کے عام انتخابات میں انتخابی نشان کرین کے ساتھ حصہ لے کر 22 لاکھ ووٹ حاصل کر کے ٹی ایل پی پانچویں بڑی جماعت بن گئی۔لیکن یہ جماعت صرف ناروال سے پنجاب اسمبلی کی ایک نشست جیت سکی،،، اب ایک لمبے وقفے کے بعد مذکورہ جماعت نے رواں ماہ ”لبیک اقصیٰ“ کے نام سے مارچ شروع کیا تو 10اکتوبر کو لاہور سے اسلام آباد کی مارچ کو حکومت نے مرید کے میں طاقت سے روکا اور آپریشن شروع کیا جس میں بقول مذکورہ جماعت کے کہ اُن کے سینکڑوں کارکن اس جھڑپ میں مارے گئے ہیں،،، اور جبکہ بقول حکومت کے کہ اُس کا ایک ایس ایچ او ، متعدد اہلکار ہلاک اور سینکڑوں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اب کی بار ریاست کا شاید اس جماعت سے دل بھر گیا ہے،،، تبھی انہوں نے مذکورہ پارٹی کے دفاتر، مدارس، مساجد اپنی تحویل میں لے لیے ہیں ،،، اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مذکورہ جماعت یعنی تحریک لیبک سے یہ جماعت اب ایک بار پھر ”کالعدم تحریک لبیک“ ہو چکی ہے۔ اب یہ کب تک رہے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا ،،، مگر میرے خیال میں اُن تمام قوتوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے،،، جنہوں نے اسے بنایا، فنڈنگ کی، اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اس دوران ملک و قوم کا جو نقصان ہوا، اس کے ذمہ داران کا تعین بھی کیا جائے،،، بلکہ اس پر مکمل جے آئی ٹی بننی چاہیے کہ کب کب ریاستی اداروں نے پریشر گروپس قائم کیے اور کب کب انہیں استعمال کیا جاتا رہا۔ اور ان کے نتیجے میں تحریک انصاف سمیت کس کس جماعت کی حکومت کو ختم کیا گیا۔ بہرکیف ٹی ایل پی پرپابندی کا فیصلہ دراصل ریاست کے لئے بھی ایک آزمائشی مرحلہ ہے کیوں کہ اگر حکومت اس پابندی کو صرف وقتی تدبیر کے طور پر لیتی ہے، تو نتائج ایک بار پھر ماضی جیسے ہو سکتے ہیں چند مذاکرات، چند یقین دہانیاں، اور پھر واپسی،لیکن اگر یہ فیصلہ قانونی اور ادارہ جاتی استحکام کے ساتھ نافذ کیا گیاہے ، تو یہ پاکستان کی داخلی سلامتی کے لئے یقینا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ورنہ اگر اس کے پیچھے کوئی اور محرکات ہیں تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے!